تازہ ترین

احساسِ ذمہ داری کا جذبہ اور کشمیری عوام

گفت و شنید

تاریخ    13 جولائی 2020 (30 : 01 AM)   


معراج مسکینؔ
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جن قوموں یا معاشروںکیسیاسی قائدین یا مذہبی اکابرین کے مابین نظریات کا ٹکرائورہااور لوگوںکے اجتماعی مفادات کی حفاظت اور حصولِ مقاصدکے تئیں منافرت رہی ،اْن قوموں میں اصول پرستی اور اجتماعی مفادات کی جگہ خود غرضی اور منفعت پرستی نے لیلیں۔اْن کے دِلوں میں خوف ِ خدا کا تصورباقی نہ رہا اور اْنہیںہمہ گیر خرابیوں اور بْرائیوں نے گھیر لیا ،جس کے نتیجہ میںوہ ہمیشہ مسائل ،مشکلات اور مصائب میں مبتلا رہیں،اْن کا نہ کبھی بھَلا ہوا نہ ہی وہ کسی کام کی پیش رفت میں سرْخ رو ہوسکیںاوروہ ہر میدان اور ہر شعبہ? زندگی میں ناکام ثابت ہوئیں ،اسی طرح جن اقوام یا معاشروں میں ایثار و اخلاص اور احساسِ ذمہ داری کا جذبہ باقی نہ رہا ، وہ بھی خود پرستی،ہٹ دھرمی اور لاتعلقی کے دلدَل میں دھنس کر نیست و نابود ہوتی گئیں۔
 بلاشبہ کشمیری قوم کی بد قسمتی رہی ہے کہ اْسے ہر اودار میں زیادہ تراْنہی خود غرض اور دنیا پرست سیاسی اور مذہبی رہنماوں کی قیادت نصیب ہوئی، جوحق پرستی سے عاری تھیاورکشمیریوں کے جذبات سے کھیل کر انہیںہر معاملے میں گمراہ کرتے رہے۔جس سے جہاں کشمیری مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد تعلیم سے محروم رہی وہیں جہالت کا غلبہ بھی برقرار رہا،یہی وجہ ہے آج ہم جہاں مختلف علما کے چکر میںفروعی اور جزوی مسائل میںانتشار و اختلافات کے شکار ہیں وہیں ذ لت و خواری کی صورت حال میں ہمارے پاس کوئی سیاسی بساط بھی نہیں رہی ہے۔آج جب ہم اپنی اس وادیٔ کشمیر کی موجودہ صورت حال پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ بات حرف بہ حرف ہم پر صادق آتی ہے کہ کشمیری قوم طویل عرصے سی ایک مکمل اور مدلل سیاسی قیادت سے محروم رہی ہے۔جبکہ کشمیری عوام کی سیاسی زندگی کا ایک بڑاالمیہ یہ بھی رہا ہے کہ انہوں نے کسی بھی معاملے سے نمٹنے ،کسی بھی مسئلے کو حل کرنے خاص طور پراپنی اجتماعی مفادات کے حصول اور حفاظت کے لئے کبھی بھی اَز خود ابتدایا پہل کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ بغیر کسی تمیز کے یار و اغیار کے اشاروں پر ہی چلتے رہے۔ اِسی لئے اْنہیں اپنے یہاں کے سیاسی لیڈران اور مذہبی اکابرین ہمیشہ اپنے خصوصی مفادات و مقاصد کے لئے استعما ل کرتے چلے آئے ہیں۔مختلف اوقات پر اْنہیں نئی نئی دلیلوں میں اْلجھا کر اپنا آلہ ٔ کار بناتے رہے اوراپنے مقاصد کے حصول کے لئے نِت نئے نعروں سے بہلاتے رہے۔جس کے نتیجے میں آج تک کشمیریوں کا کوئی اجتماعی مقصد پور ا نہ ہوسکا اوروہ ہر مسئلہ اور ہر معاملے میں خستہ ،پستہ اور شکستہ ثابت ہوتے آرہے ہیں۔مختصراً جائزہ لیا جائے تواس وقت کشمیرکی جو صورت حال ہے ، وہ کسی بھی باحِس فرد کے لئے نہایت تکلیف دہ ہے۔سیاسی اعتبار سے غیر یقینی صورت حال میں کشمیری قوم اس وقت سب سے کمزور ترین حالات سے گزر رہی ہے اورہر طرف سے بے بس و لاچار دکھائی دے رہی ہے۔ایک لمبے عرصے سے دوسروں کے اشاروں پر ناچنے والی اس قوم کا حال اب اس نوالے کی طرح بنا دیا گیا ہے، جسے مختلف قوموں کو اپنا لقمہ تر بنالینے میں کوئی دشواری پیش نہیں آرہی ہے۔اْنہیں لقمۂ تَربنانے اور آرام سے ڈکارلینے کے لئے عرصۂ دراز سے جو سازشی جا ل بْنے جارہے تھے اْنہیں اب عملی طور پراستعمال میں لایا جارہا ہے۔ غرض کہ کشمیری قوم اپنی سیاسی ،مذہبی معاشرتی ، تعلیمی اور دیگر کئی معاملات میںہر اعتبار سے انتہائی کسمپرسی کی حالت میں پڑی ہوئی ہے۔
