لاک ڈائون … ذمہ داریوں سے فرار بجا نہیں!

تاریخ    15 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


جموں و کشمیر خاص کر وادی کشمیر میں گزشتہ تقریباً دس دنوں سے کورونا معاملات میں نہ صرف تشویشناک رفتار سے اضافہ ہورہا تھا بلکہ اموات کی شرح میں خطرناک اضافہ ہورہا تھا اور یہ سلسلہ ہنوز ایسے ہی جاری ہے ۔اس کے نتیجہ میں نہ صرف عوامی حلقوںمیں زبر دست تشویش پیدا ہوگئی بلکہ حکومتی حلقے بھی پریشان ہوگئے اور ہر سو یہی مطالبہ ہونے لگا کہ کسی طرح انسانی جانیں بچائو۔عوامی حلقوں میں یہ اضطراب قطعی غیر فطری نہیں ہے کیونکہ حالات اتنے سنگین ہوچکے تھے تاہم حکومتی ردعمل حسب روایت ویسا ہی رہا ،جیسے امید کی جارہی تھی ۔فوری طور حرکت میں آکر لاک ڈائون کے نفاذ کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا گیا اور اب رفتہ رفتہ پوری وادی اور جموں کے چند اضلاع میں دوبارہ سے لاک ڈائون نافذ کیاجارہا ہے ۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہم اس صورتحال تک کیسے پہنچے ؟۔ گوکہ ہماری عادت بن چکی ہے کہ ہم ہر مسئلہ پر حکومت اور انتظامیہ کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں تاہم موجودہ پریشان کن صورتحال کیلئے حکومت سے زیادہ ہم لوگ خود ذمہ دار ہیں۔اس میں کوئی دورائے نہیں کہ دو ماہ کے لاک ڈائون سے فائدہ ہوا تھا اور یہاں کورونا کافی حد تک قابو میں تھا لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ لاک ڈائون کھلتے ہی ہم بھول گئے کہ ہمارے آس پاس ہمارا ایک ایسا دشمن ہمارے سروں پر منڈلا رہا ہے جو نظر نہیں آتا ہے ۔ہم نے کورونا لاک ڈائون کو معمول کا کرفیو یا لاک ڈائون سمجھا اور ڈھیل ملتے ہی بازاروںمیں اس طرح امڈ آئے جیسے یہاں کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔کیا یہ حقیقت نہیں کہ ہم نے بالکل ایسے ہی برتائو کیا جیسے ہم کرونا سے پہلے کررہے تھے اور ہم نے اس حقیقت کو فراموش کیا کہ یہ وبا ہمارے بیچ ہی موجود ہے ۔بازاروں میں لوگوں کا جم غفیر ،جسمانی دوریوں کا کوئی پاس و لحاظ نہیں،فیس ماسک پہننا معیوب سمجھنا۔یہ ایسے غیر دانشمندانہ افعال تھے جو ہم نے ان دنوں دھڑلّے سے انجام دئے اور ہم سمجھ رہے تھے کہ کورونا شاید ہمارا کوئی رشتہ دار ہے کہ ہمیں بخش دے گالیکن وقت نے ثابت کردیا کہ یہ کسی کا بہی خواہ نہیںہے اور اس کے راستے میں جو بھی آتا ہے ،اس کو اپنا نوالہ بنانے کی کوشش کرتا ہے ۔اب وہی کچھ ہورہا ہے ۔ہسپتالوں کے ہسپتال بھرے پڑے ہیں۔اب تو ہسپتالوں میں مریضوں کو داخل کرنے کی گنجائش نہیں ہے ۔سارے بسترے مریضوںسے بھرے پڑے ہیں اور اس پر مصیبت یہ کہ بیشتر مریض آکسیجن پر منحصر ہیں اور یوں اب نئے مریضوں کیلئے آکسیجن دستیاب کرنا بھی مشکل بنتا جارہا ہے ۔یہی حالت آئی سی یو بستروں کی بھی ہے ۔یہ تو عوامی سطح پر لاپر واہی کا حال احوال تھا ۔اب جہاں تک حکومتی لاپر واہی کا تعلق ہے تو وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیںہے ۔انتظامیہ نے جان بوجھ کر سرکاری ملازمین کو ایسے وقت گھروں سے نکال کر دفاتر پہنچایا جب پبلک ٹرانسپورٹ بھی نہیں تھااور نتیجہ کے طور پر ملازمین کی نقل و حمل سے سڑکوں پر عوامی نقل و حمل بھی بڑھنے لگی اور اس دوران حکومتی مشینری نے اس بڑھتی ہوئی عوامی نقل و حمل کو منضبط کرنے کیلئے کوئی کارروائی نہیں کی بلکہ الٹا ایسے بھی الزامات لگ رہے ہیںکہ گاڑیوں کو سواریوں سے مکمل طور بھرنے اور دکانات کھولنے میں بھی نذرانہ وصول کئے جارہے ہیں۔ جب زندگی پٹری پر لوٹنے لگی تو حکومت بے نیاز ہوکر غفلت کی نیند سوگئی اور کسی کو یہ خیال نہیں آیا کہ ہم نے معمولات کی بحالی کو منظم کرناہے تاکہ کورونا وائرس کے حوالے سے وضع کردہ رہنما خطوط پر عمل درآمد ہو لیکن نہیں ۔سرکاری کارندے کسی اور کام میں مصروف ہوگئے اور نتیجہ یہ نکلا کہ کہیں کوئی جوابدہی نہیں تھی اور عدم جوابدہی کے اس ماحول میں جس کی جومرضی ہوئی ،وہ ویسے ہی کرتا گیا اور اب نتیجہ ہمارے سامنے ہے ۔یہ بھی حقیقت ہے کہ گزشتہ دو ماہ انتظامی مشینری اس امید کے ساتھ عملی طور ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھی رہی کہ شاید کورونا یہاں سے رخصت ہونے والاہے اور اس دوران طبی ڈھانچہ کو اپ گریڈ کرنے کی کوئی ٹھوس کوشش نہیں ہوئی ۔اب جب دشمن گھروںمیں داخل ہوچکا ہے تو طبی سیکٹر سے جڑے منتظمین نے ہاتھ کھڑے کرنا شروع کر دئے ہیں اور وہ اب لوگوںسے کہہ رہے ہیں کہ سنبھل جائیں ،نہیں تو پورا طبی نظام دھڑا م سے گر جائے گا۔کیاحکومت کو عوام نے ایسے دنوں میں یہی کچھ کہنے کیلئے چھوڑا تھا۔سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ ارباب بست و کشاد کس منہ سے لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ سنبھل جائیں ،نہیں تو ہیلتھ سسٹم ہی بیٹھ جائے گا۔کیا ہم نے امریکہ ،اٹلی اور دیگر ایسے ممالک سے کوئی سبق نہیں لیاتھا جہاں آج سے کئی ماہ قبل ایسی ہی صورتحال درپیش تھی اور وہاں طبی نظام جواب دے چکا تھا۔ہم نے آخر اتنے ماہ اپنے طبی ڈھانچہ کو اپ گریڈ کرنے کیلئے کیا کیا؟۔ ایسے سوالات ارباب اختیار سے کریں تو اُن کا موڈ خراب ہوجاتا ہے کیونکہ اب کے ایسی روایت چل پڑی ہے کہ سوال کرنا گناہ ٹھہرا ہے اور جو کوئی بھی سوال کرے ،وہ شرپسند کہلاتا ہے ۔بے شک عوامی سطح پر لاپر واہی ہوئی لیکن کیا آپ سے یہ بھی پوچھا جاسکتا ہے کہ آپ نے عوامی بیداری مہم چلانے میں لیت و لعل سے کام کیوں لیا؟ ۔ عام حالات میں اخبارات کے صفحات کے صفحات اشتہارات سے بھرے ہوتے ہیں لیکن اس دوران عوامی جانکاری مہم کیلئے سرکار نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو کس طرح استعمال کیا؟۔ کہنا آسان ہوتا ہے اور کرنااتناہی مشکل ۔لوگوں کو قصور وار ٹھہرانے سے قبل اپنے گریباں بھی جھانکیں اوردیکھیں کہ سرکاری مشینری خود کس طرح عوام سے بھی زیادہ موجودہ صورتحال کیلئے ذمہ دار ہے۔ ہمیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ صرف لاک ڈائون اس مرض کی دوا نہیں ہے ۔یہ قلیل مدتی علاج تو ہے لیکن مستقل علاج نہیں ہے ۔آخر کب تک ہم لوگوںکو گھروںکے اندر محصورکرکے رکھیں گے۔لوگ زیادہ دیر تک روزی روٹی کے بغیر نہیں رہ سکتے ۔لوگوں کو پھر باہرنکلنا ہے اور اب حکومت کو ایسا فول پروف نظام تیار کرنا ہوگا کہ جان بھی بچے اور کارِ جہاں بھی چلے ۔ساتھ ساتھ ہیلتھ سسٹم کو بھی اپ گریڈ کریں اور یوں خود کو مذاق نہ بنائیں۔حکومت عوامی زندگیوں کی امین ہے اور موجودہ حالات سے زیادہ کب لوگوں کو حکومت کی ضرورت پڑسکتی ہے ۔اس لئے بھاگنے کی بجائے چیلنج سے مقابلہ کریں اور لوگوں کو ساتھ چلاکر اس بحران سے نکلنے کے جتن کریں تاکہ عوام کو یہ نہ لگے کہ انہیں ان مشکل ترین حالات میں خدا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیاگیا ہے۔
 

تازہ ترین