سازشی نظریات اور اس کے اثرات سے تحفظ کیسے ممکن ہے؟ | کووڈ۔ ۱۹ کے تناظر میں ایک تجزیاتی نقطہ نظر

نقطۂ نظر

تاریخ    13 جولائی 2020 (30 : 01 AM)   


ڈاکٹر محمد رضوان، ناگپور
انفجار اطلاعات کے اس دور میں صحیح اطلاعات کی پرکھ باقاعدہ ایک مشق کی طالب ہونے لگی ہے۔ تلبیس اطلاعات (Disinformation)یعنی اطلاعات کو ایسا لباس پہنانا جس سے کوئی خاص قسم کا مقصد حاصل ہوسکے، باقاعدہ ایک منفی فن کی حیثیت حاصل کرچکا ہے۔ سازشی نظریات انفجار اطلاعات کے دور کی ناقابل انکار حقیقت ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سازشی نظریات اس سے قبل موجود نہیں تھے۔ یقیناً سازشی نظریات کی تاریخ انسانی شعور کی تاریخ سے متصل ہے لیکن ماضی بعید و قریب اور حال میں یہ فرق ہے کہ پہلے ان سازشی نظریات کو پھیلانے ، عوام الناس میں ان کے نفوذ ، خواص کے ذہنوں میں اسے پیوست کرنے اور ان کے صحیح ہونے کے لیے غیر معمولی جدوجہد، پیسہ، اور باقاعدہ منصوبہ بندی درکار ہوتی تھی۔ اب مواصلاتی انقلاب کے بعد ان سازشوں کو پھیلانا اور عوام الناس میں ان کو معقول بنانا محض کلکس کا محتاج ہے اور یہ چٹکی بجانے سے زیادہ آسان کام ہے۔ ایک تلبیس شدہ ویڈیو، ایک فرضی تصویر، کچھ گمنام اور غیر مصدقہ ماہرین کچھ سنکی قسم کے افراد اور کچھ عیار اور مکار (netizens)اس کے لیے کافی ہیں۔
 سازشی نظریات کیا ہیں:
سازشی نظریات دراصل کسی واقعہ، وبا، حادثہ، یا دیگر عوامل کی سرکاری یا ادارہ جاتی توجیہات کے علی الرغم بیانیے ہیں۔ مثلاً کووڈ۔۱۹ کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو حکومت چین نے اعلامیہ جاری کیا تھا کہ نمونیا جیسی علامات رکھنے والی بیماری سے ووہان شہر میں کئی افراد کی موت ہوگئی ہے یا ہورہی ہے اور ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ یہ ایک وائرس کی وجہ سے ہونے والی بیماری ہے۔ اس کے بعد عالمی صحت تنظیم نے تحقیقات کے بعد یہ بیان جاری کیا کہ یہ یقیناً وائرس سے پھیلنے والی بیماری ہے اور اس سے احتیاط ضروری ہے۔ ان دو بیانیوں  کے علی الرغم مس انفارمیشن، جھوٹی افواہوں، اور سازشی نظریات کا ایک سیلاب آگیا۔ 
سازشی نظریات کی درجہ بندی:
عام طور پر سازشی نظریات کی علمی سطح پر کئی ماہرین نے درجہ بند ی کی ہے ان میں سے دو ثقہ اور معقول ہیں جو درج ذیل ہیں۔
اس کے علاوہ اور بھی کئی طریقہ کی درجہ بندیاں پائی جاتی ہیں۔ ہمارے نزدیک ان نظریات کی درجہ بندی درج ذیل طریقہ پر بھی کی جاسکتی ہے۔ وہ طریقہ ان  نظریات کے وجود میں آنے والے جغرافیائی حدود اور ان میں بسنے والی اقوام سے متعلق ہے۔ 
مندرجہ بالا دو درجہ بندیوں کے علاوہ ایک تیسری درجہ بندی بھی ہے جو سید سعادت اللہ حسینی صاحب نے زندگی نو میں پیش کی ہے ۔ مذکورہ درجہ بندی ان سازشی نظریات کے ثبوت و صحت کے امکانات کے اعتبار سے ہے اور افادیت کے اعتبار سے ہمارے نزدیک اہم ہے ۔
۱۔ وہ نظریات جو گو کہ سازشی نظریات کی فہرست میں رکھے گئے ہیں لیکن سرکاری بیانیے کے علی الرغم ٹھوس دلائل و ثبوتوں کے ساتھ ہیں۔ مثلاً عراق کی جنگ کا مقصد عام تباہی کے ہتھیاروں کا اتلاف نہیں بلکہ تیل کے ذخائر کا کنٹرول تھا۔ 
۲۔ جن میں سازش کا عنصر واضح ثبوتوں کی بنیاد پر ثابت نہیں کیا جاسکتا لیکن ان نظریات کا سرکاری بیانیہ یا توجیہ بہت کمزور ہوتی ہے۔
