حضرت شاہ ہمدانؒکے افکاراور سماجی انصاف کی اہمیت

ذکر خیر

تاریخ    28 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


ڈاکٹر شاہدہ اختر اویسی
 حضرت شاہِ ہمدانؒ حضرت امام زین العابدؒین کی اولاد میں سے تھے۔آپ ؒکی تاریخ ولادت میں پیر12رجب713ھ زیادہ شہود اور معتبر مانی جاتی ہے۔آپؒ شہر ہمدان میں پیدا ہوئے ،آپ ؒکے والد کا نام سید شہاب الدین ،آپؒ کی والدہ کا نام سیدفاطمہ تھا۔ان کا سلسلہ نسب سترویں پشت میں آپؐسے جاکر ملتا ہے۔انہوں (شاہ ہمدانؒ) نے اسلام کی ترویج و اشاعت کے لئے اپنی عمر عزیز کے اکیس برس صرف کئے ،اس مقصد کے لئے مختلف ممالک کی سیاحت کی۔نتائج کے اعتبار سے کشمیر کی سیاحت اہم مانی جاتی ہے کیونکہ یہاں شاہ ہمدان ؒ ہی کی مبارک کوششوں سے اسلام تحریکی انداز میںپھیلا ،جس کے نتیجے میں ہزاروں بندگان خْدا اسلام کے نور سے منور ہوئے اور کشمیر میں سیاسی،سماجی اور مذہبی انقلاب آگیااور وہ ہمیشہ کے لئے مسلمانوں کا مرکز بن گیا۔
یوں تو میکاولی کا پرنس یا کوثلیہ کے ارتھ شاستر میں حکومت کے سلسلے میں ہمیں بہترین طریقے ملتے ہیں کہ حکومت کیسے قایم کی جاسکتی ہے اور حکومت میں استحکام کیسے قایم (پیدا) ہوسکتا ہے۔لیکن بقول علامہ اقبالؒ
اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر 
خاص ہے ترکیب میں قوم ِ رسول ہاشمیؐ
شاہ ہمدان کی کتاب ’’ذخیرۃالملوک‘‘دس ابواب پرمشتمل ہے ،اس کے پانچویں باب میں حضرت شاہ ہمدانؒ نے حکومت و سلطنت کے بارے میں اپنے خیالات تفصیل سے ظاہر کئے ہیں۔ حضرت شاہ ہمدانؒکے نزدیک اللہ کے رسولؐکے بعد خلفائے راشدین کی پیروی ایک مسلمان کے لئے لازمی ہے۔حضرت شاہ ہمدان نے حضرت ابوبکر صدیقؓ،حضرت عمرؓ،حضرت عثمانؓ،حضرت علیؓاور عمر بن عبدالعزیزؓ کے واقعات پیش کرکے مسلمان حکمران کے سامنے ایک ایسا نمونہ رکھا ہے جس پر چل کر ووہ اپنی سلطنت میں دیانت و امانت ،عدل و انصاف ،رحم و الفت،کشادہ دلی ،عفوو درگذر ،تنقید و تقریر کی مثالیں پیش کرسکتا ہے۔
حضرت شاہِ ہمدانؒ کے نزدیک حکومت کی کچھ اہم شرائط:
 حکمران اپنے آپ کو رعایا ہی کے مانند ایک فرد تصور کرے اور دوسروں کو اپنے اوپر حاکم سمجھے،اس لئے جب کوئی واقعہ یا مسئلہ درپیش ہو تو اس میں جو اپنے لئے فیصلہ جائز نہ سمجھے ،دوسرے کے لئے بھی جائز نہ سمجھے،جو اپنے لئے پسند کرے دوسرے کے لئے وہی پسند کرے۔
٭شرعی حکم میں نرمی سے بات کہے اور بے وجہ سختی نہ کرے اور لوگوں کے عذر سْننے سے ملول نہ ہو اور کمزوروں ،مسکینوں اور محتاجوں سے بات کرنے میں اسے عار معلوم نہ ہو،حاکم تکبر اور جبر و سختی سے مخلوق کو اپنے سے متوحش اور بیزار نہ کرے بلکہ کمزوروں اور زیر دستوں کے ساتھ عدل و احسان اور شفقت کرکے اپنے آپ کو رعایا کا محبوب بنائے۔
٭حکومت ولایت کی عظمت و اہمیت سے غافل نہ رہے اور یقین جانے کہ حکومت و امارت ایک ایسا ہتھیار ہے جس کے ذریعے آخرت کی سعادت اور نیک نامی بھی حاصل کی جاسکتی ہے اور اسی سے انسان ابدی شقاوت ،عذاب و بدنامی میں بھی مبتلا ہوسکتا ہے۔
