تازہ ترین

حکومت کا بیان غلط، ہنوز خانہ نظر بند ہوں: سوز

تاریخ    1 اگست 2020 (00 : 03 AM)   


سرینگر//پردیش کانگریس کے سابق صدر پروفیسر سیف الدین سوز کہا ہے کہ ’حقیقت یہ ہے کہ میں اپنے گھر میں خانہ نظربند ہوں اور پولیس کی اجازت کے بغیر باہر نہیں جاسکتا‘۔ ایک بیان میں سوز نے کہاکہ ’میں گلبرگ کالونی حیدر پورہ سرینگر میں اپنی بیمار بہن سے ملنے کیلئے گیا، چونکہ پولیس مجھے اپنی گاڑی کے بغیر سفر کرنے کی اجازت نہیں دیتی ہے ، اس لئے 2پی ایس او میرے ساتھ لگائے گئے تھے,جب میں گھر واپس آیا تو پولیس نے ایک ویڈیو تیار کرکے سوشل میڈیا پر جاری کیا جس میں بتایا گیا کہ میں آزاد شہری ہوں‘۔سوز نے کہاکہ پولیس کی طرف سے ایسی حرکت غلط بیانی کے سوا کچھ نہیں ہے !انہوںنے کہاکہ میں دوپہر کو  باہر جاکر اپنی بیٹی کے پاس جانے کی کوشش کی ،جو پڑوس میں ہی رہتی ہے ، مگر مجھے پولیس نے باہر جانے سے روکا!اس سلسلے میں پولیس نے ایک بچگانہ حرکت کی اور ایک ویڈیو بنایا اور یہ بتانے کیلئے اپ لوڈ کیا کہ میں ایک آزاد شہری ہوں ، یہ بات بالکل غلط ہے، اگر یہ صحیح ہے کہ میں ایک آزاد شہری ہوں ، تو پھر مجھے باہر جانے کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی‘؟ سوز نے کہاکہ ’حقیقت یہ ہے کہ میں اپنے گھر میں نظر بند (House Arrest) ہوں اور میں پولیس کی اجازت کے بغیر باہر نہیں جا سکتا!اس سلسلے میں حکومت کی طرف سے جو بیان دیا گیا ہے وہ بالکل غلط اور بے بنیاد ہے۔ مجھے معلوم نہیں ہے کہ حکومت ایسا کیوں کر رہی ہے ؟  سوز نے کہاکہ جموں و کشمیر انتظامیہ کا سب سے غلط طریقہ کار یہ ہے کہ وہ اپنا بہت سارا کام کاج زبانی احکامات کے ذریعے چلا رہی ہے اور اس طرح وہ اپنی بہت ساری غلط کارکردگی کو چھپاتی رہتی ہے!میری نظربندی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کشمیر میں شہری آزادیاں کس طرح سلب کی گئی ہیں!‘‘