تازہ ترین

اُجڑتے سپنے

کہانی

تاریخ    19 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


رافیعہ محی الدین
لگاتار دو دن سے برف باری جاری ۔۔۔۔ رکنے کا کوئی نام ہی نہیں ۔۔۔۔۔حماد  اندر کمرے میں اتنا بے چین جیسے کہ جنت کے دروازے پر اسے کوئی زبردستی داخل ہونے سے روک رہا ہو اور وہ بے بس ہوکر مدد کی پکار میں اپنے بابا سے ۔۔ ۔
’’بابا۔۔۔۔ بابا۔۔۔ کب رُکے گی برف باری ۔۔۔۔۔ کب رکے گی ۔۔۔۔۔بولو  ۔۔ نا۔بولو۔۔  ‘‘
’’ مجھے باہر جاکے برف کا کا پُتلا اور برف کی سرنگ بنانی ہے ۔۔۔اور تو اور مجھے اپنے دوستوں کے ساتھ برفانی گولے پھینکنے کی لڑائی بھی کرنی ہے‘‘
’’ہاں یاد آیا ۔۔  میں نے راجو سے یہ بھی وعدہ کیا ہے کہ ہم آنگن میںبرف پر پھسلنے (snow sliding) کا کھیل بھی کھیلیں گے ‘‘
حماد کی یہ تڑپ دیکھ کر اس کے بابا اظہر  مسکراتے ہوئے۔۔
’’ہاں ۔۔۔۔ہاں ۔۔۔۔۔سب کچھ کرو ۔۔۔۔برف کے ساتھ خوب کھیلو۔۔۔۔۔۔مگر بیٹا۔۔۔پہلے برف باری تو رکنے دو ۔۔۔تبھی تو یہ سارا ممکن ہے‘‘
باپ بیٹے کی یہ گفتگو جاری ہی تھی کہ رسوئی سے آواز آئی ۔۔۔۔۔۔۔ 
’’ آجائو سب  ۔۔۔کیسر کا قہوہ تیار ہے ‘‘
اماں کی آواز کو حماد جواب رسید کرتا ہوا ۔۔۔۔
’’اماں ۔۔۔۔بادام بھی ڈالے ہیںکیا ۔۔۔۔۔قہوے میں بادام ملے ہوں تو تب مزہ ہی کچھ اور ہے‘‘
بیٹے کے یہ تیور دیکھ کر رابیعہ مسکراتے ہوئے۔۔۔۔۔
’’ہاںہاں صاحبزادے وہ بھی ڈالے ہیں۔۔۔۔۔آجائو اب جلدی ۔۔۔نہیں تویہ ٹھنڈا ہوجائے گا ۔۔۔۔پھریہ  پینے کا کیا فائدہ ۔۔۔۔۔‘‘
     ایک ہاتھ میں گرم قہوے کی پیالی اور دوسرے ہاتھ سے حماد  نے فرن کے اندر ہی اپنی انگاروں سے بھری چھوٹی کانگڑی کوایسے کـَس ـ کر پکڑ لیا ہے جیسے کہ ایک ڈوبتا ہوا کسی سہارے کو پکڑ رہا ہو اور اس کے چھِن جانے سے مرنے کا لرزہ ۔۔۔کپکپاتی سردی میں قہوہ پیتے ہوئے حامد کی روح میں یہ خیالات  رواں ہیں کہ کب وہ باہر جاکر قدرت کے اس انمول نمونے کا مزہ اُٹھا پائے۔۔۔ قہوے کی ہر گھونٹ کے ساتھ ایک نیا خیال حامد کے ذہن میں وارد ہوتا ہوا۔۔۔۔  
ایک طرف حماد اپنے خیالوں کی دنیا میں مگن اور دوسری جانب برف باری تھمنے لگی۔۔۔۔برف باری تھمتے دیکھ کر حماد پھولے نہ سمایا ۔۔قہوے کی پیالی ابھی آدھی موجود ہی تھی کہ حماد اپنی کانگڑی کو ایک بے سود شئے کی مانند ایک طرف کرکے کمان سے نکلے ہوئے تیر کی طرح باہر کو نکل آیا ۔۔۔
 اماں پیچھے سے آواز لگاتی ہوئی ۔۔
’’ ارے بیٹا حماد۔۔ قہوہ تو ختم کر کے جاو‘‘
لیکن قدرتی حسن کے دیوانے حماد کے لئے کہاں قہوہ اور کہاں باہر کی وہ سفید چادر!!!!!!!!
