تازہ ترین

پانی کی قلّت سے کشمیر میں کربلا

بستیوں میں جھگڑے اور ذہنی تنائو، محکمہ کب جاگے گا؟

تاریخ    16 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


عبدالقیوم
پورے ہندوستان میں وزیراعظم نریندر مودی کا جاری کردہ جل جیون مِشن پورے شدو مد سے جاری ہے۔ راجستھان اور گجرات کے ریگزاروں میں بھی اب لوگوں کو پانی دستیاب ہے۔وزیراعظم نے ’’ہرنل جل‘‘ کا نعرہ دے کر پورے ملک میں پینے کے پانی سے جْڑے محکموں کو متحرک کردیا ہے۔ واقعی یہ بہت بڑا مسلہ تھا جسکی طرف وزیراعظم کا دھیان کورونا وائرس سے بہت پہلے گیا تھا۔ جب صفائی ستھرائی اور بار بار ہاتھ دھونے کو ہی جان کی امان قرار دیا گیا ہو تو ’’ہر نل جل‘‘ وقت کی اہم ترین ضرورتوں میں سے ہے۔ 
لیکن کشمیر میں کیا ہورہا ہے؟ سکیمیں بڑے چائو سے شروع کی جاتی ہیں، لیکن یہاں کی انتظامیہ کو جیسے کوئی دیرینہ دھیمک لگا ہے جو اِن سکیموں کو بھی چاٹ جاتا ہے۔ اس سال کی شروعات سے ہی سرینگر سمیت مختلف اضلاع میں پینے کے پانی کی قلت سے ہاہا کار مچی ہے۔ ہر روز اخبارات میں سرخیاں لگتی ہیں، احتجاج ہوتے ہیں، وفود افسروں اور مشیروں سے ملتے ہیں، یقین دہانیاں ہوتی ہیں، لیکن وادی میں کربلا جیسی صورتحال ہے۔ 
گزشتہ ہفتے مرکزی وزیربرائے جل شکتی اور یونین ٹیریٹری جموں کشمیر کے لیفٹنٹ گورنر  نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ جموں کشمیر میں جل جیون مشن کا جائزہ لیا۔ 
’’ہر نل جل‘‘ کو صد فی صدعملانے کے لئے تین مراحل میں مارچ 2022کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی۔ لیفٹنٹ گورنر نے کہا کہ ہر گھر کو پینے کا صاف پانی بغیر خلل کے فراہم کرنے کے مشن میں محکمہ جل شکتی قائدانہ کردار ادے کرے گا اور اس کام میں بنیادی سطح کے ادارے جیسے پنچایتیں اور دیہی کمیٹیاں محکمے کی معاون ہونگی۔ 
جموں کشمیر حکومت نے اس مقصد کے لئے1800کروڑ روپے مختص رکھے ہیں۔ ویڈیوکانفرنس میں چیف سیکریٹری بی وی آرسبھرامنیم نے مرکزی وزیر اور لیفٹنٹ گورنر کو یقین دلایا کہ کام بعض اضلاع میں اسی سال شروع ہوگا۔ غور طلب ہے کہ لیفٹنٹ گورنر نے اس کانفرنس کے دوران مرکزی وزیر کو یقین دلایا کہ 15اگست سے پہلے ہی گاندربل، سرینگر اور جموں کے ریاسی اضلاع میں صدفی صد کنبوں کو پینے کا صاف پانی نلوں کے ذریعہ فراہم ہوگا۔ اس سلسلے میں انہوں انکشاف کیا کہ مقررہ اہداف کو پانے کے لئے محکمہ جل شکتی کے حصولی نظام کو تبدیل کیا گیا ہے۔ 
اس تبدیلی کی تفصیلات تو جاری نہیں کی گئیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اربوں روپے کا سرمایہ صرف کرنے کے باوجود محکمہ کشمیر میں پانی کی تقسیم کاری کے فرسودہ نظام کی تجدید نہیں کرپایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وافر مقدار میں پانی کے وسائل اور ذخیرہ ہونے کے باوجود کشمیر میں پینے کے پانی کے لئے ہاہاکار مچی ہوئی ہے۔ 
