تازہ ترین

درد کی دہلیز

کہانی

تاریخ    26 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


شبنم بنت رشید
میرے ابا  اور چاچا کے درمیان نہ کوئی  مشترکہ بزنس تھا اور نہ ہی وراثت میں ملی کوئی اور دولت۔ فقط ایک گھر اور اس گھر کی دہلیز مشترکہ تھی۔مجھے اس دہلیز سے بڑی عقیدت تھی۔ میں اس دہلیز کے لیے کوئی بھی قربانی دے سکتا تھا کیونکہ اس دہلیز سے ہی تو میری محبت کی شروعات ہوئی تھی۔ اسکو پار کرتے کرتے میں اور میرے ساتھ ساتھ میری محبت بھی  جواں ہوگئی تھی اسلیے میں اس دہلیز کو محبت کی دہلیز مانتا تھا۔ محبت کہنے، سننے، اور لکھنے میں  جتنا چھوٹا، سادہ ، خوبصورت اور میٹھا لفظ ہے اتنا ہی وزن دار اور سنجیدہ احساس کا حامل۔ محبت کی لاج رکھ کر انسان واقعی محبت کوپاتا ہے لیکن محبت کی پہلی شرط وفا ہے۔ 
میں اپنے ابا کا اکلوتا بیٹا امروز ہوں جبکہ رب کائنات نے چاچا کو تین تین بیٹیوں سے نوازا  تھا۔ دو بڑی بیٹیاں خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہی ہیں جبکہ چاچا کی سب سے چھوٹی بیٹی وفا سے میرا رشتہ بچپن سے ہی طے تھا۔ وفا ہزاروں میں ایک تھی۔ حیادار آنکھیں، صاف ستھری پیاری سی صورت، سنجیدہ طبیعت اور بڑی سوجھ بوجھ والی لڑکی تھی۔ میں اور وفا اس رشتے سے خوش اور مطمئن تھے۔ مجھے اس کی آنکھوں میں ہمیشہ اپنے لئے بےتحاشا محبت کے ساتھ وفا کے چراغ چلتے نظر آتے تھے۔ اس محبت کا اختیار تو ہمیں بڑوں سے ہی  ملا تھا ۔ ہمارے علاوہ دونوں گھروں کے افراد بھی اس رشتے کے لئے وعدہ بند تھے۔
چاچا چاچی الگ الگ مزاجوں کے مالک تھے ۔  چاچی کو تو میں ماں کا درجہ دیتا تھا لیکن اس کی کچھ عادتیں مجھکو بری بھی لگتی تھی۔وہ جلدباز، تنگ نظر اور خودغرض طبیعت کی مالکن تھی۔ اسکے باوجود اسکا لب ولہجہ بڑا نرم اور میٹھا تھا۔ اپنی بات بڑے طریقے اور سلیقےسے دوسروں پہ تھوپنے کا ہنر بھی جانتی تھی۔ جبکہ میرے چاچا بڑی سیدھی طبیعت کے انسان تھے۔ وہ مجھ سے بچپن سے ہی اپنی سگی اولاد کی طرح محبت کرتے تھے۔ میں بھی انکے چھوٹے موٹے کام کر کے خوش ہوتا تھا۔زندگی مزے سے آگے بڑھ رہی تھی۔
میں اور وفا بہت خوش تھے۔ بارہویں جماعت کا امتحان پاس کیا تو ساتھ ساتھ کالج جانے کے خواب دیکھنے لگے۔  چاچی کا ظرف بیٹیوں کے معاملے میں بھی  بہت چھوٹا اور تنگ تھا۔اپنی تنگ نظری کی وجہ سے اس نے وفا کو بھی اپنی بڑی بیٹیوں کی طرح گھر میں بٹھا کربارہویں کے بعد تعلیم جاری رکھنے سے منع کر کےبے بس بنادیا ۔ مگرمیرے بےشمار خواب، خواہشیں اور امیدیں تھیں۔ اسلئے میں نے بڑے ذوق و شوق کے ساتھ کڑی محنت کرکے اونچی اور اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور بڑے بڑے خواب دیکھنے لگا ۔ ہر اس انسان،جو اونچی اور اعلی تعلیم حاصل کرتا ہے، کا بڑے خواب دیکھنا اس کا حق بنتا ہے۔ بجائے خود تعلیم ہی تو بڑے خواب دکھاتی ہے۔  میں تصور میں وفا کا ہاتھ تھام کر اپنی نئی دنیا میں خوبصورت زندگی کی شروعات کرتا تھا۔