مہاراجہ ہری سنگھ کے مجمسہ کے سامنے ڈومیسائل مخالف احتجاج

۔1.30کروڑ لوگوں کیلئے پشتینی باشندہ ہونے کی سند کافی ہے ،حکومت فیصلہ واپس لے

تاریخ    9 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   
(عکاسی: میر عمران)

سید امجد شاہ
جموں //ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کو مسترد کرتے ہوئے جموں کے کچھ ڈوگروں نے یونائٹیڈ ڈیموکریٹک الائنس کے بینر تلے احتجاج کرتے ہوئے فیصلے کو واپس لینے کی اپیل کی ۔راجیو مہاجن کی قیادت میں کچھ لوگ ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ کے مجمسہ کے سامنے توی پل کے نزدیک جمع ہوئے اور ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کے سلسلے میں جاری ہونے والے فیصلہ کو واپس لینے پر زور دیا۔اس موقعہ پر راجیومہاجن نے کہا’’جموں وکشمیر کے 1.30کروڑ افراد کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ ان کے پاس مستقل پشتنی باشندہ سرٹیفکیٹ ہے ‘‘۔ڈوگروں کے درمیان اتحاد کانعرہ بلند کرتے ہوئے مہاجن نے کہا’’حکومت ہند ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کے قانون کو جموںوکشمیر سے واپس لے اور جموں وکشمیر کے مستقل پشتنی باشندہ سرٹیفکیٹ رکھنے والے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرے‘‘۔انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر ریاست کا درجہ چھین کر اسے یونین ٹیریٹری بنادیاگیاہے جو قابل مذمت ہے ۔ان کاکہناتھا’’ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہم جمو ں وکشمیر کے شہری ہیں اور ہمارے پاس 1927سے پی آر سی ہے ،ہم کیوں ڈومیسائل سرٹیفکیٹ حاصل کریں جب ہمارے پاس پی آر سی ہے‘‘۔انہوں نے انتباہ دیاکہ اگر حکومت نے فیصلہ واپس نہ لیاتو وہ ہر جگہ سڑکوں پر اتریں گے۔انہوں نے کہاکہ حکومت کشمیری پنڈتوں کی معیاد بند مدت میں کشمیر میں بازآبادکاری کرے اور ان کے بچوں کو وادی میں روزگار دیاجائے ۔انہوں نے کہاکہ روہنگیامسلمانوںکو بھی جموں بدر کیاجائے ۔
 

تازہ ترین