تازہ ترین

بیت المقدس… آخری میدانِ کار زار

زاویہ نگاہ

تاریخ    14 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


رشید پروین ؔ
یہ سر زمین مقدس جس میں اللہ نے اپنی برکتیں رکھی  ہیں ، جہاںکی ارض خاک سے لگ بھگ سارے پیمبر ، اولیاء کرام ا ور بر گزیدہ شخصیات  اللہ کے بندوں کی ہدایت کے لئے مامور رہے ہیں ،اس ارض پاک میں جب حضرت عمر فاروق ؓکے قدم مبارک ۵۴۶ ء میں بحیثیت فاتح کے پڑے تو آپ ؓکی نظریں نیچی۔لب پہ اللہ کی کبریائی۔  آپ کی سواری پر آپ کا غلام اور سواری کی لگام آپ کے ہاتھ میں تھی ،سبحان اللہ ، یہ شانِ فقیری ، اور فاتح بیت المقدس کا عجز و انکسار…اور جب عیسائیوں نے ۹۹۰۱ ء میں بیت المقدس کو فتح کیا تو شہروں کے شہر جلادئے اور بیت المقدس کے احاطہ میں پناہ گزین 70ہزار مسلم مرد ،بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کا قتل عام کیا۔ تاریخ اب بھی محفوظ ہے اور اب بھی نوحہ کناں ہے کہ گھوڑوں کے ٹخنے خون نا حق میں ڈوبے اور اس طرح سے صلیبیوں نے انتقام کی آگ بجھا کر فخر و غرور سے سر اونچا کیا ۔پھر ایک بار صلاح الدین ایوبی نے اسی فارقی ؓ روائت کو بر قرار رکھتے ہوئے جب ۷۸۱۱ میں ارض مقدس کو صلیبیوں سے چھڑالیا تو اعلان ہوا کہ آج تمام کے لئے امان ہے ، جو صحن بیت المقدس میں ہے ، تمام جنگجوئوں کے لئے بھی امان ہے جو ہتھیار ڈالدیں، اور مرد محض دس درہم ادا کرکے شہر چھوڑ سکتے ہیں اور عورتیں صرف پانچ درہم کے عوض جتنا اپنا مال و اسباب چاہیں،ساتھ لے سکتے ہیں ۔یورپ کے لگ بھگ تما م مورخین نے اپنی تاریخوں میں اس بلند ، کردار اور اعلیٰ ظرفی کو نہ صرف سراہا ہے بلکہ ایوبی کو دشمن ماننے کے باوجو ایک عظیم ہیرو کے طور پیش کیا ہے اور اگر یہ مغربی مورخین اس اولوالعزم سلطان اور اور وقت کے بہترین سپاہ سالارکو اپنے تعصب اور بغض کی وجہ سے مورد الزام بھی ٹھہراتے، تب بھی زمین و آسمان اس کی بلند نگاہی اور انصاف پسندی کو دہرانے کے لئے کافی تھے ۔رسول پاک ؐنے سفر معراج کی شروعات  اسی سر زمین بیت المقدس سے کی تھی جہاں انہوں نے تمام پیغمبروں اور انبیاء علیہ السلام کی امامت فرمائی جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ آپؐ  خاتم المرسلین ،خاتم النبین اور امام ا لمتقین ہیں۔
یرو شلم متضاد دعوئوں کا مرکز ہے اور ہر فریق کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنی دلیل میں سچا اور حق پر ہے ۔ یہود یہ سمجھتے ہیں کہ یرو شلم میں مسیح آئیں گے ، مسیحا کی آمد سے یہود کے سنہرے دور کا آغاز ہوگا اور وہیںسے یہود عیسیٰ کی مدد سے ساری دنیا پر حکمراں ہوں گے ۔اس طرح یہ بھی ہوگا کہ دنیا پر واضح ہوجائے گا کہ وہ حق پر تھے ،( لیکن حضرت عیسیٰ کو انہی لوگوں نے جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر صلیب دینے کی کوشش کی تھی)۔عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے ، یرو شلم کو دارلخلافہ بنائیں گے ،ساری دنیا پر ان کی حکومت قائم ہوگی اور ان کے اعتقادات ، تثلیث ،حلول ، اور صلیب و غیرہ کی تصدیق کریں گے اور مسلمانوں کا یقین ہے کہ مسیحا ضرور اترے گا ، یہ وہ وقت ہوگا جب بحر گلیلی کا پانی سوکھ چکا ہوگا اور عیسیٰ دمشق کے مشرق میں سفید مینارپر اپنے دو ہاتھ اللہ کے فرشتوں کے کندھوں پر رکھ کر اتریں گے ،وہ دجال کو قتل کریں گے، پھر وہ لوگ بہت کم تعداد میں جو دجالی فتنہ میں بچے ہوں گے ،عیسیٰ کے ارد گرد جمع ہوں گے اور عیسیٰ علیہ السلام انہیں نوید سنائیں گے ( ظاہر ہے کہ یہ حالات انتہائی خراب ، خستہ ، دل ہلادینے والے رہے ہوں گے کیونکہ اسے پہلے دجالی قوتوں نے سارے عرب و مسلم ممالک کو نہ صرف تہس نہس کیا ہوگا بلکہ ایک پیش گوئی کے مطابق سو میں سے ننانوے قتل ہو چکے ہوں گے )۔