تازہ ترین

گوسو پلوامہ میں شبانہ تصادم آرائی۔ فوجی اور جنگجو جاں بحق

۔ 2اہلکار زخمی،مظاہرین اور فورسز میں پر تشدد جھڑپیں، شلنگ اور پیلٹ کا استعمال

تاریخ    8 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


سید اعجاز
پلوامہ // گوسوپلوامہ میںجنگجو مخالف آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ایک فوجی اہلکار اور ایک جنگجو جاں بحق جبکہ فوج اور پولیس کے دو اہلکار زخمی ہوئے۔ مقام جھڑپ کے نزدیک فو رسز اور مظا ہرین کے درمیان جھڑ پیں ہوئیں جن میں چار نوجوان پلیٹ لگنے سے زخمی ہوئے۔ادھر جھڑپ کیساتھ ہی پلوامہ میں انٹر نیٹ سروس معطل کی گئی جبکہ فورسز نے ایک نوجوان کو گرفتار کیا ۔

جنگجو مخالف آپریشن

 پولیس کے مطابق جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع پر 53 آرآر،183بٹالین سی آر پی ایف اور پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ نے پیر اور منگل کی درمیانی شب قریب 2بجے محاصرہ کیا اور کھار محلہ گوسو پلوامہ کی چھوٹی سی بستی میں شبانہ تلاشیاں لیں۔پولیس نے بتایا کہ جونہی فورسز اہلکارو ں نے دو مشتبہ مکانوں کی طرف پیش قدمی کی تو وہاں موجود جنگجوئوں نے فائرنگ شروع کر دی۔اس کے بعد طرفین کے مابین کئی گھنٹوں تک شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا ۔اس تصادم میں2فوجی اور ایک پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔جبکہ ایک جنگجو جاں بحق ہوا جسکی شناخت نہیں ہوسکی۔دیر رات گئے فوجی اہلکار بادامی باغ اسپتال میں دم توڑ بیٹھا۔پولیس کی طرف سے جاری  بیان میں کہا گیا کہ گوسو میں مسلح جھڑپ کے دوران ایک عدم شناخت جنگجو مارا گیا، جس کی تدفین بارہمولہ میں کی گئی۔ اس سلسلے میں اگر کسی کنبے کو مذکورہ جنگجو کے بارے میں کوئی شبہ ہے تو وہ پولیس کیساتھ رابطہ کریں۔ بیان میں کہاگیا کہ جھڑپ کے دوران نائک رجوندر سنگھ شدید زخمی ہوا جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا۔اس کے علاوہ مزید ایک فوجی اور پولیس کانسٹیبل بھی زخمی ہوئے ہیں۔

 لوگوں کا بیان

مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ چیوہ کلاں کی طرف سے گوسو گائوں کی چھوٹی بستی کھار محلہ، جو تقریباً 6کنبوں پر مشتمل ہے، کا محاسرہ کیا گیا۔لوگوں کا کہنا ہے کہ کچھ کنبے گائوں سے باہر نالہ رومشی کے پار آباد ہوئے ہیں، جن کا محاصرہ کیا گیا اور تلاشیاں لی گئیں۔لوگوں نے بتایا کہ فورسز نے پہلے تلاشیاؓں لیں اور چلے گئے لیکن فوراً ہی واپس آگئے، جس کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔لوگوں نے کہا کہ رات کے دو بجے شدید فائرنگ ہوئی جس کے نتیجے میں وہ گھروں سے باہر نہیں آسکے۔لیکن بعد میں رات کے دوران کوئی فائرنگ نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ دن بھر وہ گھروں تک ہی محدود رہے اور فورسز نے انہیں باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی۔شام 6بجے محاصرہ ہٹایا گیا تو لوگ باہر آئے اور وہ مذکورہ بستی میں چلے گئے۔ لوگوں کا مزید کہنا ہے کہ محمد شفیع آہنگر اور اسکے 2بیٹوں گلزار احمد اور کامران کی شدید مارپیٹ کی گئی تھی اور گلزار کو فورسز نے اپنے ساتھ لیا جبکہ محمد شفیع زخمی حالت میں گھر میں تھا۔اسکے علاوہ نزدیکی قریب 6مکانوں میں موجود 5نوجوانوں کو دوران شب ہی فورسز نے اپنے ساتھ لیا تھا اور انکی بھی شدید مارپیٹ کی گئی تھی۔لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں محلے میں کسی بھی جگہ خون کے دھبے دکھائی نہیں دیئے، البتہ انہوں نے سنا کہ فورسز اہلکار اپنے زخمیوں اور ایک لاش کو ایک گاڑی میں لے گئے تھے۔

جھڑپیں

جونہی کھار محلہ گوسو میں مسلح تصادم آرائی کی اطلاع ہیر محلہ گوسو اور چیوہ کلاں میں پھیل گئی تو نوجوان گھروں سے باہر آئے اور انہوں نے فورسز پر شدید پتھرائو کیا جس کے جواب میں انہین منتشر کرنے کیلئے شلنگ کی گئی۔مظاہرین نے کھار محلہ کی جانب بھی پیش قرمی کرنے کی کوشش کی تھی لیکن انکی کوششیں ناکام بنا دی گئیں۔فورسز نے شلنگ کے علاوہ پیلٹ کا بھی استعمال کیا جبکہ دن بھر ہوائی فائرنگ کا بھی سہارا لیا گیا۔معلوم ہوا ہے کہ شلنگ اور پیلٹ سے 4نوجوانوں کو چوٹیں آئیں۔ سپر انٹنڈنٹ صدر اسپتال نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ گوسو سے کوئی بھی پیلٹ متاثرہ نوجوان کو شام سات بجے تک اسپتال میں داخل نہیں کیا گیا تھا۔
 

تازہ ترین