خوشیوں ،خواہشات اورتمنائوں کی موت

منشیات

تاریخ    10 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


امتیاز خان
پوری دنیا فی الوقت منشیات کے خوفناک زہر کے حصار میں ہے۔ نئی نسل اپنے تابناک مستقبل سے لا پرواہ ہوکر تیزی کے ساتھ اس زہر کو مٹھائی سمجھ رہی ہے اور کھائے جارہی ہے۔اس کے استعما ل پر پابندی کے قوانین بظاہر موجود ہیں،اس کے استعمال کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی انسانی تہذیب کی۔ انسان نے اس کا استعمال کب شروع کیا اور سب سے پہلے کس نے منشیات کا استعمال کیا اس بارے میںصحیح اندازہ لگانا انتہائی مشکل ہے تاہم اس برائی نے جتنی تیزی سے اپنی جڑیں پھیلائی ہیں اس کا اندازہ اس طرح لگایا جا سکتا ہے کہ تمام مذاہب نے اس کے استعمال کو منع کیا ہے۔
منشیات ایک ایسا میٹھا زہر ہے جو انسان کو دنیاو آخرت سے بیگانہ کر دیتا ہے۔ اس کو استعمال کرنے و الا ہر شخص حقیقت سے فرار حاصل کرتا ہے اور خیالوں میں بھٹکتا ہے۔منشیات کا نشہ پہلے پہل ایک شوق ہوتا ہے پھر آہستہ آہستہ ضرورت بن جاتا ہے۔ نشے کا عادی شخص درد ناک کرب میں لمحہ لمحہ مرتا ہے۔ اس کی موت صرف اُس کی نہیں بلکہ اس کی خوشیوں ،خواہشات اورتمنائوں کی بھی موت ہوتی ہے۔
انسان کو جن نعمتوں سے سرفراز کیا گیا ہے ، ان میں ایک عقل و دانائی بھی ہے ، یہی عقل ہے جس نے اس کے کمزور ہاتھوں میں پوری کائنات کو مسخر کر رکھا ہے اور اسی صلاحیت کی وجہ سے اللہ نے اس کو دنیا میں خلافت کی ذمہ داری سونپی ہے ۔ اسی لئے اسلام میں عقل کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔قرآن مجید نے بے شمار مواقع پر مسلمانوں کو تدبر اور تفکر کی دعوت دی ہے، تدبر اور تفکر کی حقیقت کیا ہے؟یہی کہ انسان جن چیزوں کا مشاہدہ کرے اور جو کچھ سنے اورجانے ، عقل کو استعمال کر کے اس میں غور و فکر کرے، او رانجانی حقیقتوں اور ان دیکھی سچائیوں کو جاننے اور سمجھنے کی سعی کرے ۔ 
چنانچہ اسلام میں جن کاموں کی شدت کے ساتھ مذمت کی گئی ہے اور جن سے منع کیا گیا ہے ، ان میں ایک نشہ کا استعمال بھی ہے ۔ قرآن مجید نے نہ صرف یہ کہ اس کو حرام بلکہ نا پاک قرار دیا ہے کیونکہ انسان کا سب سے اصل جوہر اس کا اخلاق و کردار ہے ، نشہ انسان کو اخلاقی پاکیزگی سے محروم کر کے گندے افعال اور ناپاک حرکتوں کا مرتکب کر تی ہے اور روحانی اور باطنی ناپاکی ظاہری ناپاکی سے بھی زیادہ انسان کیلئے ضرر رساں ہے ۔ 
ہمارے معاشرے میں منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان اور نفسیاتی مسائل کسی سنگین خطرے سے خالی نہیں۔ منشیات کا نشہ ایک ایسی لعنت ہے جو سکون کے دھوکے سے شروع ہوتی ہے اور زندگی کی بربادی پر ختم ہوجاتی ہے۔ اس کی عادت ایک خطرناک مرض ہے۔ یہ خود انسان کو اور اس کے گھربار ، معاشرے اور پورے ملک و قوم کو تباہ کر دیتا ہے۔ اگر ایک بار کوئی نشہ کرنے کا عادی ہوجائے تو وہ پھنستا ہی جاتا ہے اور پھنسے کے بعد اس کے مضر اثرات کا انہیں ادراک ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا میں اس کے خلاف آواز اٹھائی جاری ہے، لیکن اس کے باوجود اس میں دن بہ دن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔
اس برائی سے سماج کو بچانے کی تدبیر یہی ہے کہ ایک طرف لوگوں کو نشہ کے نقصانات کے بارے میں باشعور کیا جائے اور اس کے نقصانات سے ہر سطح پر آگاہ کیا جائے، دوسری طرف ان اسباب پر روک لگائی جائے جو منشیات کے پھیلنے میں ممدو معاون ہیں، اگر شراب بیچنے کے پرمٹ بھی جاری کئے جائیں اور دوسری طرف شراب سے منع بھی کیا جائے تو یہ ایک مذاق ہوگا ، جہاں قدم قدم پر شراب کی دکانیں کھلی ہوں، تقریبات میں جام و سبو پیش کئے جاتے ہوں، وہاں شراب کی برائی کیوں کر لوگوں کے ذہن میں راسخ ہو سکے گی اور کیسے سماج کو اس لعنت سے نجات حاصل ہوگی؟
