ایس آر او 202کی منسوخی اور بیروزگاری

دردِ سرکہیں درد ِ جگر نہ بن جائے

تاریخ    9 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


منظور احمد گنائی
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ پہلے ریاست اور اب مرکزی حکومت کی طرف سے یوٹی کا درجہ دینے کے بعد جموں وکشمیر باقی ریاستوں کے مقابلے میں تعلیم کو فروغ دینے میں صف اول میں شمار ہوتی ہے۔جہاں اسکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں سے طلباوطالبات ہر سال ہزاروں کی تعداد میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے قلیل تعداد کے تعلیم یافتہ مختلف محکموں میں اچھے عہدوں پر فائز ہوتے ہیں۔لیکن ان مختلف شعبوں میں تعلیم کا شعبہ ایک اہم شعبہ مانا جاتا ہے۔اور اس سے منسلک استاد کا پیشہ سب سے معتبر پیشہ تصور کیا جاتا ہے۔جس کو حاصل کرنے میں عرق ریزی اور جانفشانی سے دن رات محنت شاقہ کرنی پڑتی ہے۔ان ہی اساتذہ صاحبان میں گورنمنٹ ہائراسکنڈریوں میں کام کرنے والے ایس آر او202کی سکیم کے تحت سال 2016میں تعینات بحیثیت لیکچراروں کی ماہانہ تنخواہ تقریباً باون ہزار کے قریب مقرر کی گئی ہے۔ان ہی ہائرسکنڈریوں میں تعینات عارضی طور پرلیکچراروں کی ماہانہ اجرت صرف دس ہزار مقرر کی گئی ہے جو فطرت انسانی کے منافی ہیں جس سے تعلیم کے فروغ پر برے اثرات پڑ سکتے ہیں۔                 
حال ہی میںلیفٹنٹ گورنر کے ایک حکم نامے کے مطابق جموں و کشمیر میں ایس آر او میں ترمیم کرکے لیکچراروں کے لئے پانچ سال کے بدلے اب دو سال پروبیشن کی مدت کر دی گئی ہے جس سے ریاستی بجٹ پر سالانہ54 کروڑ کا بوجھ پڑ سکتا ہے۔ اسے ایس آر اولیکچراروں کی دیرینہ مانگ تو پوری ہو سکتی ہے لیکن آنے والی نوجوان پود کا شاندار مستقبل تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے اور جس سے آیندہ کئی سال تک دیر سے پڑی خالی اسامیوں کو پر کرنے کے مواقع بہت کم نظر آرہے ہیںکیونکہ حکومت کے پاس پہلے سے ہی جی ڈی پی کی شرح فیصد کم ہوتی جارہی ہے۔وقت کے تقاضوں کے تحت بعض باتوں میں تو تبدیلی ہو سکتی ہے لیکن جموں وکشمیر میں بڑھتی بے روزگاری نے نوجوان پود کے خواب چکنا چور کیے ہیںکیونکہ مختلف شعبہ جات میں خالی پڑی اسامیوں کو خاص منصوبے کے تحت پر کرنے کی سعی نہیں کی جاتی ہے اور نہ ہی پچھلے دو تین سال سے نوکریوں کے لئے کوئی نوٹیفکیشن حکومت کی طرف سے جاری کی گئی ہے۔بلکہ پہلے سے گورنمنٹ سیکٹر میں جاب کرنے والوں کی پھر سے حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔حکومت ان پڑھے لکھے نوجوانوں کے روشن مستقبل کے لئے کیا کسی ٹھوس منصوبے یا سکیم کو لاگو کرنے کے لئے پیش قدمی کر رہی ہے یا صرف چرب زبانی سے کام لیکرکھوکھلے دعوے کیے جارہے ہیں جو بعد میں زمینی سطح پر کسی بھی حال میں سچے ثابت نہیںہوتے ہیں۔                           
