مزید خبرں

تاریخ    13 جولائی 2020 (30 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک

ریاستی درجہ کی بحالی اور اسمبلی چنائو کئے جائیں: بھیم سنگھ 

جموں//نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلیٰ بھیم سنگھ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔پروفیسر بھیم سنگھ نے کہا کہ پارٹی سکریٹریٹ کے سینئر عہدیداران کی اتوار کے روز یہاں ایک ہنگامی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں صدر جمہوریہ رامناتھ کووند سے بلا تاخیر جموں وکشمیر کے ریاست کے درجہ بحالی کی مانگ کی گئی۔پنتھرس پارٹی نے جموں وکشمیر اسمبلی کے جلد از جلد انتخابات کرانے کی بھی کی مانگ کی جو 19جون 2018سے جب گورنر راج نافذ کیا گیا اور بعد میں اسمبلی تحلیل کئے جانے سے بے جان پڑی ہے ۔انہوں نے صدرجمہوریہ سے مانگ کی کہ جموں وکشمیر کے ریاست کے درجہ کی بحال کے لئے فوری طورپر نوٹفیکشن جاری کیا جائے ۔بھیم سنگھ نے کہا کہ پنتھرس پارٹی قومی مفاد اور سابق ریاست کی سلامتی کیلئے جموں وکشمیر کے ریاست کے درجہ کی بلا تاخیر بحالی کا مطالبہ کرتی ہے۔انہوںنے کہاکہ ’’آمریت پسندی اور زبردستی کی حکمرانی کے خاتمے اور جمہوریت کی بحالی کی اشدضرورت ہے تاکہ جموں وکشمیر میں جمہوری حکومت کی بحالی کے بعد فوری بعد اسمبلی حلقوں کی حد بندی ہوسکے‘‘۔اجلاس میں بتایا گیا کہ آئین کے مینڈیٹ کے مطابق منتخب کردہ انتخابی حلقوں کی حد بندی جمہوری ریاست کی حکومت پر چھوڑ دینا چاہئے جو ہندستان کے صدر کی طرف سے آرٹیکل 35 (A)کی منسوخی کے بعد جموں وکشمیر کی پوری ریاست پر نافذ ہوتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہندستانی حکومت کو جموں وکشمیر پر مرکز کے زیرانتظام ریاست کی حیثیت سے کنٹرول کرنے کاکوئی آئینی اختیار نہیں ہے اور نہ ہی کسی قانون یا جمہوری اصول کے بہانہ صدر راج جاری کرنے کا حق ہے۔یہ بی جے پی لیڈر شپ کی جموں وکشمیر کے تمام جمہوری اور سیاسی ڈھانچہ ونظام کو منہدم کرنے کی سازش ہے جس کی مہاراجہ نے 1939میں پرجا سبھا انتخابات کے آغا ز سے شروعات کی تھی اور جو 1950تک جاری رہے۔
 
 
 
 

