سُنتِ ابراہیمی اب بھی باقی

روح قربانی کا بدرمنیر مادہ پرستی کے سیاہ بادلوں کی لپیٹ میں !

تاریخ    1 اگست 2020 (00 : 03 AM)   


صنم تراشی شب وروز کامشغلہ تھا۔خالق کا تصور مخلوق کی نگاہوں سے مٹ چکا تھا۔کفر و عصیاں کی راہ و رسم میں تمام تر لوگوں کا مزاج پختہ ہو چکا تھا۔لوگوں کی رگ رگ میں حجر و شجر کی چوکھٹ پے جبین ساء کاجنون بدرجہ اتم, اللہ کی سرزمین کو مکدر اور تیرہ و تار کر رہا تھا۔ادھر بھی تو ادھر بھی, اپنے اپنے معبودوں کے بے جان مجسموں کو خون آدم سے رنگا جا رہا تھا۔انگنت خود تراشیدہ اصنام کی کثرت کے باوجود ایک بے یقینی تھی,ہو کا عالم تھا،خوف و ہراس اور بے چینی تھی،حسرت و ملال کا ایک نہ تھمنے والا طوفان بد تمیزی اولاد آدم کے وجود کو عتاب الٰہی کی طرف بہائے جا رہا تھا،آسمان اس منظر کو دیکھ کر شرما رہا تھا مگر ابلیس اس تباہی و بربادی پے شادماں و فرحاں اپنے کاررندوں کی کارگزاری سے بدمست و مخمور،جشن منارہا تھا،اس لئے کہ تخلیق حضرت آدم اسکے ابدی تنزل اور ملعونیت کا سبب بنا تھا۔ادھر رحمت خداوندی جوش میں آگئی تو صنم تراشوں کے سرغنہ تارخ یا آذر کی پشت سے ایک بچے کا تولد ہوا جسے ایام طفولیت میں ہی قلب سلیم سے نوازا گیا اور آگے چل کر یہی بچہ خلیل الرحمان کے اعزاز خداوندی سے سرخرو ہوا اور رہتی دنیا تک اپنے صالح عقیدے اور اعمال کی بدولت ایک نمونہ بنا دیا گیا۔
2200 ق۔م۔کا زمانہ تھا کہ نبی اکرم رسول معزم ؐکے جد امجد ملک عراق میں صوبہ کونا اور شہر بابل میں پیدا ہوئے۔اس برگزیدہ پیغمبر کا نام حضرت ابراہیم ؑتھا۔حضرت ابراہیم ؑنے آنکھ کھولی تو چاروں طرف صنم پرستی کی دھوم مچی تھی اور ہوش سنبھالتے ہی قلب سلیم نے تدبر و تفکر کی طرف مائل کیا اور اللہ کی اعانت اور تائید سے قلب سلیم نے مصنوعی معبودوں کی عبادت سے منحرف کر دیا اور خالق حقیقی کے تجسس نے زور پکڑا۔قرآن مقدس میں اسی برگزیدہ پیغمبر کے نام سے ایک مکمل صورت سورت ابراہیم موجود ہے اور مجموعی طور قرآن مقدس میں بائیس دفعہ اس برگزیدہ پیغمبر کی صفات حمیدہ اور کیفیت عقیدہ کا ذکر ہے۔یہاں پے اس عظیم شخصیت کا تفصیلی تذکرہ نا ممکن ہے البتہ چند اہم نکات کا تذکرہ کئے بغیر یہ مکالمہ بے روح اور بے وزن رہیگا۔
یہ موصوف کے عقیدہ توحید کی خلوص کی انتہا تھی کہ دعوت کا مخاطب اول اپنے والد آذر کو سزاوار سمجھ کر شرک سے برأت کی دعوت پیش کی جسکے بدلے میں حضرت ا براہیم خلیل الرحمان کو ایسی سختیاں جھیلنی پڑیں کہ جن کے محض ذکر سے بڑے بڑے جری پہلوانوں کے اوسان خطا ہو جاتے ہیں لیکن یہ حضرت ابراہیم تھے کہ گھر سے جبری اخراج کے کچھ ہی زمانہ بعد نار نمرود کے تپتے ہوئے فلک بوس انگاروں کے مرکز میں پھینکا گیا مگر عقیدہ توحیدکے اعزاز میں اللہ رب العزت نے آسمانوں کے سردار حضرت جبریل امین کو یہ حکم دے کر فوری روانہ کیا کہ جا کے کہہ دو :-اے آگ ٹھنڈی ہو جا اور ابراہیم کے لئے سلامتی بن جا اور یہ حکم ملتے ہی نار نمرود ایک مہکتے گلزار میں بدل گیا۔