۳۔ نامعقول نظریات: جیسے کووڈ ۱۹ کے تعلق سے یہ نظریہ کہ یہ 5G موبائل ٹکنالوجی کو بروئے کار لاتے وقت 5G لہریں کورونا وائرس کے پھیلاو کا ذریعہ بنیں۔ ان تمام کے علاوہ بھی سازشی نظریات اور بھی کئی طریقوں سے درجہ بند کیے جاتے ہیں۔ اس درجہ بندی کی بہت اہمیت ہے۔ یہ درجہ بندی سازشی تھیوری کو اس کا صحیح مقام دینے اور اس تھیوری کے متعلقہ منفی سماجی اثرات کو ختم کرنے یا صحیح رخ دینے کے لیے بہت ضروری ہے۔ مثلاً کووڈ ۔۱۹ کے متعلق یہ سازشی تھیوری کہ یہ مسلمان مرد حضرات کے اندر نامردی کو پروان چڑھانے کے لیے ایک وائرس پھیلایا گیا ہے۔ یا اس وائرس کے اثر سے مسلمان خواتین بانجھ ہوجائیں گی۔ یہ سائنسی اعتبار سے ناممکن ہے۔ کیونکہ ایساچنیدہ) (Selectiveوائرس تشکیل دینا جو خاص تولیدی نظام پر اثر کرے وہ بھی ایک خاص مذہبی گروہ پر انتہائی احمقانہ خیال ہے اور سائنسی و تکنیکی اعتبار سے ایسا وائرس تشکیل دینا ناممکنات میں سے ہے۔ اب اس طرح کی تھیوری کو ہم مسلم دنیا میں ابھرنے والی تھیوریس کے درجہ میں رکھیں گے اور ہمارا ارتکاز یہ ہوگا کہ کس طرح سے مسلم دنیا میں اس غیر سائنسی اور من گھڑت جھوٹ کو پھیلنے سے روکا جاسکے اور کس طرح وائرس سے متعلق صحیح معلومات بالخصوص اس زبان و رنگ میں پھیلائی جائیں جو اس طبقہ کے لیے سمجھنا اورسمجھانا آسان ہو۔  
کووڈ۔۱۹ سے متعلق مشہور و معروف سازشی نظریات:
 کووڈ ۔۱۹ ایک وبا ہے جو وائرس سے پھیلی ہے۔ یہ وائرس طبعی ہے یعنی ماحول میں پایا جاتا ہے اور یہ کورونا فیملی میں پائے جانے والے وائرس میں سے کسی ایک وائرس کی ارتقا شدہ شکل ہے۔یہ وائرس ماضی میں وبا کو پھیلانے والے SARS وائرس سے بہت زیادہ ملتا جلتا ہے۔ لیکن یہ اس سے مختلف بھی ہے۔ اس کے بیماری پھیلانے اور انسانوں میں بیماری پیدا کرنے کی صلاحیت اب محققین کے نزدیک مسلم و مصدقہ ہوچکی ہے۔ یہ بنیادی طور پر عمل تنفس کو اور اس کے نظام کو متاثر کرتا ہے لیکن اس کے علاوہ بھی اور نظامات کو متاثر کرسکتا ہے۔
سازشی نظریہ نمبر ۱۔کورونا وائرس ایک حیاتیاتی ہتھیار ہے!
کووڈ ۱۹ کے تناظر میں یہ غالباً سب سے مشہور و معروف سازشی نظریہ ہے کہ یہ وائرس غیر طبعی ہے۔ اسے تجربات کے دوران ووہان لیب میں بنایا گیا ہے اور چین نے اسے بنایا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سازشی نظریہ دنیا کے دو سب سے طاقتور ملکوں کی اہم سیاسی شخصیات تک نے دہرایا ہے۔ 
 امریکہ نے الزام لگایا کہ چین نے اس وائرس کو امریکی معاشیات کو تباہ کرنے کے لیے چھوڑا ہے اور چین نے الزام لگایا کہ امریکہ نے اپنی ملٹری مشق کے دوران اسے چین میں چھوڑا ہے۔ (واضح رہے کہ امریکہ میں انتخابات قریب ہیں) اس سازشی نظریہ پر دلچسپ تحقیقات بھی سامنے آئی ہیں۔ مثلاً ایک زاویہ نظریہ ہے کہ ماضی میں سازشی نظریات کے ماننے والے Fringe کہے جاتے تھے اور ان کا تعلق کسی معتمد ادارے یا ذرائع سے نہیں ہوتا تھا۔ لیکن کووڈ ۱۹ کے سلسلے میں غالباً یہ پہلی بار ہوا کہ دو حکومتوں کے ذمہ دار ترین افراد نے سازشی نظریہ کی نہ صرف تائید کی بلکہ اس پر مصر بھی رہے۔ ان کی اس بات کو کووڈ ۱۹ کے تناظر میں بہت آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے کیونکہ سائنسی تحقیقات سے یہ ثابت ثابت ہوچکا ہے کہ یہ وائرس تجربہ گاہ میں نہیں بنایا گیا ہے اس کے باوجود امریکی صدر نے یہ بات بارہا بھی دہرائی کہ یہ چائنیز وائرس ہے۔ 
