قربانی اور ارشاداتِ نبویؐ

نماز کے ساتھ قربانی کے ذکر کی حکمت

تاریخ    1 اگست 2020 (00 : 03 AM)   


فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ: سو آپ اپنے پروردگار کی نماز پڑھئے اور قربانی کیجئے۔
 اونٹ کی قربانی کو نحر کہا جاتا ہے، اس کا مسنون طریقہ اس کا پائوں باندھ کر حلقوم میں نیزہ چھری مار کر خون بہا دینا ہے، جیسا کہ گائے وغیرہ کی قربانی ذبح کرنا (یعنی جانور کو لٹا کر حلقوم پر چھری پھیرنا ہے) عرب میں چونکہ عمومًا قربانی اونٹ کی ہوتی تھی، اس لئے قربانی کرنے کے لئے یہاں لفظ و انحر استعمال کیا گیا۔ بعض اوقات لفظ نحر قربانی کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، اس سورہ کی پہلی آیت میں کفار کے زعم باطل مقدار میں عطا فرمانے کی خوشخبری سنانے کے بعد اس کے لشکر کے طور دو چیزوں کی ہدایت کی گئی ، ایک نماز دوسرے قربانی ۔ نماز بدنی اور جسمانی عبادتوں میں سب سے بڑی عبادت ہے، اور قربانی مالی عبادتوں میں اس بنا پر خاص امتیاز رکھتی ہے کہ اللہ کے نام پر قربانی کرنا بت پرستی کے شعار کے خلاف ایک جہاد بھی ہے۔ کیونکہ ان کی قربانیاں بتوں کے نام پر ہوتی تھیں۔ اسی لئے قرآن کریم کی ایک اور روایت میں نماز کے ساتھ قربانی کا ذکر فرمایا ہے: اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ (معارف القرآن، ج ۸،ص۱۹۰)
قربانی کی فضیلت
 ’’حضرت زید بن ارقمؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ صحابہ کرامؓ نے دریافت فرمایا اے اللہ کے رسولﷺ یہ قربانی کیا ہے؟ تو حضور ﷺ نے فرمایا تمہارے باپ ابراہیم ؑ کی سنت ہے۔ تو صحابہؓ نے عرض کیا کہ اس میں ہمارے لئے کیا ہے؟ تو حضورؐ نے فرمایا ہر بال کے بدلہ ایک نیکی ہے۔ صحابہ ؓ نے کہا تو صوف یا رسول اللہ! (یعنی کیا اون والے جانور کا بھی یہی حساب ہے یا رسول اللہؐ) تو حضورؐ نے فرمایا کہ صوف یعنی اون والے جانور کے ہر بال کے بدلہ بھی ایک نیکی ہے۔‘‘(ابن ماجہ)
اہمیت قربانی
 ’’حضرت عبد اللہ ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے مدینہ منورہ میں دس برس قیام فرمایا وہ قربانی کرتے تھے۔( دس سال) یعنی ہر سال قربانی کرتے تھے۔(مشکوٰۃ)
یوم عید الاضحٰی کا محبوب ترین عمل قربانی
 ’’حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ذی الحجہ کی دسویں تاریخ (یعنی عیدا لاضحٰی کے دن) انسان کا کوئی عمل اللہ کو قربانی سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ نہیں اور بلا شبہ قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنی سینگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ ٓئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی رضا اور مقبولیت کے مقام پر پہنچ جاتا ہے۔ پس (اے خدا کے بندو!) دل کی خوشی کے ساتھ قربانیاں کرو۔ ‘‘(ترمذی)
قربانی نہ کرنے پر وعید
’’حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو آدمی قربانی کی گنجائش رکھے اور وہ قربانی نہ کرے وہ ہر گز ہماری عید گاہ کو نہ آئیـــ"۔(ابن ماجہ)
قربانی جہنم سے آڑ
’’حضرت حسینؓ بن علیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس شخص نے دل کی خوشی کے ساتھ طلب ثواب کے لئے قربانی کی وہ قربانی اس کے واسطے (دوزخ کی ) آگ سے آڑ ہو گی۔ ‘‘(الترغیب والترہیب)
قربانی کا وقت نماز عید کے بعد
