غیر منصفانہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام

زوال کی جانب گامزن

تاریخ    15 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


محمد ابراہیم خواجہ
سرمایہ نظام ایک معاشی و معاشرتی نظام ہے جس میں جملہ حقوق و کنٹرول ملک کے بجائے نجی شعبے کا ہوتا ہے ۔نجی شعبے کو مکمل آزادی حاصل ہوتی ہے کہ وہ منافع کے لئے آزاد منڈی میں جدو جہد کرے ۔ایک مثالی سرمایہ دارانہ نظام میں ریاست معاشی حالات میں مداخلت نہیں کرتی یا بہت کم مداخلت کرتی ہے ۔سرمایہ دارانہ نظام کی بنیاد انفرادی کلیت کے تصور پر قائم ہے ۔یہ نظام اس بات کا قائل ہے کہ ذرائع پیداوار جمع کرنا اور اس کا استعمال کرنا ہر فرد کا بنیادی حق ہے اور اس حق کے استعمال کے لئے ہر فرد کو مکمل آزادی حاصل ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ مثالی سرمایہ دارانہ نظام کا وجود کہیں ممکن نہیں ہے کہ جہاں پر فرد کو مکمل آزادی حاصل ہو، کیونکہ حکومت کو کسی نہ کسی طرح مداخلت کرنی پڑتی ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام کی بنیاد انفرادی ملکیت کے تصور پر قائم ہے ۔انفرادی ملکیت میں دو طرح کے سامان آتے ہیں:
(۱) وہ چیزیں جو انسان روزِ مرہ کی زندگی میں استعمال میں لاتا ہے جیسے کھانے کی چیزیں ،گاڑی ،رہائش گاہ وغیرہ۔یہ Consumer Goodsکہلاتے ہیں۔
(۲)وہ سامان جو اصل سرمایہ کہلاتا ہے جیسے صنعتی پلانٹ ،خام مال اور زراعتی زمین ،جس سے پیداوار حاصل ہوتی ہے ۔اس سے ایسی چیزیں بنائی جاتی ہیں جو صارفین کی روز مرہ زندگی میں کام آتے ہیں ،انکو Capital Goodsکہا جاتا ہے ۔انفرادی ملکیت کی یہی شکل ذرائع پیداوار Means of Production))کے زمرے میں آتی ہیں۔ذرائع پیداوار کی انفرادی ملکیت سرمایہ دارانہ نظام کی سنگ بنیاد ہے ۔ملکیت کے معاملات میں انفرادی آزادی کا یہ نظام مندرجہ ذیل اصولوں پر قائم ہے۔
آزاد تجارت:آزاد تجارت کے معنی یہ ہے کہ معاہدے اس طرح کئے جائیں کہ افراد اپنے تصور خیر کو حاصل کرنے کے زیادہ سے زیادہ مکلف ہوجائیں۔تاجروں کو اس بات کی پوری آزادی حاصل ہوتی ہے کہ جس تجارت میں نفع کے آثار دیکھ رہے ہیں ،میں اپنا سرمایہ لگائیںاور اس سے آزاد انہ فائدہ اٹھائیں۔اس میں خسارہ اور نفع دونوں کے وہ تنہا ذمہ دار ہوتے ہیں ۔سرمایہ دار کو اس بات کی بھی آزادی ہوتی ہے کہ وہ مارکیٹ میں اپنے مال کی فروخت کا اندازہ لگاکر زیادہ سے زیادہ یا کم سے کم مال تیار کریں اور کارخانوں میں ضرورت کے مطابق ملازموں کا انتظام کریں ۔عملی طور پر آزادی سرمایہ دار وں کو حاصل ہوتی ہے جو سماج کے ہر شعبے پر قابض ہیں۔
مقصدِ نفع:
