کوروناوائرس؛ 7موت کی آغوش میں، کل تعداد 188

کمسن بچوں، 4نظر بندوں ، پولیس، فوج و دیگر فورسز کے 43اہلکاروں سمیت 314مثبت

تاریخ    14 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


پرویز احمد
سرینگر//جموں کشمیرمیں13جولائی سوموارکو کورونا وائرس کی بیماری سے ایک سی آر پی ایف سب انسپکٹر سمیت مزید 7افراد فوت ہوگئے ۔اسطرح مہلوکین کی تعداد بڑھکر 188ہوگئی۔ ان میں 17جموں جبکہ 171 کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ 3کمسن بچوں، 4نظر بندوں،پولیس فوج و دیگر فورسز کے 43اہلکاروں سمیت 314افراد کی رپورٹیں مثبت آئیں۔ ان 314 متاثرین میں سے 101سرینگر، 6بارہمولہ، 21 کولگام، 16شوپیان،14اننت ناگ، 30کپوارہ، 6 پلوامہ ، 11بڈگام،20بانڈی پورہ ،25جموں،ایک ادھمپور، 16کٹھوعہ، 9رام بن، 24سانبہ، 4پونچھ، 6 ڈوڈہ اور 4کشتواڑ سے تعلق رکھتے ہیں۔
۔7اموات
جموں و کشمیر میں پیر کو ایک سی آر پی ایف اہلکار سمیت 7افراد فوت ہوئے۔ اموات کا سلسلہ شیر کشمیر انسٹیچیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ میں سوپور سے تعلق رکھنے والے ایک 46سالہ شخص کی موت سے شروع ہوا ۔ میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر فاروق احمد جان نے بتایا ’’فوت ہونے والا شخص مختلف امراض کی وجہ سے7جولائی کو اسپتال میں داخل ہوا اور رپورٹ مثبت آنے کے بعد 13جولائی کو صبح 5بجکر 45منٹ پر فوت ہوگیا ‘‘۔سی ڈی اسپتال ڈلگیٹ کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر محمد سلیم ٹاک نے بتایا ’’  پلوامہ سے تعلق رکھنے والی ایک 55سالہ خاتون 5جولائی کو نمونیا کی وجہ سے اسپتال میں داخل ہوئی اور رپورٹ مثبت آنے کے بعد 13جولائی کو فوت ہوگئی‘‘۔ڈاکٹر ٹاک کا کہنا تھا کہ پیر کو راولپورہ سرینگر سے تعلق رکھنے والا ایک 55سالہ مریض نمونے دینے کیلئے اسپتال آیا اور تشخیص کیلئے نمونے حاصل کرنے کے بعد اسکو کرسی پر بٹھایا گیا تو وہ اچانک حرکت قلب بند ہونے سے فوت ہوگیا ‘‘۔ڈاکٹر سلیم ٹاک نے بتایا ’’ بعد میں اسکی رپورٹ بھی مثبت آئی‘‘۔صدر اسپتال سرینگرکے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر نذیر احمد چودھری نے بتایا ’’ کولگام میں تعینات سی آر پی ایف کا ایک 55سالہ اہلکار صدر اسپتال میں پیر کی صبح فوت ہوگیا ‘‘۔ڈاکٹر نذیر چودھری نے بتایا’’ فوت ہونے کے بعد اسکی رپورٹ مثبت آئی ہے‘‘۔ محکمہ صحت میں تعینات ایک سینئر ڈاکٹر نے بتایا ’’لتر پلوامہ کا ایک 55سالہ مریض بھی فوت ہوگیا ہے‘‘۔مذکورہ ڈاکٹر نے بتایا ’’  ہندوارہ کا رہنے والا 70سالہ شخص ایک ہفتہ قبل فوت ہوگیا لیکن اسکی موت کی رپورٹ پیر کو موصول ہوئی‘‘۔محکمہ صحت میں تعینات ڈاکٹر نے بتایا ’’3دن قبل سویہ بگ بڈگام سے تعلق رکھنے والے ایک78سالہ خاتون بھی وائرس کی وجہ سے فوت ہوگئی تھی اور اسکی رپورٹ بھی پیر کو موصول ہوئی ہے۔    
