مزید خبرں

تاریخ    12 جولائی 2020 (30 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک

 تدریسی نقصان کا ازالہ کرنے کیلئے اقدامات | سامون کا گاندربل میں محکمہ تعلیم کے ترقیاتی پروجیکٹوں کا معائنہ 

گاندر بل//پرنسپل سیکرٹری محکمہ تعلیم و سکل ڈیولپمنٹ ڈاکٹر اصغر حسن سامون نے گاندر بل ضلع کا دورہ کر کے وہاں تعلیمی شعبے کے تحت زیر تعمیر ترقیاتی پروجیکٹوں کا معائنہ کیا اور کووڈ 19 لاک ڈاؤن کے سبب تدریسی نقصان کا ازالہ کرنے کیلئے کئے جا رہے اقدامات و طریقہ کار کا جائزہ لیا ۔ ڈپٹی کمشنر گاندر بل ، ناظمِ تعلیم کشمیر ، ناظمِ سکل ڈیولپمنٹ ، ایڈیشنل کمشنر گاندر بل ، سی ای او گاندر بل اور دیگر متعلقہ افسران دورے کے دوران اُن کے ہمراہ تھے ۔ پرنسپل سیکریٹری نے 12 کلاس رومز پر مشتمل تین منزلہ عمارت کی تعمیر ، گورنمنٹ گرلز ہائیر سکینڈری سکول گاندربل کیلئے زیر تعمیر آرٹ کرافٹ رومز ، لائبریری اور سائنس بلاک ، گورنمنٹ پالی ٹیکنک کالج ہتبورہ کیلئے کیفٹیریا اور ورکشاپ عمارت اور گورنمنٹ بائز ہائی سکول تھیرو کیلئے دس کمروں پر مشتمل دو منزلہ عمارت پر جاری کام کا معائنہ کیا ۔ گورنمنٹ گرلز ہائی سیکنڈری سکول گاندر بل کے دورے کے دوران انہیں بتایا گیا کہ سکول کیلئے اضافی کلاس روم بلاک کی تعمیر پر 199.50 لاکھ روپے صرف کئے جا رہے ہیں جبکہ آرٹ کرافٹ روم ، لائبریری اور سائنس بلاک کی تعمیر 42.50 لاکھ روپے کی لاگت سے کی جا رہی ہے ۔ پرنسپل سیکریٹری نے دونوں بلاکوں پر کام میں سرعت لانے کیلئے کہا تا کہ یہ پروجیکٹ بروقت مکمل ہو سکے ۔ دریں اثناء پرنسپل سیکریٹری نے جسمانی طور معذور بچوں میں آلات تقسیم کئے جن میں آلاتِ سماوی ، ویل چئیر وغیرہ شامل ہیں ۔ اس سلسلے میں سماگراہ شکھشا کے تحت گورنمنٹ ہائی سکول گاندر بل میں کیمپ منعقد کیا گیا ۔ پالی ٹیکنک کالج ہتبورہ گاندر بل کا دورہ کرنے کے دوران سامون نے کالج کے کام کاج کا جائزہ لیا اور زیر تعمیر کیفٹیریا اور ورکشاپ کیلئے زیر تعمیرات عمارات کا معائنہ کیا ۔ اس موقع پر پرنسپل گورنمنٹ پالی ٹیکنک کالج نے جانکاری دی کہ کالج میں سول اور الیکٹریکل مضامین میں 120 نشستوں کی صلاحیت ہے ۔ انہوں نے کالج میں عملے کی کمی ، جدید ساز و سامان کی عدم دستیابی ، مزید روز گار موافق مضامین کو متعارف کرنے کی ضرورت ، ہوسٹل، ٹرانسپورٹ اور انٹر نیٹ سہولیات کی دستیابی کی مانگیں پرنسپل سیکریٹری کو پیش کیں ۔ پرنسپل سیکریٹری نے گورنمنٹ ہائی سکول تھیرو کا دورہ کرنے کے دوران دس کمروں پر مشتمل دو منزلہ اضافی کلاس روم بلاک کا معائنہ کیا جو 111.77 لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جا رہا ہے ۔ دریں اثناء سرپنچ مقامی لوگوں کے ہمراہ پرنسپل سیکریٹری سے ملے اور انہیں سکول کی توسیع سے متعلق یاداشت پیش کی ۔ اس سے قبل گورنمنٹ ہائی سکینڈری سکول گاندر بل میں ڈاکٹر سامون نے محکمہ تعلیم کے افسروں کی ایک میٹنگ طلب کر کے کووڈ 19 لاک ڈاؤن کے سبب تدریسی نقصانات کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ حکام کی جانب سے کئے جا رہے اقدامات کا جائیزہ لیا اور موجودہ حالات میں تعلیمی نظام کو مستحکم بنانے کیلئے لازمی طریقہ کار پر بھی غور و خوض کیا ۔ سی ای او نے انہیں بتایا کہ تدریسی نقصانات کو پورا کرنے کیلئے ٹیلی کلاسز ، کمیونٹی لیول سکولنگ، آن لائین اور ورچول کلاسز اور تدریسی مواد کی تقسیم جیسے اقدامات کئے گئے ۔ 
 