۔13جولائی1931کی قربانیاں کشمیر کی تاریخ کا ایک عظیم ورثہ

شہدائے کشمیر کو نیشنل کانفرنس، اپنی پارٹی اور پی ڈی ایف کا عقیدت بھرا خراج 

سرینگر//نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ ، اپنی پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری اور پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ چیئرمین حکیم محمد یاسین نے 13جولائی 1931کے شہداء کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہاکہ یہ قربانیاں تاریخ حریت کشمیر کا ایک عظیم ورثہ ہے۔ ڈاکٹر فاروق نے یوم شہدائے کشمیر کے اہم اور تاریخی موقعہ پر عوام کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ شہدائے کشمیر کی دی ہوئی قربانیوں کی روشنی میں ہمیں اپنے مستقبل کیلئے عزم ایثار اور بے لوث خدمت کا اعلیٰ معیار قائم کرنے کی ضرورت ہے۔انہوںنے کہاکہ  آزادی سے قبل شخصی راج کے خلاف جدجہد میں عوام نے بے پناہ ہمت اور جوانمردی کا مظاہرہ کیا تھا اور یہ قربانیاں اُسی جذبے کی علامت ہیں اور یہ تاریخ حریت کشمیر کا ایک عظیم ورثہ ہے۔ڈاکٹر فاروق نے کہاکہ اُن کے خون کا ایک ایک قطرہ ہماری خودداری ، آزادی اور آبرو کا ضامن ہے، یہ خون ہم پر ایک قرض ہے، شہیدوں نے ہماری راہوں کو آسان بنادیا تھا اور ہماری تنظیم نیشنل کانفرنس اِن ہی قربانیوں کی پیداوار ہے اور اِس تنظیم کے جھنڈے تلے یہاں کے عوام قربانیوں کے اِس مسلسل عمل کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ آج جب ہماری قوم کے سامنے ڈھیر سارے مسائل نئی شکل وصورت میں ظاہر ہوگئے ہیں، ہمیں اِن مسائل سے نپٹنے میں انتہائی سوجھ بوجھ، عزم واستقلال اور جوانمردی سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر فاروق نے کہاکہ ’آیئے ہم سب ساتھ چل کر اپنے شہیدوں کے چھوڑے ہوئے نقوش اور مشن کو اپنی نظروں کے سامنے رکھیں اور قوم کی ستم ظریفی ، مصائب اور مشکلات سے نجات دِلانے کیلئے کوشاں رہیں‘۔ نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ شہیدوں کی قربانیوں کی وجہ سے ہی  جموں وکشمیر کے عوام کو جمہوری حقوق نصیب ہوئے ، اُن کی ترقی کیلئے نئی راہیں کھل گئیں۔ پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر اور معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال نے یوم شہیدا کشمیر کے موقعہ پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ شہیدوں کے مشن کو آگے لیجانے کیلئے متحدہ رہ کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ادھر الطاف بخاری نے کہا کہ 13جولائی کے دن کو جموں و کشمیر کی تاریخ میں ایک سنگ ِ میل کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا جس سے خطہ میں جمہوریت اور سماجی انصاف کیلئے جدوجہد کا آغاز ہوا۔یہاں جاری بیان میں الطاف بخاری نے کہاکہ 13 جولائی کو جانیں نچھاور کرنے والے ہیروز اپنی بہادری اور انسانی اقدار کی بالادستی کے لئے ہمارے لوگوں کی یادوں پر قائم ہیں جو کسی بھی مہذب معاشرے کا بنیادی حصہ ہے۔انہوںنے کہا کہ’’جموں وکشمیراپنی پارٹی ان شہداء کو خراج ِ عقیدت پیش کرتی ہے جنہوں نے ظلم وجبر کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، 13جولائی کے شہداء کی بے لوث خدمات لوگوں کے لئے وقار اور سماجی انصاف کی لڑائی کے لئے مشعلِ راہ رہیں گی‘‘۔انہوںنے کہاکہ جموں و کشمیر کایہ تاریخی واقعہ اور اس کی اہمیت نے جمہوری اصولوں پر معاشرے کی تنظیم نو کی بنیاد رکھی، اُن کی یہ خدمات آئندہ نسلوں کے لئے علامت کے طور یاد رکھی جائیں گیں کیونکہ اس دن نے قانون کی حکمرانی کے تحت چلنے والے ایک نئے معاشرے کی بنیاد رکھی ۔الطاف بخاری نے کہا کہ 13 جولائی کے شہدا کی قربانیوں سے جس جدوجہد کا آغاز ہوا وہ بنیادی طور پر کسی خاص قبیلے یا خاندان کے خلاف تحریک نہیں بلکہ مطلق العنانیت کے خلاف تحریک تھی جو استحصال اور جبر سے پاک ایک نئے معاشرے کی تعمیر میں بہت بڑی رکاوٹ بن چکی تھی۔بخاری نے کہا ’’ہمارے شہدا کی عظیم قربانیوں کامفاد پرستوںکوفائدہ اُٹھانے کی اجازت ہر گز نہیں د ی جانی چاہئے جو کہ علاقہ، ذات پات اور مسلک کی بنیاد پر لوگوں کے درمیان دوری قائم کرنا چاہتے ہیں‘‘۔ انہوں نے مزید کہاکہ جموں وکشمیر جموں و کشمیر تاریخ کے ایک نازک مرحلہ سے گزر رہا ہے اور لوگوں کی ترقی کے لئے واحد راستہ جمہوریت اور تنوع میں اتحاد کے بینر کو برقرار رکھنے کے عزم میں ہے۔ اس تاریخی دن پر جموں وکشمیر اپنی پارٹی اِس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ ایسے عناصر کے مزموم عزائم کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا جوکہ مختلف حربے استعمال کر کے ریاست کے اتحاد اور تکثیری اخلاقیات کونقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔اس دوران حکیم یاسین نے کہاکہ شہدائے کشمیر کی قربانیوں کے طفیل جموں و کشمیر میں آمرانہ اور جاگیردارانہ مطلق العنان حکومت کے خلاف عوام کے جذبات کو تحریک ملی اور لوگ اُس وقت کی جابر حکمرانی سے آزاد ہوئے۔ انہوںنے کہا کہ شہداء نے جس مقصد کے لئے مقدس لہو ارضِ وطن کی سڑکوں پر نچھاور کیا تھا وہ ابھی بھی تشنہ ٔ طلب ہے۔ انھوں نے یوٹی کی سیاسی و سماجی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ شہداء کی قربانیوں کو حقیر مقاصد کیلئے استحصال نہ کریں بلکہ آمریت و ظلم و بربریت کے خلاف ان کی طرف سے دکھائے گئے راستے پر گامزن ہوں۔ حکیم نے کہا کہ 13جولائی کے شہداء کی قربانی جموں و کشمیر کی تاریخ میں سنہرے حروف میں لکھی جائے گی۔ 
 