 آپ بھی اپنی یاداشت پر ہلکا سا زور دیجئے اور یاد کیجئے کہ وقفہ وقفہ کے بعد کس طرح ایک لمبے عرصے سے کشمیریوں کو سیاسی ہتھکنڈوںاور شعبدہ بازیوںسے ورغلاکر بدنام کردیا گیا،اْن پرہْلڑ بازاورجھگڑالو کا لیبل چڑھایا گیااور پھر ملک اور بیرون ممالک میں شور مچاکرانہیںدہشت گرد قراردیا گیا ،ان کے خلاف ہر سْونفرت کا زہر گھول کر ان کی ہیئت مسخ کرنا شروع کردی گئی اورپھرانہیں اعلاناًمجرم قرار دیا گیا۔اس کے بعد کال کوٹھری میں پھینک کراْن کی عزیزجانوں کو ضائع کردیاگیااور اس طرح سے کشمیریوں کی جان و مال اور عزت وآبرو سے کھیل کراْنہیں بے حیثیت بنا کررکھ دیا گیا۔
 آپ بھی اس بات سے واقف ہوں گے کہ احساسِ ذمہ داری ہی ایک ایسا جذبہ ہے جو کسی بھی انسان کو راہِ راست پر لے آتا ہے ،جسے ہم بالکل غافل ہوچکے ہیں۔آج بھی ہمارے قول و فعل میں تضاد برقرار ہے،دِل میں کچھ ہوتا ہے اور زبان پر کچھ اور۔ہم سبھی باتیں تو بہت کرتے رہتے ہیں،بہت کچھ لکھتے بھی رہتے ہیں اور بہت کچھ پڑھتے بھی رہتے ہیں،ایک دوسرے کو نصیحت بھی کرتے ہیں مگر خود کبھی بھی اپنا احتساب نہیں کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کسی کی بات میں کوئی تاثیر نہیں رہی اور کوئی کسی کا اثر قبول نہیں کرتااور اس طرح ہمارا معاشرہ تواتر کے ساتھ بکھرتا چلا جارہا ہے۔حالانکہ اب بھی وقت ہے کہ اگر معاشرے کا ہر بالغ فرد اپنی اپنی جگہ درست سوچنا شروع کرے، احساسِ ذمہ داری کے جذبے کے ساتھ کام کرنے پر آمادہ ہوجائے تو سارا معاشرہ ٹھیک ہوسکتا ہے کیونکہ افراد کے مجموعے سے ہی معاشرے بنتے ہیں اور قومیں وجود میں آتی ہیںجبکہ خدا بھی اْسی قوم یا معاشرے کی حالت بدلتا ہے جس قوم یا معاشرے کا ہر فرد اپنی حالت بدلنے پر آمادہ ہو۔ہمارا بہت وقت ضائع ہوچکا ہے ،ہمارا بہت سارا نقصان ہوچکا ہے،ہماری بدنظمی سے ہماری حیثیت مٹ رہی ہے اور ہم ہیں کہ آج بھی ہمیں دوسروں کی آنکھ کا تنکا تو نظر آتا ہے لیکن اپنی آنکھ کا شہتیرنظر نہیں آتا۔انتہائی اشد ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمیں سب سے پہلے اپنے اندر کیاحساس کے جذبہ کو بیدار کرنا ہے، بْرے اعمال کی کثرت سے ہمارے احساس کی حِس مْردہ ہوچکی ہے اور اب نحوست کا مزہ چکھنے کے بعد تو ہمیں سعادت کی لذت کا احساس ہونا ہی چاہئے۔اس لئے اْن بْرائیوں اور خرابیوںکو ،جو ہمارے مزاج میں رچ بس گئی ہیں کا ادراک کرنا چاہئے اور اپنے اندر ایک ایسی سوچ پیدا کرنی چاہئے جس کا حصول صرف قوم کے اجتماعی مفادات ہوں، جس کے لئے معاشرے کے ہر فرد کو احساسِ ذمہ داری کے تحت کام کرنے کی ضرورت ہے۔یہ تبھی ممکن ہوسکتا ہے جب قوم متحد ہوکیونکہ اتحاد و اتفاق ہر کامیابی کی شاہ کلید ہوتی ہے ، یہ ترقی کا زینہ ، فتح و کامرانی کا شامیانہ اور عزت و سر بلندی کا وسیلہ ہوتی ہے۔
 

تازہ ترین