تازہ ترین

غربت

کہانی

تاریخ    12 جولائی 2020 (30 : 01 AM)   


شاہینہ یوسف
بچپن میں آصفہ سے یوں تو ہر خوشی نے جیسے ناطہ ہی توڑ دیا تھا اور اب اس کی طبیعت بھی ایسی ہی بن گئی تھی کہ وہ روتے روتے کبھی ہنس دیا کرتی اور ہنستے وقت اُس کی آنکھیں اشک بار ہو اکرتیں ۔قدرت کی تقسیم کاری سے یوں تو کسی کو بھی اختلاف نہیں لیکن پھر بھی آصفہ کبھی کبھار اپنے رب سے اپنی بے بسی اور اپنی غربت پر سوال کیا کرتیں ۔رب کی تقسیم کاری سے یوں تو حاسدوں کو ہی اختلاف رہتا ہے لیکن میرے خیال میں اتنا نیک اس دنیا میں کوئی نہیں جو اپنے دل میں کبھی نہ کبھی اس طرح کا وسوسہ نہ پالے ۔آج آصفہ کی سہیلی نے حسب ِ معمول نہایت خوبصورت پوشاک پہنی تھی اور آصفہ وہی پرانے کپڑے جو وہ کئی عیدوں پر پہن چکی تھی اور جس کے متعلق وہ کئی بار اپنی ماں سے کہہ چکی  تھی ’’ماں نجمہ ہر عید پر نئے کپڑے پہنتی ہے ،کیا اس کے والدین اتنے اچھے ہیں جو اُسے ہر تہوار پر نئے کپڑے پہننے کو دیتے ہیں یا نجمہ اتنی نیک ہے جو اس کی ہر دعا قبول ہوتی ہے۔‘‘شادی بیا ہ کی تقاریب کے مواقع پر آصفہ لطف اندوز ہونے کی بجائے یہی سوچتی رہتی کہ خدا ہمارا خیا ل کیوں نہیں رکھتا ۔سب بچوں کے پاس خوبصورت کپڑے ہوتے ہیں لیکن ہمارے ہی گھر میں اتنی غربت کیوں ۔آصفہ کی والدہ کے لیے یہ سوال کسی نیزے سے کم نہ ہوتے لیکن وقت شاید ہر زخم کا مداوا ہوتا ہے ۔ایسا ہی آصفہ کے ساتھ بھی یہی ہوا ۔وقت گزرتا گیا آصفہ نے اب بچپن کو خیر باد کہہ کر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا  ۔اب اُ سے ایک اچھی سرکاری نوکری بھی مل گئی اوراس طرح اگر چہ وہ غربت زدہ زندگی کو خیر باد کہہ چکی تھی لیکن اس کی رگ رگ میں اس غربت کی نشانیاں پیوست تھیں ۔شایدکچھ چیزیں چاہ کر بھی انسان تبدیل نہیں کر سکتا ۔جیسے آصفہ کی بچپن کی سہیلی بھی ابھی تک اس کے نزدیک بالکل ویسی ہی خاص تھی، جیسے بچپن میں تھی ۔یعنی وہ بچپن کی طرح اب بھی اپنے خالی اوقات میں اس کے ساتھ گھومنے جاتی۔آج بھی آصفہ  اپنی والدہ سے کہہ کر آئی تھی کہ وہ نجمہ کے ساتھ سیر و تفریح کے لیے جارہی ہے لہٰذا وہ کھانے کا انتظار نہ کریں ۔آصفہ کی والدہ اپنی بیٹی کو کبھی بھی نہ روکتی اور بھلا روکتی بھی کیوں ؟آصفہ نے کبھی بھی اپنی والدہ کو شکایت کا موقع نہ دیا تھا۔  وہ بچپن سے ہی اس قدر حساس تھی کہ کسی اجنبی پر ذرا بھی بھروسہ نہ کرتی۔ وہ صرف چند ہی لوگوں کے سامنے کھل جاتی۔ایسی اولاد، جن کی پرورش میں انہیں چنداں محنت بھی نہیں کرنی پڑتی،اللہ نصیب والوں کو ہی نصیب فرماتا ہے .
آصفہ باغ کے دلفریب مناظر لطف اندوز ہونے لگی۔ وہاں پر بہت سارے بچے جمع تھے۔سے کئی بچے بے جھولے پر جھول رہے تھے تو کئی ایک دوسرے کے تعاقب میں دوڑ رہے تھے ،چند ایک باتوں میں مگن تھے۔یہ مناظر دیکھ کر وہ جیسے بچوں کی ہی دنیا میں کھو گئی ۔آج وہ شاید پہلی بار اپنی سہیلی کو بھول ہی بیٹھی اور ان کم سن کلیوں کی دنیا میں ہی مگن ہوگئی۔ انسان کی زندگی میں اس طرح کے مواقع شاید بہت ہی کم آتے ہیں جب وہ اُسی طرح کا سکون حاصل کرتا ہے ، جسکے خواب اُس نے دیکھے ہوئے ہیں۔ آصفہ بھی بچوں کی باتوں میں کھو کر ایسا ہی سکون محسوس کر رہی تھی اور ان بچوں میں سے اپنا بچپن نظر آرہا تھا ۔ساتھ ہی ساتھ اسے وہ غربت بھی یاد آرہی تھی جو اس کے بچپن میں اس کا مقدر تھی۔ان بچوں کے علاوہ آصفہ کو باغ سے باہر ایک بچہ نظر آیا اور شاید یہی وہ بچہ تھا جس سے اگر آصفہ کے بچپن کی پرچھائی کہا جایے تو غلط نہ ہوگا کیوں کہ یہ بچہ بھی آصفہ کی ہی طرح حالات سے مجبور ہو کر اپنی خواہشات کا خون ہوتے دیکھ رہا تھا ۔اس بچے کی عمر بھی باغ میں موجود باقی بچوں کے ہی برابر یعنی دس سال کے قریب تھی ۔