 

’’بنیادی حقوق کیلئے قربانیاں دیں‘‘

سرینگر//عوامی مجلس عمل، حقانی میموریل ٹرسٹ  اور انجمن حمایت الاسلام نے 13جولائی1931کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس دن کو جموںوکشمیر کے عوام ’’ یوم شہدائے کشمیر ‘‘ کے طور پر مناتے آئے ہیں۔بیان میں عوامی مجلس عمل نے کہاکہ 13 جولائی1931سے لیکر آج تک جموںوکشمیر کے حریت پسند عوام شہیدوں کے بلند نصب العین اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ اپنے بنیادی حق کے حصول کیلئے جان و مال اور عزت و آبرو کی بے پناہ قربانیاں کے ساتھ ساتھ قید و بند کی سختیاں بھی برداشت کررہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ 7دہائیوں کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود یہ مسئلہ آج بھی حل طلب ہے اوردونوں ہمسایہ ممالک بھارت اور پاکستان کے درمیان یہی مسئلہ تنائو اور کشیدگی کا بنیادی سبب ہے۔بیان میں مزید کہا گیا اس مسئلے کے حل نہ ہونے کے سبب دونوں ملکوں کے درمیان  نہ صرف سیاسی غیر یقینیت کی فضا پائی جارہی ہے بلکہ پورے جنوب ایشیائی خطے میں جنگ و جدل کے بادل منڈلا رہے ہیں اور جموں وکشمیر میں معصوم جانوںکا ناقابل تلافی نقصان ہو رہا ہے اور اسی مسئلہ کی وجہ سے ہزاروں نوجوان ، معزز شہری ، سول سوسائٹی کے ارکان اور سیاسی قائدین  مختلف جیلوں اور گھروں میں قید اور نظر بند رکھے گئے ہیں ۔ بیان میں کہاگیا کہ آج جموںوکشمیر کے عوام ایک بار پھر یہ بات واضح کرنا چاہتے ہیں کہ COVID-19 کی آڑ میں حکومت جموںوکشمیر کے اکثریتی کردار اور آبادی کے تناسب کو بگاڑنے کی جو کوششیں کررہی ہیں، اُسے کلی طور پر مسترد کرتے ہیں اور ہر سطح پر اسکی مخالفت کی جائیگی۔بیان میں یہ بات یاد دلائی گئی کہ عوامی مجلس عمل اپنے قیام کی مدت سے ہی 13 جولائی کے اہم دن کے موقعہ پر بانی تنظیم میرواعظ محمد فاروق نے تادم انتقال اور ان کے بعد موجودہ سربراہ تنظیم و حریت(ع) چیئرمین میرواعظ عمر فاروق اس دن شہداء کو خراج عقیدت ادا کرنے کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر کی سنگینی کو اُجاگر کرنے اور تینوں فریقوں کے مابین پُرامن اور پائیدار حل کی ضرورت پر زور دیتے آرہے ہیں۔ادھر حقانی میموریل ٹرسٹ 13 جولائی کو جموں و کشمیر کی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل قرار دیاہے جب پہلی بار سابق ریاست کے عوام نے ظلم و جبر پر مبنی شخصی راج کے خلاف اجتماعی مزاحمت کی اور مظلوم اور نہتی رعایا کی مانگوں کی خاطر اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اس دوران انجمن حمایت الاسلام کے صدر مولانا خورشید احمد قانونگو نے 1931 کے شہدے ا کشمیر کو خراج عقیدت کرتے ہوئے کہا کہ ان شہدا نے اس بیعہ نامہ امرتسر کے خلاف اپنے مقدس تقدس کو قربانی کیلئے پیش کیا جس کی رو سے ڈوگرہ حکومت نے عوام کے سمیت انگریزوں سے خرید کر قدیم انسانی خرید و فروخت کی مثال پیش کی اس طرح عوام کے تمام پیدایشی حقوق سلب ہوئے تھے۔انہوںنے کہاکہ ان قربانیوں کے بدولت شخصی نظام کا اختتام ہوا۔مولانا قانونگو نے کہاکہ شہداء کے گراں قدر خدمات کے عوض حکومت نے تعطیل رکھی تھی لیکن افسوس اس تعطیل کو کالعدم کیاگیا جو افسوسناک ہے۔ 
 