پوری دنیا میں وائرس سے متعلق تحقیقات کرنے والے ادارہ جات نے بھی اور دیگرمحققین نے سالماتی حیاتیات کی روشنی میں اس وائرس کا جائزہ لیا ہے اور یہ بات اب تقریباً پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ کووڈ ۱۹ لیباریٹریز میں نہیں تخلیق کیا گیا ہے اور نہ ہی کیا جاسکتا ہے۔ اس سازشی نظریہ کو بالکل کلاسیکل سازشی نظریہ کہا جاسکتا ہے۔ جس کی سب سے اہم علامت یہ ہوتی ہے کہ یہ نظر یہ افادیت والی اسکیل پر پورا نہیں اترتا یعنی اگر یہ نظریہ صحیح ہوتو اس کا براہ راست فائدہ کسے پہنچ سکتا ہے۔ چین کے ذریعے بنائے جانے کے بعد اس کی افادیت چین کے لیے کتنی رہی اور پوری دنیا میں معیشت کے تباہ ہونے سے چین کو کتنا فائدہ حاصل ہوا۔ یہ سوال اب کسی غیر واضح جواب کے بغیر ہیں۔ ظاہر ہے کہ چین بھی ساری دنیا میں جاری معاشی زوال سے اتنا ہی متاثر ہوا جتنا دوسرے ممالک۔ یہ سازشی نظریہ بہت تیزی سے مقبول ہوا اس کی دو اہم وجوہات ہیں۔ ۱۔ ووہان میں وائرس ریسرچ لیب ہونا۲۔ محققین کا اس وائرس کے منبع و مصدر پر اتفاق نہ ہوپانا۔لیکن ظاہر ہے کہ ان دو وجوہات کی سینکڑوں توجیحات ہوسکتی تھیں لیکن سازشی نظریہ کا Hallmarkیہی ہوتا ہے بلکہ یہ اس کی سب سے اہم خاصیت ہوتی ہے کہ وہ حقائق کی بنیاد پر غیر حقیقی بیانیہ تخلیق کرتا ہے!
سالماتی حیاتیات کی بنیاد پر اس وائرس میں ہورہی ارتقائی تبدیلیاں بھی Trace کی جارہی ہیں۔ ماہرین کے ذریعہ دیے گئے ، حسابی ماڈلس پر بھی یہ نظریہ حقیقیت کی سطح تک نہیں پہنچایا جاسکتا ہے۔ یہ حسابی ماڈلس سادہ اور پیچیدہ دونوں قسم کے ہیں۔
سازشی نظریہ ۲۔ بل گیٹس نے اس وبا کو پھیلانے کے لیے فنڈ مہیا کروایا ہے تاکہ اس کی ویکسین تیار کرکے مائکرو سوفٹ کمپنی اسے بیچ سکے اور ایک بڑا منافع کماسکے۔ واضح ہو کہ یہ سازشی تھیوری بل گیٹس کے اس TED Talksکی بنیاد پر بنائی گئی ہے جس کے دوران انہوں نے حکومتوں اور صحت کے اداروں کو یہ بتانے کی کوشش کی تھی کہ مستقبل قریب میں ایسی وبائیں آسکتی ہیں جس کی وجہ سے لاکھوں انسان لقمہ اجل بن جائیں گے۔معیشتیں تباہ ہوجائیں گی اور ملک کے ملک برباد ہوجائیں گے نیز ایسی وباؤں سے نمٹنے کے لیے ان کے ٹیکہ تیار کرنے کے لیے اور عوام الناس میں ٹیکہ اندازی کی مہمات کو کامیاب بنانے کے لیے حکومتیں اور ادارے بہت سنجیدگی سے کام کریں ۔
اس ٹاک کو بنیاد بناکر ایک پورا سازشی بیانیہ تیار کیا گیا ۔ اس کے علاوہ اس ٹاک کے مشمولات کو بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاونڈیشن کے ذریعے کووڈ ۱۹ کی ویکسین کی تیاری کے سلسلے میں مہیا کرائی گئی خطیر رقم جو کہ ویکسین کی تیاری کے لیے لیباریٹریز اور ویکسین پروڈکشن یونٹ کے لیے مختص رہے گی کو بھی بنیاد بناکر یہ سازشی نظریہ گھڑا گیا ہے۔ اس نظریہ کی مقبولیت امریکہ میں بہت زیادہ رہی۔ خود بل گیٹس نے یہ تسلیم کیا کہ یہ نظریہ اتنا مضحکہ خیز ہے کہ اس کا رد کرنا بھی مشکل ہے علی الرغم اس کے بل اینڈ گیٹس فاونڈیشن اپنے اصل کے اعتبار سے کتنا صحیح یا غلط ہے۔ مندرجہ ذیل نکات اس سازشی نظریہ کے تردید کے لیے کافی ہیں۔
۱۔ ویکسین کی تیاری بہت سنجیدہ اور دیرپا کوشش چاہتی ہے۔ محض فنڈ کی بنیاد پر ویکسین نہیں بنتے۔ ایک موثر ویکسین بنانے کی کم از کم مدت ۴ سال ہے اور زیادہ سے زیادہ ۲۸ سال ہے۔
