تازہ ترین

امریکہ کی سپریم کورٹ کا فیصلہ | اوکلاہوما ریاست کا نصف حصہ قدیم باشندوں کی ملکیت

تاریخ    11 جولائی 2020 (45 : 02 AM)   


نیوز ڈیسک
امریکہ کی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ امریکی ریاست اوکلاہوما کا نصف سے زیادہ علاقہ ’نیٹیو امریکنز‘ یعنی ایسے افراد کی ملکیت ہے جن کی آبائی سرزمین امریکہ ہے۔اس فیصلے کے ساتھ ہی ایک نابالغ بچی کو ریپ کرنے کے جرم میں سزا یافتہ نیٹیو امریکی شخص کی سزا بھی ختم ہو گئی ہے۔نو ججوں پر مشتمل ایک بینچ نے چار کے مقابلے میں پانچ ووٹ سے یہ فیصلہ سنایا جس کے مطابق ریاست کا دوسرا سب سے بڑا شہر ٹلسا بھی اب ان مقامی افراد کی ملکیت ہوگا۔جمسی میکگرٹ نامی مقامی شخص کو سنہ 1997 میں ایک بچی کو ریپ کرنے کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی۔ انھوں نے سزا کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔اپنی اپیل میں جمسی نے نیٹو امریکی قبیلے ’مسکوگی نیشن‘ کے دعوؤں کا حوالے دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ واقعہ اس جگہ پیش آیا جو نیٹو امریکیوں کی ملکیت ہے۔جمعرات کو سنائے گئے فیصلے کو ملک کی حالیہ دہائیوں میں دیے جانے والے بڑے فیصلوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ وہ قبائلی باشندے جنھیں مختلف جرائم کے تحت ریاستی عدالتوں سے سزائیں ملی ہیں وہ ان کو چیلنج کر سکتے ہیں۔ تاہم فیصلہ صرف اسی وقت چیلنج ہو سکے گا اگر جرم اس زمین پر ہوا ہے جہاں کی ملکیت کا فیصلہ سپریم کورٹ نے اب کیا ہے۔اس صورت میں اب صرف وفاقی حکام کے پاس یہ حق ہے کہ وہ ایسے علاقوں میں ہونے والے جرائم کے خلاف نیٹیو امریکیوں پر مقدمہ چلائیں۔