 باہر پہنچتے ہی حماد پر ایک دیوانہ پن طاری ہوا ۔۔ ۔۔  ہر طرف سفید ہی سفید۔۔۔ ایسالگتا ہے ۔۔ کہ کسی نے فرصت اور  بڑے آرام سے  روئے زمین اور اس پر پڑی ہر شئے کو ایک سفید چادر سے ڈھک لیا ہو ۔۔۔۔اور تمام زندگی ایک گہری نیند میں چلی گئی ہو ۔۔ہر طرف سناٹا۔ ۔اوپر دیکھا تو پیڑ  پودے بھی برف سے لپٹے  ہوئے، کوئی جگہ ہی خالی نہیں  ۔۔۔۔۔ہر جگہ برف ہی برف ۔ ۔۔۔۔۔ یہ خوبصورت  اور دلکش منظر دیکھ کر حماد دیوانوں کی طرح چلانے لگا ۔۔۔اس کے گرم حوصلے کپکپاتی ٹھنڈ کو مات دیتے ہوئے  سرما کے اس سناٹے کو چیرتے ہوئے سیدھا فلک تک پہنچتے رہے۔۔۔ ۔۔۔یہ منظر کشی بیاں کرنے کی خاطر حماد لفظوں کے بجائے پرندوں کی طرح اُچھلنے لگا۔۔۔
سب سے پہلے برف کے گولے بنائے ۔۔ایک گولہ اپنے صحن سے ہی راجو کے گھر کی طرف پھینکتے ہوئے۔۔ ۔
 ’’راجو۔۔۔۔اے راجو۔۔۔۔ تیار ہوکیا ۔۔۔برف کی لڑائی کے لیے ۔۔۔۔۔۔‘‘
حماد سے کمزور طبیعت کا مالک راجو برفیلی سردی سے ڈرتا ہوا کانپتے ہوئے، ہنستے ہنستے، گرتے گرتے حماد کے آنگن آپہنچا۔۔۔۔ لیکن اپنی کانگڑی کے ساتھ۔۔۔۔
 حماد راجو کی کمزوری پر  طنز کرتے ہوئے۔۔۔۔
’’ارے  اپنی کانگڑی کو ایک طرف تورکھ اور میدان میں اترآجائو ۔۔۔میرے ساتھ برفانی جنگ (snow fighting)شروع کرو ‘‘۔
اپنی لاج رکھتے ہوئے بیچارہ راجوتھرتھراتے ہاتھوں سے کانگڑی نیچے رکھتے ہوئے۔۔۔
’’مجھے کمزور مت سمجھو ۔۔۔ح ۔۔حم۔۔حماد ۔۔۔آج میں تمہیں  ضرورہرائو ں گا‘‘
یوں دونوںفرفانی جنگ میں مست ہو گئے ۔۔۔دونوں نے ایک دوسرے پر ایٹم بمب کی طرح برف کے گولے دھاگنے شروع کئے۔۔اس سماں میں دونوں ایسے مست رہے جیسے کہ جنت میں فرشتے کھیل رہے ہوں ۔ ۔۔۔
بعد میں دونوں کے ذہن میں برف کے اندر سرنگ بنانے کا خیال آیا اور وہ اس کام میں محو ہوگئے اور ایک خوبصورت ٹنل تشکیل دی ۔۔۔۔۔۔اسکے بعد برف کے آدمی  (snow man)بنانا  شروع کیے ۔۔  برف کی ٹنل کے ایک طرف سبز رنگ میں رنگے  ہتھیاروں سے لیس دو  برفیلے آدمی بنائے  اور دوسرے سرے پر کئی برف کے آدمیوں کو کوئلے سے ایسے رنگ دیا جیسے کہ ہو بہو فوجی ٹنل کی نگرانی میں ہوں۔