۲۔ کسی ایسے وائرس کو جو انتہائی خطرناک ہو، جدید ہو، اس کی تمام تر خاصیتوں کا علم سائنسی دنیا کو بھی نہ ہو اہو ، اسے اس لیے پھیلانا کہ اس کی ویکسین بنائی جاسکے انتہائی غیر منطقی بات ہے کیونکہ وائرس کی ویکسین موثر ہوکر غیر موثر بھی ہوسکتی ہے۔ یعنی وائرس تبدیل ہوجاتا ہےاور اس کے لیے بنائی گئی ویکسین بھی بے اثر ہوجاتی ہے۔ کورونا وائرس کےمعاملہ میں تو یہ بات اور بھی زیادہ درست ہے کیونکہ یہ ایک RNA وائرس ہے جو تبدیل ہورہا ہے ۔ 
۳۔ ویکسین بننے کے عمل کے بعد اس کی تجارتی غرض کے لیے ایک میکانزم ہوتا ہے ۔ بل گیٹس کا فاونڈیشن ناٹ فار پرافٹ ہے یعنی ویکسن کے ایجاد ہونے اور اس منافع کمانے کے لیے تکنیکی دشواریاں باقی ہیں حالانکہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ دشواریاں دور کی جاسکتی ہیں لیکن سازشی نظریہ کے پرکھنے والے ماڈل کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ سازشی نظریہ کی ایک اہم علامت اس میں شامل عناصر کی غیر منطقی توجیہ ہے۔ یعنی اگر آسان طریقوں سے بلین ڈلر کمائے جاسکتے ہوں تو مشکل طریقوں سے ملین ڈالر کمانا۔ چہ معنی دارد، جو اس کیس میں بالکل فٹ بیٹھتی ہے۔ 
سازشی نظریہ ۳۔ کورونا وائرس اور کووڈ ۱۹ وبا ایک یہودی سازش ہے۔ 
جن قارئین نے پاکستان کے ٹی وی چینلوں پر جاری بحثوں کو دیکھا ہوگا وہ اس سازشی نظریہ کے تاروں کو یہودی اور صلیبی سازشوں اور فتنہ دجال سے جوڑنے کے احمقانہ دلائل سے بخوبی واقف ہوں گے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ یہودی سازش ایسی سازش تھی جس کے شکار خود یہودی بھی بڑی تعداد میں ہوئے ۔یہودی پارلیمنٹ کے ممبر بھی اس سے متثنیٰ نہیں رہے!
حدیث کی کتابوں میں باب الفتن کے علی الرغم بھی ان دلائل کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ یہ سازشی نظریہ اسی شکست خوردہ ذہنیت کا مظہر ہے جو ہر حادثہ، ہر واقعہ، ہر پریشانی، ہر شکست ہر ریختگی، ہر زوال اور ہر ہزیمت کے لیے بیرونی ایجنٹ، بیرونی غیر مرئی طاقت، بیرونی ادارہ، بیرونی حکومتی ایجنٹس کو ذمہ دار قرار دیتی ہے۔ افادیت کے ماڈل کے اعتبار سے اس نظریہ کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ آخر ایسی وبا سے اسرائیل کو کیا فائدہ ہوگا ! جتنے فائدے گنوائے جارہے ہیں ان کی حیثیت اس وائرس سے اسرائیل کو ہونے والے نقصانات کے مقابلے کچھ بھی نہیں ہے لیکن پھر بھی یہ تھیوری مسلم دنیا اور کرسچین دنیا میں بے حد مقبول ہوئی ہے ۔ کورونا وائرس یہودیوں کے ذریعہ پھیلایا گیا ہے اس کے ماننے والوں کی قابل ذکر تعداد نام نہاد ترقی یافتہ ممالک میں بھی پائی جاتی ہے۔ اب بھلا جو ملک اپنے ایک ایک یہودی شہری کو چاہے وہ دنیا کے کسی کونے میں ہو اس کی خیر سگالی کے لیے سینکڑوں گھر جلاسکتا ہو، ہزاروں معصوموں کی جان لے سکتا ہو، بستیوں کی بستیاں ویران کرسکتا ہو وہ بھلا ایسا وائرس کیوں کر بنائے گا جس سے حفاظت کا سامان اپنے یہودی شہریوں تک بہت پہلے ہی نہ پہنچادے ۔
سازشی نظریہ ۴: عمر رسیدہ لوگوں کا معیشت پر بوجھ ختم کرنے کے لیے کورونا وائرس کو بنایا گیا ہے۔
واضح ہو کہ تمام ترقی یافتہ ممالک میں عمر رسیدہ لوگوں کے لیے سماجی تحفظ (سوشل سیکوریٹی) اور ان کے علاج کے لیے حکومتی انشورنس ہوتا ہے (کچھ استثنائیات ہیں)۔ اس سماجی تحفظ اور انشورنس پر ان ممالک کا خاطر خواہ بجٹ صرف ہوتا ہے۔ چنانچہ جب کووڈ ۱۹ سے مرنے والوں کی تعداد کے شماریات شائع ہونے شروع ہوئے اور اس میں بوڑھوں کی بڑی تعداد نظر آنے لگی تو یہ سازشی نظریہ پروان چڑھنے لگا کہ حکومتوں نے اپنا بجٹ بچانے کے لیے اس وائرس کو بنایا ہے یعنی تمام حکومتوں کے سربراہ سر جوڑ کر بیٹھے اور انہوں نے سوچا کہ بوڑھوں سے نجات پانے کے لیے ایک ایسا وائرس ایجاد کیا جائے جو صرف انہیں کو ہی نشانہ بنائے اور بجٹ کا ایک چھوٹا حصہ بچایا جائے ۔۔ 