اس بات میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ جموں وکشمیر میں بڑھتی بے روزگاری حکومت کی غلط پالیسیوں کا لاگو کرنا اور چند مفاد پرست اور خود غرض اشخاص کی سیاسی فریب کاری کا نتیجہ ہے جنہوں نے وقتا فوقتا ایسی سکیمیں مرتب کیں جنہیں کسی بھی طور پر تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لئے صحیح اور سودمند ثابت نہیں کہاجا سکتا۔سال دوہزار میں ریاستی حکومت کی طرف سے رہبر تعلیم کی جو سکیم وجود میں لائی گئی، اس کے دورس نتائج آنکھوں کے سامنے عیاں ہیں۔خیر جو بھی ہے لیکن ان رہبر تعلیم اساتذہ کو بنا سوچے سمجھے آنکھیں بند کرکے بڑی مقدار میں تعینات کیا گیا جن کے لئے حکومت کے پاس ایک تو بجٹ کی کمی ہے ،دوسری طرف انہیں بغیر اسامیاںکے سکولوں میںپوسٹنگ کی گئی ہے جو حکومت کے لئے درد سر سے کم نہیں ہے جس سے آنے والے وقت میں روز گار کے بہت کم مواقع پیدا ہو سکتے ہیں کیونکہ انہیں اتنی بھاری تعداد میں ایڈجسٹ کیا گیا ہے کہ ان اساتذہ صاحبان کے لئے اب جنرل لائن ٹیچرس کی خالی اسامیاں مختص رکھی گئی ہے تاکہ آنے والے وقت میں ان کو مستقل بنیادوں پر بھرتی کیا جائے۔اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کی نااہلی سے ایسے دن دیکھنے پڑتے ہیں جو نوجوانوں کے لئے سخت ثابت ہونگے جس سے آنے والا طبقہ ہمیشہ سیاسی ،سماجی اور اقتصادی بحران کا شکارہو جائے گا۔ایسے تباہ کن حالات کا سامنا کرنے کے لئے آنے والے ڈگری یافتہ اسکالروں کو در در کی ٹھوکریں کھاناپڑیں گی 
بہرکیف یہ حالت اسکول ایجوکیشن کے بعد ہائر ایجوکیشن میں بھی مل جاتی ہے۔یہ بات غور کرنے کے قابل ہے کہ گورنمنٹ کالجوں میں کام کرنے والے عارضی لکچراروں کو گونا گوں قسم کے مشکلات سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔وہیں دوسری طرف یہ بات قابل ستائش ہے کہ جموں وکشمیر یوٹی کو چھوڑ کر دوسری یونین ٹریٹریوں میں کالجوں میں کام کرنے والے عارضی لکچراروں کی ماہانہ تنخواہ تقریباً اٹھاون ہزار کے قریب مشاہرہ ملتا ہے لیکن جموں وکشمیر کی یوٹی میں خالی بائیس سے اٹھائیس ہزار تک ماہانہ تنخواہ مل جاتی ہے جو سرے سے ہی غلط ہے حالانکہ سپریم کورٹ کی طرف سے پہلے ہی اس بات سے آگاہ کیا گیا ہے کہ عارضی طور پر کام کرنے والوں کو کام کے حساب سے تنخواہ دینی چاہیے لیکن جموں وکشمیر کی حکومت ہنوز ٹس سے مس نہیں ہو رہی ہے۔
 آرٹیکل تین سو ستر کی منسوخی سے پہلے مرکزی حکومت کی طرف سے بڑے بڑے دعوے کیے جارہے تھے کہ اسے جموں وکشمیر کی ترقی میں خلل پڑ تی ہے لیکن تقریباً گیارہ ماہ گزرنے کے باوجود بھی کسی قسم کی ترقی آنکھوں کے سامنے عیاں نہیں ہوئی ہے۔ اگر کوئی چیز دیکھنے کو ملی ہے تو وہ مہنگائی اور پہلے سے گورنمنٹ سیکٹر میں کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہیں وقفے کے بعد دوگنی کر دی جاتی ہے جبکہ گورنمنٹ کالجوں میں پچھلے بیس سال سے عارضی بنیادوں پر کام کرنے والے لکچراروں کو انگلیوں پر گنی جانے والی اجرت پر قناعت کرنا پڑتا ہے جس سے انہیں دو وقت کی روٹی مشکل سے نصیب ہوتی ہے اور اپنی زندگی مصیبتیں جھیل جھیل کر گزارنی پڑتی ہے۔ 
رابطہ :حسن پورہ باغ بجبہاڑہ،6005903959   

تازہ ترین