عید الاضحی اور کورونا سے بچائو

تاریخ    1 اگست 2020 (00 : 03 AM)   


بڑی عید پر بڑی احتیاط کرنا بھی ضروری ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کھانے کے آداب مقرر رکھے ہیں کم یا زیادہ کھانے سے بھی بیماریاں جنم لے سکتی ہیں۔کچھ افراد یہ سمجھتے ہیں اگر انہوں نے آج پروٹین یا چربی زیادہ کھا لی ہے تو کیا ہوگا،بڑی عید کے موقع پر بڑی احتیاط کرنا بھی ضروری ہےرشتے داروں سے ملنے کی تمنا ہے مگر کورونا سے بچنا بھی تو لازم ہے۔ اس عید کے موقع پر دنیا بھر میں کورونا وائرس کا حملہ جاری ہے ۔ جہاں ہم نے اتنا صبر کیا ہے وہیں اگر ہم ان دنوں میں بھی احتیاط سے کام لے لیں تو کورونا بھاگ سکتا ہے ۔ ہم نے احتیاط سے کام لیا تو عید کے دنوں میں ہونے والا لاک ڈائون کے بعد زندگی دھیرے دھیرے معمول پر آنا شروع ہو سکتی ہے۔
کورونا وباء نے معیشت کو متاثر کیا ہے،بے شمار افراد کا روزگار چھن گیا ہے،اس عید کے موقع پر ان کی خوشیوں کو بھی دوبالاکر سکتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اپنا فرج خالی رکھیں اور زیادہ سے زیادہ گوشت تقسیم کریں۔ ہمیں چاہیے کہ تقسیم کرنے سے پہلے ہر شخص کے لئے الگ الگ پیکٹ بنا لیں۔ اگر ممکن ہو تو گوشت کے ساتھ دیگر ضروری اشیاء بھی پیکٹ میں شامل کر لی جائیں۔جیسا کہ گھی، مرچیں یا نمک وغیرہ اس سے آپ کو شائد فرق نہ پڑے لیکن ان کی عید کی خوشیاں دوبالا ہو جائیں گی۔ اس بارے میں حکومت کی طرف سے جاری کردہ گائیڈلائنز پر عمل کریں۔
باہر جاتے ہوئے منہ اور ناک کو ماسک سے ڈھانپ کر رکھیں ۔
٭ سومو یا آٹو رکھشہ کا استعمال کم سے کم کریں۔
٭ گوشت تقسیم کرتے وقت بچوں کو ساتھ لے جانے سے گریز کیجئے۔
 اس عید پر بھی گلے ملنے کی روایت ملتوی کر دیجئے،یاد رکھئے، کوروناوباء نے ہمیں ایک دوسرے سے دور تو کر دیا ہے ۔ہم سب کی حفاظت کا راز اسی احتیاط میں مضمر ہے۔ یہ سچ ہے کہ رشتے داروں میں گفتگو حوصلہ افزائی اور ذہنی سکون کا باعث بنتی ہے۔ عمومی حالات کا پتا چلتا رہتا ہے۔ لیکن یہ کام آپ ٹیکنالوجی کی مدد سے بھی کر سکتے ہیں۔ ہر ممکن حد تک اپنے کاموں کو گھر میں رہتے ہوئے انجام دینے کی کوشش کریں اور اگر باہر جانا پڑے تو دوسروں سے فاصلہ رکھیں۔اس طرح کورونا وائرس کی منتقلی کا امکان نہ ہونے کے برابر ہو جاتا ہے۔ نہ آپ سے یہ دوسرے کو منتقل ہو گا اور نہ دوسرے سے آپ کو۔کورونا وائرس کے تدارک کا ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپس کی گفتگو میں چہرہ آمنے سامنے نہ رکھیں۔
علماء حضرات نے نماز عید کے بارے میں کچھ اصول متعین کیے ہیں جنہیں حکومت نے بھی تسلیم کیا ہے۔ان میں مسجد کے اندربھی سماجی فاصلہ رکھنا لازمی ہے۔معمر افراد گھر اور بچے گھر پرنماز عید ادا کر سکتے ہیں۔ سینیٹائزیشن اور فرش کی کیمیکل سے صفائی بھی ان اصولوں میں شامل ہے۔
آج بھی لاک ڈائون ہے لہٰذا اصولوں پر عمل کرتے ہوئے گھر سے باہر نکلنے میں کمی کیجئے۔اور ضروری سماجی فاصلہ رکھیے، کووڈ19- کے مریضوں کا پتا نہیں چلتا لیکن وہ دوسروں میں وائرس منتقل کر سکتے ہیں، حال ہی میں ہونے والی تحقیقات سے عندیہ ملتا ہے کہ ایسے انفیکٹڈ افراد بھی اس مرض کو پھیلا سکتے ہیں جن میں کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی۔ اس لیے ہر ممکن حد تک فاصلہ رکھنا ضروری ہے۔یہ طریقہ وائرس کے مریضوں سے بچنے اور وباء کی رفتار روکنے کا شاندار طریقہ ہے۔ بھیڑ والے مقامات اور اجتماعات سے گریز کیجئے ۔ معمر افراد ، ذیابیطس، امراض قلب، دمہ، سرطان اور بلندفشارِ خون کے مریض زیادہ احتیا کریں۔
عید کے دنوں میں ڈاکٹر بھی مصروف ہوں گے:۔عید ہم سب کے لئے ہوتی ہے لیکن اس میں کیا شک ہے کہ ہمارے سکیورٹی ادارے ،پولیس اور ڈاکٹرصاحبان عید کے دن بھی اپنی جاب میں مگن رہتے ہیں۔اس لیے خدا نخوستہ اگر عید کے دن یا اس کی چھٹیوں کے دوران کسی میں کورونا کی علامتیں ظاہر ہوں تو سب سے پہلے سرکاری نمبروں پر رابطہ کیجئے۔انہیں اپنی یا کسی دوسرے کی تکلیف سے آگاہ کیجئے، وہ لازمی آپ کی مددکے لئے حاضر ہوں گے ۔بخار کی صورت میں سیلف آئسولیشن میں چلے جایئے ۔ اگر آپ میں یا آپ کے ساتھ رہنے والے کسی فرد میں کورونا وائرس (کووڈ19-) کی علامات ظاہر ہو گئی ہیں تو باہر مت جائیں۔ سیلف آئسولیشن کرنے والے کسی بھی وجہ سے گھر کو چھوڑ کر نہیں جاتے۔ اگر آپ کو خوراک یا ادویات کی ضرورت ہے تو فون پر یا آن لائن منگوائیں یا کسی سے کہیں کہ وہ پہنچا دے۔
 

تازہ ترین