تازہ ترین

قربانی کے جانوروں کی خریداری شروع،سرکاری نرخنامہ بالائے طاق

تاریخ    24 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


اشفاق سعید
سرینگر //کورونا وائرس کی وجہ سے وادی میں چھائی خاموشی کے بیچ ایک دو روز سے شہر کے مختلف علاقوں میںاچانک قربانی کے جانوروں کی خریداری شروع ہوگئی۔اگرچہ ابھی بہت کم لوگ قربانی کے جانوروں کی خریدوفروخت میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں ,تاہم لوگوں کا الزام ہے کہ سرکار کی جانب سے مقرر کی گئی قیمتوں کے بجائے بکروال،قصاب اور کوٹھدار جانوروں کی من مانی قیمتیں وصول کررہے ہیں۔ مٹن ڈیلر ایسوسی ایشن نے جہاں محکمہ امور صارفین کی  طرف سے  مقرر کی گئی قیمتوں کو ناانصافی سے تعبیر کیا، وہیں محکمہ کا کہنا ہے کہ مقرر کی گئی قیمتوں کو سختی سے نافذ کیا جائے گا ۔ محکمہ خوراک ورسدات واموار صارفین نے حال ہی میں قربانی کے جانوروں کیلئے نرح نامے مقرر کئے ۔ محکمہ نے بھیڑ کی قیمت اگرچہ فی کلو زندہ 230روپے مقرر کی ہے لیکن اس وقت اسٹالوں پرزندہ بھیڑ 290سے لیکر300 روپے میں فی کلو فروخت کیا جاتا رہا ہے جبکہ بکری جس کی قیمت محکمہ نے 220روپے مقرر کی تھی وہ 250سے260روپے فی کلو زندہ فروخت کی جا رہی ہے ۔کشمیر عظمیٰ کی ٹیم نے شہر میں قائم کئے گئے کئی ایک اسٹالوں کا دورہ کیا، جہاں پر اِکا دُکا لوگ ہی قربانی کے جانوروں کی خریداری کرتے ہوئے دکھائی دیئے ۔ لوگ یہ شکایت کر رہے تھے کہ منڈیوں میں فروخت ہونے والا مال سرکارکی طرف سے مقرر کئے گئے قیمتوں سے زیادہ قیمت پرفروخت کیا جا رہا ہے، تو وہیں مال فروخت کرنے والے کاروباریوں کا کہنا تھا کہ اُنہیں سرکاری ریٹ لسٹ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ،کیونکہ یہ ریٹ لسٹ اُن کے ساتھ سر اسر ناانصافی ہے ۔جموں سرینگر شاہراہ پر ٹینگ پورہ کے مقام پر 6مقامات پر سٹال قائم کئے گئے تھے لیکن خریداروں کا رش کافی کم تھا ۔جموں کے نگروٹہ گائوں کے رہنے والے ایک بکروال کبیر احمد نے ٹینگ پورہ پل کے پاس اپنا سٹال قائم کیا ہے، اس کا کہنا تھا کہ اُس نے عید پر فروخت کیلئے 40بھیڑ بکریاں لائی تھیں لیکن دس روز میں اس نے ابھی تک صرف 4بھیڑ اور 1بکری ہی فروخت کی ہے، کیونکہ خریدار ہی نہیں آرہے ہیں ۔کبیر بھیڑ فی کلو زندہ 300اور بکری 280روپے میں فی کلو فروخت کر رہا ہے ۔جب اُس سے پوچھا گیا کہ سرکاری قیمتیں، تو اس سے مختلف ہیں تو اس کا کہنا تھا ’’ سرکار نے اس سے قبل ہمیں کیا دیا ، ہم اگر مہنگے داموں میں مال لا رہے ہیں تو یہ کون سا انصاف ہے کہ ہم اس کو کم قیمتوں پر فروخت کریں ‘‘۔اس کا کہنا تھا کہ مال ہم پورا سال گھر میں پالتے ہیں ،اس پر محنت لگتی ہے اور روزانہ ایک بکری اور بھیڑ پر ایک سو روپے خرچ ہوتے ہیں جو سرکار نے ریٹ مقرر کی ہے ہمیں وہ منظور نہیں ہے ۔ نیو سٹی ہسپتال ٹینگ پورہ کے باہر جنید قیوم وانی نامی ایک شہری نے اپنا سٹال لگایا تھا اس کے پاس اگرچہ لوگ مال کو دیکھنے پہنچ رہے تھے ،تاہم وہ بھی مطمئن نہیں تھا ۔جنید نے بتایا کہ لاک ڈائون کے نتیجے میں خریدار ہی نہیں آرہے ہیں ۔اس کا کہنا تھا کہ  وہ 40برس سے اس پیشہ سے وابستہ ہیں لیکن جو حالات اس سال بنے ہیں وہ پہلے کبھی نہیں تھے ۔اس کا کہنا ہے کہ اس نے اس بار کشتواڑ سے 1000بھیڑ بکریاں عید پر فروخت کیلئے لائی ہیں، لیکن جس طرح سرکار نے قیمتیں مقرر کی ہیں اور خریداروں کا رش کم ہے، اس سے لگتا ہے اس سال بھی گزشتہ عیدقربان کی طرح اسے نقصان سے دوچار ہونا پڑے گا ۔اس کا کہنا تھا کہ اس سے قبل نارمل حالات میں ہر دن 90سے 100کے درمیان بھیڑ بکریاں فروخت ہو جاتی تھیں لیکن اس بار دن میں صرف 10سے 20ہی فروخت ہوتی ہیں ۔سرکاری ریٹ لسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے اس نے کہا کہ ہم اس ریٹ لسٹ پر کوئی عمل نہیں کریں گے کیونکہ یہ ہمارے ساتھ سرا سر ظلم ہے ۔عید گاہ سرینگر جہاں عید سے قبل ہی بڑی منڈیاں سج جاتی تھیں، وہاں اب اِکا دُکا اسٹال ہی لگے ہیں۔ الگ الگ دائروں میں سڑک کے دونوں اطراف مال فروخت کرنے کیلئے لایا گیا ہے ،لیکن وہاں پر بھی گاہکوں کا رش نہیں ہے ، جبکہ جو اِکا دُکا گاہک وہاں موجود تھے ،اُن کا کہنا تھا کہ سرکار اور کاروباریوں کے درمیان تال میل کا فقدان ہے، اس لئے سرکار ایک ریٹ لسٹ جاری کرتی ہے اور مال دوسری ریٹ پر فروخت کیا جاتا ہے ۔فاروق احمد نامی ایک خریدار کا کہنا تھا کہ اس نے ایک بھیڑ کی قیمت چکائی تھی لیکن وہ مہنگے داموں میں فروخت کیا جا رہا تھا تاہم بھیڑ فروخت کرنے والے بانڈی پورہ کے بشیر احمد نے کہا ’’ اگر سرکار کے پاس اپنا مال ہے، تو وہ فروخت کریں، ہم اپنا مال واپس لے جائیں گے کیونکہ ہم ان قیمتوں پر مال کو فروخت کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔مٹن ڈیلر ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری معراج الدین گنائی نے بتایا ِ،’’ محکمہ امور صارفین وعوامی تقسیم کاری نے جو ریٹ لسٹ مقرر کی ہے، اس پر اُنہیں اعتراض ہے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ کے ساتھ ہوئی میٹنگ کے دوران ایک ریٹ لسٹ ہماری طرف سے انہیں دی گئی تھی، تاہم اس پر عمل نہیں کیا گیا اور محکمہ نے از خود قیمتیں مقرر کر دی ہیں ۔معراج نے کہا کہ اس وقت کٹا ہوا گوشت فی کلو بازار میں 600روپے میں فروخت ہو رہا ہے اگر ہم اس کا 50فیصد کم کر کے 300روپے میں زندہ فروخت کر رہے ہیں ،تو اس میں سرکار کو کیا پریشانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکار لوگوں کو اور ہمیں بے وقوف بنا رہی ہے۔معراج الدین نے کہا کہ حکام کے ساتھ ہوئی میٹنگ میںیہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ہر ضلع میں سرکاری اسٹال لگائے جائیں گے، سرکاری قیمتوں پر مال فروخت کیا جائے گا ،لیکن سرکاری مال کہیں نظر نہیں آرہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر سرکار مال لا رہی ہے ،ان کے پاس ہے، تو وہ شروعات کرے، کیونکہ سرکار یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ ان کے پاس 80ہزار یونٹ ہولڈر ہیں اگر ہر ایک یونٹ ہولڈر سے وہ تین بھیڑیابکریاں لیں گے تو وہ 2لاکھ 40ہزار جانور بن جائیں گے اور انہیں نہیں لگتا کہ اس عید پر اتنے جانور قربان کئے جائیں گے ۔اس طرح ہمیں باہر سے لانے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی ۔انہوں نے کہا کہ یہ ناانصافی نہیں تو اور کیا ہے ،دنیا کا کون سا قانون اور کون سی حکومت یہ کر رہی ہے کہ مال مہنگا خریداجائے اور سستا بیچاجائے ۔ انہوں نے محکمہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ محکمہ پچھلے پانچ برس سے جانوروں کی قیمتیں مقرر نہیں کر رہا ہے ۔کشمیر عظمیٰ نے اس تعلق سے جب محکمہ خوراک ورسدات وعوامی تقسیم کاری کے ڈائریکٹر بصیر احمد خان سے بات کی، تو انہوں نے کہا ’’ ہم چار گھروں کیلئے لوگوں کو پریشان نہیں کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ کچھ ایک لوگ اس میں مافیا بنے ہوئے ہیں جن کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بدھ کو محکمہ کی چیکنگ سکارڈ ٹیموں نے ریٹ لسٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف 12ایف آئی آر درج کئے ہیں ۔ڈائریکٹر نے کہا کہ ایک میٹنگ کے دوران ڈویژنل کمشنر کشمیر نے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت دی کہ وہ چیکنگ سکارڈ ٹیمیں متحرک رکھیں ۔انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود بھی ہماری ٹیمیں چیکنگ کر رہی ہیں اور آنے والے دنوں چیکنگ میں تیزی لائی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ 250روپے فی کلوتک بھی اگر کوئی از خود خریدے گا تو ٹھیک ہے کیونکہ یہ قربانی کا مسئلہ ہے، لیکن قیمتوں کو ہر گز بڑھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور محکمہ قیمتوں کو اعتدا ل پر رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا ۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی قیمتوں کو از خود بڑھائے گا ،اس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔سرکاری مال کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ڈائریکٹر نے کہا کہ محکمہ پشو پالن نے ڈویژنل کمشنر کشمیر سے کہا ہے کہ انہوں نے عید قربان کیلئے 2لاکھ کے قریب بھیڑ بکریاں مختلف اسٹالوں پر رکھی ہیں ۔