مزید خبریں

تاریخ    19 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


نیوز ڈیسک

مرکز جموں وکشمیر کے وجودکو ختم کرنے کے درپے: کمال 

سرینگر//نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر اور لداخ میں جہاں نظر دوڑائی جائے وہاں عام آدمی تذبذب اور غیر یقینیت کا شکار ہے ۔ایک بیان میں انہوںنے کہاکہ تینوں خطوں کے طول و ارض میں بے
چینی ہی بے چینی نظر آرہی ہے اور ہر جگہ لوگ اپنے اور اپنی سابق ریاست کے مستقبل کو لیکر مایوسی اور تشویش میں مبتلا ہے کیونکہ نئی دلی کے رویہ سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ مرکز کو جموں وکشمیر کے عوام سے نہیں بلکہ یہاں کی زمین چاہئے۔کمال نے کہا کہ مرکزی حکومت کے رویہ سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ یہ لوگ جموں و کشمیر کے بہتر اور روشن مستقبل کے تئیں سنجیدہ نہیں، یہ لوگ ہمارا وجود ختم کرنے کیلئے کام کررہے ہیں، اس پالیسی میں تبدیلی آنی چاہئے، ملک ایک جسم کی مانند ہوتا ہے اور اگر جسم کے کسی بھی حصے میں درد یا تکلیف ہوتی ہے تو اس کا اثر سارے جسم پر پڑتا ہے، اسی طرح اگر جموں وکشمیر کو زخم دیئے گئے تو اس کا منفی اثر پورے ملک پر پڑے گا۔انہوںنے کہا کہ ایک جمہوری ملک میں کسی ریاست کے جمہوری حقوق سلب کرکے تاناشاہی پر مبنی نظام مسلط کرنے سے جمہویت تار تار ہوجاتی ہے اور ایسا ہی کچھ جموں و کشمیر میں کیا جارہاہے۔انہوںنے کہاکہ گذشتہ 2سال سے مرکزی حکومت یہاں نئی دلی سے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے یہاں اپنی من مانی چلا رہی ہے اور اس طریقہ کار سے جموں وکشمیر کے عوام بددل اور انتہائی مایوس ہوگئے ہیں۔مرکزی حکومت کی سخت گیر پالیسی کی وجہ سے نوجوان سخت فیصلے لیکر جنگجوئیت کی طرف راغب ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کے جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کا خاتمہ کرکے حالات سدھارنے کے تمام دعوے سراب ثابت ہوئے ہیں اس لئے نئی دلی کو یہاں امن و سکون لانے کیلئے پہل کرنی چاہئے اور تمام غیر جمہوری اور غیر آئینی فیصلوں کو منسوخ کرکے یہاں جمہوری نظام قائم کرنے کیلئے پہل کرنی چاہئے،اس کے علاوہ آبادی والے فوج اور فورسز کی موجودگی کم کرنی چاہئے۔
 
 

کورونا سے نمٹنے میں انتظامیہ ناکام: مونگا

سرینگر// وادی میں کرونا وائرس کے پھیلائو اور اموات میں اضافے کو باعث تشویش قرار دیتے ہوئے پردیش کانگریس کے نائب صدر غلام نبی مونگا نے سرکار پر وبا سے نپٹنے میں ناکام ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس کوئی بھی متبادل راستہ موجود ہی نہیں ہے۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں پوچھا’’ وادی میں کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلائو کے بیچ کون سا منصوبہ ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ لاک ڈائون اس وقت نافذ العمل بنایا گیا تھا جب وادی میں کورونا وائرس کے پھیلائو میں معمولی تیزی تھی اور وہ مکمل طور پر ناکام ہوا۔مونگا نے کہا’’ وباء سے نپٹنے کیلئے حکومت کی پالسیاں اور انکا نفاذ حکومت کی جانب سے افراتفری کی عکاسی ہے‘‘۔انہوں نے سرکار پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت لاک ڈائون وقفے میں صحت عامہ کی نگہداشت کیلئے ڈھانچہ تیار کرنے،حفاظتی پوشاک کی فراہمی اور معقول طبی سہولیات سے انہیں لیس کرنے میں ناکام ہوئی ہے۔انہوں نے وسیع پیمانے پر ٹیسٹوں کو کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو چاہے کہ وہ پالسیاں مرتب کرنے میںماہرین صحت کی خدمات حاصل کریں اوراب تک بیروکریٹوں نے جو پالسیاں مرتب کیں،ان کے غبارے سے ہوا نکل گئی۔
 
 

