قربانی کریں لیکن پاکیزگی کا خیال رکھیں

اصلاحِ معاشرہ

تاریخ    31 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


بشارت بشیر
عید قربان کی آمد آمد ہے اور دوسری سمت کرونائی حدتیںاو رشدتیں انسانیت کو لرزہ براندام کئے ہوئے ہیں۔ نت نئی بیماریاں الٰہی مخلوق پر حملہ آور ہیں اور ماحولیاتی آلودگی نے بھی انسانیت کی ناک میں دم کر رکھا ہے۔ ہم جس دین مطہر سے وابستہ ہیں اْس نے جہاں قلوب کی طہارت اور ابدان کی پاکیزگی کو زبردست اہمیت دی ہے، وہاں ماحول کی نفاست اس کے یہاں سر فہرست رہی ہے۔ اس نے توبہ کرنے والے اور صفائی پسند لوگوں کو اللہ کا محبوب گردانا ہے پاکیزگی کو نصف ایمان سے تعبیر کیا ہے۔[مسلم] امت مسلمہ کے دلوں میں جس کعبۃ اللہ کے طواف و حج کا شوق و جذبہ بہر آن موجزن رہتا ہے۔ اس گھر کے مالک نے اس کے معمار سیدنا ابراہیم ؑ کو اس کی تعمیر کے وقت ہی اس امر سے آگاہ فرمایا تھا کہ میرے اس گھر کو طواف ، اعتکاف اور سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک رکھ [القرآن] لیکن اسے ہماری کور بختی ہی کہئے کہ بہت سے مقامات پر مسلمان بستیوں کے پہچان ہی اب یہ بن گئی ہے کہ وہاں غلاظت اور گندگی کے ڈھیر نظر آتے ہیں۔ عفونت اور بدبو سر چڑھ کے بولتی ہے۔ کتنا بڑا المیہ ہے یہ ؟ رمضان کی آمد آمد ہو یا ایام عید ہوں ہر سو گندگی کے ڈھیر لگ جاتے ہیں۔ بات تلخ ہی سہی مگر درست ہے نا کہ مسلمان بستیوں میں تھیلوں ، پلاسٹک لفافوں ، غذائی اجناس ، روٹی کے بچے کھچے ٹکڑوں ، پھٹے پرانے کپڑوں ، مشروبات کے ڈبوں اور بوتلوں کے ڈھیر لگے رہتے ہیں۔ کیا یہ کوئی اور ہمارے محلوں علاقوں میں پھینک کے جاتا ہے۔ ہمیں اس سے غرض نہیں کہ غیر مسلم برادری کی بستیوں میں بھی کیا ایسا ہوتا ہے۔ موازنہ کرنے ہم بیٹھ نہیں گئے ہیں۔ اپنے معاشرے کی بات اور اپنا احتساب کرتے ہیں بات جو کررہے ہیں وہ سچ ہے یا الزام ہے ہمیں بتانا ہوگا۔ برناڈ شاہ کو اسلام سے شدید بغض تھا اس میں کوئی دو رائے نہیں لیکن ہندوستان کے ایک عالم دین نے جب اسلام کی اصل تصویرمطہر نظام اور پاکیزہ ماحول کے قیام کے لئے اس کے حیات آفرین پیغام سے آگاہی دلائی وہ اسلام کی حقانیت کا معترف تو ہوگیا اور کھلے لفظوں میں کہا اسلام مجھے اب بہت عزیز ہے۔ لیکن مسلمان نہیں کیونکہ وہ اس دین ِ پاکیزہ کی پاکیزہ تعلیمات پر عمل پیرا نہیں ، بات بالکل درست ہے۔ ہم جس دین ِ نظافت سے منسلک ہیں اس نے انسانی ابدان و اجسام کی طہارت پر ہی نہ صرف زور دیا ہے بلکہ کپڑوں تک کو پاکیزہ رکھنے، خوشبو استعمال کرنے اور بالوں کو سنبھال سنوارنے کا درس بھی دیا ہے۔ ماحول کی کثافت سے بچنے کی تلقین کی ہے۔ درختوں اور پودوں کی بوائی اور نگہداشت کرنے کے ساتھ ساتھ حالتِ جنگ میں بھی انہیں جلانے ، کاٹنے سے منع کیا ہے۔ بیت الخلا ء میں جانے کے آداب اور صفائی کے احکام سے آگاہ کیا ہے۔ برناڈ شاہ کا متذکرہ جملہ ہمیں کانٹے کی طرح چبھنا چاہئے اور واقعی ہمیں پاکیزہ دین کی جانب لوٹنا ہوگا۔ واحسرتا! یہاں وہ لوگ بھی ہیں۔ گز گز بھر بال ہیں ان کے ، عفونت روح و بدن میں سرایت کی ہوئی ، وضو و غسل کا تصور بھی نہیں کیونکہ مخبوط الحواس ہیں مگر ہمارے یہاںکہیں کہیں پیر فقیر بھی ٹھہرتے ہیں۔ یہ ا نتہائی حساس مسئلہ ہے جو غور طلب ہے۔ ہاں بات طہارت اور پاکیزگی کی ہورہی ہے۔ یہ کیا ہمارے محلوں میں کوڑے کے ڈھیر ، بدبو اورعفونت ہر سو پھیلی ہوئی ہیں۔ برسات ہو نہ ہو سڑکوں پر گندنے پانی کا جمائواور گٹر نہروں دریائوں اور ندی نالوں میں صاف نظر آتا ہے۔ یہ ہمیں ہوا کیا ہے کہ اپنا مکان صاف ستھرا لیکن گھروں کے کوڑے کے ڈھیر اور بوسیدہ و استعمال شدہ اشیاء کا انبار نکال کے کسی ہمسایہ کے دروازے پر ڈال کر اور سڑک پر پھینک کر چل دئیے یہ تک احساس نہیں کہ ہمسایہ کو تکلیف کا شکار بنانا اور ماحول کو بگاڑنا کس قدر سنگین گناہ ہے۔ اور پھر لگے دہائی دینے کہ ماحول آلودہ ہوگیا ہے …