 
 

کسانوں کیلئے مرکزی سکیم کی رقوم میں خردبرد | اینٹی کورپشن بیورو نے 2سابق افسرگرفتار کئے 

 سرینگر// انسداد بدعنوانی کے ادارے’اینٹی کورپشن بیورو‘ نے سرکاری رقومات میں مبینہ گھپلا کرنے کی پاداش میں سابق چیف ایگری کلچر افسر بڈگام اور سابق ایگری کلچر ایکسٹینشن افسر بڈگام کو حراست میں لیاہے۔ اینٹی کورپشن بیورو کے بیان کے مطابق تحقیقات کے دوران ایک کیس زیر نمبر2\2018پولیس تھانہ اینٹی کورپشن بیورو کشمیر نے مذکورہ دوسابق افسران کی گرفتاری عمل میں لائی جبکہ کیس پہلے ریاستی ویجی لنس کمیشن میں درج کیا گیا تھا،جس کے بعد بیورو کو کیس کی تحقیقات کا کام سونپا گیا۔ یہ کیس سابق چیف ایگری کلچر افسر بڈگام اور سابق ایگری کلچر ایکسٹینشن افسر بڈگام کے خلاف رقومات میں خرد برد کرنے کے الزام میں درج کیا گیا تھاجبکہ تحقیقات کے دوران بیورو نے پایا کہ بڈگام میں کسانوں کیلئے سال2016-17 میں مرکزی اسکیم کے تحت تربیتی جانکاری کیمپوں کا انعقاد صرف کاغذات پر ہی کیا گیا تھا۔بیورو کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران پتہ چلا کہ اس طرح کے کسی بھی کیمپ کا انعقاد نہیں کیا گیااور سرکاری خزانے سے21لاکھ روپے ان تربیتی کیمپوں پر آئے خرچہ جات کیلئے نکالا گیا تھا جس کے نتیجے میں سرکاری خزانے کونقصانات پہنچا اور رقومات کا خرد برد ہوا۔بیورو کا کہنا ہے کہ تحقیقات کی پیش رفت کیلئے ملزماں کو حراست میں لیا گیا تاکہ سرکاری خزانے کو چونا لگانے کے طریقہ کار کا پتہ لگایا جاسکے۔
 
 
 

تعلیم و تربیت پر مزید توجہ کی ضرورت:انجمن علماء 

سرینگر// انجمن علماء وائمہ مساجدجموں کشمیر کے سیکریٹری مفتی عرفان الامین کے ایک بیان کے مطابق کولگام اور شوپیان اضلاع کے شوریٰ ممبران کے ایک اجلاس میں انجمن کوفعال بنانے کا عزم دہرایا گیا۔بیان کے مطابق دونوں اضلاع میں تحصیل ،بلاک اور دیہی سطح پر انجمن کے یونٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلا س میںانجمن کے تحت مکاتب میں بچوں کی تعلیم وترتیب مزیدمضبوط بنانے پر بھی اتفاق ہوا۔اجلاس کی صدارت انجمن کے شعبہ امور مکاتب کے صدر مولانا قاری طارق احمد( مہتمم مدرسہ شمس العلوم )کیلم نے کی۔اجلاس میں مولانا مبارک احمد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا گیاکہ ملت اسلامیہ جموں وکشمیر کیلئے یہ ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔
 
 
 

