کیرالہ کی چیرامن جامع مسجد

برصغیر کی قدیم ترین اور بھارت کی پہلی مسجد

تاریخ    10 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


ارشاد احمد حجام
آج سے تقریباً ساڑھے چودہ سو سال قبل جب نبی آخر الزمان حضرت محمدؐ نے عرب کی سرِ زمین پر ، جو ہر لحاظ سے گمراہی، جہالت،تکبر اور دیگر خرافات میں مکمل طور پر ڈوب چکی تھی، وہاں دینِ حق قائم کرکے عرب میں کیا بلکہ پورے عالم میں خوشگوار انقلاب لایا، جس سے لوگوں کی حالت ہی بدل گئی۔چونکہ اہلِ عرب کو حق کی بات سمجھانا نہایت دشوار تھا ، لہٰذا اس میں کافی محنت درکار تھی۔آخر کار ہمارے پیارے نبی ؐ
نے ان تھک محنت کرکے عرب کے لوگوں کو راہِ راست پر لایا ،جس کیلئے آپ کو بے شمار تکالیف سینے پڑے۔
اسلام کی اشاعت میں مساجد کی بڑی اہمیت ہے،کیونکہ یہ نہ صرف عبادات کا مرکز ہوتی ہے ،بلکہ یہ مسلمانوں کی انفرادی و اجتماعی زندگی کا ایسا مرکز و محور ہے، جہاں سے ان کی تمام مذہبی، اخلاقی،اصلاحی ،تعلیمی و تمدنی، ثقافتی وتہذیبی،سیاسی اور اجتماعی امور کی رہنمائی ہوتی ہے۔اْس دور میں مسلمانوں کے تمام معاملات مسجد ہی میں سر انجام دیے جاتے تھے۔چنانچہ حضور اکرم ؐصحابہ کرام ؓ کے زمانے میں مسجد کی حیثیت درالخلافہ سے لے کر غربا و مساکین کی قیام تک کی تھی۔لفظ مسجد دراصل "سجد" سے نکلا ہے جس کے لفظی معنی ہیں خشوع و خضوع کے ساتھ سر جھکانہ۔اصطلاح میں مسجد اس مقام کو کہتے ہیں جہاں مسلمان بغیرِ روک ٹوک کے اللہ کی عبادت کر سکیں۔
اسلام کے ابتدائی دور میں حضرت محمد عربی ؐ نے جب لوگوں کو دعوتِ حق دی اور پھر اْن کی بہترین تربیت کی۔اس کے بعد بہت سارے صحابہ ؓ نے دین کی اشاعت کیلئے مختلف ممالک کا رْخ کیا اور دنیا کے بے شمار لوگوں کو دائرہ اسلام میں داخل کرایا۔جس جس علاقے میں صحابہ ؐجایا کرتے تھے وہاں جب دعوت کا سلسلہ شروع کیا جاتا تھا، تو سب سے پہلے مسجد کا قیام عمل میں لاتے تھے ،کیونکہ مسجد ہی دینی امورات کا مرکز ہے۔
دنیا کی چند قدیم مساجد میں ایک مسجدکیرالہ (بھارت) میں بھی ہے۔اِس مسجد کا نام چیرامن جامع مسجد مٹھالہ ہے۔یہ ضلع ترشو ریاستِ کریلا (بھارت) میں واقع ہے۔یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ یہ برصغیر کی قدیم ترین اور بھارت کی پہلی مسجد ہے۔ایک روایت کے مطابق اس کی سنگِ بنیاد 50 ہجری بمطابقِ  629 عیسوی میں رکھی گئی۔ یہ مسجد ایک بادشاہ چیرامن پرومل (Cheraman Perumal)کے نام پر تعمیر ہوئی۔روایت کے مطابق بادشاہ نے ایک معجزہ رسول ؐ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اس نے شق القمر یعنی چاند کے دو ٹکڑے ہوتے ہوئے مشاہدہ کیا۔انھوں نے کئی ماہرینِ نجوم و فلکیات سے رابطہ بھی قائم کیا اور اس تعلق سے معلومات حاصل کی گئیں، لیکن بادشاہ کو تشفی بخش جواب نہ مل سکا۔ بعض روایتوں کے مطابق بادشاہ نے شق القمر خواب میں دیکھا تھا۔ بحرحال وقت گزرتا گیا، لیکن بادشاہ کے دل میں بے چینی برقرار تھی کہ کس طرح اس واقعے کی وضاحت ہو جائے۔اْس زمانے میں عرب کے تاجر کیرلا تجارت کی غرض سے آیا کرتے تھے۔یہ علاقہ عرصہ دراز سے ہی تجارتی مرکز تھا اور اس علاقے کی تجارت دور دراز علاقوں تک مشہور تھی۔