تازہ ترین

وزیر اعظم کے اَن لاک 2کے احکامات کی خلاف ورزی

مغل روڑ پر لوگوں کی آمد و رفت پرپابندی ، انتظامیہ کا اجازت دینے سے صاف انکار

تاریخ    8 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


بختیار حسین
سرنکوٹ// خطہ پیر پنچال کو وادی کشمیر سے جوڑنے والے مغل روڑ کو نا معلوم وجوہات کی بنا پر انتظامیہ نے بند کردیا ہے۔ حالانکہ جموں کشمیر یوٹی کے سبھی راستے لوگوں کی آمد و رفت کیلئے کھول دیئے گئے ہیں اور سرکاری احکامات کے مطابق بین الریاستی آمد و رفت پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔خطہ پیر پنچال کے لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ جموں جاکر صوبائی کمشنر یا پھر جموں کشمیر کے چیف سیکریٹری سے اجازت نامہ حاصل کرسکتے ہیں۔ راجوری اور پونچھ کے لوگوں کو ضلع انتظامیہ کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ وہ سرینگر جانے کیلئے جموں کا راستہ اختیار کریں۔راجوری پونچھ کووادی کشمیر سے جوڑنے والی مغل شاہراہ پر صرف مال بردار گاڑیوں کو چلنے کی اجازت ہے تاہم کسی بھی مسافر  گاڑی کو چلنے نہیں دیاجارہی ہے جس کی وجہ سے نہ صرف عام لوگ بلکہ سینکڑوں مریض سخت مشکلات کاسامناکررہے ہیں جن کا علاج سرینگر کے ہسپتالوں میں چل رہاہے ۔ ایس ڈی ایم سرنکوٹ محمد سلیم قریشی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا’’ کسی نے کشمیر میں طبی معائینہ کرنے یا ادویات لینے کے لئے جاناہے تو وہ انہیں تحریری طور پر درخواست دے تاکہ وہ ضلع مجسٹریٹ پونچھ سے بات کرکے کوئی پالیسی بناسکیں‘‘ ۔تاہم ڈپٹی کمشنر پونچھ راہل یادو نے مریضوں اور دیگر لوگوں کے مطالبے کو یکسرمسترد کرتے ہوئے کہا’’ وہ شاہراہ پر چلنے کی اجاز ت نہیں دے سکتے‘‘۔ان کاکہناتھا’’ اگر کسی کو دوائی یا چیک اپ کیلئے جانا ہے تو وہ رام بن کے راستے چلاجائے‘‘ ۔ان کاکہناتھا’’ مغل شاہراہ پر سفر کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور اگر کسی کوجاناہے تو وہ چیف سیکریٹری یا صوبائی کمشنر سے اجازت لے اور جائے ‘‘۔سرنکوٹ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس علاقے کیساتھ سراسر ناانصافی ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ  وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے ان لاک 2کے تحت بین ریاستی یا ایک ہی ریاست یا یوٹی میں مختلف علاقوں کے درمیاں سفری پابندی نہیں ہوگی۔انکا کہنا تھا کہ مگل شاہراہ کی بندش سے وزیر اعظم کے احکامات کی نفی کی جارہی ہے، جسکی کوئی جوازیت نہیں ہے۔مقامی لوگوں نے لیفٹیننٹ گورنر سے اپیل کی کہ وہ شاہراہ پر سفری پابندیوں ہٹائیں اور احتیاطی تدابیر کے ساتھ مریضوں کو چلنے کی اجازت دی جائے کیونکہ ان کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔انہوں نے کہاکہ کئی مریض دائمی بیماریوں میں مبتلا ہیں جن کی دوائی بھی نہیں ملتی۔ان کاکہناتھاکہ ضرورتمندوں کوہر گز نہ روکاجائے اور انہیں احتیاطی بندوبست کے ساتھ جانے دیاجائے۔