کورونا وبااور عالمی نظام! | انسانی بقاء ترجیح ہو ،فنانہیں

تاریخ    27 جولائی 2020 (30 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
کورونا وائرس کی تباہ کاریاں تھمنے کا نام نہیںلے رہی ہیں اور پوری دنیا اس وقت اس مہلک وائرس سے بچنے کے جتن کررہی ہے ۔ساری عالمی طاقتیں بے بسی کے عالم میں اب بس دعا ہی کررہی ہیں کہ کسی طرح دنیا کے سائنسدان کوئی ویکسین لیکر آئیں جو زندگی کا پیچھا کرنے والے ا س موت کے پیامبر سے نجات دلاسکے لیکن فی الوقت کوئی تدبیر بر نہیں آرہی ہے اور اگر یوں کہیں کہ ساری کی ساری تدبیریں الٹی ہورہی ہیں تو بیجا نہ ہوگاکیونکہ عملی طور اس وقت دنیا کی بڑی سے بڑی طاقتیں بے بسی کی مو رت بن چکی ہیں اور انہیں کچھ سمجھ میں بھی نہیں آرہاہے کہ اس عفونت سے نمٹا جائے تو کیسے۔ایسے حالات میں اب عالمی لیڈروں کے رول پر سوالات بھی اٹھنے لگے ہیں اور ہر جانب سے یہ صدائیں بلند ہونے لگی ہیں کہ کیوں کر دنیا پاگلوںکی طرح ایک دوسرے کو تباہ کرنے کیلئے ہتھیاروں کی دوڑ میں لگی ہوئی تھی جبکہ ان کے لوگ نان شبینہ کے محتاج تھے ۔اب اس بات پر بھی بحث ہونے لگی ہے کہ کس طرح کارپوریٹ سرمایہ دارانہ نظام نے امیر ممالک کے درمیان ایک مہلک مسابقت کی دوڑ کو جنم دیااور جس طرح قدرتی وسائل سے مالال مال ممالک میں غریب لوگوں کو مفلسی کی انتہاء تک پہنچادیا گیا۔مساوات ،دولت کی منصفانہ تقسیم اور سماج و کمیونٹی کے تصورات پر ایک بار پھر بات ہونے لگی ہے ۔گوکہ کورونا کی مصیبت ٹل جانے کے بعد صنعت و تجارت اور ایجادات کے اصول یکسر تبدیل نہیںہونگے تاہم لوگ اب تجارت کے دوران ہمدرد اور انسان دوست ہونے کی اہمیت کو سمجھنے لگے ہیں۔موجودہ عالمگیر وباء نے اس بے رحم اور سنگدل مسابقتی نظام کے نقائص کو بھی دکھاوے کے لاکھ پردوں سے باہر نکال کر عیاں کردیا ہے اور دنیا پر اب یہ حقیقت منکشف ہوچکی ہے کہ کس طرح صرف منافع کمانے کیلئے انسانی رشتوں ،انسانی احساسات اور انسان و ماحولیات کے درمیان انتہائی نازک ترین رشتوں کو کچلا جارہاتھا۔اس وباء نے یہ ناقابل تردید حقیقت بھی سامنے لائی کہ جہاں ریاستیںصرف موت وتباہی کے سامان بنانے میں لگی ہوئی تھیں وہیں عوامی فلاح و بہود پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی تھی اور کس طرح انسانی خواہشات کا گلہ گھونٹ کر ان پر سرمایہ داری کے محل تعمیر کئے جارہے تھے ۔اب کوئی راز پوشیدہ نہیں رہا ہے۔دنیا کی بڑی طاقتیں ایک دوسرے کے سامنے ایکسپوژ ہوچکی ہیں۔ نہ امریکہ کی چودھراہٹ رہی اور نہ اسرائیل کا حرب و ضرب۔بس بے بسی ہے اور لاچاری ہے اوراسی لاچاری نے آج محمود و ایاز کو ایک ہی صف میں کھڑا کردیا ہے ۔دنیا کو اپنے طاقت کی وجہ سے آنکھیں دکھانے والی طاقتوں اور پوری دنیا میں پھیلے ان کے ذیلی حلیفوں کی سیاست پر سوال اُٹھ ہورہے ہیں۔جس پیمانے پر ہم نے گزشتہ ایک دہائی میں موت وتباہی دیکھی اور جس طرح آبادیوںکی آبادیوںکو بم وبارود سے اُڑادیاگیا،وہ کسی جرم عظیم سے کم نہ تھالیکن طاقت کے نشے میں چور طاقتوں کو وہ قتل عام نظر نہ آیا اور ان کے حلیفوں و حواریوں کو وہ قتل عام بھی مسیحائی ہی لگا۔نتیجہ کے طور پر انسانیت سسک رہی تھی ۔انسانیت کی قباء چاک ہورہی تھی اور انسانیت شرمسار ہورہی تھی لیکن آنکھوںپردولت و طاقت کا پردہ اس قدر پڑ چکا ہے کہ ہمیں وہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔آج جب اس وبائی بیماری سے لوگ مر رہے ہیں اور ترقی یافتہ ممالک میں تو کئی کئی روز تک انسانی لاشیں بے گور و کفن پڑی رہتی ہیںتو دنیا کو لوگوںکے مرنے کا درد محسوس ہونے لگا ہے اور ہونابھی چاہئے کیونکہ انسانی دل اپنے دوسرے ساتھی کی مصیبت پر سکون سے نہیں رہ سکتا لیکن یاد کریں جب انہی طاقتوں کے تباہ کن ہتھیاروں سے شہروں کے شہر تباہ ہوئے اور ہر سو انسانی لاشیں بکھری پڑی تھیں تو دنیا نے دوسری طرف دیکھنے میں ہی عافیت سمجھی ۔اب یہ سوالات کرنے کا وقت ہے اور ان حکمرانوں کو یہ باور کرانا ہے کہ بم و بارود اپنی جگہ ،لیکن سب سے زیادہ اہمیت کی حامل انسانی زندگی ہی ہے اور جب ہم انسانی زندگی کو بچانے کیلئے ہی کچھ نہ کر پائیں تویہ بم وبارود کس لئے ؟۔بحیثیت انسان ہمیں خوراک ،مکان ،معقول طبی نظام اور سب سے بڑھ کر پُر سکون اور پُر امن زندگی چاہئے ۔بم و بارود ،جنگی جہازوں ،سماعت شکن توپوں اور آبی جنگی جہازوںنے ہمارا کوئی بھلا نہیں کیا اور نہ ہی آگے کریں گے۔ہتھیاروں کی دوڑ میں اول نمبر پر رہنا اب کوئی فخر کی بات نہیں رہی ہے اور وقت نے یہ بھی ثابت کردیا کہ دفاع پر اپنے خزانوں کو لوٹنے سے کچھ حاصل نہیں ہوا ہے بلکہ اگر یہ پیسہ عوامی بہبود پر صرف کیاگیا ہوتا تو شائد آج صورتحال مختلف ہوتی۔اگر ہم موجودہ بحران سے صرف یہی سبق سیکھ لیں اور عالمی قائدین اس سبق پر عمل کریں تو یقینی طور پر کورونا کی وباء کے بعد ایک نئے عالمگیر نظام کا قیام عمل میں لایاجاسکتا ہے، جہاں ترجیح انسانی زندگی کی بقاء ہوگی ،نہ کہ اس کو فنا کرنا ہوگا۔