’’حضرت براءؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس نے قربانی نماز سے پہلے کی اس نے اپنے لئے ذبح کیا اور جس نے قربانی نماز کے بعد کی اس نے اپنی قربانی کو پورا کیا اور مسلمان کے طریقے کو پا لیا۔‘‘ (مشکوٰۃ)
’’حضرت جندب بن سفیانؓ سے روایت ہے کہ میں عید الاضحٰی میں رسول اللہﷺ کے ساتھ تھا، جب آپؐ نماز پڑھ چکے تو بکریوں کو دیکھا کہ وہ کٹ گئیں۔ آپﷺ نے فرمایا جس نے نماز سے پہلے ذبح کیا وہ دوسری بکری ذبح کرے اور جس نے ذبح نہیں کیا ہے وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کرے۔‘‘(مسلم)
قربانی کے جانور کی عمر
’’حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کت ذبح کرو قربانی میں مگر مسنہ (جو ایک برس کا ہو کر دوسرے میں لگا ہو) البتہ جب تم کو ایسا جانور نہ ملے تو دنبہ کا جذعہ قربانی کرو جو چھے مہینے کا ہو کر ساتویں مہینہ میں لگا ہو۔‘‘(مسلم)
فائدہ:۔ مسنہ اونٹوں میں یہ ہے کہ پورے پانچ سال کا ہو کر چھٹے سال میں شروع ہوا ہو اور گائے، بیل، بھینس میں یہ ہے کہ دو برس کا ہو کر تیسرے میں شروع ہوا ہو۔ بکری، دنبہ اور بھیڑ میں یہ ہے کہ ایک برس کا ہو کر دوسرے میں شروع ہوا ہو۔ پس ان سب اقسام میں قربانی کے لئے مسنہ ہونا ضروری اور شرط ہے۔ یعنی اونٹ پانچ سال کے، گائے، بیل وغیرہ دو سال کے، بکری ، دنبہ وغیرہ ایک سال کے ہونا ضروری ہے۔ مگر دنبہ اور بھیڑ کا اگر جذعہ بھی قربان کر لیا جائے تو درست ہے۔ اور جذعہ کہتے ہیں اس کو جو چھے مہینے سے زیادہ کاہو، سال بھر سے کم کا ہو۔ دنبہ اور بھیڑ کے جذعہ کو مسنّہ ملنے کے وقت بھی قربان کرنا جائزہ ہے، ہاں مستحب ہے کہ مسنہ ہوتے ہوئے جذعہ کو قربان نہ کیا جائے۔(مظاہر حق قدیم ج ۱ ص ۵۰۵)
قربانی کے جانور کے متعلق ہدایات
’’حضرت براء ابن عازبؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ سے دریافت کیا گیا کہ قربانی میں کیسے جانوروں سے پرہیز کیا جائے(یعنی وہ کیا عیوب اور خرابیاں ہیں جن کی وجہ سے جانور قربانی کے قابل نہیں رہتا) آپؐ نے ہاتھ سے اشارہ فرمایا اور بتایا کہ چار (یعنی چار عیوب اور نقائص ایسے ہیں کہ ان میں سے کوئی عیب و نقص اگر جانور میں پایا جائے تو وہ قربانی کے قابل نہیں رہتا ہے) ایک ایسا لنگڑا جانور جس کا لنگڑا پن بہت کھلا ہوا ہو( کہ اس کی وجہ سے اس کو چلنا بھی مشکل ہو) دوسرا وہ جس کی ایک آنکھ خراب ہو گئی ہو اور وہ خرابی بالکل نمایاں ہو۔ تیسرے وہ جو بہت بیمار ہو۔ چوتھے وہ جو ایسا کمزور اور لاغر ہو کہ اس کی ہڈیوں میں گودا بھی نہ رہا ہو۔ ‘‘(مشکوٰۃ)
بڑے جانور میں سات حصے
’’حضرت جابرؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ گائے سات کی طرف کفایت کرتی ہے اور اونٹ بھی سات کی طرف سے کفایت کرتا ہے۔‘‘(مشکوٰۃ)
بہترین قربان
’’حضرت ابوامامہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ بہترین کفن نیا کپڑا ہے اور بہترین قربانی سینگوں والا مینڈھا ہے۔‘‘(ابن ماجہ)
’’نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کو سب سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ وہ قربانی ہے جو کہ فرنہ (موٹی تازی) اور قیمتی ہو۔‘‘ (بیہقی)
عورت کا ذبیحہ 
 ’’حضرت ابن کعب بن مالکؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت نے بکری ذبح کی پس اس کا تذکرہ نبی کریم ﷺ سے کیا گیا تو نبی کریم ﷺ نے اس میں کوئی حرج نہیں دیکھا۔(ابن ماجہ)
