معاملہ نجی اسکولوں کی فیس کا ’ غمِ عشق گر نہ ہوتو غم ِ روزگار ہوتا‘

نکتہ نظر

تاریخ    31 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


حماد حبیب اللہ ماٹجی
کرونا وائرس کی وجہ سے جاری موجودہ لاک ڈاون کے بیچ جہاں کئی نئے اور پیچیدہ مسائل اور معاملات سامنے آرہے ہیں وہاں پچھلے تین ماہ سے کشمیر میں اِس بات کو لیکر کافی بحث و تمحیص اور لے دے ہو رہی ہے کہ لاک ڈاون کی وجہ سے بند پڑے نجی سکولوں کو اِس عرصہ کا فیس وصولنے کا حق ہے کہ نہیں۔ اس دوران نجی سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کے والدین کے نام پر ایک عدد تنظیم بھی سامنے آئی اور اس نام پر کئی لوگوں نے خاصی سرگرمی اور پھرتی دکھائی۔زیر تعلیم بچوں کے والدین کا ایک موثر پلیٹ فارم وجود میں لانا وقت کی اہم اور فوری ضرورت ہے اور یہ ایک احسن قدم ہوسکتا ہے اگر قول و فعل میں کسی تضاد کے بغیر کام کیا جائے۔ ہم والدین کی ایسوسی ایشن بنانے پر معترض نہیں ہیں البتہ ہمارا ضرور یہ پوچھناہے کہ اس پلیٹ فارم کو صرف نجی سکولوں تک ہی کیونکر محدود رکھا جا رہا ہے۔ کیا سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم بچے ہماری توجہ کے مستحق نہیں ہیں۔ کیا حکومت کے براہ راست انتظام میں چلنے والے سکولوں میں سدھار کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یا یہ کہ وہاں زیر تعلیم بچے ہمارے نہیں بلکہ غریب، بے کس، سرکاری اور دیگر ایوانوں تک پہنچ سے دور اور سماج کے پسماندہ اور بچھڑے طبقوں کے بچوںسے ہمارا کیا لینا دینا
 نجی سکولوں کے مالکان اور منتظمین ان کے سکولوں میں درج بچوں کے والدین سے لاک ڈاون کے وقفے کی ٹیوشن فیس کا مطالبہ کرتے ہیں کیوںکہ وہ خود ان کے اداروں میں کام کرنے والے اساتذہ اور دیگر سٹاف کی طرف سے تنخواہیں واگزار کرانے کے مطالبے کی زد میں ہیں۔ ایک اندازہ کے مطابق جموں کشمیر میں اِس وقت سات ہزار تک حکومت سے تسلیم شدہ نجی تعلیمی ادارے ہیں ۔ ان نجی اداروں میں مجموعی طور تقریباََبیس لاکھ کے قریب بچے زیر تعلیم ہیں۔یہ نجی تعلیمی ادارے جموں کشمیر خاص کر وادی کشمیر میں پرائیوٹ سیکٹر میں روزگار کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ اگرسات ہزار کے قریب ان اداروں میں اوسطاََ دس اساتذہ کی تعیناتی کا تخمینہ لگائیں توا ندازاً اس سیکٹر میں فی الو قت ستر ہزار سے زائد پڑھے لکھے نوجوان روز گار حاصل کرتے ہیں جن کی تنخواہوں پر اندازاً سالانہ ساڑھے آٹھ سو کروڑ روپے یہ پر ائیوٹ سکول ادا کرتے ہیں اور اس خرچے کا زیادہ تر بلکہ تقریباًسارا حصہ بچوں کے والدین کی طرف سے ادا کی جانیوالی فیس سے پورا ہوتا ہے۔
 اس کے مقابلے میں تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ جموں کشمیر میں 23 ہزار کے قریب سرکاری سکول ہیں جن میں تقریباًپندرہ لاکھ بچے درج ہیں۔ محکمہ تعلیم کے اعلیٰ ذرائع کے مطابق محکمہ ہر سال اِن سکولوں میں تعینات اساتذہ اور دیگر اسٹاف کی تنخواہوں اور باقی اخراجات پر000 12 کروڑ کی بھاری بھرکم رقم صرف کرتاہے۔ سوال یہ ہے کہ لاک ڈاون کے دوران سرکاری سکول ہی نہیں بلکہ کالج، یونیورسٹیاں، پیشہ وارانہ تعلیم و تربیت کے ادارے سرکاری اور نیم سرکاری دفاتر سب کے سب کم یا زیادہ وقت کے لئے بند رہے لیکن کسی چھوٹے بڑے ملازم یا اہلکار کی تنخواہ پر آنچ نہ آنے دی گئی بلکہ سب کی تنخواہیں وقت پربلکہ کئی جگہوں پر وقت سے پہلے ادا کی گئیں ۔اتنا ہی نہیں بلکہ دکانداروں اور دیگر چھوٹے بڑے نجی کاروباری اداروںکے مالکان کے نام باضابطہ احکامات جاری کئے گئے تھے کہ لاک ڈاون عرصہ کی تنخواہیں پابندی اور باقاعدگی کے ساتھ ادا کی جانی چاہئیں۔ پھر بے چارے نجی سکولوں کے اساتذہ ہی صورت حال میں پسے جانے کے لئے کیوںکر رہ گئے ہیں۔