سکمز صورہ
 میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر فاروق احمد جان نے بتایا ’’ پچھلے 24گھنٹوں کے دوران1413نمونوں کی تشخیص کی گئی جن میں سے 101مثبت جبکہ 1312افراد کی رپورٹیں منفی آئیں‘‘۔ڈاکٹر جان نے بتایا ’’ 101متاثرین میں سے 26سی آر پی ایف اہلکار،22سرینگر،18کولگام، 13بانڈی پورہ، 11بڈگام،4اننت ناگ، 3کپوارہ، 2بارہمولہ، ایک پلوامہ اور ایک گاندربل سے تعلق رکھتے ہیں‘‘۔ ڈاکٹر جان نے بتایا کہ پولیس و فورسز کے 26اہلکاروں میں سے کمپنی ہیڈکواٹر بی ایس ایف ہمہامہ کے 13اہلکار،سی کیو سی کرائم برانچ بلڈنگ  ہمہامہ کے 6اہلکار، 132بٹالین سی آر پی ایف نشاط کے 3اہلکار، 180بٹالین سی آر پی ایف ترال پلوامہ  کا ایک اہلکار،164بٹالین سی آر پی ایف اننت ناگ کا ایک اہلکار،54بٹالین سی آر پی ایف کا ایک اہلکار اور آئی جی آفس نہرو پارک کا ایک اہلکار مثبت آیا ہے‘‘۔ڈاکٹر جان نے بتایا ’’سرینگر شہر کے 22متاثرین میں سے 9نوشہر سرینگر،  ایک دریار نواکدل،2زکورہ ، ایک عیدگاہ، ایک چھتہ بل،  ایک نشاط، ایک الہی باغ ، ایک نوہٹہ، ایک احمد نگر، ایک پیر باغ اور ایک زونی مر سے تعلق رکھتا ہے‘‘۔ ڈاکٹر جان کا کہنا تھا کہ کولگام کے 18متاثرین میں سے 7گڈر،2اڑی جان،3رائسی، 2منزگام،ایک لسی پورہ اور ایک ایچ ایم گری پلوامہ سے تعلق رکھتا ہے۔ڈاکٹر جان نے بتایا ’’ بانڈی پورہ کے 13متاثرین میں سے 7نائد کھے، ایک اشم، ایک سمبل ، ایک حاجن، ایک آلوسہ ، ایک اجس اور ایک کلوسہ بانڈی پورہ سے تعلق رکھتا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ بڈگام کے 11متاثرین میں سے  ایک نصراللہ پورہ، ایک چاڈورہ، ایک کاوسہ، ایک گنڈ حسی بٹ،  ایک بدرن، ایک پکھر پورہ، ایک واتھورہ اور ایک کھاگ سے تعلق رکھتا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ اننت ناگ کے 4متاثرین میں سے  ایک  سرنل ، ایک بجبہاڑہ، اور ایک سالیر اننت ناگ سے تعلق رکھتا ہے۔ ڈاکٹر جان نے بتایا کہ کپوارہ کے 3متاثرین کا تعلق ہری کپوارہ سے ہے۔ ڈاکٹر جان نے بتایا ’’ بارہمولہ کے 2متاثرین میں سے ایک اوڑی اور ایک ٹنگمرگ سے تعلق رکھتا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ کے شعبہ عوامی رابطہ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی جانب سے جاری کئے گئے اعدادوشمار میںبتایا گیا ہے کہ ابتک کل879مشتبہ مریضوں کا داخلہ کیا گیا جن میں سے600مریضوں کو قرنطینہ کی مدت مکمل کرنے کے بعد گھر روانہ کردیا گیا جبکہ148مثبت قرار دئے گئے مریضوں کو گھر بھیجا گیا ہے۔ابتک142927نمونوں کی تشخیص کی گئی ہے جن میں سے133275کو منفی قرار دیا گیا ہے جبکہ3315مریضوں کی رپورٹیں مثبت آئیں ہیں۔