کسی بھی قوم کیلئے اصل قوت اِن کے نوجوان ہوتے ہیں۔ نئی نسل کا جذبہ ہی کسی بھی قوم کو بھرپور ترقی سے ہم کنار کرتا ہے۔ کسی بھی ملک میں نئی نسل کو ملک کی بہتر خدمت کیلئے بھرپور انداز سے تیار کرنے پر توجہ دی جاتی ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایک طرف دنیا بھر میں منشیات کے خلاف بھرپور مہم چلائی جارہی ہے اور کوشش کی جارہی ہے کہ دنیا کو ہر طرح کی منشیات سے بالکل پاک کرکے نوجوانوں کو مکمل تباہی سے بچایا جائے اور دوسری طرف منشیات کا مافیا نئی نسل کو تباہ کرنے کے درپے ہے اور یہ منشیات کے دھندے سے کروڑوں کماتے ہیں۔ جب نئی نسل منشیات کی عادی ہوگی تو معاشرتی خرابیاں بھی پیدا ہوں گی اور اس کے نتیجے میں پورے معاشرے میں بگاڑ پھیلے گا۔معاشرے کی بنیاد ہلانے میں اور نئی نسل کو تباہ و برباد کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔
منشیات کا زہر ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے، کتنے ہی خاندان ایسے ہیں جو نشے میں مبتلا اپنے بچوں کے مستقبل سے نااْمید ہو چکے ہیں۔ہمارے نوجوان اکثر و بیشتر معاشرتی ردعمل اور نامناسب رہنمائی کی وجہ سے نشے جیسی لعنت کو اپنا لیتے ہیں۔ آج ہماری نوجوان نسل منشیات، شراب، جوے اور دیگر علتوں میں مبتلا ہو کر نہ صر ف اپنی زندگی تباہ کر رہی ہے بلکہ اپنے ساتھ اپنے خاندان کیلئے بھی اذیت اور ذلت و رسوائی کا سبب بن رہی ہے۔ قوم کی ترقی اور مستقبل کے ضامن یہ نوجوان جرائم پیشہ ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ نشہ جسم کے ساتھ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو بھی سلب کر کے رکھ دیتا ہے۔
ایسے لوگوں کے پیش نظر صرف نشے کا سحر ہوتا ہے جس کی خاطر وہ ہر حد سے گزر جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اپنا علاج بھی نہیں کرانا چاہتے کیونکہ ان کے نزدیک یہ وہ بیماری ہے جو انہیں دنیا کے دکھوں سے دور رکھ کر’جنت‘ کی سیر کراتی ہے۔ 
افسوس کا مقام یہ ہے کہ معاشی اصلاح کا علم اٹھانے والی سماجی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے منشیات سے پاک معاشرہ تشکیل دینے کی سمت میں کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا جارہا ہے۔ہماری نوجوان نسل کیلئے صحت مند سرگرمیوں کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی صلاحیتیں مثبت سرگرمیوں میںصرف کرسکیں۔ نوجوان نسل میں شعور اجاگر کیا جائے کہ وہ نشے کو کبھی مذاق میں بھی استعمال نہ کریں اور نہ ہی کسی نشہ کرنے والے یا بیچنے والے شخص کے ساتھ دوستی کی جائے۔ کیونکہ جب آپ ایک مرتبہ کسی منشیات فروش یا استعمال کرنے والے شخص کے چکر میں پھنس کر نشے کے عادی بن جاتے ہیں تو پھر ساری زندگی اس کی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے جو کہ تباہی و بربادی پر منتج ہوتی ہے۔
 سماجی و رفاہی تنظیموں، ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد، طبی امور سے وابستہ افراد کی بھی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ معاشرے سے منشیات کی لعنت کے خاتمے کیلئے اپنی اپنی سطح پر اور اپنے دائرہ کار میں مکمل کوشش کریں۔ میڈیا کے وسائل کو نشہ مخالف ذہن سازی کیلئے استعمال کرنا حوصلہ بخش ثابت ہوسکتا ہے۔
منشیات فر وشی پر پابندی اور ا س کے خلاف کئے جانے والے اقدامات اپنی جگہ لیکن والدین کا اپنے بچو ں پر نظر رکھنے کا عمل انتہائی ضروری ہے۔ بچو ں کے ساتھ ان کے دو ستوں پر نظر رکھیں اور انہیں اچھی صحبت کے فائدے بتائیں۔ جہاں اْن کے قدمو ں میں ہلکی سی بھی لغزش نظر آئے اْن پر قابو پانے کی کوشش کریں بصورت دیگر زندگی کا یہ اہم ترین سرمایہ ضائع ہو سکتا ہے۔
 

تازہ ترین