ممبئی تجھے سلام۔۔۔

افسانچہ

تاریخ    26 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


رحیم رہبر
سرینگر کے بین الاقوامی ہوائی اڑے سے دن کے تین بجے ہوائی جہاز نے اُڑان بھردی۔ دھیرے دھیرے ہم دھرتی ماں سے رخصت ہورہے تھے۔ چند ہی منٹوں کے بعد ہمارا جہاز آکاش کی بلندیوں کو چُھو رہا تھا۔ جہاز میں میری نگاہیں اُونچی اُونچی برف پوش چوٹیوں سے ٹکرائیں تو مجھے یوں لگا گویا کہ میں کسی پرستان کے اوپر سے پرواز کررہا ہوں اور سفید لباس میں ملبوس پریاں میرے استقبال میں بانہیں پھیلا کر اِستادہ ہیں! کچھ ہی لمحات میں یہ دلفریب منظر میری نظروں سے اوجھل ہوگیا۔
ہوائی جہاز اب بادلوں سے پرے ہوائوں کے دوش پرتیزی سے منزل طے کررہا تھا۔ شام ساڑھے پانچ بجے جہاز نے ممبئی کے چھترا پتی شیواجی ہوائی اڑے کے رَن وے کو چُھوا۔ آہستہ آہستہ جہاز نے رَن وے پر اپنی رفتار کم کردی اور رفتہ رفتہ ساکن ہوا۔ جہاز سے اُترتے ہی معتدل گرم ہوائوں نے میرے رخساروں کو چُوما۔ ہوائی اڑے سے فارغ ہوکر میں نے ٹیکسی اسٹینڈ میں سے ٹیکسی کرایہ پر لی اور ڈرائیور کو سنٹرل ممبئی کے ناگ پاڑا چوک میں جانے کے لئے کہا۔
اس طرح شام سات بجے میں اپنی منزل پر پہنچا۔ یہاں سب سے پہلے میری ملاقات ایک حسین و جمیل عورت سے ہوئی جو خوبصورت ہونے کے باوجود بھی پراگندہ سی لگ رہی تھی!
’’جی! میں آپ کے ہی استقبال کے لئے یہاں کھڑی ہوں۔ مہمان نوازی کرنا میرا ایمان ہے‘‘۔ اُس اجنبی عورت نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’جی! میں ممبئی ہوں۔۔۔ میری رگوں میں مراٹھا خون دوڑ رہا ہے۔میں مراٹھ واد کا غرور ہوں۔‘‘ اس عورت نے فخر سے اپنا تعارف کرایا۔
’’پھر آپ اس قدر پراگندہ و پریشان کیوں ہیں؟‘‘
’’مجھے خوامخواہ کی روایات میں اُلجھایا گیا‘‘۔ وہ بے الفاظ میں بولی۔
’’جی! میں کچھ سمجھا نہیں!؟‘‘ میں نے تعجب سے پوچھا۔
’’بھوکا بوڈھا سمندر میرے شاندار اِتہاس کو نگل گیا۔ میں گھر سے نکل کر فُٹ پاتھ پر آئی۔ یہاں کے نشیب و فراز نے میرا چین چھین لیا۔‘‘
’’ لیکن یہ اُونچی اُونچی فلک بوس عمارتیں۔۔۔! یہ شاندار محل!
یہ معروف ترین بازار ۔۔۔ یہ کُشادہ سڑکیں!
یہ شور و غل۔۔۔! یہ چہل پہل۔۔۔۔ یہ گلیاں۔۔۔ یہ بڑے بڑے ہوٹل۔۔۔! یہ ۔۔۔۔یہ سب کچھ ہونے کے باوجود بھی آپ اتنی پریشان کیوں ہیں!؟‘‘میں نے حیرانگی کے عالم میں اُس عورت سے پوچھا۔
’’جی! پہلے آپ اپنا تعاف کرایئے۔‘‘
’’جی! میں کشمیر سے آیا ہوں۔۔۔کشمیر میرا غرور ہے۔‘‘
’’بالکل صحیح فرمایا۔۔۔ آپکو ورثے میں جنت ملی ہے۔ آپ کا ماضی مجھ سے شاندار ہے۔ آپ کے حصے میں تین ہزار سال کا اتہاس آیا ہے۔ سلیمان ٹینگ کی چوٹی اور ہاری پربت کا قلعہ آپکے حسین ماضی کے گواہ ہیں۔ آپ کشمیر سے آئے ہیں لہٰذا آپ کشمیر ہیں۔۔۔۔ آپ شتی کنٹھ، ششی کنٹھ، للؔ دید، علمدارؒ اور ابھینو گُپت جیسے مہان عالموں کی دھرتی سے آئے ہیں۔ آپ غنی ؔ کشمیری کا غرور ہیں۔ آپکے پاس وہ سب کچھ ہے جو ابن آدم کے عالم تصورات میں باغِ بہشت کے حوالے سے موجود ہے۔ آپ قدرت کی سوغات سے مالا مال ہیں۔ اس لئے آپ سے میں اصلیت چُھپانا نہیں چاہتی ہوں۔
’’میں ممبئی ہوں، میرے سینے میں بھی ایک تاریخ ساز ماضی دفن ہے۔ لوگ میرے یہاں من کی شانتی تلاشنے آتے ہیں پر وہ مجھے صرف محیط بے کنار کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ وہ میرے سمندر کی بے وفا لہروں سے ناآشنا ہیں!
میری تاریخ غارِ فیل(Elephant Caves)کے پتھروں کی دیواروں پر تراشے گئے برمہا اور شیوا کے مجسموں میں مضمر ہے۔ میرا خوبصورت تمدن جہانگیر آرٹ گیلری میں نمایاں ہے! جہاں میرے حصے میں مرین ڈرائیو اور جوہو کے دلکش ساحل سمندر آئے ہیں وہیں دنیا کی سب سے بڑی جُگی جھونپڑی(Slum Area)بھی میرے ہی ورثے میں آیا ہے!‘‘
’’لیکن اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود بھی آپ افسردہ کیوں ہیں؟‘‘ میں نے اس عورت سے پوچھا۔
اُس حسینہ نے ایک لمبی سرد آہ بھرلی اور کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولی
’’ہاں۔۔۔ ہاں ہاں مالدار اور تاریخ ساز ہونے کے باوجود بھی میں افسردہ ہوں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں۔ لیکن آپکی طرح ۔۔۔۔۔!‘‘ پھر وہ خاموش ہوگئیں۔
’’خاموش کیوں ہوئیں؟ کچھ تو بولیں آپ ۔۔۔ آپ کہنا کیا چاہتی ہیں؟‘‘
’’لیکن آپ کی طرح میں زخم خوردہ نہیں ہوں۔ مجھے آپکے حال پر ترس آتا ہے۔‘‘
’’مطلب۔۔۔!؟‘‘ میں نے تعجب سے پوچھا۔ وہ عورت پھر ایک بار سرد آہ بھر کر بولی۔
’’آپ کا سارا جسم زخموں سے چھلنی ہے۔ مجھے آپ پر ناز بھی ہے اور پچھتاوا بھی۔ کیونکہ آپ کے ادراک کے دریچے پر شب گزیدہ سحر روز ایک نیا عتاب لیکر دستک دیتی ہے!!‘‘
رابطہ:آزاد کالونی پیٹھ کا انہامہ،موبائل نمبر؛9906534724
 

تازہ ترین