میں بھی اپنی آنکھوں میں اونچے خواب بسا کر ہر دن کی شروعات کرتا تھا۔ ایک عام انسان کے بیٹے کا ہر خواب پورا ہو یہ ضروری تو نہیں یہ میں جانتا تھا کیونکہ نہ میرے پاس کوئی سفارش تھی اور نہ ہی ہاتھ میں کوئی موٹی رقم۔ اسلئے اپنی ڈگریوں کی پرواہ کیے بغیر ہرسال کئی کئی جگہوں پر کام کرنے لگا جو کچھ کماکر لاتا تھا ابا کے ہاتھ پر رکھ کر مطمئن تو ہوجاتا تھا لیکن خود ذہنی تناو کا شکار ہوتا رہا۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا اس دنیا کی پرخار راہیں مجھکو بے بس کرتی گئیں ۔ میں ہنسنا مسکرانا بھول گیا۔
میں کچھ دنوں سے محسوس کرنے لگا کہ ماں اور ابا دونوں گم صم سے بیٹھے ہیں۔ انکی اس خاموشی کا یہ الگ انداز میں سمجھ نہ سکا۔ میرے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ بے روزگاری کا جرم میرے کھاتے میں لکھا گیا ہے۔اس کا اندیشہ مجھے پہلے سے تھا لیکن اتنی جلدی سزا مل جائے گی اس بات کا اندازہ نہ تھا۔کیونکہ چند روز کے بعد چاچی نے مجھے بڑے رازدارنہ انداز میں الگ کمرے میں اسلئے بلایا کہ اسے میرے ساتھ ایک ضروری بات کرنی تھی۔ مجھ پریکایک لمحہ مشکل گزرنے لگا۔ چاچی پہلے سے خود غرض تو تھی ہی اب پتھر دل بھی بن چکی تھی۔  اس نے اندر آتے ہی کسی رشتے یا وعدے کا لحاظ کئے بغیر بڑی شرافت سے میرے پاؤں کے نیچے سے زمین کھینچ کر میرا دل چھلنی کیا۔جب اس نے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر بڑے میٹھے انداز میں بتایا کہ بیٹا ہم وفا کا رشتہ کہیں اور کرنا چاہتے ہیں ۔ مجھے اپنے کانوں پہ یقین نہیں آیا۔ میرا گلاخشک ہوگیا ۔ صرف اتنا کہہ سکا کہ چاچی وفا تو میری منزل ہے ۔ آپ مجھے تھوڑی سی مہلت دیںتاکہ میںاپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکوں۔ کوئی جواب دیے بغیر وہ میرے حق میں  سزا کا فیصلہ سناکر کمرے کا دروازہ بند کر کے آندھی کی طرح چلی گئی۔میں بے بس ہو کر اسے صرف دیکھتا ہی رہا۔ مجھے محسوس ہوا کہ ایک لمحے میں میری پوری عمر گزر گئی اور حاصل کچھ بھی نہ ہوا ۔ میں باہر آیا تو ایک بچے کی طرح بے اختیار آنکھوں سے آنسوں نکل آئے۔
یہ چاچی کی حکمت عملی اور باتوں کا اثر تھا کہ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی پھر کبھی وفا اور میرا آمنا سامنا نہ ہوا اور نہ ہی کبھی ہماری بات ہوئی۔ شاید وفا کو میرے سامنے آنے کی ہمت نہ رہی ہو۔ اسے دلوں کو موم کرنے کا ہنر نہ آتا تھا۔ وہ کہیں بالکل خاموش بیٹھی تھی۔ اسکی خاموشی میری  جان لے رہی تھی۔  اس طرح میرے خواب ایک ایک کر کے مجھ سے روٹھتے گئے ۔
چند دنوں بعد چاچا چاچی گھر چھوٹا ہونے کا بہانہ بنا کر اپنی پوری فیملی کے ساتھ چاچی کی بہن کے گھر منتقل ہوئے ۔ وہ لوگ وفا کی منگنی کے ساتھ ساتھ شادی کی تاریخ بھی طے کر کے گھر واپس آئے ۔