اب عیسیٰ پر اللہ کی طرف یہ بشارت آئے گی کہ ’’میں اپنے غلاموں میں سے ایسے بندے بھیجنے والا ہوں جن سے کوئی لڑ نہ سکے گا ، تم انہیں بحفاظت طور لے جائو( یعنی بیت المقدس لے جائو )جہاں یاجوج اور ماجوج تمام سمتوں سے آتے ہوئے دکھائی دیں گے( شاید یہ یورپی افواج کی طرف اشارہ ہے)۔ یاجوج اور ماجوج کا قرآن  میں دو بار ذکر ہے اور کم سے کم اٹھارہ بخاری شریف کی احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ یہ حضورؐ کے زمانے میں ہی رہا ہوئے تھے ، اور یہ کہ یہ فسادی لوگ ہیں اور یہ بھی کہ اللہ نے انہیں بے پناہ صلاحیتیں دی ہیں کہ دنیاو ی لحاظ سے وہ تقریباً ناقابل تسخیر ہوں گے ،ان میں سے پہلا جو جھیل طبریاس سے گذریگا، اس میں سے پانی پئے گا اور آخری آدمی گذرے گا تو کہے گا کہ یہاں کبھی پانی موجود تھا۔
ظاہر ہے کہ تینوں فریقوں کے لئے بیت المقدس کی اہمیت اپنے اپنے لحاظ سے بہت زیادہ ہے ۔مسلماں کا ایمان ہی تب تک مکمل نہیں ہوتا جب تک نہ وہ تمام پیغمبروں اور ان کی کتابوں اور فرشتوں پر ایمان  لائیں۔ اس طرح آدم سے لے کر عیسیٰ تک ان کے لئے سب پیغمبروں اور کتاب اللہ سے محبت بالکل قابل فہم ہے اور دوسری رسول پاک ؐنے مدینہ ہجرت کے بعد بھی بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نمازیں ادا کیں ہیں ، اس لحاظ سے یہ ہمارا قبلہ اول ٹھہرتا ہے اور تیسری خصو صیت یہ کہ اسی بیت المقدس  سے آپ ؐ کا آسمانی سفر شروع ہوا تھا۔اس کے بر عکس ان یہود کی تعداد بہت کم ہے جو صدیوں سے فلسطین اور یرو شلم میں رہتے آئے ہیں ، اب زیادہ تر تعداد ان یہود کی وہاں ہے جو دنیا کے مختلف اور یورپی ممالک سے آکر بسائے گئے ہیں ، انہیں دائود کی د ین ابراہیمی پر مبنی سلطنت قائم کرنے کے بجائے گریٹر اسرائیل کی فکر ہے جو کسی بھی طرح دنیا پر حکمراں ہوکر تمام مادی وسائل اور قدرتی ذخا ئر پر قابض ہو کر اپنی خواہشات کی تکمیل کر سکیں ۔ یہی لوگ ہیں جنہوں نے صیہونی تحریکیں شروع کی ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے فریبی سیاست سے 1948میں اسرائیلی قیام ممکن بنایا ہے ، اور ان کا ہیڈ کوارٹر بر طانیہ رہا ، جہاں دجال نے اپنی سر گرمیاں شروع کرکے اس نئی ریاست کی سر براہی امریکہ کو سونپ دی جہاں اسوقت دجال مسکن بنائے ہوئے ہے ۔
 یہود دو ہزار سال کی بے وطنی کے بعد اپنے لئے ایک زمین کا ٹکڑا ملنے پر شاکر نہیں رہ سکتے، یہ ان کی روایات اور ماضی کے صریحاً خلاف ہے۔ دوم یہ کہ ان کا ایمان ہے کہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے بعد ہی عیسیٰ آئیں گے۔ اس لئے وہ بڑی بے تابی سے ہیکل سلیمانی کی تعمیر چاہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ تمام انسانی ، اخلاقی اقدار ، انصاف و عدل کو پس پشت ڈال کر حضرت دائود کی آڑ میں گریٹر اسرئیل بنانے پر مصر ہیں  جس میں مصر،شام ، عراق ، یمن اور مکہ و مدینہ کابھی کچھ حصہ شامل ہے ۔وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی طا قت او ر سائنسی ٹیکنالوجی اس بات کا ثبوت ہے کہ( خدا وند یہی چاہتا ہے) ، بہت ہی گھمبیر قسم کا فریب ہے کیونکہ دائود کی سلطنت ا ور دین ابراہیمی کسی بھی حالت میں سیکولر ، انسا نی ذہن کے قوانین،اور سودی معاشیات پر کھڑی نہیں ہوسکتی ، کیونکہ دین براہیمی وہی ہے جس پررسول پاک ؐ ہجرت کے بعد بھی 17 مہینوں تک عمل پیرا رہے ۔