صحت و فراغت دو بے بدل نعمتیں

نوبہ نو

تاریخ    20 جولائی 2020 (30 : 01 AM)   


مزمل مقبول،بارہمولہ
 چونکہ قرآن مجید کی عملی تفسیر و تشریح محمد ﷺ کی ذاتِ مبارک ہے رسول اللہ ﷺ کی سیرت مبارک کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ امت کی  (بذریعہ صحابہ کرام ؓ) ہمہ جہت ، ہمہ پہلو ، ہمہ وقت ، ذہنی ، فکری، علمی اور عملی تربیت فرماتے تھے۔ آپ ﷺ کا پور ادورِ نبوت نصیحت و مواعظ سے ہی عبارت ہے اور کئی انداز و اسالیب میں آپ ﷺ اس عظیم کام کو انجام دیتے رہے ۔ کبھی رسول اللہ ﷺ کسی خاص شخص کو ، تو کبھی صحابہ کرام ؓ کے کسی خاص مجمع کو مخاطب ہو کر (تاویل خاص میں) صحابہ ؓ کی تربیت فرماتے اور (تاویل عام میں) قیامت کی صبح تک آنے والی انسانیت کے لئے رحمتوں کے موتی بکھیرتے تھے۔ اس کی بہت ساری مثالیں رسول اللہ ﷺ کی مبارک زندگی سے ہمیں ملتی ہے جیسے رسول اللہ ﷺ نے عبد اللہ ابن عمر ؓ کو نصیحت کر تے ہوئے فرمایا’’دنیا میں اس طرح رہو جیسے کہ ایک مسافر ہوتا ہے یا راہ گزر‘‘۔(بخاری) اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے اپنے امت کے لئے مختلف مواقع پر مختلف اندازوں سے رہبری اور رہنمائی فراہم کی ہے۔ ایک حدیث پاک میں رسول اللہ ﷺ کا واضح فرمان ہے کہ ’’ اللہ تعالیٰ کی دو نعمتوں کے متعلق اکثر لوگ دھوکا کھا جاتے ہیں، تندرستی اور فرصت ‘‘ ۔ (ترمذی ابواب زہد ، بخاری عن ابن عباسؓؓ)مطلب یہ ہے کہ لوگ ان دو عظیم نعمتوں کی قدر نہیں کرتے اور ان کے متعلق فریب میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اس حدیث شریف میںدو اہم چیزوں کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے ،جن پر ہمیں غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے ۔
۱)صحت یا تندرستی :۔ اسلام جہاں ہمیں حقوق اللہ اور حقو ق العباد میں اصول و ضوبط فراہم کرتا ہے وہی حقوق نفس یعنی اپنے نفس کے حقوق کو بھی بڑی اہمیت کے ساتھ اُجا گر کرتا ہے۔ جیسے کہ ایک حدیث شریف میں آیا ہے ’’ تین آدمی ازواج مطہرات ؓ کے گھر آئے انہوں نے ان سے رسول ,ﷺ کی عبادت کے متعلق سوال کیا جب انہیں بتایا گیا تو انہوں نے تھوڑا قرار دیتے ہوئے کہا ہمیں نبی اکرم ﷺ سے کیا نسبت؟ آپﷺ کی اگلی پچھلی خطائوں کو معاف کردیا گیا ہے اُن میں سے ایک نے کہا میں ساری رات نماز پڑھتا رہوں گا دوسرا بولا میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا تیسرے نے کہا میں عورتوں سے جُدا ہو جائوں گا اور کبھی شادی نہیں کروں گا (رسول اللہ ﷺ کو جب ان باتوں کا علم ہوا ) آپ ﷺ ان کے ہاں تشریف لائے اور فرمایا تم نے یہ باتیں کہیں ہیں اللہ کی قسم میں تم میں سے سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور تقویٰ اور پرہیزگاری میں تم سب سے بڑھ کر ہو لیکن میں روزے رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا ، میں نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں ۔ جو میرے طریقے کو ترک کرتا ہے وہ مجھ میں سے نہیں ہے ‘‘۔ (بخاری کتاب النکاح )اس حدیث شریف سے زندگی کے بہت سارے پہلوئوں پر روشنی پڑتی ہے اُن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اسلام ہمیں حقوق نفس کی بھی تعلیم دیتا ہے ۔ اپنے صحت اور تندرستی کے بارے میں فکر مند ہونااسلامی تعلیمات میں سے ہے ۔ انسان جب صحت مند اور توانا ہوگا تبھی حقوق اللہ و حقوق العباد ادا کرسکتا ہے ، کوئی بھی عملِ صالح کر سکتا ہے۔ جب صحت کے اعتبار سے کمزوری آجاتی ہے تو وہ دوسروں کا محتاج ہو کر رہ جاتا ہے اسی لئے اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی امت کو خبردار کرتے ہوئے فرمایا ’’ پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت سمجھو‘‘ ان میں سے ایک یہ بھی ہے ’’اور صحت کو بیماری سے پہلے ‘‘ (الحاکم فی المستدرک)لیکن محمد ﷺ انسانیت کے مزاج شناس تھے اس لئے آپ ﷺ نے فرمایا کہ اکثر لوگ اپنی صحت کے بارے غفلت کاشکار ہو کر دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ 
۲)فراغت:۔ یعنی فرصت کے لمحات میسر ہونا ۔ وقت کی اہمیت و عظمت کا اندازہ لگانے کے لئے کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام ِ پاک میں وقت کی قسم اُٹھا کر وقت کو لوگوں پر گواہ بنایا ہے کہیں ’’والعصر‘‘ کہہ کر تو کہیں ’’والفجر‘‘ کہہ کر ۔ اور نبی مہربان ﷺ نے بھی وقت کی اہمیت کو مختلف انداز سے واضح فرمایا ہے ۔ مثلاً ایک حدیث پاک میں فرمایا ’’جب تم شام کرو تو صبح کا انتظار مت کرواور جب تم صبح کرو تو شام کا انتظارمت کرو ‘‘۔(بخاری کتاب الرقاق)  اس حدیث پاک سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ جو کام صبح یا شام ( یا کسی بھی وقت ) کر سکتا ہے کر ڈالے کیا پتا اسے پھر یہ وقت نصیب ہو یا نہ ہو ۔اور ایک حدیث پاک میں جو اس سے پہلے گزر چکی ہے (جس میں نبی اکرم ﷺ نے پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت سمجھنے کی تاکید فرمائی ہے )ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ’’ اور فراغت کو مشغولیت سے پہلے غنیمت سمجھو ‘‘ (حوالہ ایضاً ) اسی طرح ایک اور حدیث شریف میں رسول ﷺ نے اپنی امت کو خبردار فرمایا ہے کہ ’’قیامت کے دن انسان کے قدم اپنے رب کے پاس سے ہٹ نہ سکیں گے یہاں تک کہ اُ سے پانچ باتوں کے بارے میں سوال نہ کر لیا جائے اُن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ’’ عمر کن کاموں میں گزاردی‘‘؟۔ ( ترمذی ابواب صفۃ القیامۃ) 
’’عمر‘‘ وقت کا دوسرا نام ہے ۔ انسان کو جتنی مہلتِ زندگی یا وقتِ زندگی اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے اُسے کے متعلق روز ِ قیامت سوال ہوگا کہ یہ وقت کن کاموں اور راہوں میں صَرف کی ہے لیکن اکثر لوگ اس نعمتِ عظمیٰ کے حوالے سے غفلت میں پڑے رہتے ہیں۔ ایسی نعمت جو ایک بار چھُوٹ جائے زندگی بھر ہاتھ نہیں آسکتی بالکل اُسی طرح ایک انسان بہتے ہوئے پانی میں ہاتھ ڈال کر یہ اُمید کرے کہ یہی پانی جو پہلی بار میرے ہاتھ کو چُھو کر گزرا ، واپس چُھو لے مشکل ہی نہیںنا ممکن ہے ۔ اسی طرح گزرا ہوا وقت ہرگز واپس نہیں آسکتا ۔ علامہ یوسف القرضاوی نے کیا بہترین بات فرمائی ہے کہ جب میں کسی نوجوان کو وقت فضولیات میں صَرف کرنے کے متعلق سوال کرتا ہوں تو وہ پھٹ سے بولتا ہے کہ میں ٹائم پاس کر رہا ہوں حالانکہ اُس نادان کو نہیں معلوم کہ یہ ٹائم کو نہیں بلکہ ٹائم اسے پاس کر رہا ہے ۔ الغرض اللہ تعالیٰ اوراس کے رسو ل ﷺ کی مبارک تعلیمات کو ملحوظ نظر رکھ کر ہمیں ان عظیم و بے بدل نعمتوں کی قدر کر کے اپنی دنیاوی اور اخروی زندگی کو بہتر سے بہتر بنانے کی سعی و جد و جہد کرنی چاہئے ۔ اللہ تعالی ہمیں خیر الدارین نصیب فرمائے ۔