یہاں ہیرے،جواہرات، کپڑے،مصالحہ جات اور دوسرے کئی اقسام کی اشیاء کی خرید و فروخت ہوتی تھی۔اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ طلوع اسلام سے قبل بھی عرب تجار اس علاقے کا سفر کیا کرتے تھے۔بادشاہ چیرامن پرومل(Cheraman Perumal) نے بھارت آئے ہوئے عرب تاجروں کے سامنے شق القمر کا آنکھوں دیکھا واقعہ بیان کیا تو ان تاجروں نے اس سے پوچھا کہ یہ کب کا واقعہ ہے ، تو بادشاہ نے ٹھیک ٹھیک وقت بتادیا ،تو ان عربی تاجروں نے بتایا کہ بالکل اسی وقت کفار مکہ کی شرائط پر نبی آخر الزمانؐ نے چاند کو دو ٹکڑے فرمائے تھے،لیکن اْن لوگوں نے اس معجزے کو محض جادو قرار دیا اور منکر ہوگئے ، دوسری طرف ہزاروں میل دور کیرلا بھارت کا ایک ہندو بادشاہ اس معجزے کا گواہ بن گیا اور اس سلسلے میں طویل سفر طے کرکے مشرف بہ اسلام ہوئے۔ ان تاجروں کا جواب سن کر بادشاہ کے دل میں یہ خواہش انگڑائیاں لینے لگی کہ مکہ المکرمہ جا کر رسول اللہ ؐ کے ہاتھوں پر اسلام قبول کرنا چاہئے۔الغرض بادشاہ اپنے کچھ ہم خیال لوگوں اور وزراء کے ہمراہ بذریعہ سمندری جہاز عرب تجار کے ساتھ مکہ سفر پر رووانہ ہوگیا۔مکہ پہنچ کر بادشاہ چیرامن پرومل نے حضرت ابوبکر صدیق ؐکی موجودگی میں رسول اللہ ؐ کے دستِ اقدس پر اسلام قبول کیا اور اس کا اسلامی نام تاج الدینؓ (بعض روایتوں کے مطابق عبداللہ سمودری) رکھا گیا۔
حضرت ابو سعید خدری ؓ کی روایت کے مطابق اس بادشاہ نے رسول اللہؐ کی خدمت میں ہندوستانی ادرک کا اچار پیش کیا، جس کو آپ ؐ نے وہاں موجود صحابہ میں تقسیم فرمایا۔ مذکورہ بادشاہ نے چند برس عرب میں ہی گزارے اور دین کی تعلیم حاصل کی۔ بعض روایتوں کے مطابق اس نے جدہ کے اس وقت کے حکمران کی بہن سے شادی بھی کی اور کچھ برس بعد بھارت لوٹنے کا ارادہ کیا ،لیکن اپنے وطن پہنچنے سے پہلے ہی انتقال فرمایا۔وفات سے قبل اس نے حضرت مالک بن دینارؓ کے ہاتھ اپنے بیٹے ،جو اس وقت ان کی جگہ بادشاہ تھا ، کے نام ایک مکتوب بھیجا ، جس میں ایک مسجد تعمیر کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ اس طرح اس کی وصیت کے مطابق وہاں" چیرامن مسجد " کے نام سے حضرت مالک بن دینارؓ کے زیرِ نگرانی تعمیر ہوئی۔ مالک بن دینار بھی اس بادشاہ کے ساتھ بھارت آئے تھے کیونکہ اْن کے ذریعے وہ بھارت میں دین کی تبلیغ کرانا چاہتے تھے۔ بادشاہ نے اس خط میں یہ بھی لکھا تھا کہ ان لوگوں کا احترام کیا جائے اور ان کے دینی کاموں میں رکاوٹ نہ بنیں۔مالک بن دینار ایک تابعی تھے۔آپ حسن بصری ؓکے مرید تھے۔طریقت میں آپ کا بڑا مقام ہے۔آپ کی کرامتیں اور ریاضتیں مشہور ہیں۔ آپ کے والد کا نام دینار تھا ،جو ایک غلام تھے۔یہ مسجد قدیم کیرالائی فنِ تعمیر پر بنائی گئی۔اس مسجد کی لمبائی 200 فٹ اور چوڑائی 79 فٹ تھی۔اسی مسجد میں بھارت میں پہلی مرتبہ جمعہ نماز ادا کی گئی۔کہا جاتا ہے کہ گیارہویں صدی عیسوی میں اس مسجد کی تعمیر نو کی گئی اور پھر وقتا فوقتاًاس مسجد کی توسیع و تر میم انجام پائی۔سال 1974عیسوی، 1994عیسوی اور 2001عیسوی میں مذکورہ مسجد کی مرمت وغیرہ کی گئی ہے۔ یہ مسجد اپنے شاندار ماضی کی یاد دلاتے ہوئے آج بھی فرزندانِ توحید کا مرکز بنی ہوئی ہے
رابطہ :ستورہ ترال پلوامہ
موبائیل نمبر:9797013883

تازہ ترین