تازہ ترین

تلاش

کہانی

تاریخ    26 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


پرویز یوسفؔ
سہ پہرکا وقت ،ٹھنڈی ٹھنڈی ہواوں کے دل ربا جھونکوں بسترے میں میرا دماغ تازہ اور ہوشیار سا لگ رہا تھاکہ اچانک باہر کے دروازے کی کُنڈی کھٹکی ۔میں کھڑکی سے جھانکااور ایک معصوم لڑکی کو صحن کے اندر داخل ہوتے ہوئے دیکھا۔ اس کے بال بکھرے،دانت زرد اور کپڑے پھٹے ہوئے تھے ۔اندر آتے ہی وہ دوڑ کے میرے کمرے میں چلی آئی اور میرا ہاتھ پکڑ کر عجیب لہجے میں مجھ سے محسن نامی کسی لڑکے کا پتہ پوچھنے لگی ۔اس کی آواز میں ایک عجیب سا درد تھا۔جس درد کو وہ اپنے الفاظ میں شائد پوری طرح سے اداکرنے کے اہل نہ تھی ۔میں نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھڑا کر کہا ۔تم کسے ڈھونڈ رہی ہو،یہاں کوئی محسن نہیں رہتا۔میرا یہ کہنا تھا کہ وہ ایک دم سے اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر مجھ سے کہنے لگی ،بھائی صاحب! انکار نہ کیجیے۔آپ نہیں جانتے میرا محسن سے ملنا کتنا ضروری ہے۔آپ کسی بھی طرح مجھے محسن سے ملوا دیجئے۔میں نے اسے ہاتھوں سے تھام لیااور ایک بار پھر سمجھایاکہ میں سچ مچ کسی محسن کو نہیں جانتا مگر اس بار میری سمجھ میں یہ بات آگئی کہ یہ لڑکی اپنا دماغی توازن کھو بیٹھی ہے اور اس لیے اپنے ہوش و حواس سے باہر باتیں کر رہی ہے ۔اس سے پہلے کہ میں کچھ اور کہتا اچانک باہر کا دروازہ پھر سے کھلا اور میرے گھر کے اندر دو اور لوگ داخل ہو گئے ۔یہ دراصل اس لڑکی کے ماں باپ تھے، جو اس سے ڈھونڈتے دھونڈتے یہاں تک آگئے تھے ۔ ان کی آنکھیں ان کی بے چین حالت کو صاف صاف بیاں کر رہی تھیں ۔وہ دوڑے دوڑے اپنی بیٹی کی اور چلے آئے اورا سے زبر دستی اپنے ساتھ لے جانے لگے ۔میں نے انہیں روک کر پوچھا آپ ا سے زبر دستی کیوں لے جا رہے ہیں اور یہ کس محسن کے بارے میں بار بار پوچھ رہی ہے ۔اس کی ماں نے میری طرف رخ کیا اور اُداس لہجے میں کہنے لگی ۔بیٹے کیا بتائوںْ یہ ہم بد قسمت لوگوں کی بیٹی ہے۔ شادی کے تین سال بعد اسکے ایک بیٹا ہوا تھا جو حال ہی میں کچھ مہینہ بھر قبل ایک مہلک بیماری کا شکار ہو کر داعی اجل کو لبیک کہہ گیا۔اُس کی جدائی میں یہ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھی ہے۔اُسی بچے کی تلاش میں یہ دربدرگھومتی پھرتی جا رہی ہے اور ہر فرد سے اپنے بیٹے محسن کے بارے میں پوچھ رہی ہے۔ماں کی اولاد چھن جانے سے اُسکی دُنیا کا چراغ ہی بُجھ جاتا ہے ۔اس فراق اور ہجر میں وہ ذہنی توازن بھی کھو بیٹھی ہیں۔
در اصل انسان کی ایک بڑی کمزوری یہی ہے کہ وہ اُمیدوں اور خواہشوں کا بندہ بن کر رہتا ہے ،اُمیدیں باندھ کر ان کے انتظار میں بیٹھنا بڑی نادانی اور کم عقلی ہے۔یہ دنیا، جس میں ہم رہ رہے ہیں، صرف اتنی ہی ملتی ہے جتنی تقدیر اور قسمت میں لکھی ہوتی ہے ۔دراصل کم عمر لڑکی بھی اس دھوکے اور فریب میں مبتلا تھی۔اولاد جو اللہ کی امانت ہوتی ہے کبھی پاس رہتی ہے اور کبھی چھن جاتی ہے۔ اس کے لیے ذہن پختہ تر بنا ہونا چاہیے مگر افسوس کہ دُنیا کی ریت ہی یہ رہی ہے کہ اُمیدوں کے انتظار میں بیٹھا رہا جائے ۔اس طرح زندگی کا عظیم سرمایہ دیکھتے دیکھتے ہاتھوں سے نکل جاتا ہے لیکن انسان کو پتہ نہیں چلتا کہ کیسے اس پر وہ دور آن پڑا ہے جس میں وہ بے بس ہو کر رہتا ہے ۔ اس لڑکی کی ماں کی زبان سے یہ نصیحت اور عبرت ناک الفاظ سن کر میں اس معصوم لڑکی کو تکتا رہا ،بہت کچھ کہنا چاہا مگر الفاظ زبان کا ساتھ نہ دے سکے۔اس کی ماں کی کہی ہوئی باتیں میرے کانوں میں گونجنے لگیں ۔
دراصل ایسی کیفیات کو فراموش کرنا بھی ایک بڑی صلاحیت ہوتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو انسان پاگل ہو جاتا ،ایسا پاگل کہ اپنے ہوش و حواس ہی کھو بیٹھتا ۔کہتے ہیں نا کہ  ؎
یادِ ماضی عذاب ہے یارب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
یہ بہت ضروری ہے کہ ہم زندگی کی کڑواہٹ کو برداشت کرنے کے قابل بن پائیں ۔زندگی میں ٹھوکریں کسے نہیں لگتیں مگر ان ٹھوکروں کا شکار ہو کر ان کا حل ڈھونڈ نا ہی زندگی ہے۔موت تو برحق ہے ،ہر کسی کو آنی ہے مگر اچھا یہی ہے کہ ہم زندگی کو زندگی کے رنگ میں دیکھیں اور موت کو موت کے رنگ میں ۔۔۔۔۔۔
اس کے بعد یہ تینوں باپ ،بیٹی اور ماں میرے گھر سے تو چلے گئے مگر مجھے آج بھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک معصوم سی لڑکی میرے بر آمدے پر کھڑی پریشانی کی حالت میں مجھ سے کسی کا پتہ پوچھ رہی ہے مگر اس بد قسمت لڑکی کو کیسے سمجھاؤں کہ تیری معصومیت تیری نذر ہوگئی ۔زمانے کے رنگ بدلتے رہتے ہیں اور زندگی غم و شادمانیوں کا نام ہے ۔ان کیفیات کو سمجھنے کے لیے دل برداشتہ نہیں بلکہ دل دار بننا پڑتا ہے ۔تم محسن کے ہجر میں در در پھرتی رہو گی تو کیا ملے گا ذرا ہوش میں آؤاور زندگی کو سمجھنے کی کوشش کر۔ اسی عالمِ مدہوشی میں ایک جھٹکا سا لگا تو دیکھا کہ ماں چائے کے لئے کہہ رہی ہیں ۔
 
���
محلہ قاضی حمام بارہ مولہ کشمیر
موبائل نمبر؛9469447331