لیونڈر کاشتکاروں کی انتظامیہ سے ٹیکنالوجی متعارف کرنے کی اپیل

یو این آئی
جموں// جموں وکشمیر کے پہاڑی اضلاع ڈوڈہ اور کشتواڑ کے لیونڈر (نیاز بو) پھول کاشتکاروں نے یونین ٹریٹری انتظامیہ سے لیونڈر پھولوں کی پیداوار کو بڑھانے کے لئے پالیسیاں مرتب کرنے اور ٹیکنالوجی کو متعارف کرنے کی اپیل کی ہے۔بتادیں کہ لیونڈر پھولوں سے تیل نکالا جاتا ہے جو کاسمیٹک مصنوعات اور کچھ  ادویات تیار کرنے میں بھی استعمال ہوتا ہے۔کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کے اروما مشن کے تحت یہ غیر روایتی کاشتکاری کر کے ہم وزیر اعظم نریندر مودی کے 'آتم نربھر بھارت' کے خواب کو شرمندہ تعبیر کررہے ہیں۔ماہرین کا کہنا کے کہ لیونڈر پھول پودے سال میں ایک بار لگائے جاتے ہیں اور 12 پھر سے15  برسوں تک پھول دیتے ہیں۔محکمہ پھول بانی کے ایک ماہر نے یو این آئی کو بتایا کہ لیونڈر پھولوں کو پوری طرح کھلنے میں 8 سے 12 ماہ لگ جاتے ہیں اور کشتواڑ اور ڈوڈوہ کے علاقے ان کی کاشت کے لئے بہترین ہیں کیونکہ یہاں موسم سرد رہتا ہے جو ان کے لئے موزوں ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ لیونڈر یورپ سے درآمد کیا جاتا ہے اور یہاں پہاڑی علاقوں میں اگایا جاتا ہے۔موصوف نے کہا کہ اگر حکومت اس کی کاشت کی طرف توجہ دے گی تو کاشتکاروں کے لئے بہت فائدہ مند ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ان پھولوں سے ہم یہاں تیل تیار کرتے ہیں جو بازار میں 9 سے 10 ہزار روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ  اگر اس تیل سے مختلف قسموں کے مصنوعات تیار کرنے کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا تو یہ ایک بہت بڑی انڈسٹری بن سکتی ہے جس سے بے شمار لوگوں کو روز گار مل سکتا ہے۔موصوف ماہر نے کہا کہ اس پھول سے شہد بھی بنائی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع ڈوڈہ میں 26 ہیکٹر اور کشتواڑ میں قریب 5 ہیکٹر اراضی پر لیونڈر پھول کاشت کئے جارہے ہیں۔یو این آئی
 
 
 
 

۔97 ہزار مربع میٹر کی ڈریجنگ مکمل | سیکریٹری جنگلات نے وُلر جھیل کے تحفظ کا جائزہ

بانڈی پورہ//کمشنر سیکرٹری محکمہ جنگلات و ماحولیات نے جھیل وُلر کے تحفظ کیلئے وُلر کنزرویشن اینڈ منیجمنٹ اتھارٹی ( ڈبلیو یو سی ایم اے )کی جانب سے زیر تعمیر جھیل ولرُ پر تحفظ کے جاری کاموں کا معائنہ کیا۔ انہوں نے ضلع بانڈی پورہ میں محکمہ جنگلات کی جانب سے کیمپا سکیم کے تحت جاری کاموں کا بھی معائینہ کیا ۔ اُن کے ہمراہ پرنسپل چیف کنزرویٹر فارسٹ اور چیف کنزر ویٹر فارسٹس کشمیر اور ڈپٹی کمشنر بانڈی پورہ تھے ۔ محکمہ جنگلات کے چیف کنزرویٹر /چیف ایگزیکٹو ڈائریکٹر وی یو سی ایم اے نے جھیل کے مختلف حصوں پر جاری ڈریجنگ کے کام کی پیش رفت کے بارے میں انہیں جانکاری دی ۔ وُلر جھیل کی ڈریجنگ کا کام یو ٹی انتظامیہ کی جانب سے وُلر ایکشن پلان کیلئے 200 کروڑ روپے کی منظوری کے بعد بڑے پیمانے پر شروع کیا گیا ہے ۔ جھیل کی ڈریجنگ کے کام کا ٹھیکہ 30 اپریل 2020 کو آر ڈی ایل ۔ زیڈ وائی سی ایچ ایل کو الاٹ کیا گیا تھا ۔ کمپنی نے 31 لاکھ مربع میٹر میں ڈریجنگ کا کام شروع کیا ہے اور اب تک 97 ہزار مربع میٹر کی ڈریجنگ مکمل کی گئی ہے ۔ سی ای ڈی نے کمشنر سیکرٹری کو ملحقہ علاقوں میں تحفظی کاموں اور ماحولیاتی سیاحتی ترقیاتی کاموں پر جاری  پیش رفت کے بارے میں بھی تفصیل دی گئی ۔ کیمپا کے تحت جاری کاموں کا معائینہ کرنے کے دوران انہوں نے بابا شکور الدین کی پہاڑی پر قائم کئے گئے  کیمپاکلوزر کا بھی معائینہ کیا ۔ یہ مقام جنگلی جانوروں کو پناہ گاہ اور مویشیوں کے چارہ کیلئے قائم کیا گیا تھا ۔ اس موقعہ پر کنزرویٹر فارسٹ نارتھ سرکل ، کنزر ویٹر فارسٹ سرینگر سرکل ، ڈی ایف اوز ، کامراز و بانڈی پورہ اور دیگر متعلقہ افسران موجود تھے ۔ 
 