٭صلحاو علمائے دین کی زیارت و صحبت کا راغب اور خواستگار ہو اوردجال سیرت جاہلوں اور نیک صورت فاسقوں سے احتراز کرے۔اپنے نائبوں اور عالموں یعنی حاکموں کی خیانت اور ظلم سے غافل نہ ہو اور بھیڑیوں کی خصلت والے ظالموں کو مظلوم رعایا پر مسلط نہ کرے، جب ان میں سے کسی ایک کی خیانت ظاہر ہو تو اس کو گرفت میں لاکر ایسی سزا دے جو دوسروں کے لئے عبرت ہو اور حکومت کی سیاست اور رعب داب میں سہل انگاری اور سستی روا نہ رکھے اور دولت مندوں کو نصیحت اور خوف دونوں کے ذریعے مہذب بنائے اور راہِ راست پر لائے ،فراست و عقل مندی ہے۔ہر حاکم اور بادشاہ پر واجب ہے کہ حوادث و واقعات اور مسائل میں گہرے غور وفکر اور عقل و فہم سے کام لے کر ہر حکم کی حقیقت کی خوب چھان بین کرے اور بصیرت کی آنکھ سے لوازم ،لواحق اور عوارض پر نظر رکھے۔کامیابی آخرت و دنیا کی یقینی مل جائے گی۔
٭حضرت شاہ ہمدان ؒنے مسلم اور غیر مسلم کے حقوق اس طرح بیان کئے ہیں۔حاکم پر واجب ہے کہ وہ تمام مسلمانوں کے ساتھ تواضع سے پیش آئے اور حکومت ولایت کی وجہ سے کسی مسلمان کے ساتھ تکبر سے پیش نہ آئے اور یہ یقین رکھے اللہ متکبروں اور جباروں کو دشمن رکھتا ہے۔
 ٭حاکم ایک دوسرے کی نسبت سے عوام الناس کی باتیں نہ سْنے کیونکہ اس کا نتیجہ فتنہ و ندامت کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔خصوصاً فاسقوں ،حاسدوں ،خود غرضوں اور حریفوں کی باتوں پر اعتماد نہ کرے کیونکہ لالچی آدمی اپنے ایک لقمے کے واسطے کئی لوگوں کو رنج پہنچاتا ہے اور حاسد پرہیز کو عیب سمجھتا ہے۔
 ٭ مسلمانوں کے درمیان مصالحت میں جلدی کرنا اپنے اوپر فرض سمجھے اور ان کے جھگڑوں کا تصفیہ کرنے میں تاخیر نہ کرے۔خصوصاً ان اختلافات میں جن کی حقیقت ظاہر و باہر ہو کیونکہ یہ مخاصمت اور دشمنی کا ذریعہ بننے کے علاوہ موجب فساد بھی ہوسکتی ہے۔
٭ حاکم مسلمانوں کی ہر بستی میں مسجد بنائے ،اس کے لئے امام اور موذن مقرر کرے ،جن کے گزارے کے لئے وظائف مقر ر کرے تاکہ وہ فارغ البال ہوکر اوقات نماز کی پابندی کرسکیںاور ضروریات ِ زندگی اس میں مانع نہ ہوسکیں۔حاکم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے غافل نہ ہو بلکہ خاص و عام سب کی تبلیغ ودعوت کے لئے نظم و نسق قائم کرے۔
  ٭ مذہبی دل آزاری سے تحفظ کا حق،ضمیر و اعتقاد کی آزادی کا حق،کیونکہ دین میں جبر نہیں ہے۔جان کا تحفظ ،کسی جان کو جسے اللہ نے حرام کیا ہے حق کے بغیر قتل نہ کرو۔حاکم اپنی رعایا میں تفریق اور امتیاز نہ کرے بلکہ سب کے ساتھ یکسان برتائو کرے۔
٭حاکم شکوک و شبہات سے پرہیز کرے اور تہمت کے مواقع سے احتراز کرے ورنہ لوگ گناہوں پر دلیر ہوجائیں گے۔اگر خدا نخواستہ وہ کبھی خود کسی گناہ میں ملوث ہوجائے تو اس کو لوگوں سے مخفی اور پوشیدہ رکھے کیونکہ عام لوگ نیکی اور بدی میں حاکم کے تابع اور پیرو ہوتے ہیں۔
٭حاکم فقرو فاقہ کے حالات سے غافل نہ رہے اور بیوگان اور یتیموں کے حالات کی خبرگیری اپنے اوپر فرض سمجھے اور قیامت کی باز پرس سے ڈرے کہ جس دن مال اور مْلک کام نہیں آئے گا۔
٭حاکم اپنے سیاسی دبدبے سے کام لے کر راستوں کو پْر امن رکھے۔حاکم خوف و خطرے کی جگہوں پر عمارتیں بنوادے ورنہ کم از کم محافظ اور نگہبان مقرر کردے۔
 شاہِ ہمدان کے نزدیک ان تمام شرائط اور حقوق کو ملحوظ رکھتے ہوئے حکومت کا استحکام لازمی ہے۔یہ شاہ ہمدان کی ہی شان قلندری کا کرشمہ ہے کہ پچھلے چھ سو سال کے زئد عرصہ سے دین اسلام کی انورِ درخشاں سے ہمارے قلب و جگر منور ہیں اور بصیرت و بصارت میں پائیدار تابانی ہے۔
ریسرچ اسسٹنٹ شعبہ اسلامیات کشمیر یونیورسٹی