سازشی نظریہ کی ایک خوبی یہ بھی ہوتی ہے کہ ثبوت کا نہ ہونا ہی اس بات کے لیے کافی ہے کہ یہ سازشی نظریہ صحیح ہے کیونکہ سازش کرنے والے نے اس ثبوت کو بھی مٹادیا جو ثبوت سازشی نظریہ کے حق میں ہوتا۔پھر یہ بات اور بھی بعید از قیاس ہوجاتی ہے جبکہ سرسری نظر سے دیکھنے پر تمام ممالک کے سیاستداں عمر رسیدہ ہی نظر آتے ہیں۔ بھلا ان کے پاس ایسی کوئی ڈھال تو بہرحال نظر نہیں آئی جس سے وہ خصوصی طور پر اس ’’تخلیق شدہ‘’ وائرس سے بچ سکتے تھے۔
سازشی نظریہ ۵: کوووڈ١٩، 5G نیٹ ورک کے ذریعے ہوتا ہے۔
سازشی نظریات کی ایک اور اہم خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ ان کے ڈانڈے آپ ماضی کے سازشی نظریات سے ملاسکتے ہیں۔ سازشی نظریات پر کام کرنے والے ماہرین اس کی بہت ساری مثالیں پیش کرتے ہیں۔ یعنی یہ کہ زیادہ تر سازشی نظریات نئے نہیں ہوتے بلکہ کسی نہ کسی سازشی نظریہ کی ترقی یافتہ شکل ہوتے ہیں۔ مثلاً فون یا ریڈیو کی لہروں سے انسانی صحت کو نقصان پہنچتا ہے۔ سب سے پہلے ۱۹۰۳ میں اسے ڈاکٹرس نے پیش کیا تھا اور اس کے بعد ریڈیو فوبیا پر بات کرنی شروع کردی گئی ۔
بالکل اسی طرز پر 5G ٹکنالوجی کو لے کر یہ معرکۃ الآرا سازشی نظریہ گھڑا گیا ۔ جو سب سے پہلے تھیوری گردش میں آئی وہ یہ تھی۔ ووہان میں 5Gنیٹ ورک کا تجربہ کیا گیا جس کی وجہ سے وہاں بہت سارے لوگ مرگئے اس لیے چینی حکومت نے وائرس کو ریلیز کیا تاکہ ان اموات کا الزام وائرس پر آجائے اور پھر اس تھیوری میں ارتقا ہوا اور یہ بات کہی جانے لگی کہ 5G  انسانی مدافعتی نظام کو کمزور کردیتا ہے اس لیے وہ کووڈ ۱۹ کا شکار آسانی سے ہوجاتے ہیں۔ ان تھیوریس اور ان کی اور بھی ارتقا پذیر شکلیں بنیادی سائنسی حقائق سے ٹکراتی ہیں۔
۱۔ لہروں کا مخصوص طیف ہوتا ہے اور سائنسی اعتبار سے وہ تمام لہریں جو غیر آینی non ionicہوتی ہیں وہ انسانی جسم پر اثر انداز نہیں ہوتیں۔ جو آینی ہوتی ہیں جیسے ایکس۔ رے یا بالائے بنفشی (UV) شعائیں یہ انسانی جسم پر اثر انداز ہوتی ہیں اور نقصان پہنچاتی ہیں۔ ریڈیو ویوس اور موبائل کے غیر آینی ویوس پرندوں کے navigationنظام پر تو اثر انداز ہوتے ہیں( حالانکہ اس میں اختلاف ہے) لیکن غیر آینی یعنی (non ionizing ) ہونے کی وجہ انسان یا اس کے مدافعتی نظام پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔
۲۔ یہ بات متعدد سائنسی تجربات سے ثابت کی جاچکی ہے کہ نیٹ ورک ریڈی ایشن انسانی جسم کے ساتھ کوئی خاطر خواہ تعامل نہیں کرتے۔ لیکن احتیاط کا تقاضہ ہے کہ ان سے بچنے کی کوشش کی جاتی رہے۔ واضح ہو کہ سائنس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ اگر امکانات0.00001فیصد بھی ہوں تب بھی احتیاط برتی جائے گی۔ لیکن اس غیر معمولی احتیاط کا سہارا لے کر سازشیت زدہ افراد اور ادارے اس بات کو کہتے ہیں کہ دیکھا! اگر نیٹ ورک کے ریڈی ایشن سے کوئی مسئلہ نہیں ہے تو پھر احتیاط کرنے کو کیوں کہا جارہا ہے! اور اس طرح ایک مثبت احتیاطی دلیل کو سازشی نظریہ کے لیے جواز فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔  
سازشی نظریہ ۶: کورونا وائرس دوائیاں تیار کرنے والی بڑی کمپنیوں نے پھیلایا ہے تاکہ اس سے منافع کماسکیں!