 

پلوامہ میں نعتیہ مشاعرے کا انعقاد

سرینگر//جنوبی کشمیر کی ادبی تنظیم ڈسٹرکٹ کلچرل سوسائٹی پلوامہ کی جانب سے آن لائن نعتیہ مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا جس میں وادی کے اطراف و اکناف سے کئی نامور شعراء نے شرکت کرکے حضورؐکے تئیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ مشاعرے میں معروف شاعر فیاض تلگامی صدرِمحفل کی حیثیت سے شریک رہے جبکہ علی شیدا مہمانِ خصوصی اور جموں سے تعلق رکھنے والے نامور شاعر پریم ناتھ شاد نے مہمانِ ذی وقار کی حیثیت سے شرکت کی۔ سوسائٹی کے صدر غلام رسول مشکور نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا۔ مشاعرے میں عبد الرحمٰن فدا،غلام رسول حر،مجازراجپوری،جلال الدین دلنواز،ڈاکٹر شیدا حسین شیدا،ڈاکٹر شوکت شفا،گل شکیل ترالی ،غلام محمد دلشاد،تاج النساء،غلام محمد جنگل ناڑی،پریم ناتھ شاد ،جی آر مشکور،علی شیدا،غلام حسن ،شمس سلیم، پیرزادہ اعجاز شاہ،سید رشید جوہر ،بلال قیصر،مصروف خلیل اورمشتاق احمد مشتاق شامل رہے۔
 
 

مظفر احمد وانی کی والدہ کے اِنتقال پر اظہارِ رنج

سرینگر//محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی پی آر) نے محکمہ کے ریٹائرڈ ملازم مظفر احمد وانی کی والدہ کے اِنتقال پر دلّی رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔اس سلسلے میں محکمہ کے اَفسران اور ملازمین کی ایک تعزیتی میٹنگ سنیچر کو یہاں منعقد ہوئی جس میں مظفر احمد وانی  کے ساتھ اِظہارِ ہمدردی کیا گیا۔ میٹنگ میں مرحومہ کی روح کے دائمی سکون اور سوگوارکنبے کو ناقابل تلافی نقصان برداشت کرنے کی دعا کی گئی۔
 
 

ملک نیوز ایجنسی کا اظہار تعزیت

سرینگر// ملک نیوز ایجنسی آرونی نے بمنہ ڈگری کالج کے پروفیسر شاہجاں احمد وانی ساکن آرونی حال سرینگر کی والدہ کے انتقال پر رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور غمزدہ خاندان کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحومہ کی جنت نشینی کیلئے دعا کی ہے۔ ملک نیوز ایجنسی کے مطابق موصوفہ انتہائی شریف اور نیک سیرت تھیں۔
 

سائبر جرائم کے بارے میں ایڈوائزری جاری | آن لائن ادائیگی میں احتیاط برتنے کی ہدایت 