تین مہینےگزرنے کے بعد وہ بےدرد گھڑی بھی آگئی جب میری محبت کی ٹہنی پر بنے محبت کے آشیانے پر بجلی گری۔ رنگوں، خوشبوؤں اور گہما گہمی کے ماحول میں چاچی نے وفا کا ہاتھ کسی دولت مند باپ کے بیٹے کے ہاتھ میں دے کر میری محبت کی دہلیز کو درد کی دہلیز میں بدل دیا۔ پورے گھر میں خاموشی چھا گئی۔ میری محبت کا غرور ٹوٹ گیا لیکن کسی سے محبت کرنے کا حق انسان سے کوئی کچھ بھی نہیں چھین سکتا ہے۔
وفا کی شادی کے بعد میں اکثر اس درد کی دہلیز پہ بیٹھ کر اپنی ہاتھوں کی لکیروں کو دیکھ دیکھ کر پھر بھی انتظار کرتا رہا کہ شاید وفاسب کچھ چھوڑ چھاڑ کر میرے لیے واپس آجائے لیکن یہ میری غلطی فہمی  تھی ۔ یہ بے خودی کا وقت یوں ہی گزر گیا۔
 سننے میں آیا کہ چندمہینے سسرال میں رہنے کے بعد بعد وہ اپنے شوہر کے ساتھ کہیں اور منتقل ہوگئی۔ میں نے دل سے دعا کی کہ وہ جہاں بھی رہے  خوش رہے۔
ہار، مایوسی، بے خودی اور آوارگیوں کا سلسلہ میرا مقدر بن چکا تھا۔ میں اپنا مقدر بدلنے کی کوئی مناسب ترقی ترکیب ڈھونڈنے میں کامیاب نہ ہوا۔ شاید اسی لیے بے قصور ہوتے ہوئے بھی میں سزا بھگتنے لگا۔ میں اندر ہی اندر گھائیل ہوتا گیا۔ میں ہی کیوں میرے ساتھ ساتھ میری ماں اور ابا بھی میرے ہمقدم تھے ۔ دنیا میں صرف ماں باپ ہی ایسے ہمدرد ہوتے ہیں جنہیں اپنا دکھ بتانے یا جتانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ابا احساس کمتری کا شکار ہوئے تو وہ چکّی میں گندم کی طرح پسنےلگے۔ دکھ دینے والے ان کے اپنے ہی تھے اور دکھ سہنے والے بھی۔ مجھے ڈر لگنے لگا۔ انہوں نے خاموشی اختیار کر لی۔ جس کی وجہ سے ان کی صحت بگڑتی گئی۔کچھ عمر کا بھی تقاضا تھا۔ پھر ایک دن انہوں نے ہمیشہ کے لئے اپنی انکھیں موند لیں۔ میری ہمت میری ماں مجھ کو یہ دلاسہ دیتی رہی کہ بیٹا یہ صرف تقدیر کا پھیر ہے اور اللہ تعالی کا ہر فیصلہ ہمیشہ صحیح ہی ہوتا ہے۔ لیکن خود وہ اپنی ہمت ہار گئی۔ایک دن وہ بھی مجھے اس ظالم دنیا میں اکیلا چھوڑ کر خود موت کی آغوش میں چلی گئی۔ محبت کے بعد یہ انمول رشتے درد کی دہلیزپار کرتے گئے تو میں بوکھلا گیااور اپنا ہی گھر مجھے ایک قید خانے کی طرح لگنے لگا۔ میں اندر ہی اندر خون کے آنسو روتا رہا۔ فریاد سننے والا کوئی بھی نہ تھا میں اپنے ہی خول میں سمٹ کے رہ گیا۔  میں نے صبر و ضبط کے ساتھ خود کو ایک کمرے میں قید کر لیا۔ لیکن بند کمرے میں ایک انسان پوری عمر کیسے گزار سکتا ہے۔ میرا دم گھٹنے لگا۔
جن لوگوں کے لئے رشتے، وعدے، جذبات اور احساسات بے معنی ہو گئے تھے ان کے قریب رہ کر بڑی تکلیف ہو رہی تھی۔ گھر کی دہلیز پار کرتے کرتے تھک چکا تھا۔ درو دیواریں اور کھڑکیاں حتّا کہ گھر کی ہر چیز کاٹنے کو آرہی تھی۔ اسی لیے میں اب تلخ یادوں اور غموں سے دور بھاگ کر گمنامی کے دھندلکوں میں کھونا چاہتا تھا۔ زندگی کا مقصد اب صرف یہ رہا کہ ایسا روزگار ملے جو اس درد کی دہلیز سے اتنی دور لے جائے کہ برسوں تک اس دہلیز پہ قدم رکھنے کی نوبت ہی نہ آئے۔