 
 

صورتحال نازک، سخت لاک ڈائون لازمی  : ڈاکٹر نثار 

سرینگر //ڈاکٹرس  ایسوسی ایشن کشمیر کے صدر ڈاکٹر نثارلحسن نے حکومت پر زور دیا ہے کہ کورونا وائرس مریضوں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ کو روکنے کیلئے لاک ڈائون کا نفاذ سختی سے لاگو کریں۔ڈاکٹر نثار الحسن نے کہا کہ نازک صورتحال کو قابو کرنے کا واحد راستہ لاک ڈائون ہے۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال بے قابو ہونے کے بجائے بہتر ایک یا دو ہفتوں کا لاک ڈائون ہے۔انہوں نے کہا کہ اسپتال کی ایسی صورتحال ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہے۔ انہوں نے کہا’’ بستر بھرے پڑے ہیں، آکسیجن پوئنٹوں پر بھی مریض ہے جبکہ انتہائی نگہداشت والے وارڈوں میںکوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وائرس نے خطرناک رخ اختیار کیا ہے اور اب شاید وائرس کی جین میں تبدیلی آئی ہے۔  انہوں نے کہا’’ پہلے مریضوں میں علامات نہیں ہوتی تھی لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ’’ اگرہم اب لاک ڈائون نہیں کریں گے تو صورتحال ہمارے قابو سے باہر جائی گی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد ابھی بھی وائرس سے متاثر ہوسکتی ہے اور ان لاک ڈائون نافذ نہیں کیا گیا تو صورتحال قابو سے باہر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی تنظیموں اور عوام کے دبائو میں نہیں بلکہ فیصلہ اعداوشمار کی بنیاد پر لیا جانا چاہئے۔ 
 
 

کورونا معاملات میں اضافہ تشویشناک:ٹریڈ الائنس

سرینگر//وادی بالخصوص سرینگر میں کوڈا۔19 کیسوں میں اضافے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کشمیر ٹریڈ الائنس کے صدر اعجاز شہدار نے معیاری ضوابط اور انتظامیہ و صحت کی گائڈ لائنز کو مکمل طور پر عملانے کا مطالبہ کیا ہے۔اعجاز شہدار نے کہا کہ کرونا وائرس کے پھیلائو میں تیزی آئی ہے جبکہ سرینگر میں اب تک اس وبائی بیماری سے سب سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ کی بنیادوں پر وادی میں کرونا وائرس کے شکار ہونے والے لوگوں کی تعداد اب 300ہوگئی ہے۔،جبکہ کوڈ اسپتالوں میں اب مریضوں کو رکھنے کی گنجائش بھی تقریباًختم ہوچکی ہے۔شہدارنے کہا کہ بندشوں میں نرمی سے روزگار کے حصول کا فیصلہ اگرچہ منطقی ہے تاہم باغات اور پارکوں کو کھولنے کا کوئی بھی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا’’ اگر صورتحال کو قابو میں نہیں لایا گیا تو لوگوں کو دونوں مالی اور جانی نقصانات کا خمیازہ اٹھانا پرے گا‘‘۔
 
 

