تازہ ترین

حاملہ خواتین کا کورونا ٹیسٹ

تاریخ    4 اگست 2020 (00 : 03 AM)   


دو ماہ قبل کورونا وائرس سے متاثرہ حاملہ خواتین کے متعلق جو تفصیلی رپورٹ شائع ہوئی تھی، وہ حکام سمیت ہم سب کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے ۔رپورٹ میں جن حاملہ خواتین کو کورونا وائرس سے متاثر ہ پایاگیاتھا، وہ کوئی اچھا شگون نہیں ہے تاہم یہ امر اطمینان بخش ہے کہ جب یہ سبھی حاملہ خواتین زچگی کے عمل سے گزریں ،تو ان کے نوزائیدہ بچوں کو کورونا سے پاک پایا گیا۔یہ نظام الٰہی ہی ہے کہ مائیں وائرس سے متاثرہ تھیں لیکن ان کے بطن میں پل رہے بچے اس سے محفوظ رہے۔ مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم اس رجحان کو سرسری لیں ۔یہ ایک سنگین مسئلہ ہے کیونکہ اس کے ساتھ نہ صرف  زچہ و بچہ کی زندگی جڑی ہوئی ہے بلکہ پہلے اُن گھرانوں کی سلامتی بھی وابستہ ہے جن میں حاملہ خواتین موجود ہیں۔اس کے بعد وہ سبھی ہسپتال بھی خطرات سے دوچار ہیں جہاں حاملہ خواتین کی زچگی انجام دی جارہی ہے ۔شاید یہی وجہ ہے کہ حکومت نے زچگی سے قبل حاملہ خواتین کا کورونا ٹیسٹ لازمی قرار دیا ہے تاکہ ہسپتال پہنچنے سے قبل اس بات کی تشفی کی جائے کہ خاتون کورونا سے متاثر نہیں ہے اور اگر متاثر ہے تو اسی لحاظ سے اس کی زچگی عمل میں لانے کیلئے احتیاطی اقدامات کئے جائیں۔ فی الوقت لل دید ہسپتال سمیت چند ہی ہسپتالوں میں جراحی کے ذریعے زچگی ہورہی ہے اور بیشتر ہسپتالوں میں جراحیوںکا سلسلہ بند کیاجاچکا ہے ،ایسے میں جب سارا دبائو انہی چند ہسپتالوںپر ہے تو احتیاطی اقدامات ناگزیر بن جاتے ہیں ۔حکومت کی جانب سے وضع کردہ نظام اطمینان بخش ہے۔ تاحال کورونا وائرس ٹیسٹ کی سند کے بغیر جس طرح حاملہ خواتین کا زچگی کیلئے ہسپتالوں میں داخلہ ممنوع بنادیاگیا ہے ،وہ وقت کی ضرورت ہے اور ایسا بھی نہیںہے کہ حاملہ خواتین کو یہ ٹیسٹ کرنے میں کسی قسم کی دشواری پیش آرہی ہو بلکہ ترجیحی بنیادوںپر تمام ضلعی ہسپتالوںکے علاوہ سرینگر کے بڑے ہسپتالوں میں حاملہ خواتین کیلئے یہ سہولت میسر رکھی گئی ہے جس کا ہر حاملہ خاتون کو فائدہ اٹھانا چاہئے۔ آج بھی حاملہ خواتین کی طرف سے ایسی شکایات سامنے آرہی ہیںکہ انہیں ٹیسٹ کرنے کیلئے انتظار کرنا پڑ رہا ہے ۔گوکہ یہ انتظار ذہنی کوفت کا باعث بن سکتا ہے اور اس سے حاملہ خواتین کو تکلیف بھی ہوسکتی ہے لیکن موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے حاملہ خواتین اور ان کے اہل خانہ کو چاہئے وہ حکومت کے ساتھ تعاون کریں ۔بے شک انہیں ٹیسٹ کرانے کیلئے کچھ گھنٹوں یا چند دنوںتک اپنی باری کا انتظار کرنا پڑسکتا ہے لیکن ایسا کرنا ان کی اپنی سلامتی کیلئے بھی ضروری ہے ۔حاملہ خواتین اور ان کے اہل خانہ کو سمجھ لیناچاہئے کہ سرکار انہیں تکلیف دینے کی غرض سے ایسا کچھ نہیں کررہی ہے بلکہ سرکار کا مطمح نظر اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ حاملہ خواتین صحت مند و توانا رہیں اور انہیں کورونا کا مرض لاحق نہیں۔ ایسا کرکے جہاں وہ مذکورہ خواتین اور ان کے بطن میں پل رہے بچوں کی سلامتی یقینی بنارہے ہیں وہیں اس سے ان کے اہل خانہ بھی محفوظ رہیں گے اور جب زچگی کی باری آئے گی تو وہ سارا نظام بھی متاثر نہیں ہوگا ،جو حاملہ خواتین کی محفوظ زچگی کیلئے کام پر لگا ہوتا ہے ۔ہم نے دیکھا کہ کس طرح گزشتہ چند مہینوں سے ہمارے ڈاکٹر حضرات کورونا سے متاثر ہورہے ہیں۔ایسا نہیں کہ وہ کورونا سے بے خبر ہیں بلکہ وہ مریضوں کا علاج و معالجہ کرنے کے دوران ہی اس وائرس سے متاثر ہوئے کیونکہ انہیں معلوم نہیں ہوتا تھا کہ معمول کی بیماریوںکے چیک اپ کی غرض سے آئے مریض کورونا سے بھی متاثر ہ ہیں۔اسی طرح ہمارے نیم طبی عملہ کے اہلکار بھی اس زد میں آگئے جبکہ کچھ نرسیں بھی کورونا کا شکار ہوئیں، جو کہ ہم سب کیلئے سبق ہونا چاہئے۔جو ڈاکٹر صاحبان کورونا سے متاثر ہوئے، وہ یقینی طور پر کورونا جنگ میں صف اول کے سپاہیوں کے سالار کی حیثیت رکھتے تھے لیکن بدقسمتی سے وہ خود کورونا سے لڑتے لڑتے اس کی پکڑ میں آگئے اور آئیسولیشن وارڈ میں زیر علاج بھی رہے۔ اللہ کے فضل سے وہ صحتیاب بھی ہوئے، لیکن اُن کا کورونا سے متاثر ہونے ایک طرح سے خطرے کی بڑی گھنٹی تھی اور اگر ہم اس گھنٹی سے بھی بیدار نہ ہوئے تو ہم کسی بڑی مصیبت کو بھی انجانے میں دعوت دینے کے مرتکب ہوسکتے ہیں۔وقت کا تقاضا ہے کہ حاملہ خواتین سمیت ہم سبھی کیلئے حکومت کی جانب سے وقتاً فوقتاً جو ایڈوائزریاں کی جارہی ہیں،ہم اُن پر مکمل عمل کریں کیونکہ یہ ہمار ی بھلائی کیلئے ہی جاری کی جارہی ہیں اور ان کا مقصد ہماری حفاظت یقینی بنانا ہوتا ہے ۔جہالت ،انا اور بے کا ر کی ضد چھوڑ کر ہمیں ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے موجودہ انتہائی نازک ترین حالات میں اپنی عقل کا صد فیصد استعمال یقینی بنانا ہوگا تاکہ ہم سرکار اور اپنے لئے مسائل کا باعث بننے کی بجائے کورونا کیخلاف لڑائی میں سرکار کے معاون بن جائیں جس میں ہم سب کی نجات کا راز پنہاںہے۔