میں اکثر تحریروں میں پینے کے پانی کی قلت کا سوال اْٹھاتا ہوں۔ کشمیر ویسے بھی گوناگوں مشکلات سے دوچار ہے۔ایک ہمہ گیر قہر ہے جس میں ہم محصور ہیں۔ہر مسلہ اپنے اپ میں ایک قہر ہے۔ بات کو قارئین کے ذہنوں میں راسخ کرنے کے لئے میں کشمیر کے موجودہ مصائب و مسائل  کی دس نکاتی فہرست پیش کرتا ہوں:
۱ بے روزگاری کا قہر
۲ منشیات کا قہر
۳ کورونا وائرس کا قہر
۴ کورپشن کا قہر 
۵ ناجائز منافع خوری کا قہر
۶ محکمہ جل شکتی کے بے وزن دلائل کے بیچ پینیکے پانی کی شدید قلت کا قہر
۷ خونِ ناحق کا قہر
۸ ملاوٹ کا قہر
۹ غیرمعیاری ادویات کا قہر
۱۰ انتظامیہ کی غفلت کا قہر
انتظامیہ بھی ایک عجیب شئے ہے۔ سرکاری افسر موٹی تنخواہوں اور معاونین کی فوج کے ساتھ اس قدر مست ہیں کہ اْنہیں عوامی مشکلات کا ذرا بھی احساس نہیں۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ کشمیر میں افسروں کی روایت رہی ہے کہ وہ سرکاری چابک کے بغیر کام نہیں کرتے۔کشمیر کا باباآدم ہی نرالا ہے۔ عام تاثر ہے کہ یہاں سرکار سرکاری افسروں سے ڈرتی ہے اور چھوٹے افسر بڑے افسروں کو دلی کے ساتھ براہ راست رابطے سے ڈراتے ہیں۔ایسے میں عوام اس سوال پر پریشان ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے؟ 
ہمارے یہاں حساس حلقے بارہا اس بات پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں کہ منشیات اور ذہنی تناو بڑے مسائل ہیں۔ ان مسائل کو اکثر حالات کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ میں نے پچھلے دو سال کے دوران جن اضلاع کا دورہ کیا وہاں مجھے محسوس ہوا کہ ذہنی تناواور منشیات کی لت کے پیچھے جو بھی بڑی وجوہات کارفرما ہوں، پینے کے پانی کی قلت بھی ایک اہم وجہ ہے۔
 پانی کا ٹینکر جب کسی محلے میں پہنچتا ہے تو بستیوں میں گھروں کے درمیان کدورتیں بڑھتی ہیں، لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں، اور پانی لینے کی وجہ سے پیدا ہونے والی چپقلش طویل دشمنیوں میں بدل جاتی ہے۔ انسان ایک نفسیاتی وجود ہے، وہ ہر بحران کے وقت پہلے اپنی جان بچانا چاہتا ہے۔ کچھ رضاکار بھی ہوتے ہیں جو لوگوں کی مدد کرتے ہیں، لیکن اجتماعی رویہ یہی ہے کہ پہلے میرا ہی کام ہو۔ یہ تو ٹینکر کی بات ہے۔ 
اندازہ کیجئے کہ کورونا وائرس کے دوران جب ہر بار ہاتھ دھونے کی مجبوری ہو اور گھر میں ناپ تول کے پانی موجود ہو؟ پینے کے پانی کی قلت کا قہر مندرجہ بالا قہروں کے ساتھ ملا کر دیکھئے اور اندازہ کیجیے کہ کیا یہ حالات ذہنی تناو اور خودکشی جیسے خطرناک رجحان کو بڑھاوا دینے کے لئے کافی نہیں۔ 
اْمید کی جانی چاہیے کہ پندرہ اگست کی ڈیڈ لائن کے حوالے سے یہاں کے افسر لیفٹنٹ گورنر کو جھوٹا ثابت نہ کریں۔ مرکزی سرکار کو بھی چاہیے کہ وہ اس بات کی تفتیش کریں کہ وزیراعظم نریندر مودی کی جاری کردہ سکیموں پر جموں کشمیر میں ہی صرف غفلت کیوں ہے؟ یا تو یہاں کے افسر نہیں چاہتے کہ وزیراعظم کا کوئی وعدہ مکمل طور پر پورا ہو یا پھر وہ نااہل ہیں۔ مرکزی سرکار کو محکمہ جل شکتی کے سبھی انجینئروں کا احتساب کرنا چاہیے، اْن کی کارکردگی کے بارے میں تفصیلات طلب کرکے غافل اور لاپرواہ افسروں کے خلاف کاروائی کی جانی چاہیے۔ تب جاکے ’’ہرنل جل‘‘ کا خواب واقعی پورا ہوگا۔