جے وی سی بمنہ

 سکمز میڈیکل کالج بمنہ کے پرنسپل ڈاکٹر ریاض احمد انتو نے بتایا ’’ پچھلے 24گھنٹوں کے دوران 407نمونوں کی تشخیص کی گئی جن میں سے 29مثبت جبکہ 378کی رپورٹیں منفی آئیں‘‘۔ڈاکٹر ریاض انتو نے بتایا ’’ سبھی 29متاثرین کا تعلق سرینگر شہر سے ہے‘‘۔ڈاکٹر ریاض انتو نے بتایا ’’ ہائی کورٹ سرینگر کے 4ملازم، 6سالہ اور 9سالہ بچی سمیت بمنہ سرینگر کے 4، 2ڈلگیٹ، 3حول، 2نواب بازار، 4ڈی ڈی باغ ،  ایک صورہ، ایک علمگری بازار،  ایک دولت آباد  نائوپورہ،ایک لال بازار، ایک ہیرون، ایک کائوڈارہ، اور ایک مہجور نگر سے تعلق رکھتا ہے۔ ڈاکٹر ریاض انتو نے بتایا ’’ اس کے علاوہ ترال سے تعلق رکھنے والے 2افراد  کی رپورٹیں بھی مثبت آئیں ہیں‘‘ 
سی ڈی اسپتال ڈلگیٹ
 سی ڈی اسپتال میں پچھلے 24گھنٹوں کے دوران 876نمونوں کی تشخیص کی گئی جن میں سے 93مثبت جبکہ783افراد کی رپورٹیں منفی آئیں۔ ذرائع نے بتایا کہ 93متاثرین میں سے ایک پی ایچ سی ترہگام،14پی ایچ سی کپوارہ،4کیمونٹی ہیلتھ سینٹر  سوگام،7ایس ڈی ایچ ٹنگڈار، ایک سی ایچ زی زچلڈار، 9جی ایم سی اننت ناگ 21,صدر اسپتال سرینگر، بادامی باغ کینٹ کے 17فوجی اہلکار، 2سی ڈی اسپتال ڈلگیٹ، 7سی ایچ سی سنبل، 13ضلع اسپتال شوپیان،2بانڈی پورہ اور ایک لل دید اسپتال سرینگر کے نمونوں کی رپورٹیں مثبت آئیں۔ذرائع نے بتایا ’’ 93متاثرین میں سے 17فوجی اہلکار اور نظر بندوں بھی شامل ہیں۔

جموں صوبے

 جموں میں پچھلے 24گھنٹوں کے دوران 73افراد کی رپورٹیں مثبت آئیں ہیں جن میں سے 39 لال پتھ لیبارٹری ، 32جی ایم سی سرینگر، ایک لال پتھ اور ایک کرشنا لیبارٹری سے مثبت آیا ہے۔ 
حکومتی بیان
حکومت کی طرف سے جاری کئے گئے میڈیا بلیٹن میں بتایا گیا ہے کہ نوول کورونا وائرس کے10,827 معاملات سامنے آئے ہیں جن میں سے4,545سرگرم معاملات ہیں ۔ اب تک6,095اَفراد شفایاب ہوئے ہیں ۔جموں وکشمیر میں کوروناوائرس سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد187تک پہنچ گئی ،جن میں سے 170کا تعلق کشمیر صوبہ سے اور17کاتعلق جموں صوبہ سے ہیں۔اِس دوران پیر کو مزید116مریض صحتیاب ہوئے ہیںجن میںجموں صوبے کے53اور کشمیر صوبے کے 63اَفراد شامل ہیں ، جن کو جموں و کشمیر کے مختلف ہسپتالوں سے رخصت کیا گیا۔بلیٹن میں مزید کہا گیا ہے کہ اب تک 4,59,703ٹیسٹوں کے نتائج دستیاب ہوئے ہیں جن میں سے  13؍جولائی2020ء کی شام تک 4,48,876نمونوں کی رِپورٹ منفی پائی گئی ہے ۔علاوہ ازیں اب تک3,15,386افراد کو نگرانی میں رکھا گیا ہے جن کا سفر ی پس منظر ہے اور جو مشتبہ معاملات کے رابطے میں آئے ہیں۔ ان میں 38,643اَفراد کو ہوم قرنطین میں رکھا گیا ہے جس میں سرکار کی طرف سے چلائے جارہے قرنطین مراکز بھی شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ25 اَفراد کو ہسپتال قرنطین میں رکھا گیا ہے۔4,545کو ہسپتال آئیسولیشن میں رکھا گیا ہے جبکہ45,093 اَفراد کو گھروں میں نگرانی میں رکھا گیا ہے۔اسی طرح بلیٹن کے مطابق2,26,893اَفرادنے 28روزہ نگرانی مدت پوری کی ہے۔
 

