تازہ ترین

۔13 جولائی محض کوئی تعزیتی ریفرنس نہیں | کشمیر کا اپنے ماضی کیساتھ تعلق تبدیل کرنے کی کوشش

محشرِ خیال

تاریخ    13 جولائی 2020 (30 : 01 AM)   


حسیب درابو
1۔آج "یوم شہدا" ہے۔ اس دن 89 سال پہلے مہاراجہ مخالف کارکن کے مقدمے کی سماعت کے خلاف احتجاج کرنے والے بائیس افراد کو ہری سنگھ کی پولیس فورس نے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔
2۔ اس سال کے شروع میں یونین ٹیرٹری انتظامیہ نے  ہر سال 13 جولائی کو یوم شہداء منانے کی اپنی دیرینہ سرکاری سرپرستی واپس لے لی۔ آج کے دن اب سرکاری تعطیل نہیں رہی۔ حکومت کے سربراہ کی طرف سے " مزار شہدا" میں پھولوں کی چادر چڑھانے کی رسمی  تقریب اب سرکاری پروٹوکول نہیں رہے گا۔
3۔ بادی النظر میں انتظامیہ میں کسی نے اس کا جارج اورول اچھی طرح سے پڑھا ہے۔ 1984 میں اپنی کلاسیکی تخلیق میں ارول نے لکھا ، "ماضی کو کنٹرول کرنے والا مستقبل کو کنٹرول کرتا ہے اور حال پر قابو رکھنے والا ماضی پر دسترس رکھتا ہے ‘‘۔
 4۔ بزرگ کشمیریوں کے لئے تیرہ جولائی " سیکھی یا پڑھی ہوئی تاریخ" نہیں ہے۔ یہ زندہ تاریخ ہے۔ اسکولوں اور کالجوں میں پڑھائے جانے والے تاریخ کے متن میں سے کسی میں بھی اس کی کوئی یادداشت کبھی موجود نہیں تھی ۔ یہ اس حقیقت کے باوجود ہے کہ تاریخ دانوں میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ 13 جولائی 1931 کشمیریوں کی ’’ جدوجہدآزادی ‘‘ کے آغاز کی علامت ہے۔
 5۔جب کہ مخصوص یادگار ان بائیس لوگوں کے لئے ہے جنھیں گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا ، لیکن علامتی یاد بہت آگے تک جاتی ہے۔ یہ اُس تاریخی لمحہ کا آغاز ہے جب پہلی بار کشمیریوں خاص طور پر مسلمانوں نے ڈوگرہ حکومت کو کھلے عام چیلنج کیاجو بادشاہت اور جاگیرداری نظام کا امتزاج تھا۔ بمشکل دو ماہ بعد 24 ستمبر 1932 کو کلہاڑیوں سے لیس اور لاٹھیوں سے لیس لوگوں نے احتجاج کیا جس کو عرف عام میں ’’نارچو احتجا ج ‘‘کہتے ہیں۔ اسی شام سرینگر میونسپلٹی کی حدو د میں اپنی نوعیت کے پہلے ’’افسپا۔پبلک سیفٹی ایکٹ ‘‘جیسے آر ڈی نینس کا اطلاق ہوا ۔
6۔ان واقعات نے طاقت کے ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا۔ مثال کے طور پر کشمیری پنڈتوں کی آبادیاتی اقلیت کو سیاسی اور معاشی طاقت کے ڈھانچے میں اقلیت بننے کا امکان نظر آیا۔ اچانک خود کو ایک "پریشان کن اقلیت" کی حیثیت سے پیش کرتے ہوئے انہوں نے انگریزوں سے استدعا کی کہ ان کی "روشن خیال ، تعلیم یافتہ اور قانون کی پابندی کرنے والی جماعت" ، "وحشی اور جاہل" مقامی مسلمانوں کے محاصرے میں ہے۔ اُس وقت تک پنڈت کو اقلیتوں کے طور دیکھنے کا کوئی ریکارڈ یا حوالہ موجود نہیں ہے۔
 7۔واقعی اس دن کی علامتی اہمیت کشمیر میں جمہوریہ سازی کا محرک ہونا ہے۔ 19اکتوبر 1931 کو لوگوں نے مہاراجہ کے سامنے پیش کیے جانے والے سیاسی مطالبات کی فہرست میں مطالبہ کیاگیا "جموںوکشمیرمیں جمہوری طرز حکومت کے قیام کے ساتھ ساتھ ریاست میں مقننہ کا قیام بھی عمل میںلایا جائے"۔
 8۔اس کا اتنا شدید اثر تھا کہ برطانوی حکومت ہند کو اپنی بالادست طاقت کو استعمال کرنے پر مجبور کیا گیا تھا اور گلینسی کمیشن قائم کرکے امور کشمیر میں مداخلت کی گئی تھی۔ بی جے گلینسی کمیشن کی رپورٹ نے بھوپال سے بیکانیر تک کی پرنسلی ریاستوں کو ہلا کر رکھ دیا جنہوں نے اس کے نفاذ کے خلاف بھارت کیلئے برطانوی سکریٹری خارجہ سے درخواست کی۔