وبائی بیماری کے سامنے حکومت بے بس: سی پی آئی ایم 

سرینگر//کیمونسٹ پارٹی آف انڈیا(مارکیسٹ) نے حکومت پر روز اول سے ہی کورونا نگہداشت میں بد نظمی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایسا نظر آرہا ہے کہ حکومت کے پاس کورونا سے نمٹنے کیلئے اور کوئی راستہ موجود نہیں ہے اور حکومت نے وباء کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے ہیں۔ایک بیان میں پارٹی نے کہا کہ مارچ میں جو لاک ڈائون کیا گیا تھا وہ اسی وقت ثمر آوار ثابت ہوسکتا تھا،اگر اس عرصے میں اسپتالوں میں آکسیجن سے لیس بستروں کی تعداد میں اضافہ کیا جاتااور آکسیجن جنریٹروں کی تنصیب،اضافی صحت عامہ کی نگہداشت کیلئے ورکروں کی تعیناتی،ادویات و حفاظتی پوشاکوں کی سپلائی کی زنجیر کو مظبوط بنانے کے ساتھ اضافی وینی لیٹروں کی خریداری کی جاتی۔سی پی آئی ایم نے  کہا کہ بدقسمتی سے لاک ڈائون کے دوران انتظامیہ نے جو تیاریاں کی تھیںوہ  وباء کا سامنا کرنے کیلئے ضروریات کے ساتھ میل نہیں کھا رہی ہے۔ پارٹی نے کہا کہ اسپتالوں میں طبی نگہداشت کے ڈھانچے اور حجم میں اضافے کیلئے جو اقدامات کئے گئے وہ محدود اور ناکافی تھے۔ بیان میںکہا گیا کہ سرکاری ہسپتالوں میں آکسیجن سے لیس بستروں کی تعداد2ہزار ہے جو ناکافی ہے،جبکہ آئندہ ہفتوں میں اسپتالوں میں اس طرح کے بستروں کی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔بیان میں کہا گیاکہ ضلع اسپتالوں میں ایک بھی آکسیجن جنریٹر پلانٹ موجود نہیں ہے جبکہ کورونا مریضوں کیلئے آکسیجن زندگی ہے۔
 
 

سکریننگ کے بغیر مزدور وںاور گداگروں کی وادی آمد 

کورونا میں وسیع پھیلائو کا احتمال: حکیم 

سرینگر// پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ چیئرمین حکیم محمد یاسین نے وادی میں بغیر کسی ہیلتھ سکریننگ اور کوڈ ٹسٹنگ کے ہزاروں تعداد میں غیر ریاستی بھکاریوں اور مزدوروں کے داخل ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ عوامی سطح پر مسلسل جانکاری مل رہی ہے کہ کچھ نامعلوم ایجنٹ روزانہ بنیادوں پر بیرون ریاستوں سے بڑے گروہوں کی شکل میں مزدوروں کو بغیر کسی ہیلتھ سکریننگ کے بسوں اور ٹرکوں میں لاد کر وادی میں لا رہے ہیں جس کی وجہ سے وادی میں کورونا وائرس کے وسیع پھیلاؤ کے امکانات میں اضافہ کا احتمال ہے۔ حکیم یاسین نے وادی میں لازمی ہیلتھ سکریننگ کے بغیرہزاروں کی تعداد میں بیرونی ریاستوں کے مزدوروں اور بھکاریوں کے داخل ہونے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس لاپرواہی کی وجہ سے وادی کشمیر میں کورونا وائرس کے پھیلاو  میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکام کو ایسے دلالوں(ایجنٹوں ) کی نشاندہی کرنی چاہیے جو باہر سے مزدوروں اور انکے افراد کنبہ کو کام دلوانے کے مقصد سے وادی میں  لانے کا کام کرتے ہیں تاکہ ان کو بھی جوابدہ بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ وادی میں کرونا وایرس کے تشویشناک پھیلاو کے مدنظر متعلقہ حکام اور مقامی لوگوں کو انتہائی احتیاط اور چوکسی برتنی چاہیے۔ انھوں نے وادی کے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ اس عالمی وبائی بیماری کو سرسری نہ لیں اور کورونا وائرس سے بچاو کیلئے عالمی صحت ادارے کی طرف سے مقرر کئے گئے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل پیراہوں۔ 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

یاترا متاثر ہونے سے  |  جموں میں کاروبارمثاثر

یواین آئی

جموں//کورونا وائرس کے پیش نظر سالانہ امر ناتھ یاترا پر آنے والے یاتریوں کی تعداد میں کمی اور ویشنو دیوی یاترا بند ہونے سے جموں میں کاروبارمتاثر ہوا ہے۔دکانداروں کا کہنا ہے کہ ان کا کاروبار یاتریوں اور سیاحوں کی آمد پر ہی منحصر ہے اگر یہ لوگ نہیں آتے ہیں تو اُن کا کاروبار ٹھپ ہوجاتا ہے۔ایک دکاندار نے بتایا’’ آج ہمارا سیزن عروج پر ہوتا تھا لیکن ہم ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا’’ امرناتھ یاترا کے دوران ہمارا کاروبارعروج پر ہوتا تھااور آج ہمارا مال دکانوں میں ہی خراب ہو رہا ہے‘‘۔مذخورہ دکاندار کے مطابق کہ اگر وہ دکانیں کھولتے بھی ہیںلیکن کئی بار شام کو خالی ہاتھ ہی گھر واپس لوٹنا پڑتا ہے۔ایک اور دکاندارنے کہا ’’ یاترا ایام کے دوران ہم بیس سے پچیس ہزار روپے تک روزانہ کاروبارکرتے تھے لیکن آج بالکل بیکار بیٹھے ہیں‘‘۔یو این آئی
 
