شہر میں9پروجیکٹ سست رفتاری کا شکار

نکاس آب کیلئے صرف40فیصد ڈھانچہ ہی موجود

تاریخ    30 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   
(File Photo)

بلال فرقانی
سرینگر//سرینگر کو سمارٹ سٹی میں تبدیل کرانا تو دور گرمائی دارالحکومت میں نکاس آب کیلئے صرف40فیصد ڈھانچہ ہی موجود ہے جبکہ 9پروجیکٹ سست رفتاری کی وجہ سے ابھی تک پائے تکمیل تک نہیں پہنچے۔ شہر میں معمولی بارشوں کے نتیجے میں پائین علاقے زیر آب آتے ہیںجبکہ تجارتی مرکز لالچوک بھی ان علاقوں میں شامل ہے،جہاں بارشوں سے سڑکیں جھیلوں کا رخ اختیار کر تی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سرینگر میں اسمارٹ سٹی کے تحت پانی کی نکاسی کیلئے جن20پروجیکٹوں کو سال2019-20میں شروع کیا گیا تھا،اس میں سے بھی11ہی مکمل ہوئے اور باقی9سست رفتاری کی بھینٹ چڑ گئے ۔سرینگر مونسپل کارپوریشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سرینگر میں پانی کی نکاسی کیلئے صرف40فیصد نظام موجود ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوںکے دوران نا ہی سرینگر مونسپل کارپوریشن اور نا ہی محکمہ تعمیرات عامہ نے شہر میں نکاسی آب کے نظام کو درست کرنے کی کوشش کی۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ شیش باغ،الہی باغ،باغات،شہنشاہ کالونی اور دیگر علاقوں میں پانی کی نکاسی کیلئے قریب ایک کروڑ روپے کی لاگت سے جو کام شروع کئے گئے تھے وہ ابھی تک 70فیصد سے زیادہ مکمل نہیں ہوئے ہیں۔راجباغ میں پانی کی نکاسی کیلئے جو کام شروع کیا گیا تھا وہ بھی ابھی تک پائے تکمیل کو نہیں پہنچا ہے۔محکمہ ڈرینج کا تاہم ماننا ہے کہ موجودہ کوویڈ صورتحال کے نتیجے میں کام میں تاخیر ہوئی اور صد فیصد ہدف کو جلد ہی پائے تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔محکمہ کے ایک سنیئر انجینئر نے بتایا کہ منصوبوں کے ادھورے ہونے کی بنیادی وجہ فنڈز کی کمی ہے۔ٹھیکداروں کاکہنا ہے کہ ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے شہر میں ڈرینج نظام درست نہیں ہورہا ہے۔سینٹرل کانٹریکٹرس کارڈی نیشن کمیٹی کے جنرل سیکریٹری فاروق احمد ڈار کا کہنا ہے کہ سرینگر میں750کلو میٹر مجموعی طور پر نکاسی آب کے نظام کے بغیر ہے۔انکا کہنا ہے کہ سرینگر میں مجموعی طور پر1300کلو میٹر پر نکاسی آب کا نظام محیط ہونا چاہے تاہم گزشتہ ایک دہائی میں صرف550کلو میٹر کو ہی مکمل کیا گیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا ’’ ضلع سری نگر کے 60 فیصد رقبے میں نکاسی آب کا نظام موجود نہیں ہے۔جبکہ غیر منصوبہ بند تعمیرات نکاسی آب کے ناقص نظام کی بنیادی وجوہات ہیں۔‘‘ان کا کہنا تھا کہ 2دہائی قبل جہاں سٹی ڈرینج کو10کروڑ روپے سالانہ رقومات فراہم کئے جاتے تھے،اس کا حجم گھٹا کر ایک کروڑ کیا گیاجو ناکافی ہے جبکہ اس عرصے میں آبادی اور شہر کے حدود کے پھیلائو میں بے تحاشہ اضافہ ہوا۔
 

تازہ ترین