جانور کے سامنے چھری تیز نہ کرنا
 ’’حضرت عاصم بن عبید اللہ بن عاصم بن عمر بن خطابؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بکری پکڑے ہوئے چھری تیز کی ، حضرت عمرؓ نے اس کو درہ مارا اور فرمایا کیا تو ایک جان کو عذاب دیتا ہے۔ دھار لگانے کا کام تو نے بکری پکڑنے سے پہلے کیوں نہ کیا۔‘‘  (کنز العمال)
جانور ذبح کرنے سے پہلے چھری تیز کرنا
 ’’حضرت شداد بن اوسؓ حضورﷺ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ حسن سلوک کرنا فرض کیا ہے، اس لئے جب تم قتل کرو(کسی کو قصاص یا حد میں) اچھی طرح قتل کرو اور جب (کسی جانور کو ) ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو۔ چنانچہ تم میں سے جب کوئی جانور ذبح کرے تو اپنی چھری کو تیز کرلے اور ذبیحہ کو راحت و آرام پہنچائے۔ (یعنی ذبح کرنے کے بعد فورًا اس کی کھال وغیرہ نہ کھینچو بلکہ اس کے ٹھنڈا ہونے کا انتظار کرو۔‘‘(مشکوٰۃ)
جانور کے سامنے دوسرے جانور کو ذبح نہ کرنا
 ’’حضرت صفوان بن سلیم سے مروی ہے کہ حضرت عمرؓ اس بات سے منع کرتے تھے کہ بکری کو بکری کے سامنے ذبح کی جائے۔ (کنز العمال)
میت کی طرف سے قربانی
 ’’حضرت جنشؓ سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت علیؓ کو دیکھا کہ وہ مینڈھے کی قربانی کر رہے ہیں تو میں نے ان سے کہا کہ یہ کیا ہے؟ تو حضرت علیؓ نے فرمایا کہ رسول اللہﷺ نے مجھے وصیت فرمائی کہ میں ان کی طرف سے قربانی کروں۔ تو میںان کی طرف سے قربانی کر رہا ہوں۔ (گویا کہ ایک اپنی طرف سے اور ایک نبی کریم ﷺ کی طرف سے۔‘‘(ابوداوٗد)
قربانی کا طریقہ اور دُعا
’’حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ عید قربان کے دن نبی کریم ﷺ نے سیاہی سفیدی مائل، سینگوں والے دو حصی مینڈھوں کی قربانی کی، جب آپؐ نے ان کا رُخ صحیح یعنی قبلہ کی طرف کر لیا تو یہ دُعا پڑھی: اِنِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ عَلٰی مِلَّۃِ اِبْرَاھِیْمَ حَنِیْفًا وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ۔ اِنَّ صَلٰوتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَبِذَالِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ (اس کے بعد ) اَللّٰھُمَّ مِنْکَ وَلَکَ عَنْ مُحَُمَّدٍ وَّاُمَّتِہٖ بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ پڑھ کر آپؐ نے مینڈھے پر چھری چلائی اور اس کو ذبح کیا۔(ابوداوٗد)
نوٹ : دُعا میں مذکور الفاظ’’عَنْ مُحَمَّدٍ وَّاُمَّتِہٖ‘‘ کے بجائے اپنا اور اہل و عیال کا نام لے یا جس کی طرف سے ذبح کر رہا ہے، اس کا نام لے۔
قربانی کے گوشت کو ذخیرہ بنانا
’’حضرت جابرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا قربانیوں کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے سے پھر اس کے بعد فرمایا کھائو اور توشہ کرو اور رکھ چھوڑو(تو ممانعت منسوخ ہو گئی)۔(مسلم)۔’’حضرت بریدہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، میں نے تم کو قبروں کی زیارت تین سے زیادہ رکھنے سے منع کیا تھا اب جب تک چا ہو رکھو اور میں نے تم کو سوائے مشک کے اور برتنوں میں نیند بنانے سے منع کیا تھا اب جس برتن میں چاہو بنائو لیکن نہ پیو نشہ کرنے والی چیز۔‘‘(مسلم) 
 

تازہ ترین