آیا صوفیہ میں ذکر الٰہی بحال | مسجد اقصیٰ اور مسجد قرطبہ بھی کسی اردغان کی منتظر

لبِ اظہار

تاریخ    31 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


غازی سہیل خان
 گزشتہ جمعہ 24؍جولائی 2020 کو ترکی کے شہراستنبول میں ایک اعلیٰ عدالتی فیصلہ کے مطابق آیا صوفیہ کی86؍ سال بعد از سر نو میوزیم سے مسجد میں تبدیل کردیا گیا، اور دہائیوں بعد اس تاریخی مسجد میں پہلی نماز جمعہ کی ادائیگی سے نہ صرف ترکی بلکہ پورے عالم اسلام میں خوشی اور مسرت کا اظہار کیا گیا۔دنیا کی نام نہاد سیکولر اور لبرل طاقتوں کے شد ید دبائو کے باوجود رجب طیب اردگان نے دھونس ،د باؤ اور دھمکیوں کو جوتے کی نوک پہ رکھ کے یہ اعلان کیا کہ جمعہ کی نماز مسجد آیا صوفیہ میں ضرور ادا ہوگی۔ اس اعلان کے بعد ساری مسلم دنیا کے لئے یہ دن کسی عید سے کم نہیں تھا،کرونا جیسے وبائی مرض کی موجودگی کے باوجود مسلمانوں نے تاریخ ساز اعلان کے بعد اپنی خوشیوں کاخوب اظہار بھی کیا اور تاریخ کو واپس اپنی ڈگر پر جاتے دیکھ کر شکرانے کے سجدے بھی اداکیے ۔ آیا صوفیہ میں نماز جمعہ کی ادائیگی سے قبل دیے گئے خطبے میں ترکی کے مذہبی اُمور کے وزیر ڈاکٹر علی ایرباش نے ہاتھ میں تلوار تھام رکھی تھی، اس روح پرور منظر کو دیکھ کر دنیا بھر میں اسلام کے شیدائیوں پر جیسے جلال طاری ہوگیااور سماجی رابطہ کی ویب گاہوں پہ نوجوانوں نے اپنے جذبات و احساسات کا خوب اظہار کیا ،یہاں تک کہ فیس بُک و دیگر سماجی رابطہ کی ویب گاہوں پہ نوجوان آیا صوفیہ اور خطبے کے دوران ہاتھ میں لی جانے والی سلطان محمد فاتح کی تلوارکی تصاویرکو خوب شئیر کر تے نظر آئے ۔ خوشیوں کے اس اظہار میں اُنہیں دراصل اسلام کے تابناک ماضی کے لوٹ آنے کی نوید سنائی دے رہی تھی، ملت کی دین پسند نوجوان نسل عثمانیوں کی سرزمین پر خلافت کی جھنڈا بلند ہوتے دیکھ کر اپنی مسرت کو چاہتے ہوئے بھی نہ چھپا سکے ۔بہت سارے لوگوں نے اس خواہش کاکھل کر اظہار کیا کہ کاش ہم بھی اس تاریخ ساز دن اس عظیم الشان مسجد میں اللہ تعالیٰ کے حضورسربسجود ہوتے ۔خطبہ جمعہ کے دوران ڈاکٹر علی ایرباش نے قسطنطنیہ(استنبول)فتح کرنے والے سلطان محمد فاتح کی یاد گار تلوار ہاتھ میں تھامے رکھی ۔خطبہ دینے کا یہ انداز خلافت عثمانیہ کی دور کی ایک روایت ہے اور اسے فتح کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔جہاں اس تلور نے دنیائے مغرب اور عالم کفر کے زرخرید ایجنٹوں کو شدید تکلیف میں مبتلا کیا وہی اس سے عالم اسلام کے اندر حکومتی سطح پر نہ سہی لیکن عوامی سطح پراتحاد و اتفاق اور اپنے ماضی سے وابستہ ہونے کی تحریک بھی عطا ہوئی ۔
 آیا صوفیہ کی عمارت 532؍عیسوی سے 537؍عیسوی کے درمیان گرجا گھر کے طور پر بادشاہ جسٹینین کے دور میں تعمیر کی گئی اور یہ بازنطینی سلطنت کی سب سے اہم تعمیر قراردی جاتی ہے ۔کہتے ہیں کہ جب یہ عمارت تیار ہوئی تو اس وقت کے بازنطینی بادشاہ جسٹینین اول نے فخریہ اندازسے کہا تھا i have outdone the solomon(میں نے سلیمان کو پیچھے چھوڑ دیا)اس کا مطلب یہ تھا کہ حضرت سلیمان نے مسجد اقصیٰ تعمیر کی تھی اور میں نے آیا صوفیہ جیسی عظیم الشان عمارت تعمیر کی ہے ۔