یہ سچ ہے کہ دوائی کمپنیاں بے تحاشہ منافع خور ہوتی ہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ دوائی کمپنیوں کی پالیسی اور ان کی ساختی ہیئت Profit maximisingسے عبارت ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ دوائی کمپنیاں انسانی صحت سے زیادہ اپنے منافع پر نظر رکھتی ہیں۔ لیکن یہ تمام سچ اس بات کے ضامن نہیں کہ ایک ایسا ان دیکھا دشمن کھڑا کریں جن سے بچنے کے لیے ان کے خود کے پاس کوئی ہتھیار نہ ہو۔ تادم تحریر کووڈ ۱۹ کے لیے کوئی ایسی دوا نہیں ہے جسے بیچ کر منافع کمایا جاسکے جو ممکنہ داوئیں ہوسکتی تھیں وہ سب تحقیق کے بعد بے اثر ثابت ہورہی ہیں۔ تادم تحریر کسی بھی دوائی کمپنی کے منافع میں غیر معمولی اضافہ نہیں دیکھا جارہاہے۔ واضح ہو کہ ۱۹۸۰ کے دہے میں ایڈز وائرس پر بھی بالکل اسی طرح کے تھیوریس گردش میں آئی تھیں۔ اب تک ایڈز کی دوائی تیار نہیں کی جاسکی۔ اس کی ویکسین بھی نہیں ایجاد کی جاسکی۔ حالانکہ سازشی نظریہ کے مطابق ایڈز وائرس بڑی کمپنیوں نے سی آئی اے کے ساتھ مل کر دنیا میں ریلیز کیا تھا تاکہ ایڈز وائرس کی ویکسین اور اس کے بعد اس کی دوائی بناکر خوب منافع کمایا جاسکے۔
سازشی نظریہ، سازشیت اور اس کا نفسیاتی تجزیہ:
یہ بات بالکل طبعی ہے کہ یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ اگر سازشی نظریات غلط ہوتے ہیں تو پھر لوگ انہیں مانتے کیوں ہیں! اور نہ صرف یہ کہ لوگ انہیں مانتے ہیں بلکہ بڑی تعداد میں مانتے ہیں۔ اس کا جواب انسانی نفسیات میں چھپا ہوا ہے۔ انسانی نفسیات دنیا کے پیچیدہ ترین علوم میں سے ایک ہے اور علمی دنیا میں ہورہی غیر معمولی تحقیقات ابھی اس کے عشر عشیر کو بھی نہیں پہنچ پائی ہیں ۔ تاہم سازشی نظریہ اور سازشیت کی نفسیات پر جتنا کام ہوا ہے وہ بجائے خود چشم کشا ہے۔
۱۔ عالم احوال کی درست اور مکمل توجیہ کی نفسیاتی ضرورت چاہے وبا ہو ، بڑا حادثہ ہو، سیاسی اتھل پتھل ہو،یا کوئی بڑا واقعہ ہو۔ انسانی ذہن اس کی مکمل، درست اور فوری توجیہ چاہتا ہے۔ یہ ایک بالکل نفسیاتی اور طبی کیفیت ہوتی ہے۔ ماضی کے تمام بڑے اور ایسے واقعات جنہوں نے بڑی تعداد میں عوام کو متاثر کیا ہے۔ ان سب کے بعد حکومتی توجیہ یا ادارتی بیانات اور توجیہ عوام کو مکمل اور درست معلومات جب نہیں دے پائے تو ان سے متعلق کئی سازشی نظریات وجود میں آتے چلے گئے۔
۲۔ غیر یقینی معلومات کی کیفیت سے باہر نکلنا:یہ بات تقریباً ہر Conspiracy Theorist بطور دلیل پیش کرتا ہے کہ عوام کے علاوہ اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی ان کی تھیوریس پر یقین رکھتے ہیں یعنی محض نیم خواندہ یا خواندہ افراد ہی نہیں بلکہ اس سے آگے بڑھ کر بعض ڈاکٹرز، پروفیسرز، بھی ان کے ذریعے دی گئی تھیوری پر ایمان لاتے ہیں۔ اس زوایہ سے کئی نفسیاتی تحقیقات سامنے آئی ہیں۔ جو بتاتی ہیں کہ پڑھے لکھے افراد میں یقینی معلومات کے لیے خصوصی Drive پائی جاتی ہے۔ یعنی جس طرح عوام مکمل اور درست احوال کے لیے کسی بھی تھیوری کو گلے لگالیتے ہیں بالکل اسی طرح خواص بھی غیر یقینی معلومات کی کیفیت میں نہیں رہنا چاہتے۔
اسے کووڈ ۱۹ ہی کی مثال سے سمجھا جاسکتا ہے۔ مثلاً ابھی تک محققین کورونا وئرس کا اصل مصدر نہیں بتا پائے ہیں۔ یعنی یہ چمکاڈر سے آیا ہے یا پینگولین سے! لیکن اس بات پر تمام محققین متفق ہیں کہ یہ جانوروں سے ہی آیا ہے۔ اب ایک یقینی علم ہے (یعنی جانوروں سے آیا ہے!) اور ایک غیر یقینی علم ہے یعنی پینگولین یا چمگاڈر یا کسی اور جانور سے آیا ہے۔ چونکہ خواص بھی زیادہ سائنسی پس منظر نہیں رکھتے اس لیے اول الذکر یقینی کیفیت ان کے لیے بھی بے معنی ہے جبکہ ثانی الذکر یقینی کیفیت انہیں سازشی نظریات پر یقین کرلینے کا جواز فراہم کردیتی ہے۔