سرینگر// مرکزی وزارت داخلہ نے سائبر جرائم سے متعلق ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے صارفین کو اپیلی کیشنوں سے کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈوں کے ذریعے کرایہ کی ادائیگی سے متعلق جعلسازی پر خبردار کیاہے۔وزارت داخلہ کے انڈین سائبر کرائم کارڈی نیشن سینٹر نے سائبر جرائم اطلاعات84 کے تحت لوگوں کو مطلع کیا کہ آن لائن طریقہ کار سے اپیلی کیشنوں کے ذریعے کرایہ کی ادائیگی کے دوران ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈوں کا استعمال کرنے میں سائبر جرائم کا نیا رجحان پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ’’ نو بروکر پے،کریڈ،رینٹ پیمنٹ‘‘ جیسی کرایوں کی ادائیگی اپیلی کیشنوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جبکہ ان اپلی کیشنوں کے ذریعے کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈوں کا استعمال کرتے ہوئے مالکان مکان کو کرایوں کی ادائیگی کی جاسکتی ہے تاہم ان اپیلی کیشنوں کو کچھ جعلساز استعمال کرکے مالی جعلسازی کرنے میں مصروف ہے۔ جموں کشمیر پولیس نے سائبر جرائم کے رجحان میں اضافہ کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ سائبر جرم کے کسی بھی معاملے میں نزدیکی پولیس تھانے،سائیبر پولیس اسٹیشن یا متعلقہ ضلع پولیس کنٹرول روم سے معاونت حاصل کرنے کے علاوہ شکایتوں کا اندراج کیا جاسکتا ہے۔
 
 
 

 بٹھناگر نے صحت شعبے کی صورتحال کا جائیزہ لیا 

ٹیسٹوں میں سرعت اورپابندیوں کو سختی سے لاگو کرنے پر زو ر

سرینگر//لفٹینٹ گورنر کے مشیر راجیو رائے بٹھناگر نے دائمی امراض میں مبتلاء افراد اور ریڈ زون علاقوں میں کووڈ 19 ٹیسٹوں میں سرعت لانے اور کنٹین منٹ زونوں میں پابندیوں کو سختی سے لاگو کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تا کہ جموں کشمیر میں کووڈ 19 کی وباء کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے ۔ مشیر نے اس کا اظہار سول سیکرٹریٹ میں کووڈ 19 وباء سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی جائیزہ میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے کیا ۔ میٹنگ میں فائنانشل کمشنر صحت و طبی تعلیم ، پرنسپل سیکرٹری مکانات و شہری ترقی ، محکمہ صحت کشمیر کے نمائندے اور دیگر متعلقہ افسروں نے شرکت کی جبکہ ڈپٹی کمشنران ، مشن ڈائریکٹر قومی صحت مشن ، ڈائریکٹر محکمہ صحت جموں اور یو ٹی کے تمام سی ایم اوز نے میٹنگ میں بذریعہ ویڈیو کانسنگ شرکت کی ۔ اس موقعہ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مشیر نے ڈپٹی کمشنروں کو ریڈ زون علاقوں ، دایمی امراض میں مبتلاء افراد اور حاملہ خواتین کی ٹیسٹنگ کیلئے تیز تر مہم شروع کرنے کیلئے کہا۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنروں کو اپنے متعلقہ اضلاع میں صحت سہولیات کو توسیع دینے کیلئے کہا تا کہ جن لوگوں میںکووڈ 19 علامات ظاہر ہو جائیں انہیں فوری طور علاج و معالجے کی سہولت فراہم کی جاسکے ۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو رابطوں کی تلاش اور نگرانی میں سرعت لانے کیلئے کہا تا کہ اس وباء کی منتقلی کے واقعات میں کمی لائی جاسکے ۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنروں کو ریڈ زون علاقوں میں نمونے حاصل کرنے میں سرعت لانے کی ہدایت دی اور مثبت معاملات کے رابطوں کی تلاش میں بھی تیزی لانے کیلئے کہا ۔ مشیر نے ڈپٹی کمشنروں کو علامات ظاہر ہونے کی صورت میں لوگوں کو خود ہی سامنے آ کر ٹیسٹنگ کیلئے خود کو پیش کرنے کی جانب راغب کرنے کیلئے بھی کہا ۔اس موقعہ پر فائنانشل کمشنر صحت و طبی تعلیم نے ڈپٹی کمشنروں اور دیگر متعلقہ حکام کو سواستھ ندھی اپلیکیشن کا بہتر استعمال کر نے کیلئے کہا تا کہ کووڈ 19 سے متعلق عداد و شمار موثر طریقہ سے حاصل کئے جا سکیں ۔
 
 
 
 
 

کوڈ ہسپتالوںمیں مریضوں کو رکھنے کی گنجائش تقریباً ختم | باغات اور پارکوں کو کھولنا بلاجواز: حکیم 