اس عمارت کو چرچ کے بطور استعمال کیا جاتا تھا اور یہ بازنطینی حکمرانوں کا ایک فوجی و سیاسی مرکز بھی تھا۔ یہ عمارت بعد میںآورتھوڈوکس چرچ کے سربراہ کا مقام بن گئی۔ اہم ترین بازنطینی تقریبات جیسے تاج پوشی اس عمارت میں ہونے لگیں ۔تقریباً نو سوسال تک یہ عمارت آورتھو ڈوکس چرچ کا گھر رہی ، درمیان میں 13؍ویں صدی میںجب یورپی حملہ آوروں نے قسطنطنیہ کا کنٹرول سنبھا ل کر چوتھی صلیبی جنگ میں شہر میں لوٹ مار کی، یہ عمارت کچھ عرصے کے لئے کیتھولک چرچ کے زیر انتظام رہی ۔چنانچہ جب 1453ء میں سلطان محمد فاتح نے استنبول (قسطنطنیہ) فتح کیا تو یہ عثمانی خلافت کے اختیار میں آگئی ، اُس وقت قسطنطنیہ کا نام بدل کر استنبول رکھا گیااور اس کے ساتھ ہی بازنطینی سلطنت کا خاتمہ بھی ہوگیا۔ اس دوران آیا صوفیہ کا علاقہ پہلے ہی جنگ و جدل اور محاصروں کے دوران تباہ ہو گیا تھا۔استنبول کے فتح ہونے سے پہلے اور بعد میں اکثر عیسائی شہر چھوڑ کر چلے گئے ۔اور اس کے بعد تقریباً پونے پانچ سو سال تک آیا صوفیہ کی یہ عمارت بحیثیت مسجد استعمال ہوتی رہی ،جہاں با ضابطہ نمازیں پڑھیں جاتی تھیں،اور خلافت عثمانیہ کی سلطنت اپنی آن بان اور شان کے ساتھ موجود تھی ۔لیکن پھر جنگ عظیم دوم کے بعد عربوں کی نا اہلی کے سبب خلافت عثمانیہ کا سقوط ہوگیا۔مبصرین کا کہنا ہے کہ مغرب کے گوروں نے عربوں کو قومیت ،اور لسانیت کی بُنیاد پر خلافت عثمانیہ کے سقوط کے لئے تیار کیا جس کے بعد تاریخ اسلام میں یہ سانحہ عظیم رونما ہوا ۔مورخین کا کہنا ہے کہ اگر اُس وقت عرب نے ہوش مندی کا مظاہرہ کر کے ان گورروں کی سازشوں اور چالوںکو بھانپ لیا ہوتا تو آج اسرائیل کا وجود نہیں ہوتا اور مسجد اقصیٰ آج آزاد ہوتی ۔ خلافت عثمانیہ کے سقوط کے بعد ترکی میں نام نہاد سیکولرازم کا لبادہ اوڑھنے کے بعد 1934ء میں آیا صوفیہ کو کمال اتا ترک نے مسجد سے میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا۔مصطفی کمال کی نا اہلی اور اسلام دشمنی اپنے عروج پہ تھی اور دوسری جانب عرب ممالک بھی انگریزوں کے ہاتھوں خوب استعمال ہو رہے تھے جس کے سبب ترکی میںسیکولز ازم اور لبرلازم کو ترک قوم کا نجات دہندہ قرار دیا گیا۔
 ان پُر آشوب ادوار کا بھی ترک عوام نے سینہ سپر ہو کے مقابلہ کیا اور ترک کی مٹی میں ایک ایسا صلاح الدین ایوبی ثانی بن کے اُٹھا جس نے تاریخ کا دھارا ہی موڑ دیا۔ رجب طیب اردگان کو آج مسلم دنیا میں ارتغرل غازی کا کردار ادا کرتا ہوا دیکھا جاسکتا ہے ۔کہتے ہیں کہ جب اردگان 1994ء میں استنبول میں ناظم کا انتخااب لڑ رہے تھے تو اُنہوں نے عمارت کو نماز کے لئے کھولنے کا وعدہ کیا تھا جب کہ 2018ء میں وہ یہاں قرآن کی تلاوت بھی کر چُکے ہیں ۔اپنے اس وعدے کو رجب طیب اردگان نے 24؍جولائی 2020 ء ؍کو پورا کر کے دکھایا جس کے بعد ساری دنیائے کفر لرزہ بر اندام ہو گئی۔ اردگان نے ساری دنیا کو عدالتی فیصلے اور بعض تاریخی دستاویز ات کا حوالہ بھی دیا کہ آیا صوفیہ بُنیادی طور پر فاتح قسطنطنیہ سلطان محمد فاتح ٹرسٹ کی ملکیت ہے جسے باقاعدہ ایک وصیت نامہ کے تحت مسجد کی صورت میں خدمت عامہ کے طور پیش کیا گیاتھا،اس ٹرسٹ کی دستاویز میں واضح طور پر یہ تحریر کیا گیا ہے کہ آیا صوفیہ کو مسجد کے علاوہ کسی اور مقصد کے لئے استعمال نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ان ہی تاریخی حقائق کی بنا پر گذشتہ ہفتہ آیا صوفیہ میں اللہ اکبر اللہ اکبر کی دلسوز صدائیں بُلند ہوئیں ۔ترک صدر نے ایک اور اعلان کر دیا جس میںانہوں  نے امریکہ ،اسرائیل اور نام نہاد سیکولر اور لبرلز کے ناپاک منصوبے پیوند خاک ہونے کی نوید بھی سُنائی ۔ اردگان کا کہنا تھا کہ امت مسلمہ کے لئے بھی متحد ہونے اور اغیار کی ریشہ دوانیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے یک جا ہونے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ آیا صوفیا میںنماز کے اجتماعات شروع ہونے کے بعد اب ہماری اگلی منزل مسجد اقصی کی آزادی ہے ۔
جہاں ترک صدر کے اس بیاں اور اس تاریخ ساز فیصلے پر اسرائیل اور امریکہ میں کھلبلی مچی ہوئی ہے وہیں صہیونی رہنما اور اُن کے گماشے اردغان پر شدید قسم کی تنقید کر رہے ہیں ۔یہ تو ہونا ہی تھا اور صہیونی اور ان کے گماشتوں کا اس قسم کا رد عمل کوئی نئی یا انوکھی بات نہیں تاہم اس فیصلے کے بعد حیرانی تب ہوئی جب کلمہ گو مسلمان اور اپنے آپ کو سیکولر اور لبرل کہنے والوں کو بھی شدید قسم کی بے چینی محسوس ہونے لگی اور اُن کو انسانی حقوق ،حق و انصاف کی باتیں یاد آنے لگی ہیں ۔تاہم ہمیں فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ان نام نہاد سیکولیز اور الٹرا لبرلیز (ultra librals)کو اس طرح کے حق اور انصاف پہ مبنی فیصلے کبھی گلے سے نہیں اُترتے ۔اگر ان لوگوں کو انصاف اور انسانیت کی اتنی پرواہ ہے تو وہ مسجد اقصیٰ جو صہیونیوں کے قبضے میں ہے ، اسی طرح سے مسجد قُرطبہ جس کو چرچ میں تبدیل کر دیا گیا ہے، کے لئے کبھی اپنی زبانوں کو جنبش دینے کی زحمت گوارا کیوںنہیں ہوئی ۔آج نہیں تو کل کوئی اور صلاح الدین اور اردغان ان مساجد میں اللہ تعالیٰ کی کبریائی کی آواز بُلند کرے گا۔ ان شاء اللہ ۔بلکہ ہمارا اس بات پر اایمان ہے کہ ایک دن مغرب و مشرق میں اللہ کی کبریائی کے نعرے بُلند ہو ں گے بس خوش قسمت اور سُرخروئی اُن ہی فرشتہ صفت رجال کے حق میں ہوگی جو اس جدجہد میں اپنا حصہ ادا کریں گے جیسے آج اردغان نے کر کے دکھایا۔یہ جو لوگ آج اس فیصلے پہ آگ بگولہ اور صیہونیوں کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں کاش یہ سمجھتے کہ اسلام ہی دنیا کا ایک ایسا نظام و دین ہے جو انسانیت کا درس دیتا ہے جس کے سامنے سارے انسان محترم ہیں ،یہاں نہ عربی کو عجمی پر اور نہ عجمی کو عربی پر، نہ کالے کو گورے پر اور نہ گورے کو کالے پر کوئی فضیلت ہے بلکہ اگر کوئی کسی سے محترم ہے تووہ تقویٰ اور خُدا خوفی کی بنا پرفضیلت کا درجہ رکھتا ہوگا۔ہمیں بحیثیت اُمت پُر عزم رہنے کی ضرورت ہے اور یہ یقین رکھنا ہوگاکہ اسلام کا ایک وقت ضرور آیے گا ،جب مسجد اقصیٰ کو صہیونیوں کے خونخوار پنچوں سے آزاد کر ادیا جائیگا اور مسجد قرطبہ میں اذان کی دلسوز صدائیں بُلند ہوں گی بالکل اسی طرح جس طرح آج مسجد آیا صوفیہ میں اللہ اکبر کی صدائیں بُلند ہوئیں ۔
 

تازہ ترین