جب انسان ہر طرف مایوس ہو جاتا ہے، رشتے دغا دیتے ہیں تو زندگی بوجھ لگتی ہے۔ اگر بندہ مایوس نہ ہو جائے تو ربِّ کائنات اپنے بندے کو واقعی ایسی راہ دکھاتا ہے جو صرف زندگی کی طرف لے جا کر جینے کی وجہ بن جاتی ہے۔ بالکل اس پانی کی طرح جو اپنی راہ خود بناتا ہے۔ شاید اسی لیے زندگی کے اس موڑ پر بے روزگاری ہی میرے جینے کی وجہ بن گئی۔وقت کی بے رحم آندھیاں اپنی مرضی کرتی رہیں۔ لیکن  میں بھی چٹان بن کر آندھیوں کے سامنے مضبوط ہوتا گیا۔ایک رات سوچتے سوچتے میں نے سنجیدگی سے اپنا مسئلہ تقدیر کے حوالے کر کے اس گھر سے نکل کر کھلی فضا میں سانس لینے کا پکا ارادہ کیا۔ اپنا وقت مزید ضائع کئے بغیر میں نے اللہ کی پاک ذات پر بھروسہ کر کے سات سمندر پار جانے کا فیصلہ کیا۔ میں نے کسی کو اس فیصلے میں شامل نہ کیا۔بڑا مشکل فیصلہ تھا لیکن اس کے بغیر کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ وہ میرے لئے قیامت کا دن تھا جب میں نے ویزا لگتے ہی چاچا چاچی کو اپنا فیصلہ سنایا۔ میرا فیصلہ سنتے ہی میری خوشیوں کی قاتل چاچی میٹھے انداز میں کہنے لگی "دیکھو جگر، ہم تمہارے دشمن نہیں۔ بلکہ ہم تمہارے سچے ہمدرد ہیں۔ اسی لیے ہم چاہتے ہیں کہ تمہیں وفا سے اچھی کوئی لڑکی مل جائے۔ پھر تمہاری نوکری لگتے ہی تمہارا بھی کہیں گھر بس جائے۔" " مجھے آپ کی ہمدردی کی ضرورت نہیں ہے چاچی اور نہ ہی وفا سے بہتر کوئی لڑکی چاہیے بھی کیونکہ وفا کے بغیر اب میرا گھر بس نہیں سکتاہے۔" میرے پاس چاچی کے ہر سوال کا جواب موجود تھا لیکن اس کی بے معنی باتوں کا جواب دے کر میں اپنی محبت کو مزید رسوا کرنا نہیں چاہتا تھا کیونکہ میرے لیے غمِ محبت نہ کوئی کھیل تماشہ ہے اور نہ ہی کہنے سننے کی داستان۔ ان کو کوئی جواب دئیے بغیر میں نے کاغذات اور کپڑے وغیرہ پیک کر کے اپنے اشکوں کو اپنی آنکھوں کے اندر چھپا کر ان سے رخصت لے کر اس درد کی دہلیز پر کبھی نہ واپس آنے کے لئے پار کیا لیکن حیران رہ گیا کہ کسی نے مجھے روکنے کی کوشش تک نہ کی۔
اپنے ٹوٹے دل میں اپنی محبت کے بجھے چراغ کو سنبھالے ہوئے ہانپتاکانپتا پردیس پہنچ گیا۔ یہاں میں اور میری تنہائی تھی۔ یادوں کے سہارے وقت گزرنے لگا۔ ہر راستہ پتھریلا لگنے لگا۔کئی ہفتوں تک نیند بھی نہ آئی۔ خوش قسمتی کے سبب کام کرتے کرتے اچھے لوگ ملتےرہے۔ جس کی وجہ سے دل بہل گیا۔ پھر کسی کا کوئی گلہ دل میں رکھے بغیر سب کو معاف کردیا تو وقت کے ساتھ ساتھ ہرغم ہلکا ہوتا گیا۔ لیکن کسی سے کوئی رابطہ بھی نہ رکھا۔ اپنی تعلیم کو بروئے کار لایا۔ اپنی ہمت سے زیادہ کام کیا ۔ اتنی دولت کمائی کہ کئی جنموں کے لئے کافی تھی۔ پھر بھی پرائے شہر اور پرائے لوگوں کے درمیان ایک مہمان کی طرح ہی رہ رہا تھا۔ تنہائی کے جزیروں میں رہ کر یادیں دھندلی ہو چکی تھیں۔ وقت کے مرہم سے زخم تقریبًا بھر چکے تھے کہ اسی دوران اچانک دل میں ایک نئی ہوک سی اٹھی۔ آنکھوں سے نیندغائب ہو کر راتیں کانٹوں پر گزرنے لگی۔اس ہوک نے اتنی شدت اختیار کر لی کہ میرا دل بے قرار ہو گیا اس دہلیز پر جانے کے لئے جس سے میرا ہر درد وابستہ تھا۔یہ درد وہی محسوس کر سکتا ہے جو کسی بھی وجہ سے اپنے گھر کی دہلیز سے دور ہو جاتا ہے کیونکہ ہر انسان کو محبت ہوتی ہے اپنوں سے، اپنے گھر سے، اس کی دہلیزسے، اپنے آنگن کی دھوپ سے، اپنے بچپن کی یادوں سے اور اپنی زمین میں پیوست اپنی جڑوںسے۔ 