۔2لاکھ سے زائد درماندہ شہریوں کی واپسی 

 جموں//حکومت جموں وکشمیر نے کووِڈلاک ڈاون کے سبب ملک کے مختلف حصوں میں درماندہ جموںوکشمیر کے 2,10,703 شہریوں کو براستہ لکھن پور اور کووِڈخصوصی ریل گاڑیوں اور بسوں کے ذریعے تمام رہنما خطوط اور ایس او پیز پر عمل پیرا رہ کر یوٹی واپس لایا۔سرکاری اعداد و شما ر کے مطابق جموںوکشمیر کے مختلف اَضلاع کی اِنتظامیہ نے ملک کی مختلف ریاستوں اور یوٹیز سے67,323درماندہ مسافروں کو لے کر جبکہ براستہ لکھن پور1,43,380افراد کو حکومت نے81کووِڈ خصوصی ریل گاڑیوںکے ذریعے اودھمپو ر اور جموں ریلوے سٹیشوں پر خیرمقدم کیا ۔حکومت نے لکھن پور کے ذریعے اب تک بیرون ملک سے823مسافرو ں کویوٹی واپس لایا ہے ۔اِس طرح جموںوکشمیر حکومت نے اب تک 81 کووِڈ خصوصی ریل گاڑیوں اور براستہ لکھن پور بسو ںکے کاروان میں اب تک بیرون یوٹی درماندہ 2,10,703شہریو ں کو کووڈِ۔19 وَبا سے متعلق تمام احتیاطی تدابیر کو مد نظر رکھ کر واپس لایا گیا۔تفصیلات کے مطابق 11؍ جولائی سے 12؍ جولائی 2020ء کی صبح تک لکھن پور کے راستے سے1,466 درماندہ مسافریوٹی میں داخل ہوئے جبکہ 928مسافر آج 60ویں دلّی کووِڈ خصوصی ریل گاڑی سے جموں پہنچے ۔اَب تک 60ریل گاڑیاں یوٹی کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے51,627درماندہ مسافر جموں پہنچے جبکہ 21خصوصی ریل گاڑیوں سے 15,696مسافر اودھمپور ریلوے سٹیشن پر اُترے۔
 
 

گھریلو پروازو ں کا 49واںدِن 2,502مسافریوٹی وارد

 جموں//جموں وکشمیر یونین ٹریٹری میں گھریلو پروازوں کے دوبار ہ چالوہونے کے49واں دِن 2,502مسافروں کو لے کر 21 پروازیں جموں اور سری نگر ہوائی اڈے پر اتریں ۔705مسافروں سمیت09کمرشل پروازیں جموں ہوائی اڈے اور 1,797مسافروں کو لے کر12 پروازیں آج سری نگر کے ہوائی اڈے پر اتریں۔واضح رہے کہ25؍ مئی سے اب تک جموں ایئر پورٹ پر 350گھریلو پروازیں اتری ہیں جن میں 25,929مسافروں نے سفر کیا ۔ اسی طرح سری نگر ائیر پورٹ پر571گھریلو پروازیںاتریں ہیں جن میں73,926مسافروں نے سفر کیا ہے۔نیز جموں وکشمیر حکومت نے عالمی وبا کے پیش نظر اب تک متعدد ممالک سے تقریبا 3,240مسافروں کو خصوصی انخلأ پروازوں کے ذریعے جموںوکشمیر یوٹی میں واپس لایا ہے۔ہوائی اڈے پر اُترتے ہی تمام مسافروں کا کووِڈ۔19ٹیسٹ کیا گیا اوردونوں ہوائی اڈوں سے  اپنے منازل کی طرف تما م احتیاطی تدابیر پر عمل پیر ا رہ کر روانہ کئے گئے۔حکومت نے ہوائی پروازوں کے ذریعے یوٹی میں وارِد ہونے والے تمام مسافروں کی آمد سکریننگ نمونے لینے اور قرنطین مراکز کی طرف لے جانے کے لئے معقول ٹرانسپورٹ اِنتظامات کئے گئے ہیں اور اِس دوران مرکزی  شہری ہوا بازی اور صحت و خاندانی بہبود کی مرکزی وزارتوں کی جانب سے مقرر کئے گئے رہنما خطوط اور ایس او پیز کا خاص خیال رکھا جارہا ہے۔
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