 
 
 

کورونامعاملات میں اضافہ کے ساتھ ہی سینی ٹائزیشن بند 

سرینگر//وادی میں کوروناوائرس کے ابتدائی ایام میںجس علاقے کو ریڈ زون یا بفر زون قراردیا جاتا تھا اُس علاقے کو فوری طور پر اپنی تحویل میں لیکر علاقہ سینی ٹائزکیا جاتا تھا اور متاثرہ شخص کے ارد گرد رہنے والوں کو قرنطین کیا جاتا تھا تاہم اب صورتحال بالکل مختلف ہے ۔ وادی میں کوروناوائرس جس قدر بھیانک رُخ اختیار کرچکا ہے اُسی قدر محکمہ ہیلتھ اور میونسپلٹی حکام نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے ۔ اب اس اُس علاقے کو سینی ٹائز نہیں کیا جاتاہے جہاں کوئی مثبت کیس نمودار ہو۔اب صرف محکمہ تعلیم یا محکمہ مال سے جڑے ملازمین کو علاقہ کی سروے کیلئے بھیج دیا جاتا ہے ۔ پہلے پہل سینی ٹائزیشن ، چھڑکائو اور دیگر اقدامات پر روزانہ لاکھوں روپے خرچ کئے جارہے تھے لیکن اب خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ سی این آئی
 
 
 

 نجکاری منصوبہ کو منسوخ کیا جائے | جموں کشمیر سول سوسائٹی فورم کی اپیل

سرینگر//جموں کشمیر سول سوسائٹی فورم نے حکومت کی جانب سے پبلک سیکٹر یونٹوں اور کچھ دیگر قسم کے پبلک سیکٹر کارپوریشنوں کی مجوزہ نجکاری پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔سوسائٹی کے چیئرمین عبدالقیوم وانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جموں کشمیر میں اگست 2019 کے بعد حالات بدل گئے ہیں اور اس قسم کی نجکاری تباہ کن اور مقامی باشندوں اور تاجروں کے لئے سمِ قاتل ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ ایام میں تعمیراتی موادکی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوگیا ہے کیونکہ اسکا ٹھیکہ مقامی ٹھیکہ داروں کے بجائے غیر مقامی کمپنیوں کو دے دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں اب مقامی لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں۔انہوں نے مجوزہ پالیسی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے عوام دشمن قرار دیا ۔
 
 

نیشنل کانفرنس کا کھرم واقعہ پر اظہار رنج 

سرینگر// نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے کھرم اننت ناگ میں غرقآب ہوئے دو کمسن بچوں کے لواحقین سے گہرے صدمے کا اظہار کیاہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کے والدین کو یہ صدمۂ عظیم برداشت کرنے کی توفیق عطا کرے۔ پارٹی کے جنوبی کشمیر صدر ڈاکٹر بشیر احمد ویری، ضلع صدر اننت ناگ الطاف احمد کلو اور سینئر لیڈر محمد شفیع شاہ نے بھی اس حادثے پر گہرے صدمے اور دکھ کا اظہار کیا ہے۔
 
 
 
 
 

کنگن میں زمین کھسکنے کا واقع ،  میاں الطاف کااظہارافسوس 

سرینگر// نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر میاں الطاف احمد نے بونی باگ کنگن میںزمین کھسکنے کے ایک واقعہ میں شاپنگ کمپلیکس، رہائشی مکانوں اور دیگر املاک کے تباہ ہونے پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے متاثرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے انتظامیہ سے اپیل کی کہ متاثرین کی فوری بازآبادکاری کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین کی بھر پور مالی امداد کے علاوہ متاثرہ دکانداروں کو کم شرحوں پر قرضے بھی فراہم کئے جائیں تاکہ وہ اپنا کاروبار پھر سے شروع کرسکیں اور ساتھ ہی اُن کنبوں کیلئے عارضی قیام و طعام کا انتظام کیا جائے جن کے گھر تباہ ہوگئے ہیں۔ 
 
 
 

انجمن علماء و ائمہ مساجد کا اظہار تعزیت

سرینگر// انجمن علماء وائمہ مساجدجموں کشمیر کے امیر حافظ عبد الرحمن اشرفی ،سیکریٹری مفتی عرفان الامین اور صدر ضلع کولگام مفتی شبیر احمد رحیمی نے اپنے مشترکہ بیان میں ضلعی مجلس شوریٰ کے رکن اور دارالعلوم سواء السبیل کھانڈی پورہ کے استادمولانا زاہدالاسلام کی والدہ کے انتقال  پر غمزدہ خاندان کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا اور اللہ تعالیٰ سے مرحومہ کی مغفرت کیلئے دعاکی ۔