ورلڈ کپ 1999ء میں پاکستان کی ناکامی کی وجوہات | شاہد آفریدی کو شامل کرنے اور سعید انور کیساتھ اوپننگ کروانے کیخلاف تھا:عامر سہیل

تاریخ    26 جولائی 2020 (30 : 01 AM)   


یو این آئی
لاہور/ پاکستان کرکٹ کے سابق کپتان عامر سہیل اپنے منہ پھٹ انداز کے باعث معروف ہیں اور اس صاف گوئی کے باعث ماضی میں کئی تنازعات بھی کھڑے کر چکے ہیں۔ حال ہی میں ان کا ایک اور بیان سامنے آیا ہے جس پر سوشل میڈیا اور دیگر حلقوں میں کافی بات ہو رہی ہے، یوٹیوب پر ایک ویڈیو میں انہوں نے 1999ء کے عالمی کپ میں پاکستان کی ناکامی کی وجوہات بتاتے ہوئے شاہد آفریدی کے متعلق بھی گفتگو کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ اس ورلڈ کپ میں شاہد آفریدی کو شامل کرنے اور سعید انور کے ساتھ انہیں اوپننگ کے لیے بھیجنے کے خلاف تھے۔ عامر سہیل نے کہا کہ برطانوی گراؤنڈز پر شاہد آفریدی اوپننگ کے لیے مناسب انتخاب نہیں تھے کیونکہ ان کا کھیلنے کا انداز یہاں کام نہیں کر سکتا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ بیٹنگ کے آغاز کے لیے محمد یوسف کو بھیجنے کے حق میں تھے تاکہ وہ نئی گیند کے خطرے کو ٹال سکیں۔انہوں نے کہا کہ جب میں 1998ء میں ٹیم کا کپتان تھا تو ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ ورلڈ کپ 1999ء کے لیے ہمیں ایسے باقاعدہ اوپنرز کی ضرورت ہے جو وکٹ پر ٹھہر سکیں اور نئی گیند کو کھیل سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی نظر آتی ہے کہ سیلیکٹرز نے ایسے گراؤنڈ پر شاہد آفریدی کو اننگز کا آغاز کرنے کے لیے بھیج دیا حالانکہ وہ فلیٹ اور کم باؤنس والی پچز پر کھیل سکتے تھے جہاں وہ گیند بازوں کو دباؤ میں لا سکتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی پچز پر انہیں کھلانا ایک بہت بڑا جوا تھا کیونکہ وہ یہاں نہ ہی بیٹنگ کر سکتے تھے اور نہ ہی بالنگ، اگر وسیم اکرم کی جگہ میں کپتان ہوتا تو میری ترجیح محمد یوسف ہوتے۔ عامر سہیل کے مطابق پاکستان کے ورلڈ کپ ہارنے کی دو وجوہات تھیں، پہلی وجہ یہ تھی کہ ٹیم کا کمبی نیشن بہترین نہیں تھا اور دوسرے فائنل میں ٹاس جیت کر لارڈز کی ایسی پچ پر پہلے بلے بازی کا فیصلہ تھا جہاں تمام دن بارش ہوتی رہی۔
 
 

تازہ ترین