’ہم نے سب کچھ کھو دیا اور کچھ حاصل نہیں کیا‘ | بیوروکریسی غیر ذمہ داراور غیر سنجیدہ ،جلد انتخابات کروائے جائیں: الطاف بخاری

اقامتی مدت 25 سال کی جائے

تاریخ    27 جولائی 2020 (30 : 01 AM)   


سید امجد شاہ
جموں//اسمبلی انتخابات کے انعقاد پر زور دیتے ہوئے اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے الزام عائد کیا کہ مشیر اور بیوروکریسی عوام کی توقع پر پورا اترنے میں ناکام رہے ہیں اور اچھی حکمرانی نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔کشمیرعظمیٰ سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے الطاف بخاری نے کہا کہ ’’وہ (مشیر) کہاں ہیں؟ وہ کون ہیں؟ وہ کہیں نہیں ہیں، ان کا عوام سے کوئی واسطہ نہیں ہے، مشیر اور بیوروکریسی عوامی معاملات انجام دینے اور انہیں درپیش مسائل کاازالہ کرنے میں بری طرح سے ناکام رہی ہے‘‘۔الطاف بخاری نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے اپیل کی کہ وہ اس بات کا جائزہ لیکر معلوم کریں کہ بیوروکریسی جموں و کشمیر میں لوگوں کے مسائل حل کرنے میں کیوں ناکام ہے۔ انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا’’بیوروکریسی غیر ذمہ دار اور غیر سنجیدہ ہے‘‘۔پچھلے ایک سال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’’ صرف کشمیر ہی نہیں ، بلکہ جموں میں بھی ترقی نہ ہونے پر مایوسی ہوئی ہے‘‘۔ان کاکہناتھا’’ہم نے سب کچھ کھو دیا اور کچھ حاصل نہیں کیا کیونکہ جب دفعہ 370 کو منسوخ کیا گیا تو یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے، تاہم ، میں نے اس منسوخی کے بعد سے کوئی ترقی نہیں دیکھی ‘‘۔انہوں نے جموں میں ٹول پلازوں کے قیام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت نے لوگوں کو پریشان کردیاہے۔الطاف بخاری کا کہنا تھا ’’جب میں کابینہ میں وزیر تھا تو میں نے جموں میں ٹول پلازہ لگانے کی اجازت نہیں دی، ہمیں مزید مسائل پیدا کرنے کے بجائے لوگوں کے مسائل کو کم کرنا ہوگا‘‘۔اپنی پارٹی صدر نے کہا کہ انتظامیہ منقسم ہے، صرف ایک باس ہونا چاہئے، 8 (آئی اے ایس) افسران حکومت چلا رہے ہیں، وہ کیا انصاف کرسکتے ہیں؟،یہ عہدیدار لوگوں کی تقدیر کا فیصلہ کیسے کریں گے۔انہوں نے 4جی انٹرنیٹ خدمات کی بحالی کا مطالبہ کیا۔کوروناکے معاملے پر بھی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ وینٹی لیٹرکہاں ہیں ؟۔

اقامتی مدت 25 سال کی جائے

الطاف بخاری نے کہا ’’اگر ہم حکومت بناتے ہیں تو ہم جموں وکشمیر میں ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کے لئے رہائشی مدت کو کم سے کم 25 سال کردیں گے‘‘۔ان کاکہناتھا’’ہم نے ریاست کی بحالی ، زمین اور ملازمتوں کے تحفظ کا عہد کیا ہے، اقامتی مدت میں اضافہ جموں وکشمیر اپنی پارٹی کا ایک اہم ایجنڈا ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ جذباتی نعرے بازی کے ساتھ لوگوں کو گمراہ کرنے کے برعکس سچائی پرمبنی سیاست کریں گے۔انہوں نے کان کنی میں مقامی ٹھیکیداروں کو نظرانداز کرنے اور جموں و کشمیر میں کان کنی کے لئے غیر مقامی ٹھیکیداروں کی حوصلہ افزائی کرنے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔بخاری نے کہاکہ انہوں نے یہ معاملہ لیفٹیننٹ گورنر جی سی مرمو کے سامنے اٹھایا ہے۔5اگست کے اقدامات پر کشمیر کی سیاسی جماعتوں کی خاموشی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بخاری نے کہا ’’انہوں نے اپنی حکمت عملی کے تحت خصوصی حیثیت کے خاتمے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے، ہوسکتا ہے کہ وہ کسی ایسی چیز کی تائید کریں جس کے بارے میں وہ بتانے کے قابل نہ ہوں، اگر وہ اس کے خلاف بات نہیں کرتے ہیں تو خاموشی کو بھی ایک اعانت سمجھا جاتا ہے یا ان کو کچھ مجبوری ہو سکتی ہے‘‘۔بخاری نے حد بندی کی مشق پر خدشات ظاہر کرتے ہوئے کہا’’حد بندی کمیشن کے عہدیدار ایک سیاسی جماعت کے ساتھ معلومات بانٹ رہے ہیں‘‘۔ انہوں نے سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی سربراہ محبوبہ مفتی وتمام سیاسی رہنمائوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
 

تازہ ترین