طالبان کے مزید 317 قیدی رہا، تعداد 4917 ہو گئی

تاریخ    4 اگست 2020 (00 : 03 AM)   


کابل/افغانستان کی نیشنل سیکیورٹی کونسل نے اعلان کیا ہے کہ عید کے دو دنوں میں طالبان قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ جاری رہا جس کے بعد مجموعی طور پر 4917 قیدی رہا کر دیے گئے ہیں۔ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں قیدیوں کی رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے افغانستان کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ عید کے دو روز کے دوران طالبان کے مزید 317 قیدی رہا کیے گئے۔طالبان قیدیوں کی رہائی پروان اور دیگر صوبوں کی جیلوں سے عمل میں آئی ہے۔نیشنل سیکیورٹی کونسل کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ قیدیوں کی رہائی کا عمل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام 5100 قیدی رہا نہیں ہو جاتے۔خیال رہے کہ افغان حکومت پہلے ہی 4600 طالبان قیدیوں کو رہا کر چکی تھی جب کہ مزید 500 کے قریب قیدیوں کی رہائی پر طالبان اور افغان حکومت میں تنازع برقرار تھا۔رواں برس فروری کے آخر میں امریکہ اور طالبان میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امن معاہدہ ہوا تھا۔ اس معاہدے کی رو سے افغانستان سے غیر ملکی فوج کا انخلا ہونا تھا جب کہ طالبان کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ افغان سرزمین کو کسی دہشت گرد تنظیم کو استعمال کرنے نہیں دیں گے۔ جب کہ افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ بین الافغان مذاکرات کے ذریعے کیا جائے گا جس میں حکومت اور طالبان کے نمائندے شامل ہوں گے۔تاہم ان مذاکرات سے قبل افغان حکومت طالبان کے 5000 کے قریب قیدی رہا کرے گی جب کہ طالبان اپنی حراست میں موجود ایک ہزار افغان اہلکاروں کی رہائی کو ممکن بنائیں گے۔افغان حکومت نے ساڑھے چار ہزار قیدیوں کو رہا کر دیا تھا جب کہ دیگر 400 سے 500 قیدیوں کی رہائی پر حکومت کا مو?قف ہے کہ یہ قیدی سنگین جرائم میں ملوث ہیں ان کی رہائی ممکن نہیں ہے۔ دوسری جانب طالبان تمام 5000 قیدیوں کی رہائی کے بعد بین الافغان مذاکرات پر زور دے رہے ہیں۔افغان حکومت اور طالبان میں عید پر جنگ بندی ہوئی تھی۔ عید کے دنوں میں جنگ بندی پر حکومت نے خیر سگالی کے طور پر مزید قیدی رہا کیے ہیں تاہم یہ وہ قیدی نہیں ہیں جن کی رہائی کا مطالبہ طالبان کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔
 

تازہ ترین