تازہ ترین

پڑھے لکھے گنوار‘

شورِ نشور

تاریخ    16 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


شاہ عباس
ابھی کچھ روز قبل ایک ڈاکٹر صاحب کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔نو منٹ اور دس سیکنڈ کی اس ویڈیوکے آغاز میں مذکورہ کشمیری ڈاکٹر صاحب اپنا تعارف پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ اپالو ہسپتال کولکتہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ کشمیری زبان میں جاری اپنی ویڈیو میں ڈاکٹر شکیل احمدکورونا وائرس سے پیدا سنگین صورتحال کا احاطہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اہل کشمیر کو خبردار کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔وہ کہتے ہیں ’’میں انتہائی ایمر جنسی کی حالت میں اس ویڈیو کے ذریعے اپنے ہم وطنوں تک ایک ضروری پیغام پہنچانا چاہتاہوں ‘‘۔ ویڈیومیں ڈاکٹر شکیل کہتے ہیں’’میرے وطن کے لوگ کورونا وائرس سے اس قدر بے پرواہ ہوئے ہیں کہ انہوں نے اس کی ہلاکت خیزی کو بھول کر لاپرواہی کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔آپ بے پرواہ ہوکربازاروں میں گھومتے پھرتے نظر آرہے ہیں، آپ پارکوں میں بھی جانے لگے ہیں اور آپ نے کورونا وباء سے متعلق اُن حقائق کو پس پشت ڈالدیا ہے جو پوری دنیا کے اندر وقوع پذیر ہورہی ہیں‘‘۔انتہائی فکر مند ڈاکٹر شکیل آگے کہتے ہیں کہ اُن سے کئی لوگوں نے رابطہ کرکے کورونا وائرس کو مختلف ممالک کی ’’سازش‘‘ قرار دیاہے۔ وہ کہتے ہیں’’میرا ایسے لوگوںکیلئے صرف ایک جواب ہے، وہ لوگ جو کورونا کو سازش قرار دے رہے ہیں، پڑھے لکھے گنوار ہیں،جو ’سازش‘ کا لفظ استعمال کرکے نہ اپنے سماج اور نہ اپنے اہل خانہ کی فکر کرتے ہیں بلکہ اپنے ساتھ ساتھ سبھی کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں‘‘۔ڈاکٹر شکیل موجودہ بحرانی صورتحال سے بے پرواہی کو’’خود کشی‘‘ قرار دیتے ہوئے مزید کہتے ہیں’’کورونا وبا ء کو معمولی یا ’سازشُ قرار دینا خود کشی کے مترادف ہے، ایسے لوگوں کیلئے بہتر یہ ہے کہ وہ دریا میں کود کراپنی جان دیں ، ایسا کرکے کم سے کم دوسرے لوگوں کی جانیں تو بچ جائیں گی‘‘۔
ڈاکٹر شکیل احمد لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے ہر ممکن احتیاط برتنے کی ترغیب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اُن کا پیشہ اُنہیں کورونا وباء کی تباہی سے متعلق حقائق کو ظاہر کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے ۔ اگر کورونا وائرس کی تباہی سے متعلق سارے حقائق لوگوں تک پہنچ جائیں تو عین ممکن ہے کہ وہ کورونا انفکشن سے پہلے ہی دل کا دورہ پڑنے سے اپنی جان گنوا بیٹھیں گے۔ڈاکٹر شکیل کہتے ہیں’’میرا پیشہ مجھے زبان کھولنے کی اجازت نہیں دیتا،اگر آپ کورونا کی تباہی کے بارے میں حقائق سنیں گے تو آپ سب پر دل کا دورہ پڑجائے گا اور آپ کورونا انفکشن سے پہلے ہی مرجائیں گے‘‘۔
ڈاکٹر شکیل کی مذکورہ ویڈیو کے علاوہ بھی بعض ماہرین نے گذشتہ کچھ دنوں سے کورونا کے بڑھتے کیسوں کو لیکر اپنی تشویش کا اظہار کرنا شروع کیا ہے۔ ایسے سبھی ماہرین کا ماننا ہے کہ لوگوں کو انتہائی درجے کی احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا چاہئے بصورت دیگر حالات بد سے بد تر ہوجائیں گے۔غور طلب ہے کہ وادی کشمیر میں جو محدود سماجی و تجارتی سرگرمیاں شروع ہوگئیں اُن کی اجازت حکام نے ہی دی۔ابرار احمد نامی ایک شہری کا کہنا ہے’’میں ماہرین کی رائے کا احترام کرتا ہوں، لیکن میں جاننا چاہتا ہوں کہ کیا ہمارے حکام ہی ہمیں موت کے مُنہ میں ڈالنا چاہتے ہیں؟‘‘ابرار نے وضاحت کرتے ہوئے کہا’’جب تک ہمیں گھروں میں رہنے کا مشورہ دیا گیا ہم نے اُن مشوروں پر مذہب کی طرح عمل کیا، اب اگر ماہرین لوگوں کی محدود سرگرمیوں کو بھی خطرہ سمجھتے ہیں تو حکام کس کا انتظار کررہے ہیں؟‘‘
