تازہ ترین

گینگسٹر وکاس دوبے پولیس مقابلے میں مارا گیا

تاریخ    11 جولائی 2020 (45 : 02 AM)   


کانپور// اترپردیش کے کانپورمیں آٹھ پولیس اہلکاروں کو قتل کرنے کا کلیدی ملزم وکاس دوبے جمعہ کی صبح بھونتی علاقے کے قریب پولیس مقابلے میں مارا گیا۔سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ دنیش کمار پی نے پریس کے نمائندوں کو بتایا کہ وکاس کو جمعرات کے روز اجین کے مہاکل علاقے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ سیکورٹی فورسز اسے ٹرانزٹ ریمانڈ پر کانپور لا رہے تھے کہ بھونتی علاقہ کے قریب گاڑی الٹ گئی ، جس سے پولیس اور ایس ٹی ایف کے چار اہلکار زخمی ہوگئے ۔انہوں نے بتایا کہ جیسے ہی سیکورٹی اہلکار زخمی ہوئے وکاس نے ایک سیکورٹی اہلکار کی پستول لے کر فرار ہونے کی کوشش کی۔ پولیس ٹیم نے اسے گھیر لیا اور اسے ہتھیار ڈالنے کو کہا لیکن وہ نہیں ماناا اور پولیس ٹیم کو جان سے مارنے کی نیت سے فائر کرنے لگا ۔ پولیس نے اپنی دفاع میں جوابی فائر نگ کی ، جس میں وکاس زخمی ہوگیا۔ اسے فوری طور پر لالہ لاجپت رائے اسپتال پہنچایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے دوران علاج اسے مردہ قرار دے دیا۔ذرائع نے بتایا کہ وکاس کو لے جانے والی گاڑی صبح تقریباً 6.30 بجے سنچیڈی علاقے باراجوڑ ٹول پلازہ سے گزری ، جس کے پیچھے میڈیا والوں کی گاڑیاں تھیں جنھیں ٹول پلازہ کے قریب چیکنگ کے نام پرروکا گیا۔خیال رہے 2 جولائی کی شب کانپور کے چوبے پور کے گاؤں بیکرو میں وکاس دوبے اور اس کے ساتھیوں نے آٹھ پولیس اہلکاروں کو گولی مار کر موت کے گھاٹ اتاردیا تھا۔ اس سلسلہ میں پولیس اب تک وکاس کے پانچ ساتھیوں کو ڈھیر کر چکی ہے ۔ وکاس کو گزشتہ روز اجین کے مہاکالیشور مندر سے ڈرامائی انداز میں گرفتار کیا گیاتھا۔ 
 

پولیس انکاونٹر پر اپوزیشن کا سوالیہ؟ 

لکھنؤ//اپوزیشن نے وکاس دوبے کی موت پر سوال اٹھاتے ہوئے حکومت پر حملہ کرنا شروع کردیا ہے ۔انکاؤنٹر کو فرضی قرار دیتے ہوئے سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے صدر اکھلیش یادو نے ٹوئٹ کیا‘‘دراصل یہ کارنہیں الٹی ہے ، راز کھلنے سے سرکار پلٹنے سے بچائی گئی ہے ۔’’دوسری جانب سہیلدیو بھارتیہ سماج پارٹی (ایس ڈی بی ایس پی ) کے صدراوم پرکاش راج بھرنے ٹوئٹ کیا‘‘جس کا تھا اندیشہ وہی ہوگیا، کانپور سانحہ کے کلیدی ملزم وکاس دوبے اگرمنہ کھولتا توکئی بڑے لیڈراورافسر نہیں رہتے اپنا منہ دکھانے کے لائق ! کوئی بڑا شخص ہے اس کے پیچھے جو نہیں چاہتاتھا کہ وکاس دوبے مجسٹریٹ کے سامنے سچ بتائے ، اس سے پہلے بند کردی گئی وہ زبان’’۔ادھرکانگریس کی جنرل سکریٹری اور اترپردیش کی انچارج پرینکا گاندھی واڈرا نے یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کو نشانہ بنایا اور سوال کیا کہ مجرم کا تو خاتمہ ہوگیا لیکن اس کے جرائم کو تحفظ دینے والوں کا کیا ہورہا ہے جو اس کے جرائم کی حفاظت کرتے ہیں؟مسز واڈرا نے ٹوئٹ کیا‘‘مجرم کا خاتمہ ہوگیا، جرائم اور اس کو تحفظ دینے والے لوگوں کا کیا’’۔ کانگریس کے شعبہ مواصلات کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے کہا ‘‘وکاس دوبے انکاؤنٹر میں مارا گیا۔کئی لوگوں نے پہلے ہی خدشہ ظاہر کیا تھا لیکن بہت سارے سوالات چھوٹ گئے ہیں’’۔انہوں نے اس سلسلے میں حکومت سے پوچھا ‘‘اگر اسے بھاگناہی تھا تو اجین میں سرینڈرکیوں کیا ۔
 

