غزلیات

تاریخ    19 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


تنفر دل میں رکھنے سے محبت بھول جاتی ہے 
شریفوں کو عداوت میں شرافت بھول جاتی ہے 
بنا اُجرت کے خالی ہاتھ جب بھی لوٹتا ہوں گھر 
تو ایسے میں میری بچّی شرارت بھول جاتی ہے
جنوں ،وحشت جو ذہنوں پر اثر انداز ہو جائے 
تو ایسے میں بزرگوں کی نصیحت بھول جاتی ہے 
بشر کرتا ہے شکوہ اک ذرا سی بات پر اُس سے 
خُدا نے آج تک کی جو عنایت بھول جاتی ہے 
کرا کے چاک دامن جو نکلتا ہے گُلستاں سے 
اُسے بستی میں پُھولوں کی تجارت بھول جاتی ہے 
خبر گیری نہایت شوق سے کرتے ہیں غیروں کی 
مگر ماں باپ کی ان کو عیادت بھول جاتی ہے 
غریبوں کی ضرورت کو نظر انداز کرتے ہی
امیروں کو سخاوت ،کی عبارت بھول جاتی ہے 
سیاست کی ہوا جب ورغلا لیتی ہے مُنصف کو 
ستم دیدوں کے کیسوں کی سماعت بھول جاتی ہے 
طرفداری میں ظالم کی کھڑا سب شہر ہوتا ہے
 مگر مظلوم کی سب کو وکالت بھول جاتی ہے 
 
پرویز مانوس
نٹی پورہ سرینگرکشمیر،موبائل نمبر؛9419463487
 
 
 
آنکھوں نے نور دل نے محبت اُدھار لی
ذہنوں نے شہ دیںؐ سے فراست اُدھار لی
شمس و قمر میں ان کے کفِ پا کی ضیا ہے
گلزار نے سرکارؐ سے نگہت اُدھار لی
جوں ہی نگاہِ یار سوئے آسماں اٹھی
پھیکے قمر نے نقرئی زینت اُدھار لی
بازارِ عشق میں گراں بیچا گیا مجھے
گاہک نے مجھ سے میری ہی قیمت اُدھار لی
دل لوٹ کر وہ بولے تو نے خاک وفا کی
جن کی وفا کے واسطے ذِلّت اُدھار لی
اچھا تھا جب تلک کہ میں کچے مکاں میں تھا
قصرِ شہی میں آکے مصیبت اُدھار لی
گوشہ نشین تھا تو گناہوں سے بچ گیا
بستی میں آکے بے وجہ غیبت اُدھار لی
آفاقؔ باغِ حسن میں تب سے بہار ہے
آقاؐ کی اس نے جب سے بشاشت اُدھار لی
 
آفاقؔ دلنوی
دلنہ بارہمولہ کشمیر،رابطہ نمبر 7006087267
 
سفینے کی کماں داری سمندر آزماتا ہے
سکندر کو ہمیشہ ہی مقدر آزماتا ہے
فقط شمشیرِ دشمن ہی نہیں ہے درمیاں اپنے
ہمیں تو آستینوں کا بھی خنجر آزماتا ہے
بزرگوں کی روایت، پاسداری جن کی ہے پونجی
انہیں کم ظرف نودولت برابر آزماتا ہے
صداقت کے لئے تعداد کے کچھ بھی نہیںمعنی
کہ جب بھی تین سو تیرہ کو ،لشکر آزماتا ہے
اسے محلوں کی دیواروں سے لڑ کر کچھ نہیں حاصل
یہاں طوفاں بھی مفلس کا ہی چھپر آزماتا ہے
میرا سایہ بھی کچھ لمحوں کو مجھکو چھوڑ دیتا ہے
تیرا سایہ جو خلوت میں لپٹ کر آزماتا ہے
عداوت سہل ہے، مشکل یہاں ہیں عشق کی راہیں
کہ عاشق کو ہر اِک ہاتھوں کا پتھر آزماتا ہے
رضا اس کی ہے چاہے جس سے جیسا کام لیگا وہ
ابابیلوں کے منھ میں دیکے کنکر آزماتا ہے
کہاں جائیں گے لیکر پارسائی سوؔز ہم اپنی
تمہارے شہر میں بد کو تو بدتر آزماتا ہے
 