سرینگر// پی ڈی ایف چیئرمین حکیم یاسین نے وادی با لخصوص سرینگرمیں کورونا وائرس کے کیسوں میں اضافے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لاک ڈائون کی بندشوں میں نرمی پر ماہرین صحت کو اعتماد میں لیا جانا چاہے۔ انہوںنے کہا کہ کورونا وائرس کے پھیلائو میں تیزی آئی ہے جبکہ سرینگر میں اب تک اس وبائی بیماری سے سب سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ کی بنیادوں پر وادی میں کورونا وائرس کے شکار ہونے والے لوگوں کی شرح نے250 ہندسے کو بھی عبور کیاجبکہ کوڈ اسپتالوں میں اب مریضوں کو رکھنے کی گنجائش بھی تقریباًختم ہوچکی ہے۔انہوں نے سرکار کو موشورہ دیاکہ وہ کورونا وائرس کے پھیلائو میں تیزی کی صورتحال کا جائزہ لے اور ماہرین صحت کو اعتماد میں لئے بغیر لاک ڈائون کی بندشوں میں نرمی نہ کریں۔حکیم یاسین نے کہا کہ بندشوں میں نرمی سے روزگار کے حصول کا فیصلہ اگرچہ منطقی ہے تاہم باغات اور پارکوں کو کھولنے کا کوئی بھی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمومی سوچ ہے کہ وادی میں اس مہلک بیماری کی روکتھام کیلئے ایک اور لاک ڈائون لازمی ہے۔انہوںنے لوگوں کو بھی مورود الزام ٹھراتے ہوئے کہا کہ  تجاویز اور سفارشات کے علاوہ ضوابط کو پس پردہ رکھنا لوگوں کی عادت بن چکی ہے،جو کہ کرونا وائرس کے کیسوں میں اضافے کا ایک سبب ہے۔حکیم نے کہا کہ حکومت کو چاہے کہ وہ سختی کے ساتھ صحت سے متعلق سفارشات اور ضوابط پر عمل پیرا ہوں۔ انہوں نے لوگوں کو بھی مشورہ دیا کہ وہ احتیاط سے کام لیں اور اپنی جانوں کو خطرے میں نہ دالے۔انہوں نے کہا’’ اگر صورتحال کو قابو میں نہیں لایا گیا تو لوگوں کو دونوں مالی اور جانی نقصانات کا خمیازہ اٹھانا پرے گا‘‘۔ حکیم یاسین نے مرکزی زیر انتظام والے علاقے کی انتظامیہ کو سوالیہ انداز میں پوچھا کہ سالانہ امرناتھ یاترا کو اجازت دینے کا منطق سمجھ سے باہر ہے جبکہ کئی سڑکوں پر یاترا سے بھیڑ جمع ہوتی ہے اور یہ کرونا وائرس کے پھیلائو کا سبب بن سکتا ہے‘‘۔
 
 

 اموات میں اضافہ | دوبارہ لاک ڈائون فیصلے کی حمایت کی جائیگی: یاسین خان 

سرینگر//کشمیر ٹریڈرز اینڈ مینوفیکچررز فیڈریشن کے ایک دھڑے کے صدر محمد یاسین خان نے کہا کہ کورونا وائرس کے مثبت معاملات اور اموات میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے اگر حکومت دوبارہ لاک ڈائون نافذ کرتی ہے تو اس فیصلہ کی حمایت کی جائیگی۔ انہوںنے کہاــ’’ابھی تک میری طرف سے کوئی ایسی کوئی تجویز نہیں ہے بلکہ اگر حکومت ماہرین صحت کے مشورے کے مطابق لاک ڈاؤن کو دوبارہ نافذ کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو ہم حکومت کے اس فیصلے  پر عمل کریں گے۔‘‘یاسین خان نے کہا کہ زندگی پہلے آتی ہے پھر کاروبار۔ انہوںنے کہاکہ ’’ ہمیں پہلے جان بچانے کی ضرورت ہے، اگر ہم زندہ رہیں گے ، تب ہی کاروبار ہوگا،اس لئے سرکاری فیصلے کا انتظار کرنا ہو گا‘‘۔انہوں نے کہا کہ ماہر معالج ڈاکٹر نثار الحسن نے مشورہ دیا ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لئے کم از کم دو ہفتوں کے لئے دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کیا جانا چاہئے اوراگر ایسا ہوگا تو ہم حکومت کے فیصلے کی حمایت کریں گے۔‘‘
 