پارلیمانی اور اسمبلی حلقہ انتخابات کی حد بندی

ہردیش کمار نے گاندربل میں اعداوشماراور تیاری کا جائزہ لیا

گاندربل//چیف الیکٹورل آفیسراور کمشنر سیکریٹری ٹرانسپورٹ ہردیش کمار نے صوبائی کمشنر کشمیر کے ہمراہ گاندربل کا دورہ کر کے وہاں جموںوکشمیر میں پارلیمانی اور اسمبلی حلقہ انتخابات کی حد بندی سے متعلق اعدادو شمار اور نقشہ جات کی تیاری کا جائزہ لینے کے لئے میٹنگ طلب کی۔ضلع اِنتخابی آفیسر گاندربل جو کہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر بھی ہیں ، اے ڈی سی گاندربل ، ڈپٹی ڈی ای او ، اے آر ٹی او گاندربل کے علاوہ محکمہ انتخاب گاندربل کے دیگر افسران بھی میٹنگ میں موجود تھے۔دوران میٹنگ چیف الیکٹورل آفیسر نے گاندربل میں محکمہ انتخاب کے کلہم کام کاج کا جائزہ لیا اور حد بندی عمل کے لئے ڈیٹا کی تالیف سے متعلق محکمہ کی جانب سے اُٹھائے گئے اِقدامات پر غور و خوض کیا۔میٹنگ میں ضلع میں ٹریفک کی صورتحال پر غور و خوض ہوا ۔ اے آر ٹی او نے میٹنگ میں بتا یا کہ رہنما خطوط پر عمل پیرا رہ کر ضلع میں نجی ٹرانسپورٹ کی نقل و حمل کو اِجازت دی گئی ہے ۔ ڈپٹی کمشنر نے ضلع میں جے کے آر ٹی سی بس سروس کی سہولیت دستیاب رکھنے کی مانگ کی۔
 
 
 

شادی لال کول ناقابل فراموش فنکار |پی ڈی پی ،اپنی پارٹی،کلچرل اکیڈمی ،کئی فنکاروں اورتنظیموں کا خراج عقیدت 

 سرینگر// پی ڈی پی،جموںو کشمیر کلچرل اکیڈیمی ،یمبر زل یو تھ قلب سرینگر معروف ادبی تنظیم، مراز ادبی سنگم، اے آر آزادمیموریل فائونڈیشن، ڈسڑکٹ کلچرل سوسائٹی لوامہ ،محفل بہار ادب شاہورہ پلوامہ ،کشمیر مرکز ادب چرار شریف اور کشمیر کلیکٹیو ڈرامہ ٹیک قلب نے اداکار شادی لال کے انتقال پر سخت صدمے کا اظہار کر تے ہوئے مرحوم کو شاندار خراج پیش کیا۔معروف اداکار شادی لال کول کے انتقال پر وادی کے کئی فنکاروںنے انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس خلاء کو پُر کرنا ناممکن ہے ۔  پی ڈی پی نے شادی لال کول کے فوت ہونے پر سخت دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے ۔پارٹی ترجمان نے ان کی موت کو آرٹ اور جموں و کشمیری ٹیلی ویژن انڈسٹری کیلئے ایک بڑا نقصان قرار دیا ۔بیان میں کہا گیا کہ شادی لال کول کی موت سے کشمیری ادب و ثقافت میں ایک خلا پیدا ہوا ہے ۔انہوں نے کول کے افراد خانہ کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ۔جموں وکشمیر اپنی پارٹی نے کشمیر کے معروف اداکار شادی لال کول جوکہ اپنی منفر د اداؤں کے لئے مقبول تھے، کی وفات پر دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔ ایک بیان میں پارٹی لیڈررفیع احمد میر نے کول کی وفات پر تعزیت کرتے ہوئے غمزدہ کنبہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا’’ ہم نے ایک بہترین مزاح نگار اور بہترین اداکار کو کھو دیا ہے‘‘۔اپنی پارٹی لیڈر نے کہاکہ اپنی انوکھی اور یادگار اداکاری کے ذریعہ کول نے نہ صرف اپنے لئے ایک خاص مقام بناناتھا بلکہ انہوں نے کشمیری ثقافت کی ترقی میں نمایاں خدمات انجام دیں۔جموں کشمیر کلچرل اکیڈمی نے شادی لال کی اداکاری کو نا قابل فراموش قرار دیا۔یمبر زل یو تھ قلب کے صدر واداکار خور شید میر،شہزاد شبیر، شوکت ماگرے،بشارت حسین اور ببلسٹی سیکریٹری جا وید کشمیر نے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی آتما کے سکون کیلئے دعا کی ۔محفل بہار ادب شاہورہ پلوامہ نے موصوف کوجموں کشمیر کے عوام کا ہردلعزیز فنکار قرار دیتے ہوئے سوگوار کنبے سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔نوجوان اداکار طارق جمیل نے صدمے کا اظہار کر تے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ موصوف نے اپنی اداکاری کے ذریعے کشمیری کلچر کو زندہ رکھنے کیلئے جو کارنامے انجام دئے وہ ناقابل فراموش ہیں۔ انہوں نے کہ غم کی اس گھڑی میں ہم لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ جموںو کشمیر کلچرل اکیڈیمی کے علاوہ کئی معروف ادبی تنظیموں جن میں مراز ادبی سنگم، آزاد میموریل فاونڈیشن قوئل ،ڈسٹرکٹ کلچر ل سوسائٹی لوامہ اور مرکز ادب چرارشریف نے بھی سوگوار کنبے سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
 