یہ بچہ بار بار اپنی والدہ سے یہ اصرار کر رہا تھا کہ وہ باغ کے اندر کب جائیں گے ۔ساتھ ہی ساتھ یہ کمسن اپنی والدہ سے کھلونے لانے کے لئے بھی کہہ رہاتھا’’ماں تم روز کہتی ہو کہ میں کل کھلونا لاؤں گی تو کب لاؤ گی؟ ۔۔۔۔جب میں بڑا ہوجاؤں گا۔۔۔۔۔‘‘۔ اپنی لختِ جگر کی یہ سب باتیں سن کر اس کی والدہ کی آنکھوں سے اشک اس قدر بہنے لگے کہ آصفہ سے رہا نہ گیا اور اس نے اس عورت کو آواز دے کر کہا کہ ’’میڈم جی رکئے، مجھے آپ سے بات کرنی ہے‘‘۔آصفہ جوں ہی اس عورت اور بچے سے ملنے کے لیے باغ سے باہر نکلیں تو یہ عورت اس کی آنکھوں سے اُوجھل ہونے لگی۔آصفہ نے چندکھلونے خرید ے اور اس بچے کے پیچھے گئی ۔جوں ہی آصفہ نے یہ کھلونے اس بچے کو دینے چاہے تو اس کی والدہ نے اپنے بچے کو وہ کھلونے لینے سے منع کر دیا ۔’’میم صاحب، میرا بچہ نہایت معصوم ہے۔ میں نہیں چاہتی کہ کل کو یہ اس طرح کی تصویر دیکھے، جس میں یہ کسی اجنبی سے بھیک لیتا ہوا نظر آئے۔میں اس وقت اپنے بچے کے سوالات کا جواب تو دے سکتی ہوں لیکن اس وقت شاید میرے پاس کہنے کو کچھ نہ ہو ‘‘۔میم صاحب کہاں گئے آپ کی ٹیم کے باقی لوگ ،کہاں ہے کیمرہ مین جس کو آپ نے یہ کہا ہو گا کہ جب آپ میرے بچے کی مدد کریں گی تب فو ٹو اٹھالینااور اخبار میں ڈال دینا ۔
آصفہ ابھی تک اس سب سے بالکل ہی انجان تھی ۔وہ اس بچے کی معصومیت میں اس قدر کھو چکی تھی کہ اُسے ابھی تلک بچے کی والدہ کا کوئی بھی لفظ سمجھ نہیں آرہا تھا ۔اس کی آنکھیں تب کھل گئیں جب نجمہ نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے اسے باغ کے اندر واپس جانے کو کہا ۔وہ نجمہ کو دیکھ کے حیران ہوگئی اور اس کی باتوں نے اسے اور بھی حیران کر دیا ۔آصفہ نے جوں ہی سب معاملے پہ غورو فکر کیا تواس کی آنکھوں سے بے تحاشا آنسو بہنے لگے ۔نجمہ اس کا ہاتھ کھینچ کر اس سے کہہ رہی تھی کہ چلو واپس انہیں تمہاری ہمدردی کی کوئی ضرورت نہیں ۔ان لوگوں کو شاید اس بات کا علم نہیں کہ ابھی بھی اس دنیا میں کچھ لوگ ایسے موجود ہیں جو صلے کی پروا کیے بغیرمحض اپنے اللہ کی خوشنودی کے لیے دوسروں کے دکھوں کا مداوا کرنا چاہتے ہیں۔آصفہ گھر پہنچ کر اس واقع پر نہ چاہتے ہوئے بھی غور کر رہی تھی اور اسے بار بار اس عورت کے وہ الفاظ یاد آرہے تھے جو اس سے سکون سے سونے نہیں دیتے ۔آصفہ نے اگر چہ اس عورت کے سامنے زبان نہ کھولی لیکن اس وقت وہ خود سے کہہ رہی تھی کہ مجھے ا س بچے کا فوٹو نہیں اٹھانا ۔۔۔میں تو اس بچے کی مدد اس لیے کرنا چاہتی ہوں کیوں کہ میں خود اس دور سے گزر چکی ہوں ،میں نے خود اس بچے کی طرح اپنی ادھوری خواہشوں کو مرتے دیکھا ہے، میںنے بھی غربت زدہ زندگی گزاری ہے ۔۔میں ۔۔۔میں نہیں چاہتی کہ کوئی اور بچہ میری طرح اپنے کھلونوں کے لیے ترس جائے۔۔۔۔۔میں تو اس بچے کی خوشی چاہتی تھی اور تو اور کچھ بھی نہیں۔۔۔۔
���
بارہمولہ ، کشمیر،ریسیرچ اسکالر شعبہ اردو سینٹرل یونی ور سٹی آف کشمیر ،ای میل؛shaheenayusuf44@gmail.com
 

تازہ ترین