نظام سرمایہ داری میں انسانی سرگرمی کا محور زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنا ہے ۔چونکہ آدمی میں دولت جمع کرنے کا جذبہ فطری ہے ،اُس کے اسی فطری جذبہ کو استعمال کرکے تاجر پیش قدمی اور خوش تدبیری کا زیادہ سے زیادہ مظاہرہ کرتا ہے ۔جہاں تجارت کی کامیابی اور نفع کا امکان زیادہ ہوتا ہے وہاں سرمایہ دار اپنا سرمایہ لگانے سے نہیں چوکتا اور جہاں کامیابی کے امکانات کم دکھتے ہیں اور خسارہ کا احتمال رہتا ہے وہاں وہ سرمایہ لگانے سے گریز کرتا ہے ۔مختصراً نفع کا محرک ہی سرمایہ دارانہ نظام کو کامیاب تجارت کا ضامن بناتا ہے ۔
(۳)مقابلہ:چونکہ سرمایہ دارانہ نظام ریاست کو لوگوں کے معاشی معاملات سے دور رکھتا ہے ،اس لئے معاشی میدان میں انفرادی مقابلہ آرائی کے ذریعے کچھ لوگ سرمایہ دار بنتے ہیں اور ایک بڑی آبادی ان سرمایہ داروں کے زیر نگین کام کرنے والے مزدور۔تجارت میں مقابلہ آرائی ایساذریعہ ہے جس کے ذریعے کمزور اور چھوٹی صنعتیں دم توڑ تی ہیں اور معاشی طور بحال کارپوریشنز اپنا دبدبہ جماتی ہیں۔مارکیٹ فورسز ،سرمایہ داری نظام میں ایک Automatic Regulatorکی حیثیت رکھتا ہے جو قیمتوں کے ساتھ نفع کی مقدار اور اجرتوں میں خود بخود استحکام فراہم کرتا ہے ۔کسی مخصوص تجارت کے میدان میں تاجروں کے درمیان مقابلے سے ایک طرف مارکیٹ میں قیمتوں میںاستحکام ہوگا اور دوسری طرف تاجر منافع میں اعتدال لائیں گے ۔
سرمایہ دارانہ نظام کے قایل لوگ اس نظام کو بہتر او رعادلانہ سمجھتے ہیں،جہاں پر ہر شخص کو مکمل آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنی تقدیر خود بنائے۔وہ اس کو Meritocratic Societyکے نام سے تعبیر کرتے ہیں جہاں لوگ محنت بھی کرتے ہیں اور اپنی محنت کا پھل بھی کھاتے ہیں۔
سود سرمایہ دارنہ نظام کا اہم جُز ہے ۔سود کی حمایت اور سودی بنک کاری کو آج موجودہ دور کی اہم ضرورت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ۔دوسری جنگ عظیم کے دوران جب اتحادی قوتوں کو کامیابی کے آثار دکھائی دینے لگے تو انہوں نے Brethos Wordsکے شہر میں عالمی اقتصادی امور کے لئے قوانین مرتب کئے اور جب دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کی دو تہائی آبادی سامراجی غلامی سے آزاد ہوکر اپنے نئے وجود کا جشن منا رہی تھی تو یہ لوگ اور ان کی حکومتیں ان اداروں کے زیر نگین ہوچکی تھیں۔سرمایہ دارانہ نظام ان ہی عالمی اقتصادی اداروں میں World Bank,IMF.WTOکے ذریعے غریب ممالک کو غربت سے آزاد نہیں ہونے دیتا ۔۲۰۱۶ء کی اوکسفورڈ انٹر نیشنل رپورٹ کے مطابق دنیا کی ایک فیصد آبادی باقی ننانوے آبادی کے برابر دولت پر قابض ہے۔معاشی نابرابری کی یہ مثال دنیا کی کسی تہذیب میں نہیں ملتی جتنی سرمایہ دارانہ نظام نے عصر حاضر کو دی ہے ۔