 

نوین چودھری کا کشمیر زعفران ٹریڈ سینٹر پانپور دورہ 

پانپور//پرنسپل سیکرٹری محکمہ زرعی پیداوار نوین کمارچودھری نے دُوسُو پانپور میں بھارتیہ بین الاقوامی کشمیر زعفران ٹریڈ سینٹر( آئی آئی کے ایس ٹی سی ) کا دورہ کر کے وہاں جاری کام کاج کا معائنہ کیا۔اُن کے ہمراہ ناظم زراعت کشمیر ، جوائنٹ ڈائریکٹر ایگریکلچر ایکسٹنشن اور محکمہ کے دیگر اعلیٰ اَفسران تھے۔پرنسپل سیکرٹری نے ٹریڈ سینٹر کے مختلف شعبوں کا دورہ کیا ۔ ناظم زراعت نے اُنہیں سینٹر میں زعفران کو محفوظ رکھنے ، اس کی درجہ بندی ، پروسسنگ اینڈ مارکیٹنگ کے لئے دستیاب سہولیات کے بارے میں جانکاری دی۔ا ُنہوں نے کہا کہ یہ مرکز برصغیر کا بہترین مرکز ہے جو خطے میں زعفران کی صنعت کی بحالی کے لئے جدید ترین ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے لئے تیار ہے ۔اُنہوںنے افسروں کو مرکز میں زعفران اُگانے والوں کے لئے تربیتی اور جانکاری کیمپوں کے اِنعقاد کرنے کی ہدایت دی تاکہ اُنہیں قومی اور بین الاقوامی سطح پر بازارکے جدید ترین رُجحانات کے بارے میں جانکاری حاصل ہوسکے۔زعفران اُگانے والوں کے نمائندوں کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے پرنسپل سیکرٹری نے اُنہیں یقین دِلایاکہ ان کی مانگیںاور مسائل مرحلہ وار پوری کی جائیں گی۔واضح رہے 400کروڑ روپے کی مالیت قومی زعفران مشن پروجیکٹ کو حکومت ہند نے جموںوکشمیر میں زعفران صنعت کی بحالی کے لئے منظور کئے ہیں ۔ یہ مشن 2010ء میں شروع کیا گیا اور آئی آئی کے ایس ٹی سی کا قیام اسی مشن کا ایک اہم حصہ ہے۔
 
 

۔ 15کروڑ کا سالانہ منصوبہ ایک کروڑ میں سمٹ گیا: کارڈ نیشن کمیٹی

شہر میںنکاسی آب کے ناقص نظام کیلئے سابق حکومتیںذمہ دار

سرینگر//شہر میں نکاسی آب کی ناقص منصوبہ بندی کیلئے مسلسل سرکاروں اور انتظامیہ کوذمہ دار ٹھہراتے ہوئے سینٹرل کنٹریکٹرس کارڈی نیشن کمیٹی نے کہا کہ25سال قبل سرینگر میں جہاں سالانہ منصوبہ15کروڑ روپئے ہوا کرتا تھا، اسے اب ایک کروڑروپے تک پہنچایا گیا۔اس سلسلے میںکارڈی نیشن کمیٹی کے جنرل سیکریٹری فاروق احمد ڈار نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ جہاں1996میں شہر میں نکاسی آب اور ڈرینج سرکل کیلئے 15کروڑ روپے کا سالانہ منصوبہ ہوا کرتا تھا وہیں اس کو سمٹ کر ایک کروڑ تک پہنچایا گیا،جس کے نتیجے میں آئے دن معمولی بارشوں سے شہرمیں سیلابی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ امرت اسکیم میں بیرونی کمپنیوں کو وادی لایا گیا اور مقامی ٹھیکیداروں کیلئے شرائط کو بہت سخت کیا گیا،جس کے نتیجے میں وہ اس پروجیکٹ میں حصہ نہ لے سکے۔انہوں نے شہری ترقی و مکانات کے محکمہ کو سرینگر منتقل کرنے کا مطالبہ کیا۔پریس کانفرنس میں عمر جاوید خان، سیکریٹری کارڈی نیشن ارشد احمد بٹ،اشفاق احمد خان ،مشتاق طارق خان،مشتاق احمد خان اور دیگر لوگ بھی موجود تھے۔
 
