عید الاضحی کی تیاریاں اورعوام | خوشیوں کے ایام میں کورونا کی خوشی کا انتظام نہ کریں

تاریخ    31 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


نیوز ڈیسک
عید الاضحی کی تقریب سعید کل منائی جارہی ہے ۔کورونا کی عالم گیر وبا کے بیچ اگر چہ کافی حد تک اس عید کی خوشیاں ماند پڑچکی ہیں اور عوام میں وہ جوش و خروش نظر نہیں آرہا ہے جو روایتی طور عید کے ان ایام میں دیکھاجاتا تھا تاہم پھر بھی گزشتہ دو ایک روز سے بازاروں میں عید خریداری کے حوالے سے خاصارش پایا جارہا ہے ۔چونکہ عید مسلمانوں کا سب سے بڑا تہوار ہے تو اس پر خریداری کی ممانعت نہیں کی جاسکتی ہے اور لوگو ں کو عید کی تیاریاں کرنے کا بھرپور حق ہے تاہم گزشتہ دو روز کے دوران جس طرح دیکھاگیا کہ سماجی دوریوںکا اس عمل میں کوئی پاس و لحاظ نہیں رکھاجارہا ہے ،وہ قطعاً دانشمندانہ فعل قرار نہیں دیاجاسکتا ہے ۔بلا شبہ آپ خریداری کریں لیکن یہ خریداری کرتے وقت آپ یہ بھی یاد رکھیں کہ وائرس آپ کے ارد گرد موجود ہے اور کہیں ایسا نہ ہو کہ عید کی خوشیوں کو دوبالاکرنے کی کوششوںمیں آپ اپنی خوشیوںکو ہی محدود نہ کریں۔مسلسل گزشتہ دو روز کے دوران شہر اور قصبہ جات میں دیکھا گیا ہے کہ بازاروں میں تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی ۔ایسا لگ رہا تھاکہ سارا شہر ہی بازاروں میں امڈ آیا ہے ۔نہ کہیں جسمانی دوریوں پر عمل ہورہاہے اور نہ ہی ماسک پہننے کا چلن عام تھا ۔بلا شبہ ایک خاصی تعداد لوگوں کی ایسی تھی جنہوںنے اپنے چہروں پر ماسک لگا رکھی تھی تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ بیشتر مرد وخواتیں ماسک کے بغیر ہی بازاروں میں گھوم رہے تھے ۔چونکہ آج کا دن بھی خریداری میں ہی جائے گا اور اس کے بعد اگلے تین دن عید میں گزریں گے تو چند گزارشات ناگزیر بن چکی ہیں۔انہی سطور میں اب تک کئی بار عوام سے استدعا کی گئی کہ وہ کورونا وائرس کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت اور مقامی صحت حکام کی جانب وضع کردہ رہنما خطوط پر عمل پیرا ہوجائیں ۔ان رہنما خطوط میں جسمانی دوریوں اور فیس ماسک کو اولیت حاصل ہے جبکہ صفائی ستھرائی بھی مقدم ہے تاہم بار ہا گزارشوں کے باوجود مشاہدے میں مسلسل آرہا ہے کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد ابھی بھی صورتحال کی سنگینی کا ادراک کرنے سے دانستہ یا نادانستہ طو ر کترا رہی ہے اور ایک بڑی تعداد لوگوں کی ایسی بھی ہے جو ابھی بھی کورونا وائرس کو سازش ہی سمجھ رہی ہے ۔اس سوچ سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے ۔کورونا وائرس ایک حقیقت ہے اور یہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں چکا ہے ۔دو کروڑ کے قریب اب تک اس وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں اور ہمارے یہاں بھی صورتحال انتہائی سنگین بنی ہوئی ہے ۔جب تک لوگ اس وائرس کی حقیقت کو قبول نہیں کرینگے ،شاید ہی وہ احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہونگے ۔اس لئے اولین ضرورت یہ ہے کہ لوگ مان لیں کہ کورونا آدم خور بن چکا ہے اور یہ وائرس اپنے شکار میں کوئی تمیز نہیں کرتا ہے ۔پہلے جوانوںکو یہ گماں تھا کہ وہ اس کی لپیٹ میں نہیں آسکتے لیکن اب وہ بھرم بھی ٹوٹ چکا ہے اور وقت نے ثابت کردیا کہ جوان بھی اس سے بچ نہیں پائیں گے ۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگ اپنے اندر شعور پیدا کرتے ہوئے اُن رہنما ہدایات پر عمل کریں جو وضع کی گئی ہیں۔کورونا وائرس سے بچائو کی واحد سبیل بھی یہی ہے کہ ہم اس وائرس سے اپنے آپ کو بچائیں اور بچانے کا طریقہ یہی ہے کہ ہم احتیاطی تدابیر پر من و عن عمل کریں۔احتیاطی تدابیر میں کسی بھی قسم کی بھیڑ بھاڑ سے اجتناب لازمی ہے اور ساتھ ہی جسمانی دوری بنائے رکھنا ناگزیر ہے ۔گھر سے باہر نکلتے ہی فیس ماسک لگانا اب ہمیں اپنا معمول بنا نا ہے کیونکہ یہ ماسک جہاں آپ کو خود بچائے گا ،وہیں آپ سے دوسروں کو بھی محفوظ رکھے گا۔آج یوم عرفہ ہے اور بازاروں میں چہل پہل ہوگی ۔اس لئے ان گزارشات کو دھیان میں رکھیں اور خریداری کرتے وقت لاپرواہی کا مظاہرہ نہ کریں بلکہ سماج کے ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت پیش کرتے ہوئے تمام احتیاطی اقدامات پر صد فیصد عمل درآمد کریں۔نیز عید کے ایام میں بھی احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور عید کی خوشیاں مناتے وقت بھی اس بات کا خیال رکھیں کہ کہیں آپ خوشیاں مناتے مناتے کورونا کو دعوت تو نہیں دے رہے ہیں۔نماز عید سے لیکر قربانی کے عمل تک خیال رکھیں کہ آپ کسی بھی طرح دانستہ یا غیر دانستہ طو ر کوئی ایسا فعل نہ کریں جس سے آپ اپنے آپ کو اور دوسروں کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔عید کی تیاری کریں اور عید منائیں لیکن سادگی کے ساتھ اور اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ موجودہ حالات ہمیں انتہائی ہوش مندی سے کام لینے کی دعوت دیتے ہیں۔