کووڈ ۔19…محدود رہیں، محفوظ رہیں

تاریخ    25 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


نیوز ڈیسک
حکومت نے کہا ہے کہ سرینگر کے بڑے ہسپتالوں میں صرف ایسے مریضوں کو داخل کیاجائے گا جنہیں دیہی ہسپتالوں سے باضابطہ ریفر کیاگیا ہو اور کسی ایسے مریض کو شہر کے بڑے ہسپتالوں میں داخلہ نہیں دیاجائے گا جس نے از خود ایسے ہسپتال کا رجوع کیا ہو۔ یہ کوئی معمولی فیصلہ نہیں ہے اور اس کو قطعی سرسری نہیں لیاجاناچاہئے بلکہ اس فیصلہ کے پس پردہ محرکات سمجھنے لازمی ہیں۔ہمیں یہ سوچ لینا چاہئے کہ آخر حکومت کیوں اتنی مجبور ہوگئی کہ انہیں باضابطہ حکم نامہ جاری کرنا پڑا کہ اب ریفرل کے بغیر مریض بڑے ہسپتالوں میں داخل نہیں ہونگے۔جواب تلاش کرنے کیلئے زیادہ محنت کرنے کی ضرورت ہے اور جواب موجودہ کورونا بحران میں ہی موجود ہے ۔لوگوں کو معلوم ہوناچاہئے کہ اس وقت سرینگر کے کم و بیش سبھی ہسپتالوں میں جگہ تقریباً ختم ہوچکی ہیں اور بیشتر ہسپتالوں میں اب نئے مریضوں کے داخلہ کی گنجائش نہیںہے۔شیر کشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ اگر چہ ابھی بھی کووڈ ہسپتال نامزد نہیں ہے تاہم اس ہسپتال میں بھی اس وقت تین سو سے زیادہ کورونا مریض داخل ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ہسپتال کے40فیصد بسترے کورونا مریضوںکے زیر استعمال ہیں اور مریضوں کی تعداد ہے کہ بدستور بڑھتی ہی چلی جارہی ہے ۔یہی حال صدر ہسپتال سرینگر کا بھی ہے جو سکمز کی طرح ہی غیر کوووڈ ہسپتال ہے اور مخصوص وارڈ بھی کووڈ کیلئے رکھے گئے ہیں تاہم اس ہسپتال میں بھی اس وقت صورتحال یہ ہے کہ 30سے40فیصد بیڈ کورونا مریضوں کے زیر تصرف ہیں اور ہسپتال میں کورونا کی سنگینی کا یہ عالم ہے کہ آکسیجن پوائنٹ بھی اب کورونا مریضوںکو نہیں مل پارہے ہیں بلکہ انتہائی نازک مریضوں کیلئے ٹرائیج میں جگہ نہیں ہوتی ہے ۔اب اگر کووڈ نامزد ہسپتالوں سی ڈی ہسپتال درگجن ڈلگیٹ ،سکمز میڈیکل کالج ہسپتال بمنہ ،جے ایل این ایم ہسپتال رعناواری کی بات ہے تو وہاں خدا ہی حافظ ہے ۔یہ سبھی ہسپتال بھرے پڑے ہیں اور وہاں اب مریضوں کے ڈسچارج ہونے کا انتظار کیاجاتا ہے تاکہ نئے مریضوں کے داخلہ کیلئے کچھ جگہ میسر ہوسکے ۔دیگر ہسپتالوں ،جن میں لل دید ہسپتال ،بون اینڈ جوائنٹ ہسپتال برزلہ وغیرہ شامل ہیں ،میں بھی کووڈ مریضوں کیلئے مخصوص وارڈ رکھے گئے ہیں اور وہاں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں ہے ۔یہ ساری تفصیلات بیان کرنے کا مقصد دراصل عوام کو یہ سمجھانا ہے کہ حکومت نے بڑے ہسپتالوں میںبغیر ریفرل داخلہ پر جو پابندی عائد کردی ہے،وہ عین مجبوری کی حالت میں کی گئی اور حکومت کے پاس شاید اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ بڑے ہسپتالوں میں جگہ کی کمی پڑتی جارہی ہے اور اگر گائوں دیہات سے لوگ ایسے ہی داخل ہونے کیلئے آئیں تو اس کے نتیجہ میں بچے کھچے بسترے بھی بند ہوجائیں گے اور یوں پھر وقت ایسا بھی آسکتا ہے کہ نازک کووڈ مریضوں کیلئے بیڈ بھی دستیاب نہیں ہونگے ۔ریفرل کیلئے بھی جو شرائط رکھی گئی ہیں، اُن میں اس با ت کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے کہ صرف ایسے مریض ہی سرینگر منتقل کئے جائیں جنہیں ضلعی یا سب ضلعی ہسپتالوں میں سنبھالا نہ جاسکے اور جن کا ریفرل ناگزیر ہو۔تاکہ اضلاع میں قائم ہسپتالوں کو بہتر طور استعمال کرکے بڑے ہسپتالوں پر بوجھ کم کیاجاسکے اور وہ کووڈ مریضوں کیلئے ہی مخصوص رہیں۔جب ایسی صورتحال ہو تو یہ سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں آنی چاہئے کہ حالات انتہائی سنگین ہیں اور ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہئے۔ظاہر ہے کہ یہ ایک ایسی صورتحال ہے جو تقریباً ہر کسی کے بس سے باہر ہے ۔حکومت پر طبی شعبہ کو اپ گریڈ نہ کرنے کا الزام لگانا ٹھیک ہے لیکن جس طرح کے حالات بنتے جارہے ہیں ،اُس میں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بھی ہاتھ کھڑے کرنے پر مجبور ہوگئے اور ہم جیسے تیسری دنیا سے تعلق رکھنے والے ممالک کی کوئی اوقات نہیں ہے ۔اسی لئے ہمیں سمجھنا چاہئے کہ ہمارا طبی نظام گوکہ ابھی بھی ایستادہ ہے لیکن اگر ایسے ہی حالات بنے رہے ہیں تو شاید وہ دن بھی ہمیں دیکھنے کو مل سکتا ہے جب یہ سارا نظام ہی دھڑا م سے گر جائے گا اور ہمارا کوئی پوچھنے والا نہیں ہوگا۔اس لئے ابھی بھی وقت ہے کہ ہم ہوش کے ناخن لیں اور اپنی جان خود بچانے کی کوشش کریں ۔ریاست کے مشہور معالج ڈاکٹر محمد سلطان کھورو،جو کووڈ مشاورتی کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں ،بجا فرماتے ہیں کہ گھر سے غیر ضروری نکلنا ہی نہیںہے اور اگر نکلنا بھی پڑے تو یہ سمجھ کر نکلیں کہ باہر سڑکوں پر گھومنے والے سبھی لوگ کووڈ پازیٹیو ہیں اور صرف آپ اکیلے نگیٹیو ہیں اور ان مثبت افراد کے بیچ سے گزر کر آپ نے اپنے آپ کو بچانا ہے ۔ظاہر ہے یہ کوئی آسان کام نہیں ہے اوراسی لئے بہتر ہے کہ اپنے آپ کو محدود کریں کیونکہ محدود ہونے سے محفوظ رہنا ممکن ہے اور جتنا ہم پھیلتے جائیں گے ،اُتنا ہی ہم غیر محفوظ ہوتے چلے جائیں گے جو کوئی اچھا شگون قرار نہیں دیا جاسکتا ہے ۔