 حقوق انسانی کمیشن میں شکایت درج

لکھن// مبینہ انکاونٹر میں مارے گئے وکاس دوبے کے معاملے میں پولیس کے طرز عمل کی قومی انسانی حقوق کمیشن سے شکایت کی گئی ہے ۔سماجی کارکن ڈاکٹر نوتن ٹھاکر نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ وکاس دوبے کا عمل کافی سنگین تھا لیکن جس طرح سے پولیس نے اس کے بعد غیر قانونی کام کئے ہیں وہ بھی کافی شرمناک ہیں۔انہوں نے کہا کہ الزام ہے کہ وکاس کے ماما پریم پرکاس پانڈے اور اتل دوبے کو گاؤں میں مارا گیا ہے جبکہ وہ مبینہ طور سے اس بہیمانہ واردات میں شریک نہیں تھے اس لئے بے فکری مین گاؤں میں ہی ٹھہرے ہوئے تھے اور کہیں فرار نہیں ہوئے ۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح سے وکاس کے ساتھی پربھات مشرا اور پروین دوبے اور اب خود وکاس کو بھاری پولیس کی موجودگی میں مارا جانا کسی کو قابل قبول نہیں لگ رہا ہے ۔ 
 

’مرے ہوئے لوگ کوئی کہانی نہیں سناتے‘:عمر عبداللہ

سری نگر// نیشنل کانفرنس کے نائب صدر و سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے گینگسٹر وکاس دوبے کی ہلاکت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'مرے ہوئے لوگ کوئی کہانی نہیں سناتے ہیں'۔ان کا بظاہر کہنا تھا کہ وکاس دوبے کئی بڑے لوگوں کے راز جانتے تھے اور ان کی ہلاکت کے ساتھ وہ راز بھی دفن ہوگئے ہیں۔ادھر جموں وکشمیر پولیس کے سابق سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ اترپردیش کی پولیس کریڈٹ کی مستحق ہے کیونکہ اس نے وکاس دوبے کو فرار ہونے میں کامیاب نہیں ہونے دیا۔ ان کا ٹویٹ میں کہنا تھا: 'یو پی پولیس کے مطابق بدنام زمانہ مجرم اور کانپور یو پی کے گینگسٹر وکاس دوبے کو جمعے کی صبح ایک تصادم میں مارا گیا۔ 
 

 سپریم کورٹ کی نگرانی میں جانچ کرائی جائے :مایاوتی

لکھنؤ//بہوجن سماج پارٹی(بی ایس پی) سپریمومایاوتی نے کہا'کانپور پولیس اہلکاروں کے قتل کی واردات اور اس کے کلیدی ملزم وکاس دوبے کو مدھیہ پردیش سے کانپور لاتے وقت پولیس کی گاڑی کے پلٹنے و اس کے فرار ہونے کی کوشش کرنے پر یوپی پولیس کی جانب سے اسے جان سے ماردینے وغیرہ کے پورے معاملے کی جانچ سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہونی چاہے ۔انہوں نے کہا کہ'یہ اعلی سطحی جانچ اس لئے بھی ضروری ہے تاکہ کانپور سانحہ میںہلاک ہوئے 8پولیس اہلکار کے اہل خانہ کو انصاف مل سکے ۔ ساتھ ہی پولیس اور کریمنل سیاسی عناصر کے خفیہ تال میل کی بھی شناخت کر کے انہیں بھی سخت سزا دلائی جاسکے ۔
 

تازہ ترین