تازہ ترین

سکولی نصاب میں تحریف کے پس پردہ مقاصدکیا؟

تشویشناک

تاریخ    15 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


اسد مرزا
ملک میں اسکولی تعلیم کا انتظام وانصرام کرنے والے سب سے اہم ادارے سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) نے تعلیمی سال2020-21 کے لیے نویں سے بارہویں درجہ تک کے نصاب میں30فیصد کی کمی کردی ہے۔بورڈ کی دلیل ہے کہ ایسا اس لیے کیا گیا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے سبب لاک ڈاون کی وجہ سے مارچ سے اسکول بند ہیں جس کی وجہ سے طلبہ کا تعلیمی نقصان ہورہا ہے اور وہ صرف آن لائن کلاسیں کرپارہے ہیں لہذا ان پراور اساتذہ پر کورس پورا کرنے کا بوجھ نہ پڑے۔ انسانی وسائل کے فروغ کے مرکزی وزیر رمیش پوکھریال نے اس سلسلے میں گزشتہ ہفتے کئی ٹوئٹ کرکے کہا کہ’’ ملک اور دنیا میں موجودہ غیر معمولی صورت حال کے مدنظر بنیاد ی نظریات سے متعلق مضامین کو علی حالیہ برقرار رکھتے ہوئے نصاب کو 30فیصد تک کم کرکے اسے منطقی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘‘
حالانکہ سی بی ایس ای کے اس اقدام کے خلاف ابھی تک مختلف حلقوں سے موثر آوازیں نہیں آئی ہیں اور صرف مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے حکومت کے اس اقدام کی نکتہ چینی کی ہے۔لیکن بورڈنے اپنے اس اقدام کا جوازپیش کرنے کے لیے ایک پریس بیان کے ذریعہ کہا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ قدم کورونا وبا اور این سی ای آر ٹی کی طرف سے نصاب پر نظرثانی کی سفارش کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھایا گیا ہے۔ 
حذف شدہ موضوعات
سی بی ایس ای نے کورس کا بوجھ کم کرنے کے نام پرمختلف مضامین سے متعدد ابواب ہٹا دیے ہیں۔ جن اہم ابواب کو حذف کردیا گیا ہے ان میں گیارہویں درجہ کے پالیٹیکل سائنس کی کتاب سے ’’وفاقیت، شہریت، قوم پرستی اور سیکولرازم ‘‘کے علاوہ پڑوسی ممالک کے ساتھ ہندوستان کی خارجہ پالیسی کے ابواب شامل ہیں۔طلبہ اب ہندوستان کے پڑوسی ممالک پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا اور میانمار کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کے بارے میں اس سال نہیں پڑھیںگے۔
بارہویں درجہ کے پالیٹیکل سائنس سے سماجیات اور نئی سماجی تحریکات کے مکمل باب کو حذف کردیا گیا ہے۔بارہویں کلاس کے بزنس اسٹڈیز کی کتاب سے ڈیمونیٹائزیشن کا باب اور تاریخ کی کتاب سے نوآبادیات اور نوآبادیاتی شہروںنیز تقسیم ملک جیسے ابواب کو نکال دیا گیا ہے۔ گیارہویں کلاس کے بزنس اسٹڈیز سے جی ایس ٹی کا پورا مضمون ہی ختم کردیا گیا ہے۔جب کہ نویں کلاس کے سوشل سائنس کی کتاب سے آبادی، جمہوری حقوق اور ہندوستان میں فوڈ سیکورٹی جیسے ابواب اور دسویں کلاس کے ہندی کتاب سے مہاویر پرساد دویدی کا تحریر کردہ مضمون جس میںانہوںنے خواتین تعلیم کے حق میں بات کی ہے ، کو حذ ف کردیا گیا ہے۔گیارہویں کلاس کے کیمسٹری کی کتاب سے ’انوائرمنٹل کیمسٹری ‘ کا مکمل باب ہی نکال دیا گیا ہے۔
سی بی ایس ای نے اپنی ویب سائٹ پر جو نیا نصاب اپ لوڈ کیا ہے اس کے مطابق بارہویں کلاس کے طلبہ اب بزنس اسٹڈیز کے باب میں’لبرلائزیشن، پرائیوٹائزیشن اور گلوبلائزیشن کے حوالے سے ہندوستان میںبزنس پر حکومتی پالیسیوں کی تبدیلی کے اثرات ‘ کا مطالعہ نہیں کرسکیں گے۔بورڈ کا کہنا ہے کہ اس نے اسکولوں کے ذمہ داروں سے کہا ہے کہ جو موضوعات رہ گئے ہیں ان کی طلبہ کو دیگر متعلقہ موضوعات کے ساتھ حسب ضرورت وضاحت کی جاسکتی ہے۔
گوکہ سی بی ایس ای کے مطابق اس اقدام کا مقصد موجودہ تعلیمی سال کے دوران طلبہ اور ٹیچروںکا بوجھ کم کرنا ہے تاکہ وہ معیار ی تعلیم پر زیادہ توجہ دے سکیں۔ لیکن نصابی کتابوں سے جن مخصوص ابواب یا موضوعات کو حذف کیا گیا ہے وہ یقیناً حیران کردینے والے ہیں۔جن موضوعات کو حذف کیا گیا ہے ان میں سے بیشتر جمہوری سماج کی بنیادوں سے متعلق ہیں اور طلبہ کو ان کے بارے میں اپنے علم میں خاطر خواہ اضافہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ان کے خیالات میں وسعت النظری پیدا ہو۔ دوسری طرف جس غیر منطقی انداز میں ان موضوعات کو حذف کیا گیا ہے اس سے ایک مخصوص سیاسی نظریے کی بو آتی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ حکومت نئی نسل کوبعض اہم امور سے بے خبر رکھنا چاہتی ہے۔
