تازہ ترین

ریلوے ٹنل تعمیراتی کمپنی کی طرف سے نکالے گئے مقامی کامگاروںکا احتجاج اوردھرنا | ریلوے ٹنل نمبر ۔48 پرکام بند، پہلے بیرونی ورکروں کی چھُٹی کرنیکا مطالبہ

تاریخ    31 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


محمد تسکین
بانہال// ضلع رام بن میں گول سنگلدان کے داڑم علاقے میں ریلوے ٹنل نمبر 48 کو تعمیر کرنے والی کمپنی گیمن انجینئرنگ اینڈ کنٹریکٹرز لمیٹڈ کی طرف سے نکال باہر کئے گئے مقامی ورکروں نے ٹنل کے باہر دھرنا دیکر ٹنل کے اندر جاری کام کو بند کردیا ہے اور بدھ کی رات خواتین نے بھی دھرنے میں شرکت کی۔ ہڑتالی ورکروں کا کہنا ہے کہ سینکڑوں غیر ریاستی ورکر گیمن انجینئرنگ  میں کام کرتے ہیں لیکن پہلے ان  مقامی ورکروں کو کام سے نکالا گیا ہے جن کو ریلوے پروجیکٹ کی زد میں آنے کی وجہ سے اپنا سب کچھ کھونا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی ورکروں کو باہر کا راستہ دکھانے کے خلاف مقامی مرد و خواتین میں غم غصہ پایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف سے سرکاری سطح پر ان پروجیکٹوں میں مقامی بیروزگاروں کو ترجیحی دینے کی باتیں کی جارہی ہیں لیکن دوسری طرف سے گیمن انڈیا لمیٹڈ جیسی کمپنیوں نے مقامی ہنر مند ورکروں کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک روا رکھا ہے اور ضلع انتظامیہ رام بن اور سب ڈویژن انتظامیہ گول کی طرف سے مقامی ورکروں کی فلاح و بہبود کیلئے کوئی مثبت اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے تعمیراتی کمپنیوں کے اندر مثبت مریضوں کی بڑھتی تعداد کے بعد 22 جولائی کو ضلع مجسٹریٹ رام بن کے حکم پر فورلین اور ریلوے کے تعمیراتی کام کو بند رکھنے کا حکم دیا گیا تھا اور اسی لاک ڈائون کے دوران 25 جولائی کو تعمیراتی کمپنی نے مختلف شعبوں میں کام کرنے والے 17 مقامی ہنر مند ورکروں کو باہر نکالنے کا حکم جاری۔ قابل ذکرہے کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ رام بن ناظم زئی خان نے 29 جولائی کو نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا اور ریلوے تعمیراتی ایجنسی ارکان انٹرنیشنل کو جاری قواعد ضوابط کے تحت ضلع رام ن میں اس قومی سطح کے پروجیکٹ کے کام کو دوبارہ شروع کرنے کا حکم جاری کیا ہے اور بندش کے سابقہ احکامات کو واپس لیا گیا ہے۔ احتجاجی ورکروں نے کشمیر عظمیٰ کو فون ہر بتایا کہ کوہلی اور داڑم کے درمیان قریب چھ کلومیٹر لمبے ٹنل کا پچاس ساٹھ فیصدی کام ابھی بقایا ہے اور ریل پروجیکٹ میں دو سال سے کام کرنے والے پنچایت گنڈی دارڑم کے بیروز گار اور با ہنر نوجوانوں کو سب سے پہلے کام سے ہٹا کر سراسر زیادتی کی گئی ہے جبکہ بیرون ریاستوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ہمارے مکان زمین اور پھلدار درختوں کو تباہ کرکے تعمیر کئے جانے والے کشمیر ریل پروجیکٹ میں گیمن کمپنی میں برابر تعینات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ کمپنی کی طرف سے افراد ی قوت کو کم کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن پہلے باہر والوں کو نکالا جائے اور بعد میں ضلع رام بن اور آخر میں مقامی لوگوں کو نوکری سے فارغ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کوہلی اور داڑم کے درمیان ریلوے ٹنل نمبر 48 کے اندر 400 کے قریب ورکر کام کررہے ہیں جن میں سے نصف سے زائد کی تعداد بیرونی ورکروں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گیمن کمپنی بیرونی ورکروں کو چھٹی کرنے کے بجائے مقامی ورکروں اور آپریٹروں کو نوکری سے برخاست کر رہی ہے ،جو مقامی لوگوں کے ساتھ سراسر کی ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے حق اور انصاف کیلئے اپنی آواز بلند کررہے ہیں اور بدلے میں انتظامیہ مدد کے بجائے پولیس کے ذریعہ بیروزگاری کی دلدل میں پھنسے نوجوانوں کو مبینہ طور پر ڈرا دھمکا رہی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ پہلے بیرونی بعد میں مقامی اور اس کے بعد ضلع رام بن اور مقامی لوگوں کو کمپنی سے چھٹی کی جانی چاہئے اور نکالے جانے والے ورکروں کو بھرپور معاوضہ دیا جائے تاکہ وہ اپنے روزگار کے وسائل پیدا کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں گنڈی دارڑم سب ڈویژن گول کے مرد وخواتین نے اس زیادتی کے خلاف ریلوے ٹنل نمبر 48 کے باہر دھرنا دیکر اپنا احتجاج درج کیا ہے لیکن ابھی تک کمپنی اور انتظامیہ کی طرف سے کسی قسم کا مثبت ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مانگیں پوری ہونے تک دھرنا جاری رہے گا اور کمپنی کو کام کرنے نہیں دیا جائے گا۔ اس سلسلے میں کمپنی کا موقف جاننے کیلئے گیمن انڈیا لمیٹڈ کے پروجیکٹ انچارج سے بات کرنے کی کوشش کامیاب ثابت نہیں ہو سکی۔