نوشاد امان سوزؔ
بڑی بازار، وارانسی، اتر پردیش
موبائل نمبر؛ 9335889469
 
 
اب غموں سے زندگی عاری گزاریں کس طرح
بِن خزاں سایہ فگن ہوں گی بہاریں کس طرح
جب تلک پاوں نہ جل جائیں گے تپتی  ریت پر
رحمتوں کی آسماں سے ہوں پھواریں کس طرح
اہلِ دل کی محفلوں میں چند لمحے  بیٹھ جا
ورنہ اپنے نفس کے سانپوں کو ماریں کس طرح
کچھ نہ کرنے پر بھی خواہش ہے کہ اپنا نام ہو
یہ بھی اک نشّہ ہے، سر سے ہم اُتاریں کس طرح
دشمنوں سے پیار و الفت  کی تمنّا  کیا  کریں
دوستوں کی بے رخی کو ہم سہاریں کس طرح
ہو نہیں پائیں کبھی  اہلِ ہوس  کی مِدحتیں
ہم تکلف کا یہ جھوٹا روپ دھاریں کس طرح
ہر طرف بے اعتمادی کی  فضا طاری  ہوئی
اب بگڑتی حالتوں کو ہم سنواریں کس طرح
ظلمتوں کے داغ ہیں بس یاد کرنے کے لئے
ہم شفائیؔ اپنے ماضی کو پکاریں کس طرح
 
شکیل شفائیؔ
بمنہ/سرینگر
rahehidayat123@gmail.com
 
 
میرے محبوب کی صورت دِلِ ناداں بتا کیسی
فلک پہ چاند سی نکھرے چمن میں پھول کے جیسی
بہت سوچا میرےدل نے کروں تعریف میں اس کی
قلم بے تاب، لفظ نایاب، لکھوں کیسے غزل ایسی
سرک آیا جوں ہی آنچل میرے محبوب کے سر سے
اندھیری رات میں بکھری زمیں پہ چاندنی جیسی 
وہ نازک سا بدن اس کا، گلابی لب کنول جیسے
نظر ترچھی ، قدم لرزے چلی آٗے وہ ہرنی سی
میرے رب نے بنایا ہے میرے محبوب کو جس وقت
نہیں دیکھی زمانے نے گھڑی کوئی حسیں ایسی
اگروہ زُلف لہرائے فضائوں میں گھٹا جیسی
رُخِ مہتاب اپنا میں دکھائوں کیا زمانے کو
 
حکیم مظفر حسینؔ
باغبان پورہ، لعل بازار، سرینگر
موبائل نمبر؛9622171322
 
 
حریفوں سے نہ اپنوں سے لڑا ہوں
میں اپنی بات پر لیکن اڑا ہوں
 
میرے اندر بھی میں ہوں اور باہر
میرے پہلو میں بھی میں ہی کھڑا ہوں
 
شعورِ ذات کا احساس کھو کر
گماں کے ایک گوشے میں پڑا ہوں
 
میں اپنی ماں کی صورت بھول بیٹھا
مگر آگے بڑھا آگے بڑھا ہوں
 
میرے سب یار ہیں مصروف لیکن
میں اپنے آپ میں اُلجھا پڑا ہوں
 
یہ مال و زر ہو تم کو ہی مبارک
بہت خوش ہوں میں چھوٹا یا بڑا ہوں
 
عقیل فاروق
طالب علم شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی
شوپیان،موبائل نمبر؛8491994633
 
 
خزاں کی نہیں بہاروں کی بات کرو
اُن گزرے ہوے نظاروں کی بات کرو
 
وقت ہاتھوں سے پھسلا جارہا ہے
ہر آن بڑھتی قطاروں کی بات کرو
 
جو کالی راتوں کو کرتے ہیں روشن
ان چمکتے ہوئے ستاروں کی بات کرو
 
دِلِ افسردہ کی حالت نہ پوچھو اب
برستے اشک کی دھاروں کی بات کرو
 
مچلتے دل کے ہیں احساس اب جن سے
چلو اب، ایسے نظاروں کی بات کرو
 
مہرؔ سکون سا دل کو ملے جن سے
ذرا اُن نیم کش ستاروں کی بات کرو
 
شاہستہ مہر
دلنہ بارہمولہ
 
 
 

تازہ ترین