۔2افسران کی رپورٹ مثبت 

پولیس اور آرمڈ پولیس ہیڈکوارٹرسیل

سرینگر/ شبیر ابن یوسف/جموں کشمیر پولیس اور آرمڈ پولیس ہیڈ کواٹروں کو2سنیئر سپرانڈنٹ آف پولیس عہدوں کے افسران کے کرونا وائرس مثبت  پائے جانے کے بعد سیل کیا گیا۔ سنیئر پولیس افسران کا کہنا ہے کہ  ائرپورٹ روڑ پر پیر باغ میں قائم پولیس ہیڈ کواٹر میں تعینات ایک ایس ایس پی کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا،پورے پولیس ہیڈ کواٹر کو سیل کیا گیا۔سینئر پولیس افسر کا کہنا تھا’’ اب تک صرف ایک دن کیلئے پولیس ہی ڈکواٹر کو بند کرنے کی ہدایت تھی‘‘۔اس دوران پورے عمارت میں جراثیم کش ادویات کا چھڑکائو کیا گیا۔پولیس کے سنیئر افسر نے بتایا کہ روابط کا پتہ لگانے کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا ہے،جبکہ’’ بہت کم لوگ اس دفتر کے ساتھ منسلک ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ منگل کو معلوم ہو گا کہ دفتر کھلے گا یا تب تک مقفل رہے گا جب تک اس کی زنجیر کو توڑا نہیں جاتا ‘‘۔پولیس افسر نے بتایا کہ کچھ افسران  اور عملے کے نمونے بھی جانچ کیلئے حاصل کئے گئے۔ ادھر بٹہ مالو میں قائم آرمڈ پولیس ہیڈ کواٹر بھی پیر کو مسلسل5ویں روز بند رہا،کیونکہ آرمڈ پولیس کے ایک کمانڈنٹ،جو ہیڈ کواٹر آیا تھا،کا ٹیسٹ بھی گزشتہ دنوں کرونا وائرس کے حوالے سے مثبت آیا۔حکام کا کہنا ہے کہ آرمڈ پولیس ہیڈ کواٹر میں بھی مذکورہ پولیس افسر کے رابطے میں آئے لوگوں کی تلاش کا سلسلہ جاری ہے،اور اس زنجیر کوتوڑنے کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔
 

کوروناوباء عالمی سطح پربدترین رُخ اختیار کررہی ہے:عالمی ادارئہ صحت 

لندن //عالمی صحت تنظیم کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانم گیبریسس نے متنبہ کیا ہے کہ کوروناوائرس کی عالمگیر وباء دنیا بھر میں بد سے بدترین ہورہا ہے اورصورتحال کے پہلے جیسی ہونے میں ابھی وقت لگے گا۔سوموار کوایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہاکہ مستقبل قریب میں پہلے جیسی معمولات زندگی کے بحال ہونے میں ابھی وقت لگے گا۔انہوں نے کہااگرچہ یورپ اور ایشیاء کے متعدد ممالک نے وائرس پر قابو پایا ہے لیکن ابھی بھی متعدد ممالک میں وائرس پرغلط طور کام ہورہا ہے ۔ ٹیڈروس نے کسی سیاست دان کا نام لئے بغیر کہا کہ سیاستدان اس وائرس کے بارے میں ایسے پیغامات جاری کرتے ہیں جن سے بھروسے اور اعتماد کوٹھیس پہنچتی ہے ۔انہوں نے اس وائرس پر قابو پانے کیلئے ممالک کو جامع پالیسی اپنانے پرزوردیا۔
 

لداخ میں مزید7مثبت

لیہہ//مرکزی زیر انتظام لداخ کے لہہ ضلع میں مزید 7افراد کی رپورٹیں مثبت آنے کے بعد متاثرین کی تعداد 1093ہوگئی۔لداخ میں محکمہ صحت کے اعلیٰ افسران کا کہنا ہے کہ لہہ میں زیر علاج افراد کی تعداد 116سے بڑھکر  جبکہ کرگل میں30افراد زیر علاج ہے۔ افسران نے بتایا کہ مزید 8افراد کو اسپتالوں سے گھر روانہ کیا گیا ہے اور اسطرح صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد 946ہوگئی ہے جن میں لداخ کے 695افراد بھی شامل ہے جبکہ ابتک لداخ میں صرف ایک شخص وائرس سے فوت ہوا ہے۔ 
 