یہود تاریخی طور پر دو بار پہلے بھی اس سر زمین پاک سے اپنے گناہوں اور دین براہیمی سے بغاوت اور اپنے ہی رسولوں اور پیغمبروں کی تذلیل اور قتل کے جرم میں معتوب کرکے نکالے جا چکے ہیں۔ پہلی بارجب بیبلون کی ایک فوج جس کی قیادت بخت نصر کر رہے تھے ، نے یرو شلم کا محاصرہ کیا ، شہر جلا ڈالا ، شہریوں کو ہلاک کیا ، اور ہیکل سلیمانی کو مسمار کردیا ، آبادی کے بہت بڑے حصے کو غلام بنا کر بیبلون لیا گیا ،،یہ سزا انہیں محض اس لئے دی گئی تھی کہ انہوں نے توریت میں تحریف کرکے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کر دیا تھا۔ دوسری مرتبہ انہوں نے اپنے انبیاء کو قتل کردیا ۔حضرت زکریا کو مسجد کے اندر بے دردی سے قتل کیا اور ان کے بیٹے ییحی ٰکو بھی دھوکے سے قتل کیا ۔ حضرت عیسیٰ نے صریح طور اس سنگین جر م کی مذمت کی ۔حضرت عیسیٰ  جیسے جلیل القدر پیمبر کی نا فرمانی کی اور ان کے قتل کی کوشش بھی کی ۔ ایک رومن فوج نے جنرل ٹائیٹس کی سر کردگی میں انہیں دوسری بار سزا دی ، شہر تباہ کردیا شہری آبادی کو قتل کیا۔ ہیکل سلیمانی پھر سے تباہ برباد کیا اور سونے کی تلاش میں ہیکل کا ایک ایک پتھر الگ الگ کیااور اس کی پیش گوئی عیسیٰ علیہ السلام نے پہلے ہی کی تھی ۔
 اس دوسری سزا میں سارے یہود کو بکھیر دیا گیا (اللہ کی مرضی سے )اور اب ٹھیک دو ہزار برس بعد یہ لوگ (یاجوج ماجوج )کی سازشوں اور سارے صیہونی یورپ کی مدد و معاونت سے یروشلم پر 1948سے قابض ہیں لیکن اس فرق کے ساتھ کہ مسلم طویل دوران حکمرانی میں یہ یہود مکمل اطمینان اور مسلمانوں کی نگہبانی میں یہاں آباد رہے لیکن جونہی انہیں موقع ملا ،ان لوگوں کی ہزاروں برس کی خصلت سطح پر آگئی اور انہوں نے یہاں صدیوں سے آباد پرْ امن مسلم آبادی پر قیامت روا ررکھنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی بلکہ ان کا نظریہ ہی یہ ہے کہ یہود کے بغیر دنیا کے سارے لوگ کیڑے مکوڈے ہیں جنہیں صفحہ ہستی سے مٹانا ضروری ہے ۔ جب کوئی قوم اس نظرئے کے ساتھ قوت پاتی ہے تو چنگیزیت منہ چھپائے کہیں رونے پر مجبورر ہوتی ہے ۔یہ بے رحم ، بے غیرت ، بے شرم اورکمزور پر ظالم و جابر قوم ،جس نے عیسیٰ جیسے جلیل القدر پیغمبر کو تختہ دار پر چڑھایا اورپھر قتل عیسیٰ پر فخرو غرور بھی کیا ، اس قوم سے کیا توقع رکھی جاسکتی ہے ۔احادیث کی روشنی میں یہ قوم اپنے آخری انجام کی طرف بڑی تیزی سے جا رہی ہے کیونکہ (دجال )نے انہیں اپنے شکنجے میں لے رکھا ہے اور جس سے یہ لوگ اللہ کی مرضی اور  منشا سمجھتے ہیں ،وہ ان کے لئے دجالی پھندا ثابت ہوگا اور اس میں کوئی ذرہ برابر بھی فرق کی گنجائش نہیں کیونکہ یہ فرمودات رسول ؐ ہیں جو اٹل اور بر حق ہیں ، اور مسلم ممالک جن آگ کے شعلوں میں گھر آئے ہیں،انہوں ن خود ہی یہ آگ بھی روشن کی ہے اور خود ا پر پیٹرول ڈال کر بھڑکا بھی رہے ہیں ۔ہماری مسلم مملکتیں سمجھتی ہیں کہ اسرائیل کا ساتھ دے کر وہ محفو بھی رہیں گے اور بادشاہی بھی کرتی رہیں گی ۔افسوس کہ انہوں نے شاید کبھی تاریخ کا نہ تو مطالعہ کیا ہے اور نہ کبھی شاید ان احادیث مبارکہ کو سمجھا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہی علاقہ آخری بڑی جنگ کامیدان کار زار ہوگا کیونکہ اس کے بعد یہ قوم ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس دنیا سے اسی طرح نابود ہوگی جس طرح قوم عاد و ثمود کی داستانیں صرف عبرت کے لئے باقی رکھی گئیں ۔
سوپور کشمیر ، رابطہ۔rashid.parveen48@gmail.com 
موبائل نمبر9419514537