یہ دوسری ابتلاء￿  پہلی سے زیادہ دشوار تھی مگر عقیدہ توحید میں لغزش نہ ہوء اور کامیاب معرکہ آراء پے چشم فلک کو ناز ہوا۔ابھی ابتلاؤں کا سلسلہ عروج پے تھا۔محو سفر  تھے خلیل کہ سوائے حضرت سارہ کے نہ کوئی شفیق تھا،نہ رفیق تھا,نہ مونس تھا کہ سر رہ،حضرت خلیل کی ماہ جبین زوجہ کے حسن لازوال اور بے مثال پے چشم غیر کی بد نگاہی نے حضرت ابراہیم کے لئے ایک اور آزمائش کا دروازہ کھول دیا۔ علاقہ مصر کا اور تخت شاہی پے اللہ کا باغی فرعون ہر خوبرو شادی شدہ خاتون کی عصمت ریزی کو مشغلہ بنائے ہوئے تھا اور اپنے گماشتوں کے ذرئیے ملک بھر سے خوبصورت خواتین کی معلومات جمع کرتا تھا۔اب کی بار گماشتوں نے حضرت سارہ کے حسن و جمال کا پیغام اس خبیث کے دربار تک پہنچا دیا۔نیت میں بگاڑ اور دماغ میں فطور جوش مارنے لگا۔حضرت سارہ کو اندرون دربار لے گئے۔ہوس بھری نگاہوں سے حضرت سارہ کی جانب ہاتھ بڑھائے، ادھر حضرت خلیل بے بس و بے کس اللہ کی مدد کے لئے سجدہ ریز ہوگئے۔معاملہ زوجہ محترمہ کی عزت و آبرو کا تھا اور یہ آزمائش اور بھی سنگین۔فرعون کے ہاتھ بڑھتے ہی شل ہونے لگے۔سارہ سے معافی مانگی اور تحفے میں اپنی بیٹی حضرت ہاجرہ دی۔سارہ حسن و جمال میں بے مثال مگر بانجھ تھی اس لئے حضرت ابراہیم نے حضرت ہاجرہ کو اپنی ازدواجی زندگی کی زینت بنایا۔حضرت خلیل الرحمان کبر سنی کے عالم میں پہنچے تھے مگر اولاد کے لئے ترستے تھے۔مانگتے تھے" رب ھب لی من الصالحین" دعا قبول ہوئی اور چھیاسی برس کی عمر میں پہلے اسماعیل اور پھر اسحاق دو فرزند نصیب ہوئے لیکن کیا معلوم کہ ابھی آزمائشوں کا سلسلہ رکا نہیں۔پہلے تو حضرت ہاجرہ کو اس شیر خوار بچے سمیت مکہ کے تپتے ریگزاروں میں وادء غیر ذی ذرع اور انسانی بستی سے خالی سنسان میدان میں چھوڑنا پڑا۔کیا گزری ہوگی اللہ کے خلیل کے قلب سلیم پے اس امر الٰہی کی تعمیل میں۔پھر یہی بچہ جو بڑھاپے کی سوغات تھی جب  شباب کی دہلیز پے قدم رکھتا ہے تو خلیل کو خواب میں ایک اور عظیم ترین آزمائش کے لئے حکم ہوتا ہے۔آنکھ کھلی تو بیٹے سے مخاطب ہوئے اور کہا: "اے میرے بیٹے میں نے خواب میں دیکھا کہ تجھے ذبح کرہا ہوں" بیٹے نے جواب دیا " ابا جان آپکو جو حکم ہوا کر ڈالئے اور آپ مجھے صابر پائینگے"ادھر چھری تیز ہوء ادھر فرزند ارجمند کو پیشانی کے بل زمین پے لٹا دیا۔حلق کٹنے کی دیر تھی کہ عرش سے صدا آئی "اے ابراہیم آپ نے خواب سچا کر دکھایا اور فدئے میں ایک مینڈھا بھیجا جارہا ہے"اللہ نے آخرین کے لئے تا قیامت سنت جاری کردی اور ہر برس کی طرح اگلے چند روز کے بعد اطراف عالم میں امت محمدی کے لوگ سنت ابراہیمی پے عمل پیراہونے ہی والے ہیں۔
مگر سنت ابراہیمی کی ادائیگی اگر مالی خوشحالی پے منحصر ہو تو محض ایک رسم بے جان ہے اور اگر نفس امارہ کی سرکوبی اور خرافات و بدعات کے سینے میں توحید کا نشتر چلانے کی نیت سے ہو تو کہا جا سکتا ہے کہ قربانی کی روح باقی ہے ورنہ بقول شاعر :-
نہنگ اڑدھائے شیر نر مارا تو کیا مارا
