تازہ ترین

پریشانی

افسانچہ

تاریخ    19 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


ایف آزاد ؔ دلنوی
ایک بڑے اجتماع میں لوگ بے صبری سے مولانا صاحب کا انتظارکررہے تھے لوگ ادب سے بیٹھے تھے اور بڑے شائستہ انداز میںایک دوسرے سے بات چیت کررہے تھے۔بچے جوان بزرگ ہر عمر کے لوگ تشریف رکھے ہوئے تھے۔ ایک بزرگ اپنے قریب بیٹھے بزرگ سے بول پڑے۔
’’میاں آپ نے مولانا صاحب کے کبھی دیدار کیے ہیں۔‘‘
دوسرے بزرگ بولے۔’’آج تک روبرو تو کبھی دیدا رنہیں ہوئے ہیںلیکن سنا ہے بڑے ذہین اور پہنچے ہوئے مولانا ہیں۔ ہر بیان میں بڑے بڑے مسائل بیان کرتے ہیں ۔‘‘
’’میاں آپ نے ٹھیک سنا ہے یہ عصر حاضرکے ایک بڑے مولانا مانے جاتے ہیں۔ عمر کے لحاظ سے چھوٹے ہیںمگر فہم وفراست‘ دانائی اور عمل صالح میں یکتا ہیں۔بچے ان کی قسمیں کھاتے ہیں۔اللہ ہر ماں باپ کو ایسی اولاد عطا کرے۔‘‘
’’آمین۔ایسے ہی صالح بندوں کے سبب دنیا قائم ہے۔ منتظمین کہہ رہے تھے مولانا فلاں ابن فلاں کے بیٹے ہیں،جو ایک جیّد عالم تھے۔مولانا صاحب آج حقوق والدین کی مناسبت سے وعظ فرمائیں گے۔‘‘
اتنے میں مولاناصاحب تشریف لے آئے۔ ان کی خاطر تواضع کی گئی۔کچھ مشروبات پلارہے تھے توکچھ پستہ، بادام، کشمش پلیٹوں میں پیش کر رہے تھے۔ کھا پی کر مولانا صاحب مائیک پر آگئےتو بزرگوں کی آنکھیں چندھیاگئیں۔ دونوں یک زبان ہوکر بولے۔
’’واہ کیا نورانی چہرہ ہے خوب صورت داڑھی‘دراز قد۔ماشاء اللہ۔‘‘
مولاناصاحب شروع ہوئے تو سب خاموشی سے سنتے رہے۔ مولانا نے قرآن مجید کی ایک آیت کریمہ بیان کر کے کہا۔
’’اولاد پر فرض ہے کہ وہ اپنے والدین کا اُسی طرح خیال رکھیں جس طرح وہ نوزائیدگی میں بچوں کا خیال رکھتے ہیں۔‘‘
گھنٹہ بھر حقوق والدین پروعظ کے بعد مولانا صاحب نے اختتام کیا۔لوگ نم دیدہ ایک ایک کرکے چلے گئے۔اب سائبان خالی ہوچکا تھا۔دونوں بزرگ بھی اُٹھے اور شرف ملاقات  کے  لئے لڑ کھڑاتے ہوئے اسٹیج کی طرف آنے لگے۔ دونوںنے مولانا صاحب کے لئے ہدیہ بھی نکال کے رکھ دیا۔جوں ہی مولانا صاحب کو بزگوں پر نظر پڑی تو وہ ان کی طرف لپکے ۔ بزگوں نے ایک ایک کرکے بڑے جوش کے ساتھ گلے لگا لیا۔پھر ایک بولے۔
’’مولانا صاحب آپ کے دیدار سے ہم فیضیاب ہوگئے۔ شکر اللہ کا ۔آپ کیسے ہیں۔‘‘
’’اللہ کا فضل ہے خیرو عافیت سے ہوں۔‘‘
’’گھر میں خیریت ہیں۔‘‘یہ سن کر مولانا کچھ دیر کے لئے خاموش ہوگئے۔پھر بولے
’’ارے میاں کہاں خیریت ہے گھر میں ایک بڑی پریشانی ہے۔‘‘
یہ سن کر بزرگ دعاء دینے لگے۔’’مولانا صاحب اللہ آپ کی پریشانی دور کرے۔‘‘
مولانا نے بڑے بولوں میں آمین کہہ دیاتو اس پر ایک بزرگ نے اصرار کرتے ہوئے پوچھا۔
’’بیٹے کیا پریشانی ہے ۔‘‘دونوں بزرگ ہدیہ پیش کرنے کے لئے ہاتھ بڑھاہی رہے تھے کہ مولانا صاحب بولے
’’گھر میں بزرگ ماں باپ ہیں۔‘‘
’’استغفراللہ‘‘دونوں ہاتھ واپس جیب کی طرف کھینچ کر چلے گئے۔
���
دلنہ بارہمولہ،موبائل نمبر:-9906484847