9۔ لہٰذا بعد کے برسوں میں 13 جولائی کی تقریب منانے کی رسموں نے ان معاشرتی تاریخوں کو ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل کرنے میں مدد کی۔ یہ وہ دن تھا جب تمام سیاسی جماعتوں سے اوپر اٹھ کرماضی کو حال میں جیا جاتا تھا۔
10۔یہ بھی ایک درسگاہی آلہ تھا۔ اس نے مختلف نسلوں کو جاگیرداری مخالف جدوجہد کے بارے میں آگاہ کیا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی شناخت کا شعور بیدار کیا۔ قبرستان پر پھولوں کی چادر چڑھاتے ہوئے جس طرح جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ رسمی ، متنازعہ طرز فکر اور روایت کا مظاہرہ کرتے تھے ،اس سے ایک ریکارڈ پیدا ہوا ، اگرچہ یہ اگلے دن صرف ایک اخباری تصویر تک ہی محدود ہوتا تھا۔
 11۔ اس سب نے اُن لوگوں کے بارے میںآگہی پھیلانے میں مدد کی جنہیں اکثر خاموش اور پسماندگی کا شکاربنایاگیاتھا۔ یہ شاید پہلا ایک اجتماعی بیانیہ تھا جو کشمیر کی سول سوسائٹی کے اندر سے تعمیر کیا گیا تھا۔
 12۔بادشاہت سے آزادی کے لئے "موت کو قربانی کی علامت" کے طور پر یادگار بننے سے شروع ہوکر آگے چل کر یہ مختلف معنویت اور اقدار کو جمع کرگیا۔بے شک اس نے متنوع نظریات کی حامل مختلف حکومتوں کے لئے مختلف کام انجام دیئے۔ بالکل اسی طرح ،جس طرح موجودہ حکومت کیلئے 13 جولائی کو نکارنے کی پالیسی نظریاتی مقصد کی خدمت کر رہی ہے۔
 13۔ابتدائی برسوں میں کشمیر میں جاگیردارانہ نظام کے خلاف جدوجہد ہندوستان کی نوآبادیاتی نظام مخالف جدوجہد کے متوازی چل رہی تھی۔ لیکن 13 جولائی کو ہونے والے واقعہ کے نتیجہ میں ان کا اشتراک ہوگیا؛ کشمیر میں جاگیرداری سے آزادی اور ہندوستان میں انگریز سے آزادی۔ اس کے نتیجے میں پہلی جدوجہد کو دوسری جدوجہد کا ذیلی حصہ تصور کیاجارہا تھاکیونکہ کانگریس پارٹی نے کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد میں نظریاتی ، اخلاقی اور لاجسٹک مدد فراہم کی۔
14۔کشمیر کے ہندوستان سے الحاق کے بعد نیشنل کانفرنس نے پارٹی بنانے اور بلا شبہ قوم کی تعمیر میں 13جولائی کو سالاری کے طور استعمال کیا۔
 15۔
ابتدائی طور پر نیشنل کانفرنس نے شیخ محمد عبداللہ کو سیاسی منظر نامہ پر چھا جانے کیلئے یوم شہداء کو صحیح طور استعمال کیا۔ کہا جاتا ہے کہ شیخ محمد عبد اللہ نے ایک شہید کی خون آلود قمیض کو مستحکم کیا تھا جسے مظاہرین بطور پرچم لے کر جارہے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ مرتے ہوئے آزادی پسندمجاہد آزادی نے شیخ محمدعبد اللہ سے کہا تھا ، "ہم نے اپنا کام کیا ہے ، اب آپ نے اس کوانجام تک پہنچاناہے۔"
 16۔پرانے لوگ اس وقت کے موجزن جذبات کے اظہار کیلئے مشہور فارسی شاعر ، نذیر نثار پورہ کا حوالہ دیتے تھے؛
 ’’ کسے کہ کشتہ نہ شد از قبیلہ مانیست ‘‘
(یعنی جو جان نہ دے وہ ہمارے قبیلے میں سے نہیں ہے)۔
17۔ واضح طور پر اجتماعی ضمیر اور معاشرتی حساسیت میں یہ کشمیر کے کربلا سے کم نہیں تھا۔
18۔اس کے نتیجے میں 13 جولائی بادشاہت اور جاگیرداری کے خلاف کشمیریوں کی جدوجہد کو یادگار بنانے کے لئے "تاریخ کے نام سے یا داشت" کا سب سے نمایاں نشان بن گیا۔