۳۔ واقعات ، حادثات، مشاہدات میں واضح خاکہ کی تلاش:ہم سب نے آسمان میں بادلوں کے بہت سارے خاکے بنائے ہیں جیسے کتا، بلی، شیر، ہل چلاتا کسان، وغیرہ ۔ چاند پر چرخہ کاتتی ہوئی بڑھیا۔ کٹے ہوئے آلو یا بینگن پر مذہبی نشانیاں وغیرہ۔ یہ سب ثابت شدہ نفسیاتی حقائق ہیں۔ انسان نفسیات اور اس کا ذہن حادثات اور واقعات اور مشاہدات میں واضح خاکہ تلاش کرتا ہے۔ عل الرغم اس کے کہ وہ خاکہ صحیح ہے یا غلط وہ خاکہ ضرور تلاش کرتا ہے۔
مثلاً کووڈ ۱۹ کی وبا سے پہلے امریکی اور چینی معاشی کشمکش کسی سے چھپی ہوئی نہیں تھی۔ کووڈ ۱۹ کی وبا کے ساتھ ہی امریکی بائیں بازو کے تھیورسٹ نیوز اینکرس، اور سیاست دانوں نے نکات کو جوڑ لیا اور کہا کہ چین نے یہ وائرس امریکی معیشت کو تباہ کرنے کے لیے بنایا ہے۔ امریکہ، یوروپ اور چین تینوں جگہوں پر بالکل تین طرح کے خاکے بنائے گئے۔ امریکہ کا تذکرہ آچکا ، یوروپ میں یہ سمجھا جانے لگا کہ چین نے یوروپ کی مینو فیکچرنگ کو ختم کرنے کے لیے اور کمپنیوں کو ہتھیانے کے لیے کووڈ ۱۹ کو ریلیز کیا کیونکہ اتفاق سے اسی وقت یوروپی مینو فیکچرنگ یونٹ ضم ہونے کا مرحلہ شروع ہوا تھا۔ 
چین میں یہ سازشی نظریہ پروان چڑھا کہ امریکہ چونکہ چین کے سپر پاور بننے سے خوف زدہ ہے اس لیے اس نے امریکی فوجی مشق کے بہانے ووہان میں وائرس چھوڑدیا۔ اتفاق سے چین میں امریکی فوجی مشق وائرس کی وبا پھوٹ پڑنے سے ایک دو مہینے پہلے ہی ختم ہوئی تھی۔
۴۔ ’’حالات  پر قابو ہے یا حالات قابو میں ہیں‘‘ اس احساس کی نفسیاتی ضرورت
انسانی فطرت قابو سے عبارت ہے۔ وہ فطرت پر قابو پانا چاہتا ہے۔ حالات پر کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔ کنٹرول کی یہ کیفیت ہم روز مرہ کی زندگی میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔ کنٹرول کی خواہش ہمارے انفرادی اور اجتماعی دونوں رویوں سے ظاہر ہوتی ہے۔ یہ ہمارے بقا کی ضامن بھی ہے اور یہی خواہش نامساعد حالات میں اجتماعی اور انفرادی دونوں سطحوں پر انسانوں میں جدوجہد کا داعیہ پیدا کرتی ہے۔ 
سازش اور سازشی نظریات اس غیر معمولی فطری داعیہ کا استحصال کرتے ہیں اور انسانی شعور میں جگہ بناتے ہیں۔ 
۵۔ اضطراب و اضطرار کی کیفیت سے باہر نکلنے کی نفسیاتی ضرورت:
یہ ضرورت بطور خاص وباؤں کے لیے صادق آتی ہے۔ جب وبائیں پھوٹتی ہیں تو خواص و عوام الناس فطری طور پر اضطراب واضطرار کی کیفیت سے دوچار ہوجاتے ہیں۔ موت کا خوف، انفیکشن کا خوف، ہر وہ چیز چھن جانے کا خوف  جو انسان کو عزیز ہوتی ہے۔ انسان میں ایک غیر معمولی اضطراری و اضطرابی کیفیت پیدا کردیتی ہے اور یہ کیفیت سازشی نظریہ کی قبولیت میں اہم رول ادا کرتی ہے۔ زیادہ تر وبائیں جدید بیکٹریا یا وائرس کی وجہ سے ہوتی ہیں ان کے متعلق معلومات نہیں ہوتی ہیں۔ یا اگر ہوتی بھی ہیں تو سائنسی توجیحات میں فرق ہوتا ہے۔ دواؤں اور احتیاطی تدابیر پر واضح نکات سامنے نہیں آپاتے۔ احتیاطی تدابیریں زیادتی اور غلو کا شکار ہوتی ہے جو اضطراب کو اور زیادہ بڑھاتی ہے اور انسان غلط، نیم صحیح اور صحیح معلومات کو پراسیس نہیں کرپاتا۔ ایسے میں امید و بیم کی اس کیفیت سے نکلنے کے لیے وہ سازشی نظریات پر یقین کرنے لگتا ہے۔ یہاں صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ مغربی بائیو میڈیکل ماڈل جس پر بالعموم ساری دنیا میں علاج کیا جاتا ہے اس کے نزدیک سارے نظام ہائے علاج placebo(وہمی ) ہیں ۔ دنیا کی بڑی آبادی اس پر یقین بھی رکھتی ہے لیکن اس کے باوجود اس علاج کو ان لوگوں نے بھی اپنایا جو اسے وہمی مانتے تھے۔ بھلا گائے کے پیشاب اور گوبر میں Interferon تو ایک سازش زدہ ذہنیت رکھنے والا ہی دیکھ سکتا ہے!! 