رہنما خطوط پر من وعن عمل کیاجائے:بصیرخان

نیوز ڈیسک
 
سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر بصیر احمد خان جو کہ کشمیر میں کورونا وائرس کی روکتھام کے لئے جاری کوششوں کے نگران ہیں ،نے آج یہاں ایک میٹنگ طلب کر کے کووِڈ۔ 19کی روکتھام سے متعلق مختلف صحت اِداروں کی جانب سے  اُٹھائے گئے اِقدامات کا جائزہ لیا۔میٹنگ میں ڈائریکٹر سکمز ڈاکٹر اے جی آہنگر ، پرنسپل گورنمنٹ میڈیکل کالج سری نگر ڈاکٹر سامعہ رشید، ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر سمیر مٹو ، جے وی سی سکمز بمنہ کے پرنسپل ڈاکٹر ریاض اونتو نے شرکت کی۔مشیر موصوف نے کہا کہ صحت حکام کو کووِڈ معاملات پر متواتر نگاہ رکھنی چاہیئے اور اَفسروں کو رہنما خطو ط کی من و عن عمل آوری کو یقینی بنانے کے لئے کہا۔ میٹنگ کے دوران اَفسران نے احتیاطی تدابیر اور کووِڈ۔19 کی روکتھام کے لئے اُٹھائے گئے اِقدامات کے بارے میں اُنہیں تفصیل دی۔ صورتحال سے پہلے سے جاری کئے گئے رہنما خطوط کے تحت نمٹنے پر زور دیتے ہوئے مشیر نے کشمیرمیں اس وبا ء سے بہتر طور نمٹنے کے لئے افسران سے تجاویز طلب کیں۔اُنہوں نے افسروں کو اُن کے متعلقہ اِداروں میں سہولیات بشمول ادویات اور بنیادی ڈھانچہ کی دستیابی پر اپنے اطمینان کا اِظہار کیا۔میٹنگ میں کووِڈمثبت مریضوں کے لئے ہسپتالوں میں دستیاب سہولیات پر بھی غور و خوض ہوا اور لوگوںکو اِنتظامیہ کی جانب سے وقتاًفوقتاً جاری رہنما خطوط پر سختی سے عمل پیرا رہنے کے لئے کہا گیا۔
 

جموں کانجی ہسپتال سیل ، متعدد علاقے ریڈ زون قرار

سید امجد شاہ 
 
جموں //حاملہ خاتون کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد حکام نے پیر کے روز تالاب تلو روڈ پر واقع ایک پرائیویٹ ہسپتال کو سیل کیاجبکہ جموں کے کئی علاقوں کو ریڈ زون کے دائرے میں لایاگیا۔جموں میں کورونا کے تازہ معاملات میں گول پلی علاقے سے تعلق رکھنے والے نیشنل کانفرنس کے متوفی یوتھ لیڈر کے گھر کے 8افراد بھی شامل ہیں ۔این سی یوتھ لیڈر کی موت بھی کورونا سے ہوئی تھی۔ذرائع نے بتایاکہ تالاب تلو میں قائم ایک پرائیویٹ ہسپتال میں حاملہ خاتون کا ٹیسٹ مثبت آیاجس کے فوراً بعد ایس او پی پر عمل کرتے ہوئے ہسپتال کو سیل کیاگیا اور ہسپتال عملے کے نمونے لے کر جانچ کیلئے بھیجے گئے ۔ایک افسر نے بتایاکہ ہسپتال میں صرف ایمرجنسی نوعیت کے مریضوں کاعلاج کیاجارہاہے اور اوپی ڈی سمیت دیگر خدمات معطل کردی گئی ہیں ۔جموں انتظامیہ نے گول پلی علاقے کو ریڈ زون قرار دیاہے جہاں سے متوفی این سی یوتھ لیڈر کے گھر کے 8افراد کورونا مثبت آئے ہیں ۔ضلع مجسٹریٹ جموں سشما چوہان کی جانب سے جاری ہوئے ایک حکمنامہ کے مطابق ’’وارڈ نمبر 6،کنال روڈ، سمبل موڑ پنچایت گھر گجراں، آر ایس پورہ ، پولیس سٹیشن میراں صاحب کو ریڈ زون قرار دیاگیاہے‘‘۔پولیس تھانہ سے ایک سب انسپکٹر کا ٹیسٹ مثبت آیاہے ۔وہیں سانبہ ضلع میں 2دکانداروں کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں ۔ چیف میڈیکل افسر راجندر سنگھ سمبیال نے بتایاکہ سمب گائوں کو ریڈ زون قراردیاگیاہے جہاں سے دودکانداروں کا ٹیسٹ مثبت آیا۔انہوں نے بتایاکہ اب انتظامیہ نے ان افراد کے رابطے میں آئے لوگوں کی شناخت شروع کردی ہے ۔سمبیال نے بتایاکہ گزشتہ رات سے اب تک کورونا کے 30معاملات سامنے آچکے ہیں اور یہ سبھی انتظامی قرنطینہ میں تھے ۔

تازہ ترین