19۔1989 کے بعد علیحدگی پسندوں نے مین سٹریم میں شامل جماعتوں سے اس دن کو چھیننے کی کوششیں کیں جن کو ان کے اصل مقصد میں غدار وںکے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
 20۔یہ بات اہم ہے کہ ماضی قریب تک حکومت کی جانب سے13جولائی مناناکشمیر کے ماضی کو تاریخ ساز بنارہا تھا تاہم اس سے ہندوستان کے ساتھ کسی بھی طرح کی عظیم سیاسی وابستگی کی نفی یا مخالفت نہیں ہوتی تھی۔
 21۔تو 13 جولائی کو سرکاری پروٹوکول سے خارج کرنے کی کیا ضرورت تھی؟
22۔13 جولائی کو کشمیریوں کے یوم شہدا کے طور پر تسلیم کرنے سے انکار کا عمل کشمیر کی تاریخ کو تبدیل کرنے اور اپنے عوام کی اجتماعی یادوں کو مٹا دینے کی کوشش ہے۔ ایسے دن کو نہ منا کر جو کشمیرکی سیاسی تاریخ کے مقامی پن کو اجاگر کرے،دراصل کشمیری شناخت کی جڑوں پر حملہ کرنے کی ایک پس پردہ کوشش ہے۔ کشمیر کے سیاسی اور واقعتا مادی ثقافت کی علامتوں کا منظم طور مٹانا دراصل کشمیری عوام کے وجود کو ایک جائز سیاسی اور ثقافتی وجود کی حیثیت سے ختم کرنے کا پیش خیمہ ہے۔
 23۔اور یہ بنیادی خیال ہے کہ ماضی کے ساتھ روابط،جو شناخت کو فروغ دیتے ہیں اور نسلی و معاشرتی تسلسل تشکیل دیتے ہیں ،کو ختم کریں تاکہ لوگوں کو وراثت میں ملنے والی تاریخی شناخت کے احساس کو نقصان پہنچے۔
 24۔ یوں 13 جولائی کی چمک دھمک اس لئے ختم کی جارہی ہے تاکہ دوسطحوں پر کشمیریوں کے متبادل تعلقات قائم کرنے کی کوشش ہو۔ سب سے پہلے ، قومی ریاست کے ساتھ تعلق کا قیام ایسے کہ غیر اشتراک شدہ ماضی کا اشتراک کیاجائے۔ اس میں تعجب کی بات نہیں کہ 30 جنوری کو یوم شہداء کا دن منایا جانا ہے لیکن 13 جولائی کا یوم شہدائے کشمیر نہیں منایا جائے!۔دوم ان کا اپنے ماضی اور واقعتا ان کی اپنی موروثی تاریخ۔
 25۔"پرانے" ماضی کو بدنام کیا جارہا ہے اور واقعی اسے "نئے" مستقبل کو محفوظ بنانے کے لئے جھوٹے شعور کی ایک شکل کے طور پر رد کیا گیا ہے۔ اس کے بعد ہی حال کو "غلط ، خلط ملط اور گڑبڑ" ماضی سے ساختی رخصت کے طور پر دیکھا جائے گا۔ جس چیز کو تسلیم نہیں کیا جارہا ہے وہ یہ ہے کہ 13 جولائی ان تمام برسوں تک اس لئے زندہ نہیں رہا ہے اور بڑھ نہیں پایاہے کیونکہ ماضی کی حکومتوں نے اس کی سرپرستی کی تھی۔ یہ اس بچ گیا ہے کیونکہ کشمیری سماجی اور ثقافتی اور سیاسی ورثے کے تانے بانے کا ایک حصہ بن کریہ نسل در نسل کہانیوں ، اشعار ، علامتوں اور یادوں کی صورت میں منتقل ہوتا رہا۔
 26۔اس کے برعکس ، ریاستی سرپرستی سے دستبرداری کے ساتھ یوٹی انتظامیہ نے نادانستہ طور وہ جگہ خالی کردی جو کشمیریوں کے عظیم قومی شناخت میں مدغم یا انضمام کرنے کیلئے ایک مشترکہ ماضی کی تعمیر کیلئے کافی سوچ سمجھ کر بنائی گئی تھی۔
 27۔اب ہوسکتا ہے کہ 13 جولائی کو اس کے سابقہ خطوط سے آزاد کیا گیا ہو۔ بہت امکان ہے کہ یہ جگہ آج نہیں تو کل پُر کردی جائے گی۔ درحقیقت بہت سے لوگوں کو لازمی طور پر اس کو ایک کشمیر کا واقعہ بنانے کے امکان پر نجات دیدنی ہوگا۔
28۔امید کی جا رہی ہے کہ یہ اُن کشمیر کے لوگوںکو واپس دی جائے گی جن کی یہ میراث ہے۔ اب جب یہ کوئی حکومتی واقعہ نہیں ہے تو متنوع ثقافتی پروڈیوسر اپنے وجود کو واضح کرنے کے لئے تہذیبی انداز میں ثقافتی بے حسی کا محاصرہ کرنے میں حصہ لے سکتے ہیں۔ تاریخی مٹاؤ کی مخالفت کرنے کے لئے کچھ بھی یادگار یاد سے بہتر نہیں ہے۔