سازشیت غیر معقول سازشی نظریات پر یقین کرنے کے نقصانات: 
یہ بات بہت اہم ہے کہ اس  حقیقت کا ادراک کیا جائے کہ سازشیت اور سازشی ذہن اپنا ایک مکمل ورلڈ ویو رکھتا ہے! اور یہ ورلڈ ویو ان کے رویوں کو منضبط کرتا ہے انہیں رخ دیتا ہے جیسا کہ یہ بات ثابت ہے کہ ورلڈویو رویوں کا ضامن ہوتا ہے یعنی جیسا ورلڈ ویو ویسے رویے۔
چنانچہ غیر معقول سازشی نظریات کے ماننے کے وہ نقصانات جو نفسیاتی تحقیق کے بعد ثابت ہوچکے ہیں ان کا تذکرہ ذیل میں کیا جاتا ہے۔
۱۔ ایچ آئی وی سے متعلق سازشی نظریات پر یقین رکھنے والے افراد میں محفوظ جنسی تعلق بنانے اور مانع حمل ادویات کے استعمال کرنے کے سلسلے میں منفی رجحانات پائے گئے جس کی وجہ سے ایسے افراد میں ایچ آئی وی سے انفیکٹ ہوجانے کے مواقع بڑھ جاتے ہیں۔
۲۔ الیکشن جھوٹ ہے سب کچھ پہلے سے طے ہے اس طرح کی سازشی تھیوریس پر یقین رکھنے والے افراد اور گروہ ووٹ نہیں ڈالتے، بلدیاتی حفظان صحت کی مہمات میں حصہ نہیں لیتے۔ ویکسین کی مہمات کا بائیکاٹ کرتے ہیں۔ اس کی عملی مثال خود ہمارے ملک میں دیکھنے کو ملی۔ جب پولیو ڈراپس سے متعلق یہ سازشی نظریہ پھیلایا گیا کہ یہ مسلمان بچوں کو بڑا ہونے کے بعد بلوغت تک پہنچنے نہیں دے گا اور یہ کہ پولیو ڈراپس سے لڑکے اور لڑکیاں مستقبل میں تولید کا عمل نہیں کر پائیں گے اس طرح کی تھیوریس کے بعد علما کرام اور با اثر سماجی شخصیات کی مدد سے اعلانات کروائے گئے اور ان کا اثر زائل کرنے کی کوشش کی گئی۔
۳۔ آفس میں کام کی استعداد کا متاثر ہونا:
یہ سازش زدہ ذہنیت نوکری پیشہ افراد کے اندر آفس میں استعداد کار میں کمی کا باعث بنتی ہے۔
۴۔ ہندوستان میں اکثریت کی ایک بڑی تعداد اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ مسلمان ہندوؤں سے زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں اور اس طرح سے وہ ہندوستان پر قابض ہوجائیں گے۔ یہ ایک سازشی تھیوری ہے۔ اس کو ماننے والے تمام مسلمانوں کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ان سے نفرت کرتے ہیں اور امن وامان کے فضا کو بگاڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ حالانکہ متعدد تحقیقات یہ بتارہی ہیں کہ مسلمانوں میں شرح پیدائش نارمل ہے۔ ہندو اکثریت کی ایک اچھی خاصی تعداد اس سازشی نظریہ پر ایمان لاتی ہے کہ مسلمان اور کرسچین ہندووں کا جبراً یا لالچ سے دھرم تبدیل کروارہے ہیں اور اس طرح اپنی تعداد بڑھا رہے ہیں حالانکہ یہ بات غلط ہے۔ اس طرح کی سازشی تھیوری کو ماننے والے کثیر ثفافتی تہذیب کے لیے سخت خطرہ بن جاتے ہیں اور جمہوری اقدار کی پامالی کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ مسلم سماج، ہندو سماج اور اقلیتی طبقات میں پھیلے ہوئے بہت سارے سازشی نظریات کے اثرات صاف دیکھے جاسکتے ہیں۔
مستقبل قریب میں وباؤں کے آنے کا تسلسل بڑھ سکتا ہے اسی کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی پیشن گوئی کی جارہی ہے کہ مواصلاتی انقلاب کی اگلی سیڑھیAugmented Reality ہوگی ۔ یعنی مواصلاتی انقلاب کے جدید ترین دور میں سازشی نظریات کو پھیلانا اور ان کے ذریعہ سے عوام میں مخصوص ذہنی مشا کلے تشکیل کرنا اور آسان ہوتا جائے گا جو بالآخر افراد اور اقوام کے انفرادی اور اجتماعی رویوں کو منضبط کرے گا ۔ایسے حالات میں متوازن سوچ اور رویوں کو پروان چڑھانے کے لئے خصوصی ندرت اور تخلیقیت درکار ہوگی ۔
 
 

تازہ ترین