عیدالالضحیٰ کی آمد آمد اور جابجا بندشیں| تاجر طبقہ پریشان،300کروڑ روپے کے نقصانات کا خدشہ

تاریخ    20 جولائی 2020 (30 : 01 AM)   
(عکاسی: امان فاروق)

بلال فرقانی
سرینگر// لاک ڈائون کے چلتے وادی میں مسلسل تیسری عید کے موقعہ پر تاجروں کو300کروڑ روپے کے نقصانات کا خدشہ ہے،جبکہ تاجروں نے ایک آواز میں عید پر لاک ڈائون میں نرمی کامطالبہ کیا ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے گزشتہ برس5اگست کو جموں کشمیر کے آئین کی تنسیخ اور  تقسیم کے اعلان کے نتیجے میں عائد بندشوں کی وجہ سے 12 اگست کو عید الضحیٰ کے موقعہ پر کاروباری سرگرمیاں  مانند پڑ گئیں اور دکانداروں اور دیگر تاجروں کی امیدوں پر پانی پھیر گیا۔اچانک اور غیر متوقع بندشوں کے نتیجے  میں لوگ قربانی کیلئے جانور بھی حاصل نہ کرسکیں،جبکہ بیکری،ملبوسات اور گوشت و مرغ کے علاوہ عید  کے دیگر سا زو سامان کی نہ ہی خریداری ہوئی اور ناہی دکانیں کھلی۔تاجروں کا کہنا ہے کہ وادی میں عید کے موقعہ پر ہونے والے کاروبار کا حجم300کروڑ روپے ہیں اور عید سے 10روز قبل عید کی خریداری شروع ہوتی ہے۔ صورتحال کا دوسرا پہلو امسال عید الفطر پر دیکھنے کو ملا جب مارچ کے وسط سے ہی وادی میں کرونا لاک ڈائون ہوا اور تاجروں و دکانداروں کی عید پر تجارت اور کاروبار کی رہی سہی امیدیں بھی بھر نہیں آئی۔ کرونا کے خوف سے لوگوں نے ناہی بیکری کی خریداری کی،نا ہی ملبوسات اور نا ہی دیگر ساز و سامان کی خریداری ہوئی،جس کے نتیجے میں دکانداروں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ عید الضحیٰ میں اب جبکہ صرف12روز رہ گئے ہیںاور سرینگر سمیت وادی کے دیگر اضلاع میں کرونا کے کیسوں اور اموات میں اضافے کے پیش نظر سر نو لاک ڈائون کا اعلان کیا گیا ہے،تاجروں کو ایک بار پھر خدشہ ہے کہ مسلسل تیسری عید کو انہیں کچھ کمانے کو نہیں ملے گا۔ کرونا کے خوف اور مسلسل لاک ڈائون کے نتیجے میں جہاں معیشت براہ راست نشانہ بن گئی ہے اور خریداروں کی قوت خرید بھی جواب دے چکی ہے،اس میں دکانداروں اور تاجروں کے ہاتھ سے عید کا سنہرا موقعہ بھی جا رہا ہے،جس کو وہ حسرت بھری آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔کشمیر اکنامک الائنس کا کہنا ہے کہ وادی میں گزشتہ برس5اگست کے بعد40کروڑ روپے کا نقصان تاجروں کو ہوا ہے اور اس  کے بیچ عید پر جو نظریں لگائے وہ بیٹھے تھے،وہاں بھی انہیں اب نااُمیدی ہی نظر آرہی ہے۔الائنس کے شریک چیئرمین فاروق احمد ڈار کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ انتظامیہ عید پر بندشوں کو نرم کرے گی۔ڈار کا کہنا ہے’’ لاک ڈائون کے عرصے میں تجارت کو3ہزار200کروڑروپے کا نقصان ہوا ہے اور یہ مسلسل تیسری عید ہے جب تاجروں کو عید کے کاروبار کے حوالے سے نقصانات کا سامنا ہے‘‘۔کشمیر ٹریڈ الائنس کے صدر اعجاز احمد شہدار نے بھی عید پر بندشوں میں نرمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عید پرملبوسات ،جوتے اور خواتین کیلئے آرئش کا ساز و سامان فروخت کرنے والی دکانیں جہاں بندہیں،وہیں ان دکانوں کے مالکان کو کافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔شہدار کا کہنا تھا عید پر قریب300کروڑ روپے کا کاروبار ہوتا تھا ، جس میںبیکری،ملبوسات اور دیگر چیزوں کی طلب زیادہ ہوتی تھی،تاہم انہیں خدشہ ہے کہ گزشتہ2عیدوں کی طرح ہی اس عید پر بھی دکانداروں کے گھروں میں عید کی خوشیاں نہیں ہوں گی۔ کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچرس فیڈریشن کے ایک دھڑے کے جنرل سیکریٹری شاہد حسین کا کہنا ہے گزشتہ2عیدوںپر صرف بیکری شعبے کو80کروڈ روپے کا نقصان ہوا۔ شاہد حسین جوکشمیر بیکرس اینڈ کنفیکشنرز ایسو سی ایشن کے ایڈیشنل جنرل سیکریٹری بھی ہیں ،کا کہنا ہے کہ امسال عیدالفطر پر بیکری مالکان کو قریب40 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ شاہد حسین کا کہنا ہے کہ اوسط عید پر وادی میں40کروڑ15لاکھ روپے کی بیکری کی خرید و فروخت ہوتی ہے،تاہم گزشتہ2عیدوں پر20فیصد سے زیادہ بیکری کی خریداری نہیں ہوئی۔
 

تازہ ترین