بڑے موذی کو مارا گر نفس امارہ کو مارہ
انسان کے پہلو میں پوشیدہ دشمن سے بڑھکر کوء دشمن نہیں ہو سکتا اور اس دشمن کی خوراک سوئے اعمال ہیں۔
خانہ کعبہ کی دیواریں اٹھانے والے اس برگزیدہ پیغمبر کی دعاؤں کے نتیجے میں مکہ کیتپتے ریگزاروں کے اندر سال بھر دنیا بھر کے پھل اور کیا کچھ نہیں ملتا ہے اور یہی پیغمبر ایک آخری رسول کی کی بعثت کے لئے دعا بھی مانگتے ہیں اور وہ بھی اسی سرزمین میں جناب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک شکل میں ایک بدر کامل کی طرح , کفارہ مکہ کے ظلمتوں کے حصار کے در ودیوار میں شگاف ڈالنے کے لئے نمودار ہوتا ہے اور فخر کائنات سید الانبیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اصل میں حضرت اسمعیل ؑکی پشت سے پیدا ہوئے۔
ایک اور کرامت یا معجزہ یا پھر اس توحید پرستی کا اعزاز سمجھئے کہ حضرت خلیل اور حضرت اسماعیل یعنی باپ بیٹا جمال میں ،کمال میں اور شکل و صورت میں اتنے مشابہ تھے کہ معلوم نہیں ہوتا کہ خلیل کون ہے اور اسماعیل کون ہے۔نشانہ امتیاز قائم ہوا۔اللہ کی مشیعت سے حضرت خلیل کے سر کے دو بال حالت خواب میں سفید ہو گئے۔نیند سے جاگے آئینہ دیکھ رہے تو سرپے دو بال سفید نظر آئے۔کہنے لگے ہائے اللہ یہ کیا ہوا۔ندا آئی یہ دو نور ہیں۔اسطرح سے خلیل اور اسماعیل کے درمیان فرق معلوم کرنے کا پیمانہ دو سفید بال بن گئے اور دنیا میں سب سے اول خلیل  کے بال سفید ہوئے۔
نناوے برس کی عمر میں ختنہ کرنے والے حضرت ابراہیم 175 برس کی طویل مدت میں اللہ کی سر زمین میں اللہ کی وحدانیت کا پرچم لہراتے رہے اور توحید اور اطاعت خداوندی سے سرفراز اس پیغمبر نے جب جبل ابو قیس پے چڑھ کے دنیا بھر کے لوگوں کو دعوت حج دی تو سارے پہاڑ جھک گئے اور ابراہیم کی آواز چہار گوشہء زمین تک پھیل گئی۔ایک آج ہم ہیں کہ ہماری آواز ہمارے گھر کی چاردیواری تک نہیں پہنچ سکتی ہیں مگر جانوروں کی قربانی میں کسی سے کم نہیں!!!
خلیل تو آج مکفیلیہ کی غار میں مقام خلیل میں اللہ کی رضا کی ردائے رحمت میں لپٹا استراحت فرما ہے اور تیری دعاؤں کا نتیجہ ہے کہ میں امت محمدی کی پچھلی صفوں میں مگر منزل کی تاک میں خوف و بیم کی حالت میں سرگرداںعاقبت کی فکر لئے اطاعت اور وفاداری کی شب و روز کی کدوش میں مصروف کار ہوں مگر اندیشہ دستک دے رہا ہے کہ روح قربانی ایک بڑا اعزاز ہے اور جنت کی ضمانت ہے۔ اس لئے تدبر و تفکر اور اصلاح نفس کے لئے ابھی اور بھی کرنا کچھ باقی ہے !!!
اے خلیل تجھے بچپن میں رشد ملا۔( الانبیا -51)
آپکو قلب سلیم ملا(صافات-84)
آپکو یقین کامل ملا(الانعام-75)
آپکو حیات بعد الممات سے آگاہی ہوئی(البقرہ 260)
آپ نے اپنے باپ سے دعوت کا آغاز کیا(المریم48-41)
آپکی سنت اب بھی باقی ہے۔اس میں ایک عظیم پیغام اور ابدی نصرت اور سرخروئی کا سامان موجود ہے۔الہٰی امت مسلمہ کو روح قربانی کو سمجھنے کی توفیق دے۔آمین۔
نیل ،چدوس تحصیل بانہال،ضلع رام بن 
فون نمبر 84939902 

تازہ ترین