تازہ ترین

! ماحولیاتی تحفظ کیلئے راست اقدامات ناگزیر

تاریخ    13 جولائی 2020 (30 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
انسان کرہ ارض پر ڈیڈھ کروڑ انواع میں سے ایک ہے۔ انسان دنیا کے ان جانداروں میں سرفہرست ہے جن کی تعداد اس سیارے پر بڑھ رہی ہے۔ اکثر جانوروں اور پودوں کی آبادی میں تیزی سے کمی آرہی ہے۔انسان نے ترقی کے لئے قدرتی جنگلات کا کافی بڑا حصہ صاف کردیا ہے۔ مچھلیوں کے ذخیرہ کا تین چوتھائی حصہ ختم کرڈالا ہے پانی کے نصف ذخائر کو آلودہ کردیا ہے اور اس قدر زیادہ زہریلے گیس فضاء میں خارج کئے ہیں جو زمین کو آنے والی کئی صدیوں تک گرم رکھیں گئے۔انسان نے قدرتی انواع کو فنا کرنے کا عمل قدرتی عمل سے ہزار گنا تیز کردیا ہے۔ اس طرح ہم نے خود اپنی بقاء کو خطرے سے دو چار کرنے کی بنیاد رکھ دی ہے۔ ہمارے سیارے کی رنگ برنگی زندگی کو حیاتیاتی تنوع(Biodiversity) کہتے ہیں جو ہمیں خوراک، کپڑے، ایندھن، دوائیاں اور بہت کچھ دیتا ہے۔ ہمیں تو سڑک کے کنارے اُگتی گھاس اور کھیتوں میں پلنے والے ایک بھنورے تک کی اہمیت کا اندازہ نہیں ہے۔ زندگی کے جال سے کسی ایک چیز کا خاتمہ انتہائی تباہ کن نتائج کا حامل ہوسکتا ہے لیکن انسان ہے کہ ماحول سے اس کھلواڑ کو اپنا حق سمجھتے ہوئے اس کے تباہ کن نتائج سے بے نیاز ہوچکا ہے۔ہمارے یہاں بھی ماہرین ماحولیات نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ یہاں کے گلیشئر بڑی تیزی سے پگھل رہے ہیں ، جسکی وجہ سے مستقبل میں یہاں کے ماحولیات پر خطرناک اثرات مرتب ہونے کا قوی احتمال ہے۔گلیشئروں کے سرعت کے ساتھ پگھلنے کے نتیجے میں نہ صرف یہاں کے آبی ذخائر متاثر ہورہے ہیں بلکہ اسکے اثرات یہاں کی زرعی پیداوار اور اقتصادیات پر بھی مرتب ہورہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سال 1972سے اب تک وادی میں پانی کی قلت کے نتیجے میں تقریباً 1000مربع کلومیٹر زرعی زمین کو میوہ باغات میں تبدیل کیا جاچکا ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ عالمی حدت یا موسمی تغیرات کا معاملہ ایک عالمی مسئلہ ہے لیکن اسکے باوجود ہر خطے میں اس مسئلے کی مقامی وجوہات کارفرما ہوتی ہیں۔عام طور سے گلیشئروں کے پگھلنے کی رفتار میں تیزی کے کلیدی اسباب میں اور باتوں کے علاوہ ماحولیاتی کثافت میں اضافہ اور جنگلات کے حجم میں کمی قرار دیئے جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ کے سبب جموں کشمیر میں واقع گلیشئر دنیا کے دیگر حصوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی کے ساتھ پگھل رہے ہیں، جس کے نتیجے میں آنے والے وقت میں پانی کی شدید قلت ہوگی اوراگر گلیشئروں کے پگھلنے کی یہی رفتار رہی تو کشمیر کے لہلاتے کھیت بنجروں میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔چند سال پہلے کشمیر یونیورسٹی کے ماہرین کی ایک ٹیم نے انکشاف کیا تھا کہ گزرے40برس کے عرصہ میں مشہور برفانی ذخیرہ ’کولہائی گلیشئر‘ کا18فیصدحصہ کم ہوگیا ہے جبکہ لداخ خطے کے کرگل ضلع میں72مربع کلومیٹررقبہ پر مشتمل دریا سورو کے طاس میںکم و بیش300 گلیشئرموجود ہیں جن کا16فیصد حصہ پگھل چکا ہے۔جموںوکشمیر کے گلیشئرسالانہ0.8مربع کلومیٹر کی شرح سے پگھل رہے ہیں۔ قابل ذکر ہے کولہائی گلیشئر نالہ لدر کے توسط سے دریائے جہلم کے لئے پانی کے وسیلے کا ایک اہم حصہ ہے جبکہ ’’سورو گلیشئر‘‘سے دریائے سورو کے ذریعہ کرگل اور زانسکار وادیوںکو پانی میسر ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق 1976میں کولہائی گلیشئر13.87مربع کلومیٹر تک پھیلا ہوا تھا جو اب سکڑ کر 11.24مربع کلومیٹر رہ گیا ہے۔اسی طرح سورو طاس کے علاقہ میں گلیشئروں کے پگھلنے کی شرح مختلف نہیںہے جہاں5کلومیٹر سے زیادہ رقبہ پر محیط گلیشئر اوسطاً 11.6فیصد پگھل گئے ہیں جبکہ 2کلومیٹر سے کم رقبہ پر پھیلے گلیشئرپہلے ہی 31فیصد کم ہوگئے ہیں۔اب تو ماحولیاتی و ارضیاتی ماہرین کی جانب سے یہ تازہ انکشاف کیاگیا ہے کہ عظیم ہمالیائی سلسلہ میں ہرموکھ سے لیکر درنگ تک بیشتر گلیشئر جن میں تھاجواس،کولہائے ،مچوئی ،کنگریز اور شفاعت گلیشئر شامل ہیں،تیزی سے پگھل رہے ہیں اور ان کے مجموعی رقبہ میں 4سے5ہزار میٹر کی کمی واقع ہوئی ہے۔ قدرت نے جموں کشمیر کو آبی ذخائر ، جنگلات اور گلیشئروں کی صورت میں بے پناہ وسائل سے مالا مال کیا ہے لیکن اب اسکا تحفظ کرنا ہم سب کا فرض ہے۔ جموںوکشمیرکے آبی وسائل،جنگلات اورگلیشئروں کو انسانی کھلواڑ کی وجہ سے زبردست خطرات لاحق ہوگئے ہیں اور المیہ تو یہ ہے کہ حکومت خود ایڈونچر ٹورازم اورپلیگرمیج ٹور ازم کے نام پر حساس ماحولیاتی علاقوں میں انسانی مداخلت کی حوصلہ افزائی کرکے ماحولیاتی توازن درہم برہم کرنے پر تلی ہوئی ہے ۔جب حکام بے پرواہ ہوں تو عام لوگوں کی فہمائش کون کرے گا؟۔اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ پہلے سرکار خود اپنی خبر لی اور اس کے بعد لوگوں کو بھی اس بات کا مکلف بنایا جائے کہ وہ ماحولیات کا تحفظ یقینی بنائیں تاکہ ہماری یہ وادی لہلہاتی رہے۔
 

تازہ ترین