جن موضوعات کو حذف کیا گیا ہے ان پر ایک محتا ط نگاہ ڈالنے سے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ یہ وہ موضوعات ہے جن کے بارے میں موجودہ حکومت چاہتی ہے کہ لوگ یا تو ان سے واقف نہ ہوں یا ان پربہت کم بحث و مباحثہ کریں۔اس کے بجائے وہ اپنے نظریاتی خطوط پر ایک مکمل نیا بیانیہ نصاب میں شامل کرنا چاہتی ہے۔ یہ بات بھی یا د رکھنے کی ہے کہ گزشتہ 25برسوں سے سنگھ سے وابستہ اساتذہ اور نظریہ سازاسکولو ں میں پڑھائی جانے والی تاریخ ، سماجیات اور لسانیات کی نصابی کتابوں کو ازسر نو لکھنے کا کام بڑی خاموشی کے ساتھ کررہے تھے اور اب ان کی تحریروں کو نصاب کا حصہ بنایا جاچکا ہے۔ لیکن اس پر لوگوں کی توجہ اس لیے نہیں جاسکی ہے کیوںکہ یہ سارا کام انتہائی خاموشی سے انجام دیا جارہا تھا۔
قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی )۔ 2019کا مسودہ
اگر قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی )۔ 2019کے مسودہ کوہم غور سے پڑھیں تو یہ اندازہ ہوجائے گا کہ حکومت کا اصل مقصد کیا ہے۔ این ای پی 2019کے ذریعہ حکومت تعلیم کے لیے دی جانے والی مالی امداد ، اسکولی تعلیم کے ڈھانچے ، اسکول اور اعلی تعلیم کے نصاب ، ٹیچروں کی تربیت کی نوعیت اور ان کی تقرری وغیرہ کو پوری طرح تبدیل کردینا چاہتی ہے۔
لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی ہے ۔ اگر 484صفحات پر مشتمل این ای پی۔ 2019کا ذرا او رگہرائی سے مطالعہ کریں گے تو پتہ چلے گا کہ اگر اسے نافذ کردیا گیا تو تعلیم پر اس کے کتنے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ اس پورے مسودے میں لفظ ’سیکولر ‘  یا ’سیکولرازم ‘ آپ کو کہیں نہیں ملے گا۔جبکہ جن پر عزم تجاویز کا ذکراس مسودے میں کیا گیا ہے ان کے لیے سیکولر تعلیم کو بنیاد کی حیثیت حاصل ہے۔
این ای پی2019میں لفظ ’ سیکولر‘ کا نہ ہونا اس وقت اور بھی زیادہ اہم ہوجاتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ ماضی میں جتنی بھی تعلیمی پالیسیا ں بنائی گئیں ان میں سیکولرزم کا ذکر بطور خاص کیا گیا تھا کیوںکہ اسے ہندوستان کے بنیادی قدروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔این ای پی۔ 2019 سے ’سیکولر‘ او ر’سیکولرازم ‘ کے الفاظ کو حذف کردینا بلاوجہ نہیں ہے۔اس کے پیچھے موجودہ حکومت اور اسے جس تنظیم کی سرپرستی حاصل ہے اس کا پورا نظریہ کام کررہا ہے۔
موجودہ ہندوستان میں ذات پات اور مذہب کی بنیاد پر تشدد کے واقعات میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔اسکولوں میں پڑھائے جانے والے نصاب اور طریقہ تدریس ذات اور مذہب کی بنیاد پر سماج میں پائے جانے والے عدم توافق ،عدم رواداری اور امتیازی سلوک کو ختم کرنے میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔اس وقت بڑا چیلنج یہ ہے کہ سماج میںپائے جانے والے ان تلخ حقائق کونوجوان ذہنو ں میں جاں گزیں کرنے کے لیے کس طرح کے نئے اور تخلیقی طریقے اپنائے جائیں اورا ن میں وسعت نظری ، روداری اور برداشت پیدا ہوسکے۔
ہمیںیہ بات سمجھنی چاہئے کہ تاریخ کو نئے انداز میں توڑ مروڑ کر پیش کرکے اصل تاریخ کو چھپایا نہیں جاسکتا۔برطانیہ جیسے ملکوں میں بھی اسکولی طلبہ کو عہد وسطی کی تاریخ پڑھانے کے مطالبے ہورہے ہیں۔اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنے متنازعہ فیصلوں کی حقیقت پر پردہ ڈال کر لوگوں کو بے وقوف بناسکتا ہے یا اپنے غلط فیصلوں کو چھپا سکتا ہے تو وہ غلط فہمی کا شکار ہے کیوںکہ بالآخر تاریخ ہی آپ کے بارے میں فیصلہ کرتی ہے اور آنے والی نسلوں کو اس سے واقف کراتی ہے ۔خواہ آپ کو یہ اچھا لگے یا برا ۔
(کالم نویس سیاسی تجزیہ نگار ہیں۔ وہ بی بی اردو سروس اور خلیج ٹائمز سے وابستہ رہ چکے ہیں۔ ای میلasad.mirza.nd@gmail.com)