اب دونوں بچے بہت دیر تک ٹنل میں اندر باہر کرتے رہے   ۔۔۔۔۔اسی طرح بہت دیر تک برف کے ساتھ خوب مستی کی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اندھیرا چھانے لگا۔۔۔۔کھیل میں مست حماداور راجو کو پتا بھی نہیں چلا کہ وقت کیسے گذر گیا۔۔۔گھر کے برآمدے سے حماد کی اماں چلاتے ہوئے۔۔۔۔۔
’’ارے بیٹا حماد۔۔۔۔حماد۔۔۔۔بیٹا حماد۔۔۔۔اندر آجائو شام ہوگئی ہے ۔۔۔باقی کا کھیل اب صبح ۔۔۔۔۔۔‘‘ 
اماں کی آواز  بچوں تک ایسے پہنچی جیسے کہ جنت کے محافظ ان کو وہاں سے نکلنے کی تلقین کررہے ہوں۔۔۔۔ دونو ںبچے اب صبح کھیلنے کے وعدوں کی گٹھلیاں لئے ہوئے اپنے اپنے گھر لوٹ گئے۔۔۔۔ 
حماد کو مایوس دیکھ کر رابیعہ بولی۔۔
’’بیٹا دیکھو میں نے آپ کے لئے راجماش اور چاول بنائے ہیں ۔ ابو کو آنے دو تو ہم سب مل کر دال چاول کھائیں گے۔ یہ سن کر حماد کے مزاج میں قدرے تبدیلی آئی۔۔چلو جب تک آپ کے ابو آئیں گے تب تک ہم دسترخوان بچھاتے ہیں۔۔۔۔ آخر وہ بھی تو آتے ہی ہوں گے۔۔۔وہ ساتھ والے کرامت چاچا کے گھر انکی خبر پُرسی کے لئے گئے ہیں‘‘
سناٹا ایسا چھایا تھا کہ دسترخواں کی آہٹ بھی سپیکر سے نکلی ہوئی آواز کے مانند سنائی دیتی ۔۔۔۔کہ اتنے میں باہر سے زور دار اعلان شروع ہوا۔۔۔۔
’’تمام لوگوں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ آپ کے محلے میں دہشت گردگھُس آئے ہیں ۔ لہٰذا تمام لوگوں سے گذارش ہے کہ فوج کا تعاون کریں اور اپنے اپنے گھروں میں ہی بیٹھیں‘‘
 اعلان سن کر رابیعہ اور حماد دونوں ماںبیٹے ڈر گئے۔۔۔ ۔۔۔
اتنے میں باہر سے گولیاں ۔۔۔۔ٹُپ ۔۔۔ٹُپ۔۔ٹُپ۔۔۔ٹو ٹو ٹو۔۔۔ چلنے لگی۔۔۔۔جس سے رابیعہ کے دل میں  وسوسوں کا دورہ شروع ہوگیا۔ یہ سلسلہ کچھ منٹ ہی چلا اور اچانک تھم گیا۔۔۔۔فوج علاقے سے چلی گئی ۔۔۔۔۔کچھ دیر بعد لوگ باہر پورے ماجرے کی تحقیق کے لئے نکلے ۔۔ رابعہ جس کا پورا بدن کپکپاتی سردی کے باوجود بھی پسینے میںبھیگا  ہواتھا ،  ایک ہاتھ میں لالٹین اور دوسرے ہاتھ سے حماد کو پکڑے اپنے شوہر کی تلاش میں نکلی۔۔
کرامت چاچا کے گھر کے باہر سُرخ برف میں پڑے یخ بستہ اظہر کو دیکھ کر رابعہ کے ہاتھ سے لالٹین نیچے گر گیا اور یوں حماد کے سپنے صبح ہونے سے پہلے ہی چور چور ہوگئے۔۔۔
برنٹی اننت ناگ ، کشمیر ،
موبائل 9906705778;،rafiayaur90@gmail.com