قربانی اور صفائی

کام کی بات

تاریخ    31 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


انصار احمد معروفی
قربانی کے دنوں میں قربانی کرنے پر جس طرح بے انتہا اجر و ثواب لکھا جاتا ہے ، اسی طرح قربانی کے فضلات اور غیر ضروری چیزوں کو اہتمام سے دفن کرنے میں بھی بہت زیادہ اجر و بشارت کا وعدہ ہے۔ یہ بات تو اکثر حضرات کے علم میں ہے کہ مذہب اسلام میں ’’ صفائی و ستھرائی ‘‘ کا کیا مقام ہے ؟ اور غلاظت و گندگی پھیلانا کس قدر مذموم ہے ، نظافت و صفائی سے متعلق صرف یہ حدیث ہی کافی ہے ، جس میں بتلایا گیا ہے کہ ’’ نظافت آدھا ایمان ہے ‘‘ اب جس چیز کو شریعت میں ایمان کی علامت سے منسوب کردیا جائے ، وہ شے کتنی اہم اور اعلیٰ ہوگی ، کیوں کہ اعمال سے بھی بڑی چیز ایمان ہے ، اور صفائی و ستھرائی کا پورے ایمان کا نصف حصہ قرار دے کر اس کے درجے کو کس قدر بلند وبالاکردیا گیا ہے ؟ بخوبی سمجھا جاسکتا ہے ۔ 
قربانی کرنا ہر صاحب استطاعت پر واجب ہے ، اور چونکہ یہ چیز ایسی ہے جس میں انسان کے دل میں ریا اور دکھاوے کا مادہ پروان چڑھتا رہتا ہے ، اور بہت سے لوگ اپنے مہنگے اور فربہ جانور وں کو دوسروں سے اونچا دکھانے کی فکر میں رہتے ہیں ، ساتھ ہی دوسروں کے جانوروں کو اپنے سے کم تر سمجھنے لگتے ہیں ، یا پھر کئی ایک قربانی کرنے پر اسے بہت زیادہ سخاوت سے تعبیر کرتے رہتے ہیں ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمادیا کہ ’’اللہ پاک کے یہاں قربانی کا گوشت اور اس کا خون نہیں جاتا ، بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے ، کہ تم کس نیت سے قربانی کررہے ہو ؟ اس لیے ایسے موقع پر قربانی کرنے والوں کے دل میں یہ جذبہ ہونا چاہیے کہ ’’ سب کچھ اللہ کا دیا ہوا ہے ، میں اسی کی دی ہوئی چیز کو اسی کے نام پر قربان کررہا ہوں ، تاکہ وہ مجھ سے خوش ہوجائے ‘‘ اس صورت میں ہربال کے بدلے میں نیکی ملے گی اور وہ ان تمام بشارتوں کا مستحق ہوگا جو قربانی سے متعلق ہیں ۔ 
عموما قربانی کے موقع پر لوگ صفائی و ستھرائی کا لحاظ نہیں کرتے ، اور عموما اس کی غلاظتوں کو ادھر ادھر ڈال دیتے ہیں ، جس سے چند گھنٹوں کے بعد بدبو پھیلنی شروع ہوجاتی ہے ، یا گھروں سے لوگ اس کی غیر ضروری چیزیں بے توجہی میں گھر سے باہر کرکے مطمئن ہوجاتے ہیں کہ ہمارا کام ہوگیا ، پھر وہ غلاظتیں سڑگل کر پورے ماحول کو آلودہ کرکے جینا حرام کردیتی ہیں ، اکثر گھروں کی صفائی عورتوں سے متعلق ہوتی ہے ، وہ گوشت کو صاف کرکے ، یا ناقابل استعمال اشیا کو بے دھیانی میں گھر کے کوڑا کرکٹ کے ساتھ کھلی جگہوں پر پھینک دیا کرتی ہیں ، جس سے نہ صرف مسلمانوں کو اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، بلکہ ادھر سے گزرنے والے برادران وطن کو بھی کئی قسم کی تکلیف ہوتی ہے ، وہ ناک پر کپڑا رکھ کر مسلمانوں کو کوستے اور لعنت کرتے ادھر سے گزرتے ہیں ، اور سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ مسلمانوں کی بستیاں کتنی گندی اور غلاظتوں سے بھری ہوئی ہیں ۔ ان کا یہ سوچنا بجا ہے ، اور ان کی لعنتیں بھی درست ہیں ۔ جب کہ حکومت کے ساتھ علمائے کرام اور رہبران قوم صفائی کی جانب برابر متوجہ کرتے رہتے ہیں ، مگر ہائے رے مسلمان ، جسے لگتا ہے کچھ پرواہ نہیں ہے ، اس کا مذہب کیا کہہ رہا ہے ؟ کیا تعلیم دے رہا ہے ؟ اس کی کوئی فکر ہی نہیں ، نتیجے کے طور پر فضائی آلودگی کی وجہ سے طرح طرح کی بیماریاں پھیلتی جاتی ہیں ، خاص طور پر اس وقت جب کہ ’’کرونا وائرس ‘‘ آندھی طوفان کی طرح پھیلتا جاتا ہے ، اس موقع پر ہمارے لیے از حد ضروری ہوگیا ہے کہ صفائی و نظافت کا خیال رکھا جائے ، قربانی کے گوشت کے ٹکڑوں کو گلی کوچے میں نہ پھینکا جائے، اور انہیں کہیں ڈالنے کے بجائے دفن کرنے کا اہتمام کیا جائے ۔
 

تازہ ترین