 یہ رہی گھروں کی بات، مسجدوں کو دیکھئے، وہاں کے بیت الخلائوں کا جائزہ لیجئے ، واش رومز کو دیکھئے، کیا حالت بنا رکھی ہے ہم نے ان کی ،اندر جانے کو جی ہی نہیں چاہتا… ہاں کئی مقامات پر حالت اطمینان بخش ضرور ہے مگر مجموعی اعتبا ر سے بے حد رنج دہ … شادی بیاہ کے مواقع کو دیکھئے کھانے کے بعد دھکم ماری تو ہوتی ہی ہے لیکن پھر ڈسپوزل کا کیا کرتے ہیں۔ نالیوں میں ، دکانوں کے سامنے ، بیچ سڑک پر ہماری نفاست پسندی کا بھانڈا پھوٹتا ہے۔ کیا یہ بھی کسی کی سازش ہے؟ …
 اب الحمد اللہ عید قربان آرہی ہے بات تو اسی موضوع پر کرنی تھی لیکن تمہید طولانی ہوگئی۔ بہرحال ہم نے قربانی کے جانور یا تو خرید رکھے ہیں یا خریدرہے ہیں۔ ایک حکم ہے جس کی تعمیل میں ہم بدل و جان آمادہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ روحِ قربانی سے بھی آشنا کرے لیکن کیا قربانی کے جانور کے ذبح کرنے سے پہلے بعد کے مرحلے پر ہم نے سوچا بھی ہے کہ جانور کے فضلے کا کیا کریں۔ آلائشوں اور آلودگیوں کو کیسے ٹھکانے لگائیں تاکہ اس عظیم عبادت اور بہتر عمل کے بعد ہم کسی کی بددعائوں کی زد میں نہ آئیں ماحول عفونت زدہ نہ بنے لوگوں کی زبانوں کے تیر و نشتر سے روح و دل گھائل نہ ہو۔ قبل اِس کے یہ سب کچھ ہو، ہم غور کریں کہ قربانی خوشی خوشی کریں گے۔ لیکن بعد میں ان جانور کے فضلے اور آلائشوں کو بھی ڈھنگ سے ایسے ٹھکانے لگائیں گے کہ نہ ماحول خراب ہو اور نہ کوئی طبعیت مکدرہو۔ گرمیوں کا موسم ہے،کرونائی وباکہیںمزید زور نہ پکڑے، یہ آلائشوں اور فضلہ بیماریوں کا سبب نہ بن جائے۔ ایسا بھی امکان ہے کہ عید قربان کے موقع پر بارشیں بھی ہوں۔ موسم کی اپنی حدت بھی ہے ایسے میں امراض کے پھیلنے کازیادہ اندیشہ رہتا ہے۔ ان آلائشوں پر بیکٹیریا جھپٹے تو پھر بیماریوں کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ اِن آلودگیوں اور آلائشوں سے بچنے کا ایک اچھا طریقہ یہ بھی ہے کہ انہیں کسی گڑھے میں دفن کریں۔ جانور کو گڑھے پر ہی ذبح بھی کریں۔ تاکہ خون بھی اسی میں جذب ہوجائے۔ پھر اسی گھڑے میں فضلہ اور دیگر آلائشیں بھی ڈال دیں ، پلاسٹک جس میں یہ جمع کیا ہو وہ اس گڑھے میں نہ ڈال دیں پھر اس میں مٹی ڈال دیں، آلائشوں کا حجم کم ہونے کی وجہ سے مٹی اندر دھنس جائے گی۔ اضافی مٹی ڈال دیں اچھی کھاد بن جائے گی۔ پودے اور درخت اس پر لگائے جاسکتے ہیں۔ ممکن ہے آپ کے علاقے کی بلدیہ بھی ان آلائشوں کو ٹھکانے لگانے کے حوالہ سے کچھ فکر مند ہو لیکن کسی پر توقع کرنے سے پہلے ہم اس بات کا ادراک کریں کہ ہم خود اس معاملے کے تعلق سے کتنے حساس ہیں۔ 
 پھر کہوں گا کہ قربانی کی عبادت کے ثواب و اجر کے کیا کہنے، بندگی تو حکم کی تعمیل کا ہی دوسرا نام ہے۔ایک عبادت کی انجام دہی میں دوسرے احکام کو نظر انداز کرنا شیوۂ بندگی نہیں۔ اسلام کی روح ہی یہ ہے کہ اپنے کسی عمل سے کسی دوسرے کو تکلیف نہ پہنچائو۔یہ بھی تو حکم ہی ہے گھروں اور ماحول کو صاف ستھرارکھو گذر گاہوں ، شاہرائوں کو گندہ نہ کرو۔ راستے سے ضرر رساں چیزوں کو ہٹاوئو۔ قربانی کی ان آلائشوں کو مناسب انداز میں ٹھکانے لگانا بھی ان ہی احکام کے زمرے میں آتا ہے۔ ایسا انتظام کریں کہ گندگی نہ پھیلے اور ہم ایک نیکی کرنے کے بعد ایک گناہ کے مرتکب نہ ہوں…حد درجہ محتاط رہیے۔
 

تازہ ترین