اسی نظام نے دنیا سے اصل زر (روپیہ) اکٹھا کرکے لوگوں کے ہاتھوں میں کاغذ کی کرنسی تھمادی اور اب المیہ یہ ہے کہ موجودہ دور میں کاغذی کرنسی کی جگہ پلاسٹک کرنسی یعنی کریڈٹ کارڈ ،ڈیبٹ کارڈ وغیرہ کو فروغ دیا ۔یہ نظام چونکہ حرص اور لالچ پر مبنی ہے ،اس لئے اپنے معاش کو بڑھانے کے لئے ملٹی نیشنل کارپوریشنز Advertisingکے ذریعے غریب اور متوسط عوام کو اپنی آمدنی سے زیادہ خرچ کرنے پر اُکساتے ہیں۔یہ کارپوریشنز عوام میں مصنوعی ضروریات کا رجحان پیدا کرتی ہیں اور لوگ آسانی سے دستیاب کریڈٹ کارڈ کے ذریعے’ آن لاین‘شاپنگ کرتے ہیں ۔غرض عوام کو یہ نظام صرف Consumerکی حد تک دیکھتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ لوگ مالی خوش حالی کو ہی اپنی زندگی کا مقصد بنائیں ۔یہی وجہ ہے کہ ہم ایک Consumerist Cultureکے شکار ہورہے ہیں ۔جہاں بیٹیوں کی شادی چالیس سال کی عمر میں بھی نہیں ہوتی کیونکہ وہ ساری چیزیں میسر نہیں ہوتیں جنہیں یہ غریب باپ کی بیٹی اپنی خوشی کا ضامن سمجھتی ہے۔
سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سرمایہ دارانہ نظام میں ایک نئی روح اس وقت پھونکی گئی جب اشتراکیت دفن ہوگئی اور عالمگیریت کے لباس میں سرمایہ دارانہ نظام کو دنیا کے ہر گوشے میں متعارف کیا گیا۔غریب ممالک کو آئی ایم ایف،اور ڈبلیو ٹی او،کے ذریعے مجبور کیا گیا کہ وہ مالی تعاون حاصل کرنے کے لئے اپنی معیشتوں میں نظام سرمایہ داری کے موافق تبدیلی لائیں جن کو Structural Adjustmentsکا نام دیا گیا اور تجارت کے نام پر غریب ممالک کے وسائل کو لوٹا جاتا ہے ۔اس عالمگیر سرمایہ داری نظام کے استحصال کی وجہ سے پیدا شدہ مالی بحران معاشروں سے امن چین چھین لیتا ہے ۔چوری ،ڈاکہ،اخلاقی بے رہ روی اسی نظام کا ایک نتیجہ ہے ،اس نظام کے مضر اثرات اب عالمی دنیا پر واضح ہونے لگے ہیں ۔اب ان ممالک میں بھی ،جہاں یہ نظام مضبوط مانا جاتا ہے اس نظام کے خلاف بے چینی بڑھ رہی ہے ۔anti Globizationتحریکیں اور Environmental Groupsکی تعداد دن بہ دن بڑھ رہی ہے۔
اس کے برعکس اسلامی نظام معیشت متوازن اور منصفانہ ہے جس کا اعتراف مغرب کے لوگ بھی کرتے ہیں ۔اسلامی نظام معیشت میں مادہ پرستی ،ذاتی منفعت اور غریبوں کے استحصال کی گنجائش نہیں ہے ۔اسلامی نظام صرف لوگوں کی ضروریات ہی پورا نہیں کرتا بلکہ دولت کی تقسیم بھی منصفانہ طریقے سے عمل میں لاتا ہے ۔
اشتراکیت  پہلے ہی دم توڑ چکی ہے اور سرمایہ دارانہ نظام اپنی بُرائیوں کے سبب زوال کی جانب بڑھ رہا ہے ا ن حالات میں ضروری ہے کہ اسلام کا نظام معیشت زوروں سے عالمی پر متعارف کیا جائے تاکہ اس الٰہی نظام کی خوبیوں کو پوری انسانیت کے لئے بروئے کار لایا جاسکے۔
(مضمون نگا ر اسٹنٹ پروفیسر پولیٹکل سائنس ہیں )
��������

تازہ ترین