ایک ڈاکٹر صاحب، جو سرینگر کے ایک ہسپتال میں خدمات انجام دے رہے ہیں صورتحال کو لیکربہت ہی فکر مند ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اگر لوگوں کی نقل و حمل نہیں رکی تو مستقبل قریب میں اُن کیلئے ایسی صورتحال پیدا ہوگی جہاں وہ مریضوں کو ہینڈل بھی نہیں کرپائیں گے۔مذکورہ ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا’’ہم(ڈاکٹر) کوئی آسمانی مخلوق نہیں ہیں، ہمیں بھی ڈر لگتا ہے اور ہمیں بھی اپنے اپنوں کی فکر ستاتی ہے،محض زبانی جمع خرچ سے اورہیرو قرار دیکر ہمیں لبھایا نہیں جاسکتا ہے،ضرورت ہے کہ ماہرین کی صلاح کو من و عن عملایا جائے اور ہماری صلاح یہ ہے کہ لوگوں کی نقل و حمل کو ممکن حد تک محدود کیا جائے تاکہ انفیکشن بڑھنے کا عمل رک جائے،ہم جانتے ہیں کہ یہ کوئی علاج نہیں ہے لیکن صرف یہی ایک صورت ہے جس سے وائرس کو پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے‘‘۔مذکورہ ڈاکٹر کا مزید کہنا تھا کہ ماہرین کے کہنے پر ہی حکام نے سپیشل آپریشن پروسیجر ز(ایس او پیز) مقرر کررکھے ہیں لیکن اُن پر کوئی عمل نہیں کرتا ہے۔انہوں نے کہا’’ سپیشل آپریشن پروسیجر (ایس او پی) پر عمل در آمد کرانا حکام کا کام ہے‘‘۔
سوشل میڈیا پر بھی لوگوں کو اس بات کو لیکر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے کہ ہر جگہ سپیشل آپریشن پروسیجرز (ایس او پیز) کی دھجیاں اُڑائی جارہی ہیں۔اور تو اور بعض لوگ اس قدر غصے کا اظہار کررہے ہیں کہ وہ حکام پر سپیشل آپریشن پروسیجرز (ایس او پیز) کو مساجد اور دیگر عبادتگاہوں تک ہی محدود کرنے کا الزام عائد کررہے ہیں۔ ایسے لوگوں کا ماننا ہے کہ دنیا بھر میں پیدا صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ بات انتہائی اہم ہے کہ وادی کشمیر میں نقل و حرکت کی اجازت ایمرجنسی تک محدود کی جائے تاکہ وائرس کو خوفناک حد تک پھیلنے سے روکنے میں مدد مل سکے۔
 یہ بات قابل ذکر ہے کہ مرکز کے زیر انتظام جموں کشمیر میں کورونا وائرس میں مبتلاء افراد کی تعداد دس ہزار سے تجاو ز کرگئی ہے اور ہلاکتوں کی تعداد بھی دو سو سے متجاوز ہوچکی ہے۔ اب تو ہر دن سینکڑوں نئے کیس ظاہر ہورہے ہیں اور سرکاری حکام ہر شام مذکورہ کیسوں کے اعداد و شمار پیش کرنے کو ہی اپنی ذمہ داری سمجھ رہے ہیں۔وبائی صورتحال میں حکام کی مجبوریاں اپنی جگہ، لیکن ایک ایسے وقت جب سارے تعلیمی ادارے بند پڑے ہیں اور لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں،پارکیں اور باغات کھولنا چہ معنی دارد؟متذکرہ بالا ویڈیو میںڈاکٹر شکیل بھی سفارش کرتے ہوئے کہتے ہیں’’یہ میرے ہاتھ میں نہیں ہے ،لیکن میں حکومت سے اپیل کرسکتا ہوں کہ باغات، پارکس ،دیگر عوامی جگہوں یہاں تک کہ سیاحتی مقامات کو فی الفور بند کیا جانا چاہئے‘‘۔
 ڈاکٹر صاحبان کی سنیں تو سرینگر کے مخصوص ہسپتال،جہاں کورونا کے مریضوں کو رکھا جاتا ہے،بھرے پڑے ہیں۔آئے روز دعویٰ کئے جارہے ہیں کہ کورونا مریضوں کے ٹھیک ہونے کی شرح بڑھ رہی ہے حالانکہ سب جانتے ہیں کہ ابھی کورونا کا مقابلہ کرنے کیلئے کوئی علاج دریافت نہیں ہوا ہے۔ اس لئے اگر مریض ٹھیک ہورہے ہیں تو اس میں معالجین کا کیا عمل دخل ہے؟ایسا ہے تو کیا مریضوں کا بغیر ایمر جنسی (جیسے وینٹی لیٹر وغیرہ)ہسپتالوں میں رہنا ضروری ہے؟ ماہرین کو اس ضمن میں عوام کے سامنے آنا چاہئے۔سماج کے کئی ذمہ دار افرادکا مطالبہ ہے کہ ہمارے یہاں کے ڈاکٹر صاحبان ڈاکٹر شکیل کی تقلید کرتے ہوئے مقامی زبان کا استعمال کرکے لوگوں کے سامنے آئیں اور اُنہیں ضروری مشوروں سے نوازیں۔یہ ایک ایسا اقدام ہوگا جس سے براہ راست عوام کے ساتھ ماہرین کا رابطہ ہوگا اور اُس کا اثر بھی کئی گنا زیادہ ہوگا، بجائے اس کے کہ پریس نوٹوں کے ذریعے عوام تک بات پہنچائی جائے۔ماہرین سوشل میڈیا کے ذریعے ہی عوام کو احتیاطی تدابیر کے بارے میں جانکاری دیں تاکہ لوگوں کوصورتحال کی سنگینی کا احساس دلایا جاسکے۔ انتظامی حکام کی قابلیت پر کسی کو اعتراض نہیں البتہ اُنکی قابلیت متعلقہ شعبوں تک محدود ہے ، اُنہیں طبی شعبے کو متعلقہ ماہرین پر ہی چھوڑنا چاہئے تاکہ مطلوبہ نتائج حاصل ہونے میں مدد مل سکے۔