مارکیٹ جا کر سب کے لئے تحفےخریدے۔  ایک ہفتے کے بعد پردیس کو الوداع کہہ کر ہوائی سفر کر کے اپنے محلے میں قدم رکھا۔ایک مدت بعد دل کو سکون اور مسرت محسوس ہوئی۔ موسم بھی بڑا سہاناتھا۔ لیکن ماں اور ابا کی بہت یاد آئی۔ آنکھیں نم ہوئیں تو نم آنکھوں کے ساتھ ان کے مزار پر گیا۔ دعائے مغفرت مانگی۔ کچھ قدم چل کر اپنے گیٹ کے باہر پہنچ کر کچھ دیر قدم ٹھہرائے۔ پھر گیٹ پر ہاتھ رکھ کر دستک دینے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو ہاتھ رکھتے ہی گیٹ کھل گیا۔  میرے قدم خود بخود رک گئے۔ میں چند لمحوں کے لئے ٹھٹھک گیا کیونکہ سامنے نہ جانے کن خیالوں میں الجھے وفا ایک اُداس چاند کی طرح دہلیز پر بیٹھی تھی۔ بالکل ویسی ہی صاف ستھری اور پیاری لیکن چہرے پر ڈر اور اُداسی کے سائے عیاںتھے۔ وہ مجھے دیکھ کر چونکی۔ 
جان بوجھ کر میں اسے نظرانداز کر کے گھر کے اندر داخل ہوا۔ پہلے کچن کا دروازہ کھولا تو چاچا تنہا بیٹھے تھے۔ میری اچانک آمد سے ان کے جھریوں بھرے اور کمزور چہرے پر ایک چمک سی آگئی۔ گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر کھڑے ہوئے۔ بانہیں پھیلا کر مجھے گلے سے لگا کر کہنے لگے۔ "میں جانتا تھا کہ میرا امروز تقدیر کا دھنی ہے اور تم ضرور آؤ گے۔ بیٹا وفا کا وہاںنباہ نہ ہوا۔  تیرے جاتے ہی اس کی شادی ٹوٹ گئی۔ شادی ٹوٹتے ہی تمہاری چاچی نے اس کا رشتہ دوسری جگہ کر نے کی کوشش کی لیکن اس بار وفا نے صاف صاف انکار کر دیا۔ یہ انکار تیری چاچی برداشت نہ کر سکی تو اسے ذہنی صدمہ پہنچا جس وجہ سے اس کی یاداشت چلی گئی۔اب گھر کے ایک کونے میں پڑی رہتی  ہے۔  بیٹا میں خود غرض نہ تھا اور نہ ہی لالچی لیکن قصوروار ضرور ہوں۔چپ رہ کر میں نے بڑا ظلم کیا۔ ہم سب تمہارے گناہ گار ہیں، اسی لئے ہم سب کو کوئی خوشی نصیب نہ ہوئی۔ وفا تڑپتے تڑپتے دن گزار رہی ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ بیٹا تم لوٹ کے آئے۔ مجھے تجھ پر یقین تھا۔ شاید اسی لیے اللہ تعالی نے مجھے آج تک زندہ رکھا۔ لیکن بیٹا میں اندر سے ٹوٹ چکا ہوں۔" چاچا نے ایک ہی سانس میں پوری کہانی سنائی۔  لیکن چاچے کے لہجے میں گہرا دکھ تھا۔ وفا کی داستانِ غم سن کر طے نہ کر سکا کہ دکھ کس کا بڑا ہے۔ میرا یا وفا کا۔ یہ دنیا جیسی بھی ہے، دنیا کے ساتھ ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کو ہی زندگی کہتے ہیں۔ شاید کھوکر پانے کو سچی محبت کہتے ہیں اور سچی محبت میں درگزر کرنے کی ڈھیر ساری گنجائش ہوتی ہے کیونکہ سیانے کہتے ہیں ہر انسان کی زندگی میں کہیں نہ کہیں ایک فرعون ضرور ہوتا ہے۔
���
پہلگام، اننت ناگ،موبائل نمبر؛9419038028