 

ٹریڈرس فیڈریشن ترہگام کا اظہار تعزیت

کپوارہ/اشرف چراغ /ٹریڈرس فیڈریشن ترہگام نے ایک تعزیتی میٹنگ میں ایک نوجوان تاجر کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا ہے ۔محمد اشرف ملک ساکن ترہگام نامی اس نوجوان قصبہ میں ایک دوائی دکان چلا رہا تھا اورموصوف مختصر علالت کے بعد ہفتہ کو انتقال کر گئے ۔ فیڈریشن نے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا اور مرحوم کی مغفرت کیلئے دعا کی ۔
 
 

نیشنل اولڈ پنشن یونائٹیڈ فرنٹ کی شجر کاری مہم

سرینگر//نیشنل اولڈ پنشن ریسٹوریشن یونائٹیڈ فرنٹ (NOPRUF) نے اپنے قومی صدر بی پی سنگھ راوت کی سربراہی میں 12 جولائی کو پورے ملک میں شجرکاری مہم کا انعقاد کیا۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پرجموں و کشمیر کے لئے NOPRUF کے ریاستی کارڈ نیٹر سلیم ساگر اور گل زبیر ڈینگ نے کشمیر اور جموں صوبوں میں بالترتیب پودے لگا ئے ۔ جموں وکشمیر میں نئی پنشن اسکیم کے زمرے میں آنے والے ہزاروں ملازمین نے پورے جوش و جذبے کے ساتھ شجرکاری کی اس مہم میں حصہ لیا اور پرانی پنشن سکیم (او پی ایس) کی بحالی کے معاملے میں اچھے مستقبل کی امید ظاہر کی۔
 
 
 

منشیات مخالف مہم | گاندربل میں بھنگ کی کاشت تباہ،سوپور میں چرس ضبط

گاندربل+سوپور/ارشاد احمد+غلام محمد//منشیات مخالف مہم کے دوران گاندربل پولیس نے کئی کنال پر پھیلی بھنگ کو تباہ کیا۔پولیس تھانہ صفا پورہ نے اتوار کو سول سوسائٹی کے ساتھ مل کرایک مشترکہ کارروائی عمل میں لائی۔کارروائی کے دوران صفاپورہ کے حدود میں مختلف مقامات پر کئی کنال اراضی پر بھنگ کی کاشت کو تباہ کیا گیا۔ایس ایس پی گاندربل خلیل احمد پسوال کی ہدایت پر ڈی ایس پی محمد شفیع کی نگرانی میں پولیس نے یہ کارروائی عمل میں لائی۔اس دوران سوپور میںبھاری مقدار میں چرس برآمد پولیس نے منشیات مخالف مہم کے دوران ناکے پرایک گاڑی سے بھاری مقدار میں چر س برآمد کرکے گاڑی کوضبط کرکے ڈرائیورکو گرفتار کیا۔ایک بیان کے مطابق پولیس پوسٹ پتوکھاہ کے اہلکاروں نے چورا ناکے پر ایک گاڑی زیرنمبر JK09A- 5435کوروکااوراس کی تلاشی لی۔اس دوران گاڑی سے ایک کلواَسی گرام چرس برآمد ہوا۔پولیس نے گاڑی کے ڈرائیورجس کی شناخت محمد قاسم میرکے طور ہوئی ،کو گرفتارکرکے گاڑی کو ضبط کیا۔اس سلسلے میں پولیس اسٹیشن تارزومیں  ایک کیس زیرنمبر65/2020درج کرکے تحقیقات شروع کردی۔سول سوسائٹی سوپور نے پولیس کی اس کارروائی کی سراہنا کی ہے۔
 
 

رفیع آبادمیں 32غذائی کٹ تقسیم

 بارہمولہ/فیاض بخاری/ رضا کار تنظیم ہومن ایڈ سوسائٹی کشمیر نے رفیع آباد بارہمولہ کے دور دراز دیہات میں امدادی سامان تقسیم کیا۔ سوسائٹی نے عید الاضحی سے قبل کھانے کے کٹ فراہم کئے ۔ہیومن ایڈ سوسائٹی چیئرمین بشیر احمد میر کی سربراہی میںحمام مرکوٹ کے 32 غریب کنبوں میں 67200 روپے کے خوردنی اشیا اور دیگرچیزیں تقسیم کیں۔
 
 

تازہ ترین