 
 
 

گھریلو پروازو ں کے ذریعہ 3,062مسافر لوٹے 

 جموں//جموں وکشمیر یونین ٹریٹری میں گھریلو پروازوں کے دوبار ہ چالوہونے کے48واں دِن 3,062مسافروں کو لے کر 23 پروازیں جموں اور سری نگر ہوائی اڈے پر اتریں ۔876مسافروں سمیت08کمرشل پروازیں جموں ہوائی اڈے اور 2,186مسافروں کو لے کر15 پروازیں آج سری نگر کے ہوائی اڈے پر اتریں۔واضح رہے کہ25؍ مئی سے اب تک جموں ایئر پورٹ پر 341گھریلو پروازیں اتری ہیں جن میں 25,224مسافروں نے سفر کیا ۔ اسی طرح سری نگر ائیر پورٹ پر559 گھریلو پروازیںاتریں ہیں جن میں72,129مسافروں نے سفر کیا ہے۔نیز جموں وکشمیر حکومت نے عالمی وبا کے پیش نظر اب تک متعدد ممالک سے تقریبا 3,103مسافروں کو خصوصی انخلأ پروازوں کے ذریعے جموںوکشمیر یوٹی میں واپس لایا ہے۔ہوائی اڈے پر اُترتے ہی تمام مسافروں کا کووِڈ۔19ٹیسٹ کیا گیا اوردونوں ہوائی اڈوں سے  اپنے منازل کی طرف تما م احتیاطی تدابیر پر عمل پیر ا رہ کر روانہ کئے گئے۔حکومت نے ہوائی پروازوں کے ذریعے یوٹی میں وارِد ہونے والے تمام مسافروں کی آمد سکریننگ نمونے لینے اور قرنطین مراکز کی طرف لے جانے کے لئے معقول ٹرانسپورٹ اِنتظامات کئے گئے ہیں اور اِس دوران مرکزی  شہری ہوا بازی اور صحت و خاندانی بہبود کی مرکزی وزارتوں کی جانب سے مقرر کئے گئے رہنما خطوط اور ایس او پیز کا خاص خیال رکھا جارہا ہے۔
 
 
 
 
 

2,08,309درماندہ شہریوں کی واپسی

 جموں//حکومت جموں وکشمیر نے کووِڈلاک ڈاون کے سبب ملک کے مختلف حصوں میں درماندہ جموںوکشمیر کے 2,08,309شہریوں کو براستہ لکھن پور اور کووِڈخصوصی ریل گاڑیوں اور بسوں کے ذریعے تمام رہنما خطوط اور ایس او پیز پر عمل پیرا رہ کر یوٹی واپس لایا۔سرکاری اعداد و شما ر کے مطابق جموںوکشمیر کے مختلف اَضلاع کی اِنتظامیہ نے ملک کی مختلف ریاستوں اور یوٹیز سے 66,395 درماندہ مسافروں کو لے کر جبکہ براستہ لکھن پور1,41,914افراد کو حکومت نے80کووِڈ خصوصی ریل گاڑیوںکے ذریعے اودھمپو ر اور جموں ریلوے سٹیشوں پر خیرمقدم کیا ۔حکومت نے لکھن پور کے ذریعے اب تک بیرون ملک سے823مسافرو ں کویوٹی واپس لایا ہے ۔اِس طرح جموںوکشمیر حکومت نے اب تک 80 کووِڈ خصوصی ریل گاڑیوں اور براستہ لکھن پور بسو ںکے کاروان میں اب تک بیرون یوٹی درماندہ 2,08,309شہریو ں کو کووڈِ۔19 وَبا سے متعلق تمام احتیاطی تدابیر کو مد نظر رکھ کر واپس لایا گیا۔تفصیلات کے مطابق 10؍ جولائی سے 11؍ جولائی 2020ء کی صبح تک لکھن پور کے راستے سے1,730 درماندہ مسافریوٹی میں داخل ہوئے جبکہ 976مسافر آج 59ویں دلّی کووِڈ خصوصی ریل گاڑی سے جموں پہنچے ۔اَب تک 59ریل گاڑیاں یوٹی کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے50,699درماندہ مسافر جموں پہنچے جبکہ 21خصوصی ریل گاڑیوں سے 15,696مسافر اودھمپور ریلوے سٹیشن پر اُترے۔
 
 

تازہ ترین