 لاک ڈاون عرصہ کے دوران بچوں کی فیس کی ادائیگی سے انکار کا کوئی انسانی، اخلاقی، سماجی یا قانونی جواز نہیں ہے ۔ اسی پس منظر میںمحکمہ تعلیم کے حکام بالا کے ساتھ ساتھ عدلیہ نے بھی یہ بات واضح اور صاف طور پر کہی ہے کہ ٹیوشن فیس کی ادائیگی ہو۔ اس سب کے باوجود سڑکوں پر آکر نعرہ ، مظاہرہ اور مہم بازی سے شاید ہی کوئی معاملہ سلجھا یا جا سکتا ہے۔ تاہم اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ نجی سکولوں کی تنظیم نے بھی معاملے کو الجھانے میں دانستہ یا نا دانستہ طور اپنا حصہ ادا کر ڈالا۔سوال یہ ہے کہ اگر سرکار، انتظامیہ، عدلیہ اور دیگر سبھی کوارٹروں سے ٹیوشن فیس ادا کرنے اور ٹرانسپورٹ، سالانہ اور دیگر اخراجات اور چارجز کی ادائیگی روکنے کے واضح اور دوٹوک احکامات صادر کئے تو پھر الگ الگ پلیٹ فارموں پر الگ الگ لوگوں سے بحث و مباحثے سے کونسی چیز برآمد ہوسکتی تھی وہ بھی ایسے میں کہ جب نجی سکولوں نے پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ حقیقی مستحقین اور متاثرین کے کیسوں کا فرداً فرداً جائزہ لیا جائے گا۔
اصل میں پچھلی کئی دہائیوں سے کشمیر میں نجی سکولوں کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ یہ ادارے روپیہ پیسہ بٹورنے اور تعلیم کے نام پر بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا کام انجام دیتے ہیں ۔ سچ تو یہ ہے کہ ان شکایات کا تعلق صرف ان چند بڑے مشینری اور سرمایہ دار سکولوں کیساتھ ہے جو ایڈمشن اور ڈونیشن کے نام پر لاکھوں اور ماہانہ فیس کے نام پر والدین سے ہزاروں روپے وصولتے ہیں۔ وادی کشمیر کے مجموعی نجی تعلیمی منظر نامے میں ایسے سکولوں کی تعداد صرف ایک اور دو سو کے درمیان ہوسکتی ہے اس سے زیادہ نہیں۔ ہمیں بحیثیت سوسائٹی اس بات سے منکر نہیں ہونا چاہیے کہ پرائیوٹ سکولوں کی اصل تعداد ان اداروں کی ہے جہاں چند صد بچے محض چند صد روپے ماہانہ فیس کے عوض تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ اور نجی سکولوں کا اصل اور حقیقی چہرہ یہی چھوٹے اور نچلے درجے کیاسکول ہیں نہ کی وہ سرمایہ دار اور کارپوریٹ سکول جن کی تعداد بہت کم ہے اور جنہیں دیکھکر عام لوگ سبھی نجی سکولوں کے بارے میں الگ ہی قسم کا تاثر قائم کرتے ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم پرائیوٹ سکولوں کے پاس اپنے بچوں کی صرف ٹیوشن فیس ادا کریں کیونکہ آن لائن کلاسز چل رہی ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں پرائیوٹ سکولوں کے اساتذہ کو خوامخواہ کی سزا اور تکلیف سے دوچار نہ کریں ۔ساتھ ہی ہم نجی اسکولوں سے بھی یہ امید رکھیں گے کہ وہ اپنے اس اعلان کو عملی جامہ پہنائیں گے کہ لاک ڈاون سے جن لوگوں کا روزگار واقعی بہت زیادہ متاثر ہوا ہے انہیں وہ راحت دیں گے اور انفرادی طور ایسے شدید طور متاثرہ لوگوں کی امداد اور اعانت سے پیچھے نہیں رہیں گے۔
(نوٹ:مضمون نگار کی آراء خالصتاً اُن کی اپنی ہیں اور یہ کشمیر عظمیٰ کی ادارتی پالیسی کی عکاسی نہیں کرتی ہیں)
 نوشہرہ، سرینگر
 

تازہ ترین